New Age Islam
Wed Sep 23 2020, 09:42 PM

Urdu Section ( 9 Jun 2013, NewAgeIslam.Com)

Girls’ Education: Concerns And Expectations لڑکیوں کی تعلیم اندیشوں اور تقاضوں کے درمیان

 

محمد الیاس ندوی رامپوری

5 جون، 2013

آج  کے اس دور میں جس میں صبح و شام تعلیم و تدریس  او رعلوم و فنون  کا تذکرہ کیا جاتا ہے، ہر جگہ اور ہر مقام پر تعلیم کو فروغ  دینے کی بات ہوتی ہے جس دور میں ہر کام کو علم سے جوڑ دیا گیا ہے ،حتیٰ کہ صنعت و حرفت کے زمرے میں آنے والے بعض  وہ کام بھی جن کے لیے اب سے ایک صدی یا نصف صدی پہلے تک تعلیم کی ضرورت کوئی ایسی خاص  ضرورت نہ سمجھی جاتی تھی ۔ اب پیشہ ورانہ کو رسیز کا نام پاکر تعلیم  گاہوں  میں پڑھے اور پڑھائے جارہے ہیں ۔ ایسے  دور میں  اس بات کا جواز بہت کم رہ جاتا ہے کہ لڑکیوں  کی تعلیم کے موضوع پر قلم اٹھا یا جائے اور یہ باور کرانے کی کوشش کی جائے کہ لڑکیوں کی تعلیم بھی اسی طرح ضروری ہے جس طرح لڑکوں کی تعلیم کو ضروری  سمجھا جاتا رہا ہے ۔ بطور خاص اس وقت جب کہ خاص اسی مقصد کے لیے  لاکھوں لوگ کام کررہے ہوں اور ہزار رہا تنظیمیں اور رفاہی ادارے  اس کو اپنا نصیب  العین بنا کر نہ صرف یہ کہ اس کا جواز حاصل کرچکے ہیں بلکہ حکومت و عوام کی تمام تر ہمدردیاں ، مالی تعاون اور ان کے خوشنما جذبات و احساسات بھی اپنے دامن میں سمیٹ  رہے ہوں۔

تاہم آج  بھی بہت سے  ایسے گھرانے موجود ہیں جو تعلیم و تدریس کو وہ اہمیت دینے کو تیار نہیں ہیں جو باقی دنیا  صدیوں  پیشتر اسے دے چکی ہے اور خاص طور پر لڑکیوں کے معاملے میں وہ اپنی حد سے بڑھی ہوئی حساسیت کا اظہار آئے دن کرتے رہتے ہیں ۔ لڑکیوں کے متعلق  ان کا ذہنی خاکہ کچھ اس طرح بن چکا ہے کہ وہ لڑکیوں  کی تعلیم کو آج  بھی قابل اعتنا  نہیں سمجھتے  یا کم از کم ان کے لیے  اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کو ضروری نہیں  گردانتے ۔ ان کا ماننا ہے کہ لڑکیوں  کو نوکری ووکری توکرنی نہیں ہے اور ویسے بھی اسلام نے دھن دولت کمانے کے چکر میں پڑنا عورت کی ذمہ رکھا  بھی نہیں ہے ۔ بہت  سارے لوگ اپنے ذہنوں میں کچھ اس طرح  کا روگ  بھی پال  رکھتے ہیں  کہ لڑکیاں  تو پرایا دھن ہوتی ہیں اور پرائے دھن پر محنت  کرنا اور اپنا مال خرچ  کرنا ان  کی نظر میں کوئی مستحسن  یا قابل استحقاق عمل نہیں ہوسکتا ۔

لڑکیوں کو اعلیٰ تعلیم سے آراستہ کرنے کی راہ میں ایک سماجی رکاوٹ یہ بھی اکثر و بیشتر  دیکھنے میں آتی ہے کہ تعلیم کے حصول کا طویل ترین دورانیہ ان کی اچھی خاصی عمر کھا جاتا ہے ۔ ایم فل  اور پی ایچ ڈی کرتے کرتے لڑکیاں اپنی زندگی کی تیسری بہار میں داخل ہوکر اس کا نصف حصہ  قطع  کرلیتی  ہیں جب کہ ان میں سے بہت سی تیس پینتیس  سال کی بھی ہوجاتی ہیں اور ان کی عمر کا دور ایسا  دور ہے جہاں تک پہنچتے پہنچتے ان کی خوبصورت اور نقرئی خوابوں کے سارے شیش محل تقریباً زمین بوس ہوچکے  ہوتے ہیں ۔ والدین اور خود لڑکیاں  بھی اپنے مستقبل کو لے کر طرح طرح کے شکوک و شبہات  میں مبتلا ہوجاتی ہیں یہاں تک کہ کچھ تو بن بیاہی بھی رہ جاتی ہیں اس کا اثر متاثرہ  خاندان پر جو کچھ  اور  جیسا کچھ پڑنا  ہوتا ہے وہ تو پڑتا ہی ہے تا ہم  دوسرے لوگ بھی ایسے  واقعات کو اپنے لیے  نمونہ  عبرت بنا لیتےہیں اور اپنی بچیوں  کی بڑھتی عمر کے بارےمیں  محتاط ہوجاتے ہیں ۔ جس کا نیتجہ  عام طور پر یہ نکلتا ہے کہ اکثر بچیاں  میٹرک  کےبعد اپنا تعلیمی  سفر منقطع کر لیتی ہیں یا انہیں تعلیم گاہوں  سے اٹھا لیا جاتا ہے۔

لڑکیوں کی تعلیم  کےتعلق سے والدین کے اس قسم کے ذہنی تحفظات میں ایک بہت بڑی چیز جو اکثر و بیشتر ان کی تعلیمی پیش رفت میں رکاوٹ کا ذریعہ بنتی ہے وہ یہ بھی ہے کہ والدین اپنی بچیوں کو جو عمر  کے اس مرحلہ میں داخل ہوچکی ہوتی ہیں جس میں بھٹکنے کے امکانات بہت زیادہ بڑھ جاتےہیں ہمہ وقت اپنی نظر کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں جس وقت سے بچی گھر کی دہلیز سے باہر قدم نکالتی ہے اس کے واپس  گھر لوٹ آنے تک والدین فکر و تشویش میں مبتلا رہتے ہیں اور آج کی ناچتی گاتی تہذیب کے پس منظر میں اور کثرت کے ساتھ پیش آنے والے لوٹ مار، قتل و غارت گری اور آبرو ریزی کے واقعات کے تناظر میں نیز اس ضمن میں کہ ہمارے ملک کا کوئی بھی شہر لڑکیوں  اور عورتوں کے لیے محفوظ شہر نہیں ہے کم از کم میں تو ان کے اس جائز اور ہر لحاظ سےرودار تحفظ ذہنی کو نا جائز اور ناروا نہیں کہہ سکتا ۔ پھر بھی کچھ  تو ہے جو میں کہنا چاہتا ہوں ۔

اس مختصر سے مضمون  کی ترتیب کے وقت میرے ذہن  میں کچھ اس قسم کے لوگ ہیں اور میں  انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ ان کےان تمام خود ساختہ تحفظات  کے باوجود اور ان کے تمام دعووں اور دلیلوں کو کسی قسم کا منطقی جو از فراہم کر لینے کے باوجود بھی لڑکیوں  کی تعلیم کیوں ضروری ہے۔

فی الوقت میرے ذہن میں چند سادہ سے واقعات  ہیں جو  صد فی صد حقیقت پر مبنی ہیں بلکہ انہیں ذاتی  تجربات سے تعبیر کرنا شاید زیادہ بہتر ہوگا ۔ گو کہ یہ انتہائی  سادہ اور معمولی قسم کے ہیں مگر ان کے اثرات اور نتائج  انتہائی حد تک تباہ کن ہیں ۔ یہ عورت ذات کی زندگی  کے درد ناک اور قابل رحم پہلو  سے متعلق ہیں۔ میری غرض  فلسفۂ تعلیم اور طرز تعلیم سے نہیں  بلکہ تعلیم سے ہے ۔ اس تعلیم سے جو انسان کو انسان بناتی ہے اور زندگی  کے معاملات  کو صحیح  اور درست انداز میں حل کرنا سکھاتی ہے۔

تعلیم کی اہمیت سے آج تک نہ کوئی انکار کرسکا ہے اور نہ آج کے بعد کوئی ایسا کرنے کی جرأت کرسکے گا تاہم جس طرح پانی اور ہوا  کے ساتھ زہر یلے اور انسانی صحت کے لیے تباہ کن جراثیم وابستہ  ہوتے ہیں اور انہیں ختم کرنے کی ہر آدمی اپنی جیسی کوشش ضرور کرتا ہے اسی طرح تعلیم اور ذرائع  تعلیم کے ساتھ بھی بہت سارے جراثیم  ہمہ وقت لگے رہتےہیں جن سے حفاظت کے طریقے سیکھنا  نہ صرف لڑکیوں  کی اور ان کے والدین کی ذمہ داری  بنتی ہے بلکہ متعلقہ ادارے  اور متعلقہ  حکومتیں  بھی اس بات کی پابند ہیں کہ وہ لڑکیوں  کے لیے نسبتاً محفوظ مامون ماحول فراہم کریں۔

1۔ یہ بات گرچہ خاص  پرانی ہے لیکن آج تک دل و دماغ  پر اس طرح چھائی ہوئی ہے کہ بالکل  آج کل ہی کی بات معلوم ہوتی ہے۔ شام کا جھٹ پٹا ہو چلا تھا ، باہر گلیاروں میں اندھیرا  اور سناٹا چھانے لگا تھا ، گاؤں کی دن بھر کی تھکی ماندی زندگی پاؤں پھیلائے نیند  کی آغوش میں سر رکھنے  والی تھی کہ مجھے کسی ضروری  کام سے اپنے محلے کےایک صاحب کے یہاں  جانا پڑا، گھر کے سارے لوگ کھانے وغیرہ  سے فارغ ہوکر سونے کی تیاری کررہے تھے ، مرد اور عورتیں سب  لوگ جمع تھے، دوران گفتگو اس گھر  کی ایک عورت نے اپنے بچے  کی بیماری کا ذکر کرتے ہوئے بچے پر دم کرنے کو کہا۔ میں نے اسی سال حفظ مکمل کیا تھا او رعالمیت کے ابتدائی درجات میں زیر تعلیم  تھا، لہٰذا خود کو اس کام کے لیے اہل نہ پاکر دم کرنے سے انکار کیا ۔ میرا  انکار کرناتھا کہ اس عورت کے دیور تقریباً چیختے ہوئے بولے ‘‘ ارے یہ بدھو عورت کیا جانے، کوئی اپنے کام سے آتا ہے اور یہ اس کے سامنے اسی طرح کی الٹی سیدھی باتیں لے کر بیٹھ جاتی ہے ۔ اس کو پتہ  ہی نہیں  کہ کس سے کس طرح بات کرنی ہے؟ عورت ابھی اپنی صفائی پیش کرنے کی ہمت بھی نہ  جٹا پائی تھی کہ خود اس کے شوہر بھی اس پر بر س پڑے اور لعن طعن  کرنے لگے ۔ ایسا با لکل  نہیں تھا کہ  یہ لوگ خود بہت زیادہ پڑھے لکھے اور قابل تھے تاہم ایسا ضرور تھا کہ عورت  ذات کے گنوار پن اور عدم قابلیت سے اسی قدر نالاں  تھے جس قدر ہمارے قومی رہنما اپنی قوم میں تعلیم کے فقدان اور اس کے عدم ارتقاء  کولے کر چیں بہ چیں  اور چراغ  پا دکھائی دیتے ہیں۔ اب یہ الگ بات ہے کہ ہمارے  ملک میں عام طور پر اور شمالی ہندوستان میں خاص طور  پر ہمارے رہنماؤں  کا کم علم  ہوناعام بات ہے ۔ اہل  علم قیادت  اور قیادت سے جڑی ہوئی ایک چیز یعنی نیتا گیری میدان میں یا تو آنا ہی نہیں چاہتے یا انہیں مواقع ہی  نہیں مل پاتے ۔

2۔ یہ ادھر قریبی  دنوں  کی بات ہے مجھے  یہیں دہلی میں ایک بینک  جانے کا اتفاق  ہوا ۔ دوپہر  کا وقت تھا اور بینک میں خاصی بھیڑ بھاڑ بھی تھی۔ میں لائن  میں کھڑا  ہوا تھا، مجھ سےقریب دوسری ونڈو پر ایک معمر  آدمی کو ایک ہزار کا نوٹ  واپس کرتے ہوئے کہا ،آپ  نے ہزار روپے  زیادہ دے دیئے ہیں ۔ ہوسکتا ہے میں بوڑھا  آدمی ہوں اور نظر بھی  کمزور ہے ۔  گننے میں بھول چوک  ہوگئی ہوگی۔ معمر آدمی نے وضاحت کی ۔ گھر  پر کسی سے گنوالیتے  ۔ بینک  ملازم  کی آواز بھری ۔ معمر شخص نےحسرت  بھرے لہجے  میں جواب دیا گھر پر میرے علاوہ میری بیوی  ہے اور دوسرا کوئی نہیں ہے اور اس بے چاری کو تو سو تک  گنتی بھی نہیں  آتی ۔

3۔ تیسرا واقعہ بھی یہیں دہلی  ہی کا ہے او ربالکل قریبی  زمانے کا بھی ۔ یہیں  جامعہ نگر  میں کسی جگہ سےمجھے  جوہری فارم کے لیے رکشا لینا تھا جیسے ہی میں رکشے  میں بیٹھنے لگا ایک معمر  عورت بھی جس کی عمر تقریباً پچاس پچپن کے قریب رہی ہوگی اسی رکشے پر شریک سفر  ہوگئی ۔ درمیان  سفر عورت کو کچھ شک ہوا کہ یہ رکشا اس کے مطلوبہ مقام پر نہیں  جارہا ہے ۔ میں نے اس سے پوچھا آپ کو کہاں جانا ہے کہنے لگی  اسی راستے  سےجانا ہے اس کی باتوں سے پتہ چلا کہ وہ  کسی کے گھر میں کام کرتی ہے۔ میں نے مزید  پوچھا تم  اس علاقہ میں  کب سے کام کرتی ہو۔ اس نے بتایا دوتین سال سے ۔ مجھے  بڑی حیرانی ہوئی کہ یہ عورت اس علاقے  میں تین سال سے کام کررہی ہے اور اپناپتہ بتانےسے بھی قاصر ہے ۔ میں نےاپنے  طور پر ا س کی وجہ معلوم کرنے کی کوشش کی تو اس کے سوا او رکچھ  نہ معلوم کرسکا یہ سب کچھ یعنی اس قدر غفلت اور نادانی صرف اور صرف تعلیم کی کمی کی وجہ سے ہے ۔ میں ایسا  با لکل نہیں سمجھتا  کہ  یہ محض  نوکر پیشہ  ہونے کی وجہ سے ہے ۔

اس طرح کے واقعات میں  سمجھتا ہوں ہماری دیہی  اور شہری  زندگی میں کثرت کے ساتھ پیش  آتے ہیں اور آئے دن پیش آتے رہتے ہیں ۔ میرے علاوہ اور کتنے  لوگ ہوں گے جن کے ساتھ  اس طرح کے واقعات پیش آتے رہے ہوں گے ۔ گرچہ یہ تینوں  واقعات جن میں سے پہلے اور آخری دو واقعات کا تعلق مسلم فیملی  سے ہے اور ایک یعنی  دوسرے واقعے کا تعلق نان مسلم فیملی سے ہمارے  ملک کی اس نسل سے متعلق  ہیں جو اپنی زندگی  کے آخری پڑاؤ پر پہنچ چکی ہے یا بہت جلد پہنچنے  والی ہے اور بہت جلد یعنی یہی کوئی بیس تیس  سال کے بعد اس کی جگہ نئے خون والی نسل لے لے گی۔ اس  وقت اس طرح  کے واقعات اتنی کثرت سے پیش نہیں آئیں گے جتنی کثرت سے  آج پیش  آرہے ہیں یا پہلے کبھی آتے رہے ہوں گے ۔ان واقعات کو پڑھ کر کون سے والدین ایسے ہوں گے جو اپنے جگر پاروں کی اس طرح  کی درگت کو ٹھنڈے پیٹوں  برداشت کر پانے کا حوصلہ جٹا پائیں گے ۔ آج جب تعلیم اتنی عام نہیں ہے غیر تعلیم  یافتہ عورتوں  کو اس نظر سے دیکھا جاتا ہے ۔ اتنے سخت  اور کٹیلے جملوں سے ان کو بات  بات پر نواز ا جاتا ہے ۔ ان کی کم  علمی  و نادانی پر ترس  کھایا جاتا ہے تو کل جب تعلیم  عام ہوجائے گی، سائنس او رٹکنالوجی کی برکات سے دنیا ایک ایسے معاشرے میں تبدیل  ہوجائے گی جہاں بے علم اور ان پڑھ لوگ اسی طرح چیزوں کو ٹٹولتے پھرتے ہیں اور ایسے  معاشرے  میں ہماری بچیاں بے علم و ہنر  رہ جائیں گی تو انہیں  کس قدر تکلیف  دہ رویوں کا سامنا  کرنا پڑے گا یہ سوچنے کی بات ہے اور غور کرنے کی چیز بھی ہے۔

تمام والدین کو جب  وہ اپنی  بچیوں کو جانے انجانے خوف کے نتیجہ میں یا مجبوریوں  کے تحت تعلیم گاہوں  سے اٹھانے لگتے ہیں انہیں کم از کم ایک بار ضرور اس طرح بھی  سوچنا چاہیے کہ کیا وہ اس بات پر راضی ہو جائیں گے کہ کل جب وہ اپنی بچیوں  کو انکے گھروں کو رخصت کریں گے تو کیا اس لیے کہ وہاں انہیں جاہل  ،گنوار، بے عقل اور بدھو جیسے القاب سے پکارا جائے ۔ ان کےشوہر اور سسر الی رشتہ داران کی کم علمی پر ترس کھائیں اور ان کی بہت سی نادانیوں  کو اس لیے نظر انداز کریں یا انہیں اپنے مشوروں میں شامل نہ رکھیں  کہ ان کو تو سو تک گنتی بھی نہیں آتی ۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہم میں سے کوئی بھی اس بات  کے لیے راضی  نہیں ہوگا ۔ میرا خیال ہے کہ تمام والدین کو لڑکیوں  کی تعلیم کے بارے میں  اپنے تمام قسم کے ذہنی  تحفظات پر اس فکر و رجحان  کو ترجیح  دینا چاہیے جو ہم  اپنے اس مضمون  سے واضح کرناچاہتے ہیں ۔

5 جون ، 2013  بشکریہ : روز نامہ قومی سلامتی ، نئی دہلی

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/md-ilyas-nadvi-rampuri--محمد-الیاس-ندوی/girls’-education--concerns-and-expectations--لڑکیوں-کی-تعلیم-اندیشوں-اور-تقاضوں-کے-درمیان/d/11982

 

Loading..

Loading..