New Age Islam
Fri Jul 01 2022, 06:13 AM

Urdu Section ( 20 Feb 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

To Help, or Not? Making the Right Decisions For Charity مدد کریں، یا نہیں؟ صدقہ کے لیے صحیح فیصلہ

 چونکہ سب کچھ خدا کا ہے، اس لیے 'ہماری' مادی دولت اصل میں خدا کی امانت ہے۔

اہم نکات:

جب کہ ہمیں صدقہ دینا ضروری ہے، ہمیں اس دولت کے حقیقی مالک خدا کی مرضی کے مطابق ہی اس ذمہ داری کو ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

 اس لیے کہ جو مال ہم صدقہ و خیرات میں دے رہے ہیں وہ صرف انہی مصارف میں استعمال کیا جائے جن سے اللہ راضی ہے، ہمیں اس معاملے میں اللہ کی رہنمائی حاصل کرنے کے لیے اسی کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔

 -----

میشا اوہ، نیو ایج اسلام

4 جون 2021

----------

Courtesy: wardtrademarks.com/intellectual-property-issues-facing-charities

----

مختلف مذاہب صدقہ میں اپنی دولت کو بانٹنے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ اس طرح کے عطیات سے نہ صرف خیرات لینے والوں بلکہ اسے دینے والوں کو بھی فائدہ ہوتا ہے۔ دینے والوں کو اس سے یہ فائدہ ہے کہ ان کا دنیاوی دولت سے لگاؤ کم ہو گا اور ان کے اندر ہمدردی اور مہربانی جیسی قدسی صفات پیدا ہوں گیں اور اس کے نتیجے میں روحانی ترقی ہوگی۔ صدقہ، اگر صحیح نیت کے ساتھ دیا جائے اور اگر صحیح مقصد میں دیا جائے تو صدقہ دینے والا ترقی کرتا ہے۔

جبکہ اپنی مادی دولت کو ضرورت مندوں کے ساتھ بانٹنے کی ضرورت واضح ہے، ہمیں کس کی مدد کرنی چاہیے اور ہمیں یہ کام کیسے کرنا چاہیے، یہ ہمیشہ واضح نہیں ہوتا۔ بعض اوقات، ہم اس میں بڑی غلطیاں کر دیتے ہیں، جس سے خدا کے عطا کردہ وسائل ضائع ہو جاتے ہیں۔

میں اپنے تجربے کی روشنی میں بیجا عطیات و صدقات کے صرف دو واقعات کا حوالہ پیش کرتا ہوں۔ کئی سال پہلے، میری والدہ بیمار ہوئیں اور انہیں ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔ میں بہت پریشان تھا اور میں چاہتا تھا کہ میری والدہ ٹھیک ہو جائیں اس کے لیے میں نے ایک بڑی رقم (میں اس کا ذکر نہیں کروں گا - کیا آپ مجھے احمق سمجھتے ہیں!) اپنی والدہ کے گھر میں کام کرنے والے کو دے دیا۔ مجھے یاد نہیں ہے کہ ایسا کرنے کے پیچھے میرا مقصد کیا تھا، لیکن میں نے سوچا ہوگا کہ اگر میں اس شخص کو رقم دے دوں تو خدا خوش ہو گا اور وہ میری والدہ کو جلد صحت یاب کر دے گا۔

جب میں اب اس کے بارے میں سوچتا ہوں تو مجھے حیرت ہوتی ہے کہ کیا میں نے واقعی صحیح کام کیا تھا۔ اگر صدقہ میں رقم دینے کا میرا مقصد یہ ہوتا کہ اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ میری والدہ کو جلد صحت یاب کر دے گا، تو مجھے نہیں معلوم کہ کیا واقعی خدا چاہتا ہے کہ ہم اس طرح کا ’’سودا‘‘ کریں۔

پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اس موقع پر اتنی بڑی رقم صدقہ کرنا واقعی عقلمندی کا کام تھا تو کیا واقعی میں نے صحیح شخص کا انتخاب کیا تھا؟ ہوسکتا ہے کہ ایسے لوگ اور مقاصد موجود ہوں جو اس سے کہیں زیادہ مستحق ہوں جسے میں نے رقم دی تھے۔

اس کے علاوہ، کیا مجھے کوئی اندازہ تھا کہ میں نے اتنی بڑی رقم جس شخص کر دی ہے وہ اس کا استعمال کس طرح کرے گا؟ کیا مجھے یقین تھا کہ وہ اسے کسی اچھے مقصد کے لیے استعمال کرے گا؟ کیا ہوگا اگر اس نے اپنی بہن کے لیے موٹرسائیکل یا زیورات خریدنے یا خاندان میں شادی کے لیے اس میں سے کچھ خرچ کیا ہو، جن چیزوں پر میں یقینی طور پر پیسہ ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا؟

یہاں نیک نیتی پر مبنی خیرات کی ایک اور مثال ہے جو شاید دانشمندانہ نہیں تھی۔ دوسرے دن ایک این جی او میں گارڈ کے طور پر کام کرنے والے ایک شخص نے مجھ سے رابطہ کیا۔ اس کی بیٹی کی فی الحال ہی شادی ہوئی تھی اور اس کے ذمے لڑکی کے سسرال والوں پر بڑی رقم واجب الادا تھی—شاید وہ شادی کے دوران اور اس کے فوراً بعد ہونے والے اخراجات ہوں۔ وہ مدد چاہتا تھا۔ اب، میں جانتا ہوں کہ یہ آدمی بہت مخلص اور مہربان ہے اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ وہ معمولی تنخواہ کماتا ہے، جس کی وجہ سے اس کے لیے اپنے اور اپنے خاندان کے لیے روزی کمانا کافی مشکل ہے، لیکن میں نے تھوڑی بے حسی اختیار کی۔ آخر میں، اگرچہ، میں نے اسے کافی بڑی رقم بھیجی۔ میں نے واضح کر دیا کہ میں رقم واپس نہیں چاہتا۔

اب، کیا میں نے صحیح کام کیا؟ کیا میرا صدقہ دینا ایک دانشمندانہ عمل تھا؟ شاید جب میں نے رقم بھیجی تو میں نے سوچا کہ میں نے جو کیا وہ ٹھیک تھا۔ لیکن اب میں سوچتا ہوں کہ کیا واقعی میرا وہ عمل اچھا تھا۔ کیا ہوگا اگر یہ رقم شادی سے متعلق فضول خرچیوں کو پورا کرنے میں استعمال کی جائے، مثلا ایک شاندار دعوت یا دلہن کے خوبصورت لباس یا شادی کی ویڈیو ریکارڈنگ یا ایسی کسی بھی چیز میں جو میں کبھی بھی نہیں چاہوں گا؟

یہ ان متعدد صورتوں میں سے صرف دو ہیں جن کا میں نے گزشتہ برسوں میں تجربہ کیا ہے کہ بیجا خیرات کیا ہو سکتی ہے جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مادی طور پر خود سے کم خوشحال لوگوں کی مدد کرنا بہت اچھی چیز ہے، لیکن ہمیں کس کی مدد کرنی چاہیے اور اس کا طریقہ کیا ہونا چاہئے، یہ فیصلہ کرنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا ہے۔ خیرات و صدقات دینا اچھی بات ہے، لیکن جذباتی طور پر بگیرر سوچے سمجھے ایسا کرنا ٹھیک نہیں۔

صدقہ دینے کے بارے میں فیصلہ کرتے وقت یہ بات ذہن میں رکھنا اچھا ہے کہ ہمارے پاس جو بھی مادی دولت ہے وہ خدا کی طرف سے ایک نعمت ہے۔ چونکہ سب کچھ خدا کا ہے، اس لیے ’’ہماری‘‘ مادی دولت بھی اصل میں خدا کی ہی ملکیت ہے، ہماری نہیں۔ اس لیے ہمیں خدا کے حکم کے مطابق اس دولت کا کچھ حصہ صدقہ میں دینا چاہئے جس سے خدا نے ہمیں نوازا ہے، لیکن ہمیں یہ کام پوری ذمہ داری کے ساتھ خدا کی مرضی کے مطابق کرناچاہیے جوکہ اس کا حقیقی مالک ہے۔ یہ جانتے ہوئے کہ دولت دراصل خدا کی ہے اور یہ کہ ہم صرف اس کے امانت دار ہیں، ہمیں اس انداز میں خیرات کرنے کی ضرورت ہے جو خدا کو پسند ہو۔ ہمارا صدقہ صرف ان مقاصد کے لیے جانا چاہیے جن کی تکمیل خدا چاہتا ہے۔ ہمیں لگ سکتا ہے کہ اس کام میں ہمیں تعاون کرنا چاہیے لیکن ہو سکتا ہے کہ خدا کی مرضی اس کے برعکس ہو۔

چنانچہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ جو مال ہم خیرات میں دے رہے ہیں وہ صرف ان کاموں میں استعمال کیا جائے جن سے اللہ تعالیٰ راضی ہو اور ہم اسے ضائع نہ کریں، تو ہمیں اس معاملے میں اللہ سے رہنمائی حاصل کرنے کے لیے اس کی طرف رجوع کرنا اچھا بات ہے۔ اگر فرض کریں کہ کوئی ہم سے کسی خاص مقصد کے لیے پیسے مانگے تو ہمیں خدا کے سامنے معاملہ پیش کرنا چاہئے اور اس سے درخواست کرنی چاہئے کہ وہ ہماری رہنمائی کرے کہ ہمیں کیا کرنا ہے۔ پھر، ہمیں اس رہنمائی کی پیروی کرنی چاہیے جو ہمیں اندر سے حاصل ہو۔ اس طرح ہمارا صدقہ صحیح مقصد میں صرف ہو سکتا ہے اور ضائع ہونے سے بچ سکتا ہے۔

 English Article: To Help, or Not? Making the Right Decisions For Charity

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/charity-god-material/d/126414

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..