New Age Islam
Tue Sep 29 2020, 10:52 AM

Urdu Section ( 15 Dec 2014, NewAgeIslam.Com)

A Different Homesickness آخرت کی فکر اور اس کی تیاری

 

مہیشا اوہ، نیو ایج اسلام

14 دسمبر، 2014

10 سال کی عمر میں مجھے ایک بورڈنگ اسکول میں داخل کروا دیا گیا تھا جو کہ میرے گھر سے تقریبا 1500 کلومیٹر کی دوری پر واقع تھا۔ وہ اسکول اس قدر قدیم اقدار کا حامل تھا کہ اس میں سخت فوجی نظم و ضبط نافظ کیے گئے تھے۔ ہمارے پاس اس وقت اپنے خاندان سے رابطے کے ذرائع بہت محدود تھے۔ ای میل، موبائل فون اور فوری طور پر مواصلات کے دیگر ذرائع پیدا ہونے میں ابھی نصف صدی باقی تھی۔ ہم فون پر بھی ہمارے والدین سے بات نہیں کر سکتے تھے اور ہمیں مہینے میں صرف ایک بار یا دو بار ہی ان کو خط لکھنے کی اجازت تھی۔ اگر مجھے اچھی طرح یاد ہے تو اسکول سے باہر کی دنیا کے ساتھ ہمارے رابطے کی اس قدر نگرانی کی جاتی تھی کہ ان کے ساتھ خط و کتابت بھی پورے دھیان کے  ساتھ نگراں کی نگرانی میں کی جاتی تھی۔ ہمیں ایک مختصر وقفے کے لئے ہر چھ ماہ کے بعد ایک سال میں صرف دو مرتبہ گھر جانے کی اجازت دی جاتی تھی۔

اس طرح سے ہمارا گھر سے دور رہنا بالکل آسان بھی نہیں تھا۔ ہمارے بہت سے ساتھیوں کو  لگتا تھا کہ گھر سے دوری کا ملال 'غلط' اور 'غیر فطری ' ہے، جبکہ میں نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔ مجھے اکثر اوقات گھر کی یاد ستاتی تھی یہاں تک کہ چھٹیوں کے اگلے دور کا آغاز ہو جاتا تھا۔ تقریبا پانچ دہائیوں کے بعد آج بھی مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ چھٹیوں سے 15 دنوں پہلے ہی میں کس جوش و خروش کے ساتھ اپنے سامان باندھنا شروع کر دیتا تھا! اور جب میں گھر کے لیے دو دنوں کے سفر پر ٹرین میں سوار ہوتا تھا تو صبر کرنا بڑا مشکل ہوتا تھا۔ اس وقت گھر کے علاوہ دنیا میں ایسی اور کوئی بھی چیز نہیں ہوتی جس کی میں طلب کرتا!

یقیناً چھوٹی سے اس عمر میں بھی میں نے موت کے بارے میں سنا تھا لیکن میں نے یہ سوچھا تھا کہ موت دوسروں کو آ سکتی ہے، مجھے کبھی نہیں۔ گھر میں اور اسکول میں کسی نے موت کے بارے میں بات نہیں کی اور نہ ہی موت کے بارے میں سوچنے کی خواہش کی۔ لیکن اب خود میری موت سمیت، موت ایسی چیز ہے کہ مجھے اسے تسلیم کرنے سے بچنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ میں اگرچہ میں موت کے بارے میں ذہنی ہیجان کا شکار نہیں ہوں۔ اور نہ ہی میں اس بات کی امید کرتا ہوں کہ فوراً مجھے موت آ جائے گی یا یہ دنیا آج ہی فنا ہو جائے گی، لہٰذا مجھے نہیں لگتا کہ میں کسی مایوسی کا شکار ہوں یا مجھے فوری طور پر طبی علاج یا مشورے کی ضرورت ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ میں نے زندگی کی امید چھڑ دی ہے، زندگی سے ساری دلچسپی ختم ہو گئی ہے اور اب میں اسے ختم کرنا چاہتا ہوں اسی لیے موت کے بارے میں سوچ رہا ہوں۔ اس کے بجائے دنیا میں بھری ہوئی نفرت اور ہنگامہ آرائی کبھی کبھی ناقابل برداشت ظاہر ہو سکتی ہے، اور کسی کی ذاتی زندگی میں پیش آنے والے چیلنجز کبھی کبھار تقریبا ناقابل تسخیر معلوم ہو سکتے ہیں لیکن میں اپنی موت کے بارے میں اگر سوچ رہا ہوں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں اپنی زندگی سے راہ فرار اختیار کر رہا ہوں۔ اس کے بر عکس، اب میں بارہا موت کے بارے میں گاہے بگاہے سوچ کر زندگی ایک انتہائی بنیادی پہلو کو اچھی طرح سمجھنے اور اس کی قدر دانی کرنے کی کوشش کر رہا ہوں جنہیں میں نے اتنے دہائیوں میں جان بوجھ نظر انداز کیا ہے ۔ آپ بھی میری اس بات سے متفق ہوں گے کہ، آخر کار ہماری یا کسی اور کی موت ہی ایک ایسی چیز ہے جس کا ہم پختہ یقین کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب میں موت کے خیال سے نہ تو راہ فرار اختیار کرنے کی کوشش کر سکتا ہوں اور نہ ہی مجھے ایسا کرنے کی ضرورت ہے، اسی لیے میں سمجھتا ہوں کہ مجھے اب یہ تسلیم کرنا ہی ہوگا کہ ایک دن مجھے موت کے دروازے سے گزر کر آخرت میں داخل ہونا ہی ہے اور ایک ایسے گھر کی طرف بڑھنا ہے جہاں مجھے ہمیشہ رہنا ہے۔ اب میں یہ سمجھ سکتا ہوں کہ یہی وہ جگہ ہے جسے میں اپنا 'حقیقی گھر' کہہ سکتا ہوں جہاں میں ہمیشہ رہوں گا!

کل ایک دلچسپ خیال میرے ذہن میں یہ آیا کہ: "اگر میرا حقیقی گھر وہ ہے جہاں میں مرنے کے بعد، ممکنہ طور ہمیشہ کے لیےجاؤں گا، تو ایسا کیوں ہے کہ اس گھر سے فراق کا وہ دل خراش درد نہیں محسوس ہوتا جو مجھے بورڈنگ اسکول میں ایام طفولیت میں اس گھر کے لیے ہوتا تھاجہاں میرے والدین رہتے تھے؟ اس دنیا کے اندر جس گھر میں ہم پیدا ہوتے ہیں اگریہ صرف عارضی پناہ گاہ ہے اور اس گھر کو ہمیشہ کے لیے ایک دن چھوڑنا ہی ہے اور پھر کبھی نہیں لوٹنا ہے، تو پھر ایسا کیوں ہے کہ ہم میں سے اکثر اس سے پوری گہرائی کے ساتھ  جڑے ہوئے ہیں لیکن ہم اس گھر کے بارے میں ذرا بھی خیال نہیں کرتے جہاں ہمیں موت کے بعد ہمیشہ رہنا ہے جو ہمارا انتظار کر رہا ہے؟ "

جہاں تک میرا معاملہ ہے تو میں نے اس تعلق سے چند باتوں کا اندازہ لگایا ہے:

1۔ شاید میں اب بھی موت سے انکار کرنا چاہتا ہوں اسی لیے میں اس گھر کے بارے میں سوچنا نہیں چاہتا جہاں مجھے مرنے کے بعد ہمیشہ رہنا ہے۔

2۔ شاید میں ان دنیاوی لذات و خواہشات میں اس طرح گم  ہوں کہ مجھے خود اپنی موت اور میرے ابدی گھر کے بارے میں بھی سوچنے کی فرصت نہیں ملتی۔

3۔ شاید مجھے اس بات کا خوف ہے کہ آخرت کا میرا گھر جنت نہیں بلکہ جہنم میں ہے اور اس کے بارے میں سوچنے سے ہیبت پیدا ہوتی ہے۔

4۔ شاید میں اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرنا چاہتا کہ مرنے کے بعد بھی زندگی ہے اور میں اپنی موت کے بعد ایک دوسرے گھر میں منتقل ہو جاؤں گااس لیے کہ یہ اس بات کا مطالبہ کرتا ہے کہ میں اپنی زندگی پوری طرح بدل دوں اور اسے خدا کے احکام کے مطابق گزاروں ۔ میرے خیال میں یہی ایک سب سے بڑی وجہ ہے کہ لوگ خود کو اس بات کا قائل کرنا چاہتے ہیں کہ ہم ہمیشہ کےلیے مر جاتے ہیں اور جنت اور جہنم (خواہ ہم اسےاس کے حقیقی معنیٰ میں کوئی مادی جگہ سمجھیں یا سے مجازی طور پر ذہن کی ایک کیفیت کا نام دیں) یا دوبارہ حیات "غیر سائنسی اور غیر معقول" باتیں اور محض "توہم پرستی" کی باتیں ہیں۔

5۔ شاید خدا پر میرا ایمان اتنا پختہ نہیں ہے یا شاید میں اس سے اتنی محبت نہیں کرتا جتنی مجھےکرنی چاہیے، ورنہ مجھے بھی اس سے ملنے اور اس گھر میں داخل ہونے کی آرزو اور تمنا ہوتی جو آخرت میں میرے لیے بنایا گیا ہے؟

میں ان سطور کو سپرد قرطاس کرتے ہوئے ایک دعا کر رہا ہوں کہ : "اے خدا ہمارے اندر ہمارے حقیقی گھرکی خواہش اور فکر پیدا فرما!"

مجھے معلوم ہےکہ میں خود اپنی کوششوں کی بناء پر اس حقیقی گھرکی خواہش اور فکر پیدا نہیں کر سکتا۔ یہ خدا کا ایک تحفہ ہے اور وہ اسے ہی عطاء کرتا ہے جس سے وہ راضی ہوتا ہے۔

URL for English article: http://www.newageislam.com/spiritual-meditations/mesha-oh,-new-age-islam/a-different-homesickness/d/100482

URL for this article: http://newageislam.com/urdu-section/mesha-oh,-new-age-islam/a-different-homesickness--آخرت-کی-فکر-اور-اس-کی-تیاری/d/100505

 

Loading..

Loading..