New Age Islam
Sat Sep 26 2020, 10:31 AM

Urdu Section ( 3 Oct 2013, NewAgeIslam.Com)

The Challenge of Pluralism: The Case of Quebec تکثیریت کا چیلنج اور کیوبک کی مثال

 

مہر خاچیریئن

4 اکتوبر 2013       

ٹوا ۔ کیوبک میں سرکاری اداروں کے ملازمین کے پگڑی، یہودی ٹوپی (کپاہ)، حجاب اور نظر آنے والی صلیب جیسی مذہبی علامات پہننے کو محدود کرنے کے ذریعے صوبے کے مذہبی تنوع کو منظم کرنے کی غرض سے تیار کئے گئے قانونی بل نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے۔

اس معاملے پر بات کرنے سے پہلے کسی کو بھی کیوبک کی شناخت کی نازک صورت حال کو سمجھنا ہو گا۔ فرانسیسی بولنے والوں کی اکثریت کا حامل یہ صوبہ جو انگریزی بولنے والے کینیڈا میں ایک اقلیت بن جاتا ہے، اسی طرح اپنی منفرد خاصیت کو محفوظ کرنے کے لئے مسلسل کوشاں ہے جیسے اقلیتی شناختوں کی صورت میں اکثر ہوتا ہے۔

کیوبک کا "میثاق اقدار" خواہ صوبے کے مذہبی تنوع سے معاملہ کرنے کی ایک بد سلیقہ صورت ہو یا سیاسی طور پر نپی تلی بغاوت، ہر دو صورتوں میں یہ آج کے تکثیری معاشروں کو درپیش ایک مرکزی مسئلہ سامنے لاتا ہے۔ اور یہ مسئلہ ان معاشروں کی پالیسوں کو تبدیل ہوتی سماجی شناخت کے لئے موزوں بنانا ہے۔

تکثیری معاشروں کی اکثریت آج کل ایک مشترک سماجی مخمصے سے دوچار ہے۔ سادہ ترین لفظوں میں یہ مخمصہ ان کی آبادیوں میں بڑھتے ہوئے تنوع (مثلاً نسلی، ثقافتی، مذہبی وغیرہ) اور ان معاشروں کی اپنی روایات، ورثے اور مرکزی شناختی خاصیتوں کے مابین ضروری توازن برقرار رکھنے سے متعلق ہے۔

مغرب کے وسیع ثقافتی کرے کے مختلف معاشروں میں اس معمے کے جوابات ایک دوسرے سے بڑی حد تک مختلف ہوتے ہیں۔ اور یہ جوابات اکثر (لیکن بہت سادہ طور پر) بہت بڑے پیمانے پر پیش کئے جاتے ہیں جن کی حدود فرانس کی ثقافت کے اپنے اندر سمو لینے والے نمونے یا ماڈل سے لے کر اینگلو سیکسن طرز کے کثیر الثقافتی ماڈل تک پھیلی ہوتی ہیں۔ ان میں پہلا یعنی فرانسیسی ماڈل اپنی مسلسل بڑھتی اور اچھی خاصی متنوع تارک وطن آبادی پر غالب طور پر اپنی شناخت لاگو کرنے کا خواہاں ہے جبکہ موخرالذکر یعنی اینگلو سیکسن ماڈل اپنی آبادی کی کثیر النوع شناختوں سے اس وقت تک صرف نظر برتنے کی جانب مائل ہے جب تک کچھ بنیادی سماجی اصولوں کو سب اختیار کئے رکھیں۔

بڑے پیمانے پر ترک وطن کے عمل پر مشتمل ایک صدی اورغیر ملکی النسل شہریوں کی دوسری اور تیسری نسل کی بڑھتی ہوئی تعداد کے بعد ان فرانسیسی اور اینگلو سیکسن دونوں طریقوں کی خوبیاں اور خامیاں، کامیابیاں اور ناکامیاں ظاہر ہوئی ہیں۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ان دونوں طریقوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ کسی وقت کے ان مؤثر نظاموں میں باقاعدہ تبدیلیوں کی اشد ضرورت ہے تاکہ یہ آج کے تکثیری معاشروں کی بڑھتی ہوئی پیچیدگیوں کا حل فراہم کر سکیں۔

مذکورہ بالا سادہ تصویر کے بیچوں بیچ ضرورت اس بات کی ہے کہ کیوبک کے معاملے کا تفصیل سے جائزہ لیا جائے تاکہ اس تناظر کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے جس میں "میثاق اقدار کیوبک" تجویز کیا گیا تھا۔

کیوبک کے اکثر قوانین اور پالیسیوں کی بنیاد تحفظ کے تصور پر مبنی اس اساسی دلیل پر ہے کہ صوبے کی شناخت کو قانونی طور پر محفوظ کیا جائے۔ بل 101 کے ذریعے فرانسیسی کو صوبے کی سرکاری زبان قرار دے دیا گیا۔ اسی طرح "انٹرکلچرل ازم پالیسی" کے ذریعے بین الثقافتی تعلقات کا ایک ایسا ماڈل تجویز کیا گیا جس میں فرانسیسی۔کینیڈین ثقافت کو فوقیت حاصل ہوتی ہے (اس کے برعکس انگریزی۔کینیڈین پالیسی تمام کمیونٹیوں کی مساوات کی علمبردار ہے)۔ اور اب یہ نیا میثاق کینیڈا میں سیکولرازم کے ایسے لچکدار تصور کو فروغ دیتا ہے جو مذہبی اظہار کی تب اجازت دیتا ہے اگر یہ معقول (معقول اجازت) لگے اور سرکاری ملازمین کے لئے مذہبی علامتیں استعمال کرنے کی ممانعت پر زور دیتا ہے۔

کیوبک میں مذہبی اداروں کی اپنی تاریخ کیتھولک چرچ کی طرف سے سماجی و سیاسی طور پر برے برتاؤ پر مشتمل ہے۔ چرچ کا صحت، تعلیم اور ذرائع ابلاغ پر اختیار ہوتا تھا۔ 1930 سے 1950 تک بہت ہی قدامت پسند حکومت اور چرچ کے ان اختیارات کا یہ مجموعہ مذہب کے استرداد کی مقبول سوچ کی وضاحت کرتا ہے۔ بہت سارے لوگ ابھی تک اس ماضی سے میل پیدا نہیں کر سکے۔

اس مجوزہ میثاق کے پیچھے جو بھی مقاصد ہوں، یہ واضح طور پر اپنی تاریخ کو قبول کرنے اور سماجی شناختوں کی حرکیات اور ان کے تغیر پذیر کردار کو قبول کرنے جیسے گہرے مسائل کو سامنے لایا ہے۔ کسی بھی تکثیری معاشرے میں تنوع کے جڑ پکڑنے اور باقاعدہ پھلنے پھولنے کے لئے ان مسائل کو حل کرنا پڑے گا۔

اجنبیت کے حوالے سے بے آرامی محسوس کرنا یا بے چین ہونا ایک فطری انسانی ردعمل ہے۔ اس کے باوجود سب کو شامل کرنے والی سوچ اور ذہن کے ساتھ اس سطح سے اوپر اٹھنا ممکن ہے۔ کیوبک کی سول سوسائٹی پہلے ہی اس معاملے میں بڑی فعال ہے۔ اس سلسلے میں کئے جانے والے چند ایک اقدامات میں فنی، تعلیمی اور تربیتی پروگرام، بین الثقافتی تعلقات کو مضبوط کرنے کے لئے سپانسرشپ اور دوسروں کی بہتر تفہیم کے لئے بین العقائد مکالمے کے پروگرام شامل ہیں۔

اس مجوزہ میثاق کو کسی بھی طور کیوبک کے معاشرے کی وسیع القلبی، رواداری اور دوسروں کا خیر مقدم کرنے کی صلاحیت پر شک کے سائے پھیلانے کا سبب نہیں بننا چاہئے۔ تنوع کا اکرام اور تحسین کیوبک میں بڑی راسخ اقدار ہیں۔ نسلی، ثقافتی، اور مذہبی علامتوں کے اختلاط کو دیکھنے کے لئے کسی کو بھی صرف کسی اسکول یا جامعہ میں داخل ہونے، عوامی پارک میں جانے یا کسی پرہجوم گلی میں گھسنے کی ضرورت ہے۔ اور یہ تو کیوبک کی متنوع آبادی کی خوبصورتی کے محض بظاہر نظر آنے والے پہلو ہیں۔

٭مہر خاچیریئن بین الاقوامی تصفیہ تنازعات میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں اور جامعہ مونٹریال میں "کینیڈا ریسرچ چیئر" برائے "اسلام، تکثیریت اور آفاقیت" کے رابطہ کار ہیں۔ یہ مضمون کامن گراؤنڈ نیوز سروس Common Ground News Service (CGNews). کے لئے لکھا گیا۔

ماخذ: کامن گراؤنڈ نیوز سروس ﴿سی جی نیوز﴾، 4 اکتوبر 2013

URL for English article:

http://newageislam.com/current-affairs/the-challenge-of-pluralism--the-case-of-quebec/d/13793

URL for this article:

http://newageislam.com/urdu-section/meher-khatcherian-مہر-خاچیریئن/the-challenge-of-pluralism--the-case-of-quebec-تکثیریت-کا-چیلنج-اور-کیوبک-کی-مثال/d/13837

 

Loading..

Loading..