New Age Islam
Tue Sep 22 2020, 09:31 AM

Urdu Section ( 4 Sept 2013, NewAgeIslam.Com)

Islam and Hinduism اسلام اور ہندو مت

 

مولانا وحیدالدین خان

21اگست، 2013

دو عظیم روایات کی نمائندگی کرنے والے اسلام اور ہندو مت دونوں ایک ہزار سے زائد عرصے سے موجود ہیں ۔ ان دونوں مذاہب کے درمیان ربط  کو سمجھنا انتہائی  اہم ہے۔ ان دونوں کے  ربط کے موضوع پر دو مختلف قسم کی آراء پائی جاتی  ہیں۔ ایک نظریہ  تو یہ ہے کہ یہ دونوں روایات ایک دوسرے سے بہت مشابہ  ہیں۔ ایک بار مجھے ایک ہندو عالم سے ملنے کا اتفاق ہوا جس نے  بڑے  جوش و خروش کے ساتھ کہا کہ "میں ان دونوں مذاہب کے درمیان کوئی فرق نہیں  پاتا  اس لئے کہ جب  میں قرآن مجید پڑھتا ہوں تو ایسا  لگتا ہے کہ میں گیتا پڑھ رہا ہوں اور جب  گیتا پڑھتا ہوں تو  ایسا محسوس ہوتا ہے کہ  میں قرآن پڑھ رہا ہوں۔ "تاہم یہ اس مسئلے کی  ایک لایعنی تسہیل  ہے۔ اور مجھے نہیں لگتا کہ یہ تصور علمی تحقیق و تفتیش پر کھرا  اترے گا ۔

اور اس مسئلے پر دوسری رائے یہ ہے کہ اسلام اور ہندو مت دونوں ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں اور صرف ان کا باہمی ارتباط  ہی محل نزاع ہے۔ یہ نظریہ  خصوصاً برطانوی دورحکومت کے ہندوستان میں عام ہوا اور اس وقت اپنے نقطہ عروج پر پہنچ گیا ۔

دانشورانہ عروج کے حصول  کے مدنظر  دونوں مذاہب کے امتیازات وخصوصیات کا جائزہ لینا ذہنی اور علمی طور پر مزید نتیجہ خیز ہوگا۔ ایسا عروج صرف  سماجی تعامل  اور دانشورانہ تبادل کے نتیجے میں ہی ظہور پذیر  ہو  سکتا ہیں۔ اس نقطے کی وضاحت کی غرض سے میں چند تاریخی مثالیں ذکر کرنا چاہوں گا ۔ جواہر لعل نہرو نے اپنی  مشہور تصنیف ‘‘The Discovery of India’’ میں یہ لکھا ہے کہ عرب اپنے ساتھ  ہندوستان میں ایک شاندار ثقافت لے کر آئے  ۔ تاریخ اس بات کی تصدیق کرتی ہے۔

عرب 7ویں اور 8ویں  صدی میں ہندوستان آئے تھے۔ اس وقت ہندوستان میں توہم پرستی  کا  غلبہ تھا۔ اکثر  ہندوستانی اس کائنات کی عبادت کرتے تھے ۔ ان کا یہ اعتقاد تھا کہ ستاروں سے لے کر سیارے ، دریا اور درخت تک کی فطرت میں  صفت الہی ہے ۔ اسلامی عقیدے کے کے مطابق خالق صرف خدا ہے اور یہ پوری کائنات اس کی مخلوق ہے۔ اس وقت کے حالات کے اعتبار سے نظریہ ایک انقلابی نظریہ تھا ۔ اس نے  ہندوستانی معاشرے میں سائنسی انداز فکر کو  متعارف کراتے ہوئے  ہندوستانیوں کی ذہنیت  میں تبدیلی پیدا کر دی ۔ اس نظریے کے متعارف ہو جانے  کے بعد ہندوستانی عوام نے فطرت کی عبادت کرنے اور اسے الٰہی سمجھنے کے بجائے اس کی تحقیق و تفتیش اور اس کا گہرا مطالعہ کرنے  کی کوشش کی۔

ہندوستان میں اسلام کی آمد کا دوسرا اثر آفاقی اخوت کا تصورمتعارف کرنا تھا۔ اس زمانے  میں ہندوستانی معاشرے میں ذات پات کا نظام غالب تھا۔ مساوات کے اسلامی تصور نے کافی حد تک اس نظام میں تبدیل پیدا کر دیا  ۔ اس اسلامی تعاون  کی مزید مفصل تفہیم ڈاکٹر تارا چند 1946 کی کتاب ، " The Influence of Islam on Indian Culture " سے حاصل کی جا سکتی ہے۔

ان مثالوں سے ہم ہندوستانی معاشرے پر اسلام کے فائدہ مند اور مثبت اثرات کا  اندازہ  کر سکتے ہیں۔ اب ہم ہندوستانی مسلمانوں کے ہندو مذہب کے ساتھ تعاون  کی ایک مثال پر نظر ڈالتے ہیں ، خود کو اشتعال انگیز  ہونے سے روکتے  ہوئے  کیوں کہ غیظ و غضب  سے بچنا اسلام کی  ایک فراموش کردہ تعلیم ہے ۔ میں نے اس تعلیم کی ایک خوبصورت مثال ہندوستان کے ایک عظیم جوہر سوامی  ویویکانند کی زندگی میں پائی ہے۔

ان کے ایک دوست نے انہیں آزمانا چاہا ۔ لہٰذا  اس نے   سوامی جی  کو  اپنے گھر پہ مدعو کیا ۔ جب سوامی جی وہاں پہنچے تو انہیں ایک ایسے کمرے میں بیٹھنے کے لئے کہا جس میں ایک میز کے قریب  مختلف مذاہب کی مقدس کتابیں ایک پر ایک کر کے رکھی گئیں تھیں  ۔ ہندو مت کی مقدس کتاب بھگود گیتا سب سے نیچے رکھی گئی تھی ۔ اور دیگر مذہبی کتابیں اس کے اوپر رکھی گئیں تھیں ۔ سوامی جی کے دوست  نے ان سے پوچھا کہ وہ اس کے بارے میں کیا کہیں گے  ۔

واضح طور پر سوامی جی کو ذلیل کرنے کے لئے ایسا  کیا گیا تھا لیکن برانگیختہ ہونے کے  بجائے وہ صرف مسکرائے  اور کہا " واقعی بنیاد بہت اچھی ہے " یہ واقعہ اس حقیقت کی ایک خوبصورت مثال ہے کہ اگر کوئی فرد برانگیختہ ہونے سے انکار کر دیتا ہے تو  وہ اتنا مضبوط اور قوی ہو جاتا ہے کہ کسی بھی منفی صورت حال کو ایک مثبت صورت حال سے تبدیل کر سکتا ہے ۔ اس کے علاوہ  بخاری میں ایک حدیث ہے جس سے ہمیں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم  کے عام اخلاق کا پتہ چلتا ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شریکٔ حیا ت عائشہ صدیقہ  کا کہنا ہے کہ " جب کبھی  نبی صلی اللہ علیہ کو ایسی کسی صورت حال کا سامنا ہوا  اور   انہیں دو اقدام میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو انہوں نے ہمیشہ مشکل اقدام کے بجائے  آسان کو منتخب کیا ۔"

اس اصول پر عمل کی ایک کامیاب مثال مہاتما گاندھی کی زندگی میں دیکھی جا سکتی ہے۔ 1947 سے پہلے ہندوستان برطانوی حکومت سے اپنی آزادی کے لئے جدوجہد کر رہا تھا ۔ اس وقت ہندوستانی رہنماؤں کے پاس پر تشدد سرگرمیوں اور پرامن احتجاج جیسے دو راستے تھے۔ گاندھی نے برطانوی حکومت کے ساتھ پر تشدد تصادم سے گریز کیا اور پر امن طریقے سے احتجاج کاانتخاب کیا۔ وہ کسی بھی خون خرابے کے بغیر بڑی کامیابی حاصل کرنے کے قابل تھے۔

مہاتما گاندھی کے ذریعہ پیش کی گئی یہ مثال اسلامی اصولوں کی ایک انتہائی عمدہ  مثال ہے۔ میرے تجربے میں مذہب میں اختلافات  برائی نہیں  بلکہ نعمت ہیں۔ ہمیں صرف  ایک مثبت ذہن کے ساتھ ان اختلافات کو  تسلیم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم ایک دوسرے سے سیکھ سکیں اور  رقیب کے بجائے ایک رفیق کی طرح زندگی گزار سکیں ۔ زندگی تعاون اور بقائے باہمی کا نام ہے، اور مختلف مذاہب کے درمیان تعلقات کا اس اصول کی تسلیم پر مبنی ہونا ضروری ہے۔

(انگریزی سے ترجمہ : مصباح الہدیٰ ،نیو ایج اسلام)

URL for English article:

 http://www.newageislam.com/spiritual-meditations/maulana-wahiduddin-khan/islam-and-hinduism/d/13125

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/maulana-wahiduddin-khan,-tr-new-age-islam/islam-and-hinduism-اسلام-اور-ہندو-مت/d/13374

 

Loading..

Loading..