New Age Islam
Wed Apr 14 2021, 06:54 PM

Urdu Section ( 19 March 2013, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Respecting Muslim Caliphs مسلم خلفاء کا احترام

 

مائیک غوث

12 دسمبر، 2012

آج مسلمانوں کے درمیان سنی مسلمانوں میں شیعہ کے بعد سب سے زیادہ ایذا ء پہنچائی جانے والی  کمیونٹی احمد یہ ہے ۔ ہمیں پتہ ہے کہ دوسروں کےتئیں  خواہ وہ مسلمان ہوں یا اور کوئی ، ظالم، باعث تکلیف اور جابر ہونا  اسلامی نہیں ہے، لیکن ایسا ابھی تک پاکستان، بنگلہ دیش، انڈونیشیا، ملیشیا اور یہاں تک کہ ہندوستان میں  بھی یہی ہو  رہا ہے۔ ایک مسلمان کی حیثیت سے آواز بلند کرنا  میرا فرض ہے ، اور اگر ہم سب میں سے ہر ایک آواز بلند کیا ، تو  ہم نے کم از کم اچھائی کا  حکم دینے  اور برائی سے منع کرنے کی  ذمہ داری پوری کر لی ۔

 کیا یہودیوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کو اذیت پہونچائی  ؟ مجھے ایسا نہیں لگتا، وہ قیادت تھی ، جس نے  ان کے پیغام کو قبول نہیں کیا ،اور معاشرے سے کنٹرول کو کھو دینے کے  خطرے نے  غیر محفوظ طاقتور انسان کو  حضرت عیسی علیہ السلام کے ساتھ ایسا کرنے کے لئے مجبور کیا  ، یہ یسوع مسیح کی وراثت پیدا کرنے کے لئے خدا کے ذریعہ بنا یا گیا منصوبہ  تھا ۔

 مجھے  اس بات کا یقین نہیں ہے ، کہ احمدیہ مسلمانوں کو ہراساں کرنے اور ظلم و ستم کے لئے، سنی مسلمانوں کو ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہئے ، یا اس کی وجہ ضیاء بھٹو اتحاد کا آمرانہ نظام حکومت تھا ، جس نے  ان کے دور میں بہت سے لوگوں کو سوچنے کی  تحریک دی ۔ اگر یہ ضیاء بھٹو اتحاد تھا، تو ان کے چلے جانے  کے ساتھ ہی ختم ہو جانا چاہئے ، کیوں یہ جراثیم اندر ہی اندر پھیل گئے، اور پاکستانی سرحدوں سے باہر چلے گئے؟

خود کو سمجھنے کے لئے تحقیق کی ضرورت ہے۔ تاہم، اکثریت کا رویہ تمام مذہبی، سیاسی اور ثقافتی گروہوں میں ایک ہی طرح کا ہے۔ امریکہ میں مرکزی دھارے کے عیسائیوں نےمور مونزم کو ان کی برابر کے طور پر قبول نہیں کیا  ، لیکن رومنی ‘Romney’ نے ایک مؤثر تبدیلی کو تحریک دینے کے لئے سر گرمی کے ساتھ کام کیا، قدامت پسند  عیسائیوں کے ذریعہ  مورنومزم کے تئیں دشمنی  گھٹ گئی۔ دلت ( جو ہندو ذات کے نظام میں ، سب سے نچلے  پائدان پر ہیں) انہیں  ہندوستان میں ہراساں اور ذلیل کیا جاتا تھا ، لیکن دہائیوں پہلے،   جگجیون رام کے صرف ہندوستان کے وزیر دفاع ہو نے پر  ، ایسے واقعات بہت کم ہوگئے ۔ مجھے یقین ہے کہ ، دنیا بھر میں مزید ایسی مؤثر  کن تبدیلیوں کی  مثالیں ہیں ، جنہیں امید کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے ۔

ایک احمدیہ ،ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں مسلم صدارتی امیدوار بن سکتا ہے ، مسلمانوں کے درمیان مساوات کو تبدیل کرنے کے لئے ایک عمل انگیز  بن سکتا ہے، واقعی، یہ ایک نقطہ عروج ہو گا۔ جب ہم پہلی نسل کے تارکین وطن ختم ہو جائیں گے ،تو  نوجوانوں کے لئے، مسلمانوں کے درمیان ایک مثبت تبدیلی لانے میں  رکاوٹیں دور ہو جائیں گی ، صرف یہاں ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں  ہی نہیں ، بلکہ ان ممالک میں بھی جہاں ان کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے ۔

یہاں  ایک عجیب نفرت کا رجحان ہے جو کہ کام کرتا ہے، خود ساختہ مذہبی دعوے دار  لالچ اور عدم تحفظ سے مجبور ہیں ، اور ان کے لئے مذہب کا مطلب کچھ بھی نہیں ہے۔

قدامت پسند  عیسائی امریکی کو ، کسی سے نفرت کرنی تھی  ۔۔۔۔ انہوں نے چینی سے روسی، عرب ، مسلمانوں تک منتقل کر دیا  ، جو کچھ حضرت عیسی علیہ السلام کی تعلیمات کے ساتھ ہوا ؟ یہی قدامت پسند  یہودی، ہندو، بدھ مت، اور دوسروں کے ساتھ ہوا ۔ قدامت پسند  سنی مسلمانوں کو  بھی کسی سے نفرت کرنے  کی ضرورت ہے ،اور وہ بت پرستی سے یہودیوں ،احمدیوں  اور اب اور شیعہ مسلمانوں تک چلے گئے ۔ کیا انہیں اپنی ارذل  فطرت کو پورا  کرنے کے لئے احمدیہ مسلمانوں کو رد کرنے کی ضرورت ہے؟ جو کچھ بھی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے ساتھ  ہوا؟ انہوں نے کہا کہ بڑا جہاد (جوکسی ایک کے اندر اندر نیکی یا اس کی خلاف ورزی کے بارے میں جنگ) بری فطرت پر غلبہ حاصل کرنا ہے ۔

 حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی روایت میں ہے ، میں دوسرے کے ساتھ اتفاق کے بغیر دوسروں کے اختلاف  کا احترام کرتا ہوں ۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی مثالیں قائم کی ہیں ، اور ان میں سے ایک ، امن قائم کرنے کے لئے ،صلح حدیبیہ کے دستاویز پر ، اپنا نام ،محمد الرسول اللہ سے محمد بن عبداللہ تبدیل کرنا ہے، برائے مہربانی ان چند صحابہ (ساتھیوں) کو یاد رکھیں جو  اس فیصلے سے خوش نہیں تھے ، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو امن کی خاطر ایسا کرنا  تھا۔ احمدیہ مسلمانوں کو اس چیز  میں یقین کرنے دیں جس چیز میں وہ یقین رکھتے ہیں ، وہ اس بات میں مسلمان ساتھی ہیں، کہ ان کا عقیدہ ہے ،کہ  محمد صلی اللہ علیہ وسلم  آخری رسول ہیں، اور ہماری مشترکہ رہنمائی قرآن ہے،اللہ  قیامت کے دن کا مالک ہے اور ہم انفرادی طور پر اپنے اعمال کے لئے جوابدہ ہیں۔

 میں مرزا غلام احمد  کو ایک عظیم اسلامی سکالر کے طور پر قبول کرتا ہوں ، اور حضرت منصور احمد کو ان کے معاصر خلفاء(رہنماؤں / فیصلوں )  مثلاً، ایچ ایچ آغا خان ،سید برہان الدین، امام خمینی، وارث دین محمد اور ہر فرقے کے دوسرے نمائندوں کے درمیان، اسلام کے خلیفہ کے طور پر قبول کرتا ہوں  ۔ ہم میں سے  ہر ایک  کے لئے کسی کو سمجھانے کے لئے کسی کی  اشد ضرورت ہے ۔ یہ معاصر خلفاء مؤثر طریقے سے، کسی سے کوئی دشمنی کے بغیر  اپنی کمیونٹیز کو ہدایت کر رہے ہیں ۔ بالکل، ہم سنیوں کے پاس  ہمیں رہنمائی کے لئے کوئی آواز نہیں ہے ، اور یہ بھی ٹھیک ہے ، جب تک ہم دوسروں کے تئیں ایسا کرتے ہیں، جیسا کہ ہم دوسروں سے اپنے لئے چاہتے ہیں۔

 تاہم، میرے لئے اور اکثر  سنی مسلمانوں کے لئے یہ یقین کرنا  مشکل ہے کہ حضرت مرزا غلام احمد مسیح موعود ہیں ، لیکن اس  کا مطلب ہمارے لئے ان کے عقیدے سے انکار کرنا، نہیں ہونا چاہئے  ۔ سورہ کافرون کی آخری آیت ایمان سب سے مثالی مفہوم میں یہ معنیٰ بیان کرتی ہے  ، تمہارا دین تمہارے لئے  اور  ہمارا دین ہمارے لئے ، ایک نتیجے کے طور پر، "جس طرح  خوبصورتیدیکھنے والوں کی  آنکھوں میں ہے، اسی طرح ایمان  مومن کے دل میں ہے۔

ہم وہابی سے اختلاف کرتے ہیں ، جو پیغمبر  کے گھر اور ان سے متعلقہ  چیزوں  اور بھی دوسری بہت سی چیزوں کو تباہ کرنے میں انتہاء کو پہنچ گئے ہیں ، دیوبندی اور پریلوی  ایک دوسرے کی مسجدوں  میں نماز ادا نہیں کرتے، ۔۔۔ ہمیں احترام  کے ساتھ، اختلافات کو قبول کرنا سیکھنا ہے۔یہ ، سنیوں کے لئے، ہمارے عقیدے ،کو یہ  قبول کرتے ہوئے  ، کہ رسول، نبی، اور نبوت ، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ختم ہوجاتی ہے، برقرار رکھنے کے لئے، مفہوم پیدا کرتا ہے ۔ لفظ کے ہر معنی میں آخری پیغام دینے والے تھے۔

میں امید کرتا ہوں کہ ، اپنے مسلمان ساتھی ، خواہ وہ احمدیہ، بوہرا، اسماعیلی، شیعہ، سنی، WD محمد یا وہابی ہوں  دوسرے مسلمانوں کا احترام، بغیر اتفاق کے ، اور دوسروں سے ہماری طرح برتاؤ کرنے کا مطالبہ اور انہیں  اکثریت تکبر کی پاکبازی  کے ذریعہ ان  کےعقائد  کو چھوڑنے کی دھمکی دئے  بغیر ، کرنا سیکھ سکتے ہیں،  ہمیں خاکسار  ہونا چاہئے آمر نہیں ۔

جزاک اللہ خیر

مائیک غوث

مسلمان ایک ساتھ  مل کر ایک متحد معاشرہ کی تشکیل کر سکتے  ہیں، جہاں اللہ کی مخلوق میں سے ہر ایک محفوظ طریقے سے اور ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ رہتے ہیں ۔ www.WorldMuslimCongress.com

مائیک غوث  نے  متحدہ  امریکہ کی تعمیر کے لئے اپنے آپ کو وقف کر رکھا ہے ،  اور وہ روز مرہ کے مسائل پر تکثیریت پر مبنی حل پیش کرتے ہیں اور وہ  پیشے کے اعتبار سے   کثیر ثقافتی اقدار سیاست، شہری امور، اسلام، بھارت، اسرائیل، امن، اور انصاف کے موضوع پر مقرر ، مصنف اور مفکر ہیں۔  ۔ مائیک فاکس ٹی وی پر Sean Hannity شو کے مستقل  مہمان ہیں ، اور قومی ریڈیو نیٹ ورک پر ایک مبصر ہیں ، ڈلاس مارننگ نیوز میں ٹیکساس فیتھ  کالم میں ہفتہ وار  لکھتے ہیں  ، ہفنگٹن پوسٹ میں مستقل ، اور دنیا بھر میں کئی دوسرے مجلے میں  وقتاً فوقتاً کا لم لکھتے رہتے ہیں ۔ www.TheGhousediary.com  روزانہ اپ ڈیٹ کیا جاتا ہے۔

URL

 https://www.newageislam.com/interfaith-dialogue/mike-ghouse/respecting-muslim-caliphs-(khalifa),-imams-and-deciders/d/9653

URL for this article:

https://www.newageislam.com/urdu-section/mike-ghouse-tr-new-age-islam--مائیک-غوث/respecting-muslim-caliphs---مسلم-خلفاء-کا-احترام/d/10829

 

Loading..

Loading..