New Age Islam
Wed Sep 30 2020, 08:34 AM

Urdu Section ( 24 May 2013, NewAgeIslam.Com)

Islam does not Permit Suicide Bombings اسلام خودکش بم دھماکوں کی اجازت نہیں دیتا

 

مولانا وحیدالدین خان

12 مارچ 2008

( انگریزی سے ترجمہ۔ نیو ایج  اسلام)

دنیا میں اس عام خیال کے برعکس کہ اسلام خود کش بم دھماکوں کی اجازت دیتا ہے، اصل حقیقت میں، اسلام خود کش بم دھماکوں کومکمل طور پر غیر اسلامی قرار دیتا   ہے۔

دشمن کو تباہ کرنے کے لئے اسلام مسلمانوں کو خودکش بم حملوں کے ارتکاب کی اجازت نہیں دیتا  ہے۔ خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑانا اور دشمن کو تباہ کرنے کے مقصد سے، خود کو ایسے عام لوگوں کی بستیوں پر ڈالنا جن کے ساتھ جنگ ہو رہی ہو  اور اس عمل میں جان بوجھ کر خود کو ہلاک کرنا  مکمل طور پر غیر اسلامی ہے۔ اسے کسی بھی طرح  (شہادت) نہیں قرار دیا جا سکتا ۔ اسلام کے مطابق ہم شہید بن سکتے ہیں، لیکن ہم عمداً ایک شہید کی موت کا فیصلہ نہیں کر سکتے ۔

شاید مذہب پر مبنی دہشت گردی مسلمانوں کی تاریخ کا سب سے خطرناک رجحان ہے۔ اسلامی تاریخ میں، ماضی قریب تک ،اس عمل کو ہمیشہ ایک  نتیجہ خیز سمجھا جاتا رہا  ہے۔ لیکن جدید دور میں، پہلی بار، مسلم ذہنیت اتنی مسخ ہو گئی کہ اس موقع پر، لا حاصل عمل کو بھی ضروری سمجھا جانے لگا ۔ خود کش حملے جو  زندگی پر موت کی ترجیح ظاہر کرتے ہیں، اسی زمرے میں آتے ہے۔ جبکہ اسلام کی ابتدائی تاریخ میں یہ ایک اجنبی تصور تھا، جدید دور میں، اس نے مسلمانوں کے لئے عمل کے ایک عظیم طرز عمل   کا درجہ  حاصل کر لیا ہے۔

کس طرح خود کشی کا عمل سیاسی مسائل کے ایک حل کے طور پر  اتنا اہم ہو  گیا ؟ اس کی وجہ کا اسلام کے خاص اخلاص سے تعلق نہیں ہے، بلکہ انسان کے تئیں  ایک مخالف رویہ کی وجہ سے ہے۔ چونکہ خود کش حملہ آور اپنے جسم پر بم باندھے ہوئے ہوتے ہیں، یہ  اسلام کا حامی نہیں ہے، بلکہ یہ  انسانیت مخالف جذبات ہیں ،جس نے اس طرح کے ایک مہلک طرز عمل کو اپنانے کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ کوئی بھی اپنے ہوش حواس  میں اس سے انکار نہیں کر سکتا ۔

قرآن کے مطابق، ایک مسلمان وہ شخص ہے جو  انسانوں کا خیر خواہ ہے۔ لیکن آج کے مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ ان کے دلوں میں دوسروں کے تئیں اچھی خواہش کا کوئی احساس نہیں ہے۔ وہ تمام اقوام کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ اور ان کی دشمنی اتنی بڑھ گئی ہے کہ جب وہ اپنے دشمنوں پر حملہ کرتے ہیں تو  تمام اخلاقی حدود کو پار کرنے کے لئے تیار رہتے  ہیں ۔ اگر انہیں لگتا ہے کہ وہ خود کو مارکر انہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں ، تو وہ خود کش حملوں جیسے انتہائی قدم اٹھانے کے لئے تیار ہیں۔

سچ یہ ہے کہ خود کشی مکمل طور پر اسلام میں حرام ہے ۔ یہ اس حد تک ممنوع  ہے کہ، اگر کوئی  مر رہا ہے، اور اس  بات کا یقین ہے کہ وہ زندہ نہیں بچے گا، ان آخری لمحات میں بھی اسلام اسے اپنی جان لینے کی اجازت نہیں دیتا ۔

ایک واقعہ جو اس کی وضاحت کرتا ہے اس طرح ہے ، صحیح مسلم میں مروی ہے۔ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں جنگ  خیبر کے دوران وقوع پذیر ہوا ، جو  کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اور ان کے دشمنوں کے درمیان دفاعی جنگوں میں سے ایک تھی ۔ مسلمانوں  کی طرف سے ایک سپاہی،جس کا نام قزمان الزفراءتھا ، انہوں نے بہت بہادری سے جنگ کی اور  مر  گئے ۔ مسلمانوں نے کہا کہ  وہ ایک شہید تھے اور جنت میں جائیں گے۔ لیکن نبی صلی اللہ علیہ نے فرمایا کہ وہ جہنم میں جائیں گے ۔ صحابہ حیران رہ ہو گئے۔

لہٰذا  نبی صلی اللہ علیہ نے  انہیں ان کی موت کی وجہ پتہ لگانے کا حکم دیا ۔ تلاش و جستجو کے بعد یہ پتہ چلا کہ واقعی  انہوں نے  مسلمانوں کے لئے بہت بہادری سے جنگ لڑی تھی اور بری طرح  زخمی ہو کر نیچے گر پڑے تھے ۔ لیکن اس کے بعد انہوں زخموں کو  ناقابل برداشت پایا ، اور انہوں نے اپنی ہی تلوار سے اپنی جان لے لی (فتح الباری، شرح صحیح بخاری، کتاب المغازی ، 7/540)

اس عمل کی ، نبی صلی اللہ علیہ کے ذریعہ  ممانعت نے یہ  واضح کر دیا کہ  خودکش بم حملے کسی بھی صورت میں اسلام میں جائز  نہیں ہیں۔ اسلام کے مطابق زندگی اتنی  قیمتی ہے کہ کسی بھی بہانہ سے کوئی بھی  اپنی مرضی سے اسے ختم نہیں کر سکتا ۔ اسلام زندگی کا نقیب  ہے۔ یہ قبل از وقت موت کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں صبر کی فضیلت کو بہت اہمیت دی جاتی ہے ۔ صبر  کا مطلب ایسا کوئی  بھی قدم اٹھانے کے بجائے جس سے کسی کی زندگی کا خاتمہ ہو سخت مصیبت برداشت کرنا ہے۔

URL for English articlehttp://www.newageislam.com/islam-and-spiritualism/maulana-wahiduddin-khan/islam-does-not-permit-suicide-bombings/d/11414

URL for this article:

Loading..

Loading..