New Age Islam
Sat Sep 26 2020, 02:20 PM

Urdu Section ( 3 May 2013, NewAgeIslam.Com)

Bold Steps: Muslims Should Not Apologise مسلمانوں کو معذرت خواہ نہیں ہونا چاہئے

 

مائیک غوث

30 اپریل 2013

(انگریزی  سے ترجمہ   :  مصباح الہدیٰ  ،  نیو ایج اسلام )

 مسلم کمیونٹی کو ان جرائم کے لئے معذرت خواہ نہیں  ہونا  چاہئے جن کا ارتکاب انہوں نے نہیں کیا ہے۔ وہ ایسے ہی امریکی ہیں  جیسے کوئی اور ، اور انہیں بھی انتہا پسندی، تشدد اور دہشت گردی کے بارے میں اتنی ہی تشویش  لاحق ہے ۔ انہیں  اپنے حقوق پر زور دینا  چاہئے، اور دانستہ طور، پر  مسلم مخالف عصبیت کے خلاف ان کے ساتھ آواز بلند  کرنے کے لئے عقلمندوں کی  اکثریت کی حمایت حاصل کرنا چاہئے۔ ہمیں  ایک دوسرے کے لئے کھڑے ہونے، اور ایک  ایسےہم آہنگ امریکہ کی تعمیر کی ضرورت ہے ، جہاں ہم میں سے ہر ایک کسی کے خدشات کے بغیر مؤثر طریقے سے کام کر سکے - مائیک غوث -

بوسٹن بم دھماکوں نے  تشدد اور عسکریت پسندی کے ساتھ مذہبی وابستگی کے موضع پر  بحث و مباحثہ کو فروغ دیا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ کم از کم، مبینہ حملہ آوروں کے ذہنوں میں، یہ حملے اسلام کے ساتھ، منسلک تھے ۔ دائیں بازو کے  کچھ لوگوں کے درمیان اسلام کو مجرم ٹھہرانے  کی آواز بلند ہے۔ لیکن بائیں بازو کے  بہت سے لوگ عملاً سیاسی طور پر غلط ہونے کے بارے میں فکر مند ہیں، اور ایک بڑے مذہب کے اغوا کو، فی الحقیقت  براہ راست اسلام کے ذکر سے گریز کرتے ہوئے، سمجھانے کی کوشش کر رہےہیں ۔ دونوں میں سے ایک بھی نقطہ نظر معاون نہیں  ہے۔

اس بحث کے قلب میں رسلان تسارنی، مبینہ بوسٹن میراتھن حملہ آوروں کے ایک چچا نے ایک بڑا قدم اٹھایا ہے ۔ کارکن اور مصنف اسرانعمانی نے واشنگٹن پوسٹ میں اس با ت کا ذکر کیا ہے کہ، جبکہ دوسرے لوگ  مسئلے سے  گریز یا اس  کا استحصال کر رہے تھے، تسارنی نے  ایک مرکزی سوال کا براہ راست  سامنا کیا ہے ۔ تسارنی نے کہا کہ انکے بھتیجے نے ان کے خاندان کو شرمندہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنی کمیونٹی میں دہشت گردی کی ذلت کا سامنا کیا ہے اور اس کی مذمت کی ہے۔ نعمانی نے لکھا کہ: اجتماعیت پسند ذہن رکھنے والی مسلم کمیونٹی کو تسارنی  سے ایک اہم سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے:۔ یہ وقت ہمیں ہماری کمیونٹیز میں دہشت گردی کی ذلت کو تسلیم کرنے کا ہے، شرمندگی کی وجہ سے  اس سے انکار کرنے کا  نہیں۔"

چچا رسلان کےذریعہ دہشت گردی کی براہ راست، بھرپور اور غیر مبہم مذمت نے ا س بات کی عکاسی کی ہے کہ کسی وقفے کے بغیر  مسلمانوں کو کیا  کرنا چاہئے ۔ حقائق سے بائیں بازو  کو کوئی فرق نہیں پرتا ، اور بے شک یہ مسلم مخالف عصبیت کو ، کمیونٹی سے انسانوں کی پامالی کے مطالبہ میں  مدد فراہم کے گا ۔ جس طرح ہر کوئی شدت پسندوں سے پریشان ہے اسی  طرح مسلمان بھی پریشان ہیں ۔

در حقیقت 9/11 کے بعد دہشت گردی کے اکثر  مشتبہ افراد کو مسلمانوں کے ذریعہ حوالہ کردہ لوگوں کو ، ایف بی آئی نے گرفتار کیا ،اور جب ان لوگوں میں سے ایک کو گرفتار کر لیا گیا تو مسلمان خوش ہو رہے تھے اور یہ  امید اور دعا کر رہے تھے کہ ، جسے گرفتار کیا گیا ہے وہ آخری ہو ۔ مسلمانوں کے لئے سب سے اچھا کام امریکہ کا تحفظ کرنا ہے اور مسلمان محب وطن کے فرائض اچھی طرح ادا کرتے ہیں۔

میں گزشتہ ہفتے، ہنیٹی شو اور  قومی ریڈیو نیٹ ورک پر تھا۔ میرا آخری تبصرہ تھا کہ ، اپنے ہم  پلہ عہدوں سے کہیں زیادہ ، مسلمان ہر وقت دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں، لیکن انہیں مائکروفون نہیں ملتا۔ " میں اپنے شو میں ،اس کی مذمت کر رہا ہوں، اور تقریبا تمام مسلمان ایسا  کریں گے، اگر آپ ان کو مائکروفون دیں تو ۔"

گوگل، "کیا  مسلمان دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں؟ " امریکی مسلم شیلا موسیٰ جی نے  ایک جامع فہرست مرتب کی ہے، اور مذہبی رواداری اونٹاریو کے   مشیروں نے مندرجہ ذیل خلاصہ کیا ہے؛ "دراصل، فتوے اور دوسرے بیانات جاری کئے گئے ہیں جو معصوم شہریوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، بدقسمتی سے، انہیں بڑے پیمانے پر  اخبارات، ٹیلی ویژن، ریڈیو اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعہ نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔ "

اگر ہم 6 ملین امریکی مسلمانوں میں سے ہر ایک سے انفرادی طور پر اس کی مذمت کی امید کر رہے ہیں تو ہمیں یہ پوچھنے  کی ضرورت ہے ہے کہ ، کیا  318 ملین امریکیوں نے نیو ٹاؤن اور دیگر ہلاکتوں کی مذمت کی تھی ؟

امریکی مسلمان دہشت گردی کو روکنے میں اتنے ہی  مؤثر ہیں جتنے مؤثر تمام امریکی  نیو ٹاؤن شوٹنگ کے بعد چار ماہ میں  3300 امریکیوں کے قتل کو روکنے میں ہیں ۔ نہ تو نیو ٹاؤن کے دہشت گرد ، اور نہ ہی وسکونسن کے قاتل امریکیوں کی طرف سے مجاز تھے، اور نہ ہی Tsarnaev اور اس کے بھائی مسلمانوں کی طرف سے مجاز تھے۔ دہشت گردوں کی مسلمانوں کے طور پر شناخت سے ایک دن پہلے میں نے بیباکی  کے ساتھ ہفنگٹن پوسٹ میں یہ لکھا "اگر بوسٹن دہشت گرد مسلمان ہوئے تو کیا ہوگا ؟"

کس چیز کی ضرورت ہے؟

مسلم کمیونٹی کو ان جرائم کے لئے معذرت خواہ نہیں  ہونا  چاہئے جن کا ارتکاب انہوں نے نہیں کیا ہے۔ وہ ایسے ہی امریکی ہیں  جیسے کوئی اور ، اور انہیں بھی انتہا پسندی، تشدد اور دہشت گردی کے بارے میں اتنی ہی تشویش ہے ۔ انہیں  اپنے حقوق پر زور دینا  چاہئے، اور دانستہ طور، پر  مسلم مخالف عصبیت کے خلاف ان کے ساتھ آواز بلند  کرنے کے لئے عقلمندوں کی  اکثریت کی حمایت حاصل کرنی چاہئے۔ ہمیں  ایک دوسرے کے لئے کھڑے ہونے، اور ایک  ہم آہنگ امریکہ کی تعمیر کی ضرورت ہے  ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مسلمانوں کو غور و فکر کرنے کے لیے چند نکات:

میں نے دانستہ طور پر اپنے ساتھی مسلمانوں سے یہ گذارش  کرنے کی کوشش کی کہ وہ  مجھے تبصرے ارسال کریں تاکہ میں انہیں اپنے  مضامین میں شامل کروں ۔ میں نے ان لوگوں کے لئے جو مسلم مقررین کی تلاش میں رہتے ہیں، شیلاموسیٰ جی کی تحریر  شامل کی ہے، کم از کم میں نے اپنے قارئین کے حلقوں میں ایک اور نام  کا اضافہ کر لیا ہے ۔

ہم اب بھی معاشرے کا حصہ نہیں ہیں۔ ان امریکی ہم وطنوں کے ساتھ رہنے، کھانے پینے، ملنے جلنے  ان کے ساتھ معاملات کرنے کا ،جو مسلمان نہیں ہیں، ابھی رواج  نہیں ہے۔ آپ کو شاذ و نادر ہی ہماری سالگرہ، جنازہ، گریجویشن کی یا کسی بھی پارٹی میں ان کو پائیں گے ۔ کیا ہم دوست بنانے کے قابل نہیں ہیں؟ کب تک ہم اپنے دم کا پیچھا کرتے رہیں گے؟

ہمیں عیب جوئی کی عادت چھوڑنے کی ضرورت ہے تاہم، ہم زیادہ سے زیادہ ساتھی مسلمانوں کے ساتھ عدم اتفاق رکھتے ہیں۔ ہمیں جہنم کے لئے سیلزمین کی نوکری قبول نہیں کرنی چاہئے، مسلمانوں اور غیر مسلموں دونوں کو جہنم کا  مفت ٹکٹ دیتے ہوئے۔ اسے خدا کے لئے چھوڑ دیں ۔

ہر خراب  چیز کے بارے میں حلال – حرام کی  رٹ لگانے کو مسلمانوں کی طرف  منسوب کئے جاتے ہوئے دیکھنا تکلیف دہ ہے ۔ کیا یہ وہی چیزیں  ہیں جنہیں  ہم کرنے کے قابل ہیں؟

ہم مسلمانوں کو  قرآن کی آیت 49:6 (اسد) پر ایمان رکھنے  اور اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے! اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق (شخص) کوئی خبر لائے تو خوب تحقیق کر لیا کرو[5] (ایسا نہ ہو) کہ تم کسی قوم کو لاعلمی میں (ناحق) تکلیف پہنچا بیٹھو، پھر تم اپنے کئے پر پچھتاتے رہ جاؤ ۔  [6]

آئیں ہم اپنے یہودی بھائیوں اور بہنوں سے سیکھیں، اور یہ  شکایت کرنا چھوڑ دیں کہ وہ میڈیا کو کنٹرول کرتے  ہیں، یہ ہماری نا تونی کا ایک کمزور بہانہ ہے۔ وہ دانستہ طور پر  امریکہ کی زندگی کے ہر پہلو میں ملوث ہیں، ایسی کوئی جگہ نہیں ہے جہاں آپ انہیں بڑے پیمانے پر عوام کی بھلائی کے لئے تعاون کرتے ہوئے نہ پائیں  ۔ ہم اسےاپنے مقامی اخباروں میں ، قارئین کے تبصرے کے سیکشن میں لکھنے کی ضرورت ہے ان معاملات کو نہیں جن سے ہمیں  کوئی فرق پڑتا  ہے بلکہ ان معاملات کو جن سے شہر کی بڑی آبادی کو فرق پڑتا ہے ۔ ہماری موجودگی تقریبا معدوم ہے۔ میں جس بھی شہر میں جاتا ہوں ، تو قارئین کےتبصروں کو دیکھتا ہوں اگر  مسلمان عام مسائل میں ملوث ہوں  - میں خوف زدہ نہیں ہوں۔ ہم ایک واحد مسئلہ کمیونٹی ہیں، اور طویل مدت میں یہ اسے نہیں طئے کرے گا۔ ہم کس طرح پیٹر کنگ سے یہ توقع کر سکتے ہیں کہ وہ اپنا ذہن تبدیل کریں گے، اگر ہم  یہودی بستیوں ( معاف کریں  گودام –معاف کریں خوش پوش کے گھروں ) میں رہتے ہیں ۔

انشاء اللہ، ہم مضبوط اور جرات مندانہ ہو سکتےہیں ۔ میں بڑے شہر میں کم از کم تین ایسے مسلمانوں کی ایک غیر رسمی جماعت بنانےکی کوشش کر  رہا ہوں جو آپ کے شہر کے لئے میڈیا رابطہ بننے کے لئے رضاکارانہ طور پر ایک ماہ میں کم از کم چار گھنٹے خرچ کرنے کو تیار ہوں۔ مجھ پر یقین کریں، مسلم تنظیمیں ایسا نہیں کر سکتیں، ان کے اوپر کرنے کے لئے  کام کا بوجھ ہے، اور وہ بندوق کے تحت ہیں اور بات چیت کرنے میں آزاد نہیں ہیں ۔ اور وہ لوگ بھی ایسا نہیں کریں گے جو رقوم کی تلاش میں ہیں، ہم عام مسلمانوں کو ہی  ایسا کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر آپ سنجیدہ ہیں تو میں نے وہاں کچھ حاصل کرنے کے لئے، ہر کسی کو  کچھ کرنے کے لئے کوئی کام شروع کر دوں ، آپ خود اپنے طور پر ایسا کر سکتے ہیں، لیکن اگر آپ ایک جماعت کے ساتھ کریں گے ، تو ایک اہلیتی عمل ہے جس پر آپ کو  کھرا اترنا ہوگا ، پھر آپ مسلمانوں کے لئے سفیر کا  کام کرنے کے لئے آزاد ہیں۔

مائیک غوث  ایک مقرر، مفکر اور مصنف ہیں ، جو تکثیریت ، سیاست، امن، اسلام، اسرائیل، ہندوستان، بین المذاہب اور جگہ پرہم آہنگی کے عناوین پر لکھتے ہیں ۔ انہوں نے اپنے خودکو ایک ہم آہنگ امریکہ کی تعمیر کے لئے وقف کر رکھا ہے مصروف عمل اور www.TheGhousediary.com پر روز مرہ  کے مسائل کا تکثریت پر مبنی حل پیش کرتے ہیں ۔

ماخذ:

http://worldmuslimcongress.blogspot.in/2013/04/bold-steps-muslims-should-not-apologize.html

URL for English article

http://www.newageislam.com/islam-and-politics/mike-ghouse/bold-steps--muslims-should-not-apologise/d/11387

URL for this article

http://newageislam.com/urdu-section/mike-ghouse-مائیک-غوث/bold-steps--muslims-should-not-apologise-مسلمانوں-کو--معذرت-خواہ-نہیں-ہونا-چاہئے/d/11413

 

Loading..

Loading..