New Age Islam
Sat Apr 17 2021, 01:54 AM

Urdu Section ( 10 Sept 2020, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

On the Verge of New Age نئے عہد کے دروازے پر


مولانا وحیدالدین خان برائے نیو ایج اسلام

زیرِ نظر مضمون کو 50 برس قبل صدر اسلامی مرکز نے تحریر کیاتھا، اور جماعت اسلامی ہند کے ایک اجتماع بمقام امین الدّولہ پارک، لکھنؤ میں 18-19 فروری 1955 کے درمیان پڑھا تھا۔ مقالے کی افادیت کے پیش نظر دوبار ہ اس کا کچھ حصہ شائع کیا جارہا ہے۔ (ادارہ)

ہم ایک نئے عہد کے دروازے پر کھڑے ہیں۔ مستقبل کے مورّخ اسے ایٹمی دور سے تعبیر کریں گے، یا آئندہ کوئی مورخ ہی نہ ہوگا،جو انسانیت کی بربادی کی داستان قلم بند کرسکے۔ 2دسمبر 1942 کو جس ایٹمی قوت پر انسان نے قابو حاصل کیا ہے، اس میں دنیا کے لیے زندگی ہے یا موت۔ یہ ایک عظیم قوت ہے، جس سے مفید کام لیے جائیں، تو خوشی اور فارغ البالی کی ایک نئی دنیا بسائی جاسکتی ہے۔ اندازہ کیا گیا ہے کہ یورینیم (Uranium)کے ایک ذرّے کے پھٹنے سے 10کرور وولٹ(volt) کی طاقت حاصل ہوتی ہے۔ چٹکی بھر مادّے میں اتنی قوت پوشیدہ ہے کہ اس سے ایک ریل گاڑی ساری دنیا کے چکر کاٹ لے۔

جو کام آج کئی لاکھ ٹن کوئلے سے لیا جاتا ہے، وہ صرف ایک پونڈ یورینیم کے ذریعے ممکن ہے۔ مثلاً ایٹمی قوت سے چلنے والا ایک سمندری جہاز بمبئی سے روانہ ہو، تو وہ ساری دنیا کا سفر کرکے واپس آسکتا ہے۔ راستے میں اسے دوبارہ ایندھن (Fuel)لینے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ یہ قوت کا ایسا اتھاہ خزانہ ہے، جو انسان کو بجلی، تیل اور کوئلے سے بے نیاز کرکے نہایت سستے داموں سارے کام انجام دینے کے قابل بنا سکے گا۔ مگر اس قوت کا سب سے پہلا استعمال 6 اگست 1945 کو ایک خوف ناک بم کی شکل میں ہوا، جس نے 12میل مربع رقبہ کے شہر ہیرو شیما (Hiroshima) کو چند منٹ میں صفحۂ ہستی سے مٹا دیا۔ انسان اور حیوان اور درخت سب جَل بھُن کر خاک ہوگئے۔ صرف ایک ایٹمک بم کے نتیجے میں 7لاکھ حادثے ہوئے، ایک لاکھ 26 ہزار موتیں واقع ہوئیں۔ جن میں 66 ہزار تو فوراً مر گئے، اور باقی 60ہزار نے زخموں سے سِسک سِسک کر جان دی۔ 10ہزار لوگ ایسے تھے، جو فوراً بخارات میں تبدیل ہوگئے، اور کئی میل دور تک مکانات دھماکے سے گر پڑے۔

یہ 10سال پہلے کی بات تھی۔ اب اس طاقت سے جو بم بنائے گئے ہیں، وہ اور بھی زیادہ ہولناک ہیں۔ امریکا کی ایک تازہ ترین اطلاع میں بتایا گیا ہے کہ ان بموں کو اگر کوبالٹ (Cobalt)کے خول میں رکھ کر داغا جائے، تو اس سے نہایت طاقت ور ریڈیائی لہروں (radioactive) والا بادل پیداہوگا۔ یہ بادل ہوا کے ساتھ ساتھ ہزاروں میل تک پھیل جائے گا، اور ان کے تباہ کُن اثرات سے کوئی جان دار چیز بچ نہ سکے گی۔

ایٹمی سائنس کے ماہر پروفیسر براؤن (Prof. Brown) نے کہا ہے کہ اگر اتحادیوں نے روس اور چیکوسلواکیہ(Czechoslovakia / Czech Republic) کی سرحد پر کو بالٹ بم گرایا تو ڈیڑھ ہزار میل چوڑے اور تین ہزار میل لمبے علاقے میں کوئی ذی روح باقی نہ رہے گا۔ لینن گراڈ (Lenin Grade)سے لے کر بحیرہ اسود کے شمال مغربی ساحل پر واقع اوڈیسا (Odessa) تک ،اور پراگ (Prague) سے کوہ یورال (Ural) تک موت کا سنّاٹا چھا جائے گا۔ شکاگو یونیورسٹی کے پروفیسر لیوس لارڈ (Prof. Lewis Lord)نے بتایا کہ ایک ٹن والے چار سو کوبالٹ بم کے پھٹنے سے پوری زمین پر زندگی کا نام و نشان مٹ جائے گا، اور صدیوں تک دنیا غیرآباد رہے گی۔

تیسری عالمی جنگ آج اسی طرح کے ایک خوفناک امکان کی حیثیت سے دنیا کے سرپر کھڑی ہے، اور اگر یہ جنگ ہوئی تو بقول ڈاکٹر رادھا کرشنن (وفات1975) ’’یہ روس اور امریکا کی جنگ نہیں ہوگی، بلکہ دنیا کے عدم اور وجود کی جنگ ہوگی‘‘۔ یہ وقت کا اہم ترین مسئلہ ہے، جس کا حل سوچنے میں دنیا کے بڑے بڑے لوگ لگے ہوئے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ تمام ایٹم بم سمندروں میں ڈال دیے جائیں۔ مگر ظاہر ہے کہ جولوگ کروروں اور اربوں نہیں بلکہ کھربوں روپیے خرچ کرکے یہ خطرناک ہتھیار بنارہے ہیں، وہ کیا محض اتنا کہہ دینے سے انھیں سمندر میں پھینک دیں گے۔

کوئی کہتا ہے کہ عالمی حکومت قائم کرو۔ مگر دنیا کی مختلف قومیں جو ایک دوسرے کی دشمن ہورہی ہیں، کیا ان کو ملا کرکوئی بین الاقوامی حکومت (international state) قائم کی جاسکتی ہے۔ کوئی شخص بقائے باہم (co-existence) کا اصول پیش کرتا ہے۔مگر موجودہ حالات میں باہم مل کر رہنے کا نظریہ صرف روس اور چین کے لیے قابلِ قبول ہے، جواشتراکی جماعتوں کے ذریعے دنیا بھر میں اپنا جال بچھائے ہوئے ہیں، اور اپنے توسیعی ارادوں (programme of expansion) کے لیے جنگ سے زیادہ امن کے موسم کو مفید خیال کرتے ہیں —امریکا اور دوسرے جمہوری ممالک اس کو کسی طرح گوارا نہیں کرسکتے۔ کوئی صاحب فرماتے ہیں کہ دنیاکو امن اور جنگ میں سے ایک راستہ اختیار کرناہوگا۔ یہ تو ظاہر ہے کہ دو میں سے کو ئی ایک ہی راستہ اختیار کیا جاسکتا ہے۔ مگر آپ وہ کون سا اصول پیش کررہے ہیں ، جس سے دنیا تباہی کے بجائے امن کی راہ اپنائے۔

سوچئے! کیا اس طرح کی باتیں حالات کو درست کرسکتی ہیں۔ دنیا سائنس کی حیرت انگیز دریافتوں سے زندگی حاصل کرنے کے بجائے خود کشی کا سامان تیار کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ کیا یہ محض اس لیے ہے کہ اب تک کسی نے اس کے سامنے مذکورہ بالا قسم کی کوئی تجویز پیش نہیں کی تھی۔ اگر کوئی شخص ایسا سمجھتا ہے، تو وہ بہت بڑے دھوکے میں مبتلا ہے۔

یہ خوفناک صورتِ حال جو دنیا میں پیدا ہوگئی ہے، اس کی وجہ ہمارے نزدیک یہ ہے کہ آدمی ایک صحیح آئڈیالوجی کے بغیر زندگی گزار رہا ہے۔ اس کو لوہے اور بجلی کی سائنس تو آگئی۔ اس نے وہ علم تو حاصل کرلیا، جس سے وہ مادّے (matter)کے جوہر (atom) کو پھاڑ سکے، مگر خود اپنی سائنس سے وہ اب تک محروم ہے۔ سمندروں میں تیرنا اور فضا میں اڑنا اس نے سیکھ لیا، مگر وہ فن (art)اس نے نہیں جانا، جس سے زندگی کی گاڑی چلا کرتی ہے، جس سے انسانی کوششوں کا رُخ متعین ہوتاہے، جو ایک انسان اوردوسرے انسان ، ایک قوم اور دوسری قوم کے درمیان حقوق وفرائض کا صحیح تعین کرتے ہیں۔ انسان نے اتنی بڑی بڑی دوربینیں (telescopes) ایجاد کیں، جن کا حال یہ ہے کہ وہ 18 ہزار میل کے فاصلے پر جلتی ہوئی ایک موم بتی کو بھی دیکھ لیتی ہیں۔ مگر خود انسان کیا ہے، اور دنیا کے اندر اس کی حیثیت کیا ہے، اس کو وہ اب تک نہ جان سکا۔

اس نے ایسی حسابی مشین (Eniac) بنائی، جو گھٹانے اور جوڑنے کے 10ملین سوالات صرف پانچ منٹ میں مکمل کردیتی ہے۔ سب سے پہلا سوال جو دوسری جنگ عظیم کے دوران اس مشین نے صرف دو گھنٹے میں حل کیا، وہ اتنا بڑا تھا کہ اسے حل کرنے میں ریاضی کے دو تربیت یافتہ ماہروں کو 50 برس تک کام کرنا پڑتا ۔ مگر خود انسانی زندگی کے مسائل وہ اب تک حل نہ کرسکا۔ ہر نیا ’’ازم‘‘ (ism)جو ایجاد کیا جاتا ہے، وہ مسائلِ زندگی کو کچھ اور الجھا دیتا ہے۔

انسان نے سائنس کے ذریعے بڑے بڑے انجن والے جہاز(ship) بنائے، جن پر وہ سمندروں میں سفر کرتے ہیں۔ اس نے لوہے کی پٹریاں بچھائیں، جن پر ریلیں دَوڑتی ہیں۔ اس نے تاراور بے تار برقی کا وہ عظیم سلسلہ قائم کیا ،جس پر انسان کی آواز اپنا راستہ بھولے بغیر ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ جاتی ہے۔ مگر خود انسانی زندگی کے لیے راہِ عمل کیا ہو، وہ کس سمت میں چلے اور کس سمت جانے سے بچے، اس کا کوئی واضح نقشہ ابھی تک اسے نہیں ملا۔

اس نے ایسے اسٹیشن قائم کیے، جو فضا میں اڑنے والے ہوائی جہازوں کو کنٹرول کرتے ہیں۔ مگر انسان کو کنٹرول کرنے والا کوئی نظام وہ ابھی تک دریافت نہ کرسکا۔ اس نے ایسے قوانین بنائے، جو آٹو میٹک ٹیلی فون اکسچینج (automatic telephone exchange) کے اندر لاکھوں کی تعداد میں پھیلے ہوئے تار کو نہایت باقاعدگی کے ساتھ باہم جوڑتے رہتے ہیں، مگر وہ ایک گھر کے دو قریب ترین آدمیوں کو بھی ایک رشتے میں باندھنے کا اصول معلوم نہ کرسکا، اورحالت یہ ہے کہ آج ایک عورت کسی مرد سے نکاح کرتی ہے، اور کل اس لیے وہ طلاق لے لیتی ہے کہ رات کو مرد کے خرّاٹے کی آواز اسے پسند نہیں آئی۔

سفر اور مواصلات(communication) کے جدید ترین ذرائع نے ساری دنیا کو ایک کردیا ہے۔ آپ ہوائی جہاز سے اڑ کر چند گھنٹوں میںایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ سکتے ہیں۔ ایک شخص نیو یارک میںٹیلی فون اٹھا کر دنیا کے کسی بھی ملک کے آدمی سے بات کرسکتا ہے۔ مگر اس کے باوجود دریاؤں اور پہاڑوں کی حد بندی سے انسانیت آزاد نہیں ہوئی۔ سمندر کی مچھلیاں اٹلانٹک (Atlantic Ocean)سے بحرالکاہل (Pacific Ocean)اور بحر ہند (Indian Ocean)تک سفر کرتی ہیں، اور ان میں کوئی جنگ برپا نہیں ہوتی۔ فضا کی چڑیاں ایک موسم ایشیا میں گزارتی ہیں، اور دوسرے موسم میں وہ یورپ چلی جاتی ہیں۔ مگر ایک ملک کا آدمی دوسرے ملک کے لیے اجنبی کی حیثیت رکھتا ہے ،اور ایک قوم دوسری قوم کو ہڑپ کر لینا چاہتی ہے۔

دراصل یہی وہ سب سے بڑی کمی ہے، جو آج ساری دنیا کو لاحق ہے۔ مشرق ہو یا مغرب ، روس ہو یا امریکا سب کے سب اسی ایک چیز کے محتاج ہیں۔ دنیا کا مستقبل اب اسی ایک سوال پر منحصر ہے۔ اگر اس نے کوئی صحیح آئڈیالوجی پالیا ہو، تو یہ دنیا جنت کا نمونہ بن سکتی ہے اور اگر یہ صحیح آئڈیالوجی نہ ملا، تو پھر کوئی چیز دنیا کو ایک ہولناک تباہی کے انجام سے نہیں بچا سکتی۔

دنیا میںزندگی کگزارنے کااصل مسئلہیہ ہے کہ آدمی کس طرح دنیا میں رہے، اس کی کوششوں کا رخ کیا ہو، اور وہ کون سی شخصیت ہو، جو مختلف انسانوں کے درمیان فیصلہ کرنے اور انھیں باہم جوڑے رکھنے کا کام کرے۔ مثلاً ریل گاڑی کو (1) ایک ڈرائیور کی ضرورت ہوتی ہے، جو اس کو کنٹرول کرے۔ (2)ایک پٹری کی ضرورت ہوتی ہے، جس پر وہ بھٹکے بغیر سفر کرسکے۔ (3) اور ایک طے شدہ منزل کی ضرورت ہوتی ہے، جس کی طرف وہ دوڑے۔ بس ان ہی تین چیزوں کا نام زندگی ہے۔ جس طرح ایک مشین کو اپنا کام صحیح طورپر انجام دینے کے لیے یہ تینوں چیزیں ضروری ہیں۔ اسی طرح انسان بھی اپنے مقصد وجود کو پورا نہیں کرسکتا، جب تک یہ چیزیں اسے حاصل نہ ہوں۔

سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ وہ کون سی شخصیت ہو، جو انسانوں کی اس وسیع آبادی کا انتظام کرے، اور جس کی سب لوگ اختیارانہ طور پر اطاعت کریں، جس کے آگے انسان اپنے آپ کو سرینڈر کرے۔ یہی شخصیت وہ کنٹرولر (controller) ہوگی، جو ہمارے انجن کو قابو میں رکھ کر چلائے گی۔

دوسری چیز یہ ہے کہ وہ کون سا نظریہ ہو، جس کو سب لوگ تسلیم کریں، جس کے مطابق ایک شخص اور دوسرے شخص اور ایک گروہ اور دوسرے گروہ کے درمیان فیصلہ کیا جائے، جو انسانی سرگرمیوں کے صحیح حدود (limitations) متعین کرے، اور زندگی کے مختلف مراحل میں ایک رویّے کوچھوڑ نے اور دوسرے رویّے کو اختیار کرنے کی ہدایات دے، یہ گویا وہ پٹری ہوگی جس پر انسانی زندگی کی گاڑی سفر کرے گی۔

تیسری چیز یہ کہ ہم جو اس دنیا میں پیدا ہوئے ہیں، تو ہمارے پیدا ہونے کا مقصد کیا ہے۔ وہ کون سی منزل ہے، جدھر ہم کو جانا چاہیے۔ کون ساکام کرنے میں ہمارے لیے بہتری ہے، اور کون سے کام ہیں جن کو کرنے کی صورت میں ہمیں نقصان اٹھانا پڑے گا۔ اسی سے متعلق یہ سوال بھی ہے کہ مرنے کے بعد کیاہوگا۔ اگر یہ زندگی مرکر ختم ہوجاتی ہے تب تو ہمیں اس کے بارے میں کچھ سوچنے کی ضرورت نہیں۔ لیکن موت کے اُس پار بھی اگر کوئی دنیا ہے، اور اس کے بعد بھی اگر زندگی کا سلسلہ باقی رہتا ہے، تو ہم کو آج ہی سے اس کے لیے بھی سوچنا ہوگا۔ کیوں کہ پھر یہ ہماری موجودہ زندگی، موت کے بعد آنے والی زندگی سے الگ نہیں ہوسکتی۔ ہماری آج کی کارگزاریوں کا اثر لازماً کل کے حالات پر پڑے گا۔

اس سوال کے صحیح جواب کے معنی یہ ہیں کہ ہم نے وہ منزل پالی ہے، جہاں پہنچ کر ہم کو اپنی زندگی کا مقصد حاصل ہوجائے گا۔ اگر ہم نے صحیح مقصد طے کیے بغیر اپنا سفر شروع کردیا، تو اس کی مثال ایسی ہوگی کہ ایک شخص کلکتہ جانے کے ارادے سے ریلوے اسٹیشن میں داخل ہو، اور سامنے پلیٹ فارم پر ایک گاڑی کھڑی دیکھ کر اس میں بیٹھ جائے، اور یہ معلوم نہ کرے کہ یہ گاڑی کہاں جارہی ہے۔ وہ اسی طرح انجان حالت میں سفر کرتا رہے، یہاں تک کہ ٹرین جب اپنے آخری اسٹیشن پر پہنچے تو معلوم ہو کہ یہ امرتسر ہے، جو کلکتہ سے بالکل مخالف سمت میں ساڑھے گیارہ سو میل دور واقع ہے۔

ہم جس آئڈیالوجی کی دعوت لے کر اٹھے ہیں، وہ اسلام ہے۔ دنیا کے مختلف آئڈیالوجی کے مطالعے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس آسمان کے نیچے یہی ایک آئڈیالوجی ہے، جو زندگی کی گاڑی کو صحیح طورپر چلا سکتا ہے۔ اور اس کو وہاں پہنچا سکتا ہے جہاں یقیناً اسے پہنچنا ہے۔

اب میں بتاؤں گا کہ مندرجہ بالا تینوں بنیادی سوالات کا جواب اسلام کس طرح دیتا ہے، اور دوسرے جوابات جو اس سلسلے میں دیے گئے ہیں، ان میں کیا خرابیاں ہیں۔

پہلے سوال کا صحیح جواب پانے کے لیے یہ دیکھنا ہوگا کہ اس کائنات کا کوئی خدا ہے۔ اگر کوئی ہے ،جس نے کائنات کو بنایا ہے، اور جو اس پورے کارخانے کو چلا رہاہے، تو لازماً اسی کو ہمارا بھی خدا ہونا چاہیے۔یہ بات عقل اورمنطق کے بالکل خلاف ہے کہ پوری کائنات کا چلانے والا کوئی اور ہو ،اور انسان پر کسی دوسرے کا حکم چلے۔

یہ زمین جس پر ہم رہتے ہیں، آپ کو معلوم ہے کہ کسی ہاتھی کی پیٹھ پر نہیں رکھی ہوئی ہے، بلکہ وہ فضا میں معلق (suspended)ہے۔ زمین کی گولائی خط استوا (Latitude)پر 25 ہزار میل ہے۔ اس کے مقابلے میں سورج اتنا بڑا ہے کہ اگر اس کے ٹکڑے کیے جائیں، تو اس سے ہماری زمین جیسی 12 لاکھ 34 ہزار زمینیں نکل سکتی ہیں۔ پھر یہ بڑائی بھی آخری بڑائی نہیں ہے۔ آسمان میں کتنے ستارے ایسے ہیں، جو سورج سے ہزار گنا بڑے ہیں۔ ان کے علاوہ بے شمار ستارے ایسے ہیں، جو موجودہ دور بینوں کی دسترس سے باہر ہیں، اور جن کی وسعت کا اب تک کوئی اندازہ نہ کیا جاسکا۔ اس طرح کے اربوں اور کھربوں نہیں بلکہ لا تعداد ستارے فضا میں کسی سہارے کے بغیر ٹھہرے ہوئے ہیں، اور جذب و کشش کے عظیم قانون کے تحت اربوں سال سے گردش کررہے ہیں۔ کیا یہ محض اتفاق (mere accident) ہے اور اس کے پیچھے کوئی قدرت نہیں ہے، جو انھیں سنبھالے ہوئے ہو۔

زمین سے چاند کا فاصلہ 2 لاکھ 40 ہزار میل ہے، اور سورج ہم سے 9 کرور 43 لاکھ میل دور ہے۔ کائنات کی وسعت کے اعتبار سے یہ فاصلہ بہت کم ہے۔ سورج اور چاند کے علاوہ کوئی ستارہ (star) یا سیّارہ (planet) ہم سے اتنا قریب نہیں ہے۔ ہم سے قریب ترین جو ستارہ ہے، وہ بھی اتنی دور ہے کہ اس کی روشنی زمین تک سوا چار سال میں پہنچتی ہے۔ واضح ہو کہ روشنی کی رفتار ایک لاکھ 86 ہزار میل فی سکنڈ ہے۔ یعنی اس ستارے کی روشنی 60 کھرب میل سالانہ کی رفتار سے مسلسل چلتی رہے، تو وہ ہماری زمین تک 51مہینے میں پہنچے گی۔جب کہ سورج کی روشنی صرف 9 منٹ میں پہنچ جاتی ہے۔ یہ قریب ترین ستارے کا حال ہے۔ ورنہ بعض ستارے اور اکثر سحابیے(Nebulas) ہم سے اس قدر دور ہیں کہ ان کی روشنی ہم تک کروروں سال میں پہنچتی ہے، اور کتنے ستارے ایسے ہیں جن کی روشنی غالباً آج تک زمین پر نہیں پہنچی۔ حالانکہ اس نے اپنا سفر اس وقت شروع کیا تھا، جب کائنات کی ابتدا ہوئی تھی۔ اتنی لمبی چوڑی کائنات میں تمام دوسرے ستاروں کے خلاف سورج اور چاند کا ہم سے اس قدر قریب ہونا سخت حیرت انگیز ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ایشیا اور یورپ اور افریقہ اورامریکا اور آسٹریلیا سب برفستان (ice-cap) ہوتے، اور روئے زمین پر کوئی جان دار دکھائی نہ دیتا— پھر یہ کیا محض اتفاق ہے، اور اس میں کسی کا سوچا سمجھا ہوا ارادہ شامل نہیں ہے۔

امریکا کے بعض بحری افسروں نے جو سمندر کی پیمائش کررہے تھے، ایک تجربہ کیا۔ انھوں نے موٹے شیشے کی کئی ہوا بند کھوکھلی گیندوں (vacuum balls)کو سمندر میں ڈالا۔ نکالنے پر معلوم ہوا کہ وہ پانی سے بھر گئی ہیں۔ خوردبین(microscope) سے دیکھاگیا تو شیشے کی سطح کے ٹوٹنے یا سوراخ ہونے کا کوئی نشان نہیں ملا۔ اس سے ثابت ہوا کہ پانی کے نیچے 15 ہزار فٹ کی گہرائی میں ایک مربع انچ پر اتنا دباؤ ہے کہ وہ ایک گھنٹہ سے کم وقفے میں پانی کو شیشے کی موٹی دیواروں سے گزاردیتا ہے۔ اب غور کیجیے کہ جب 15 ہزار فٹ کی گہرائی پر پانی کا دباؤ اس قدر ہے ،تو ان مقامات پر کتنے زور کا دباؤ پڑتا ہو گا، جہاں سمندر 5میل یا اس سے بھی زیادہ گہرے ہیں۔ چنانچہ یہ سمندر جو زمین کے تین چوتھائی حصے میں پھیلے ہوئے ہیں، اپنی تہ کے نیچے مسلسل فواروں کی شکل میں زمین کے اندر پانی داخل کررہے ہیں۔

زمین کا اندرونی حصہ جو 30-40 میل کے بعد شروع ہوتا ہے، نہایت گرم ہے۔ جب یہ پانی زمین کے اندر پہنچتا ہے تو وہ اندرونی حرارت سے بھاپ بن کر خارج ہوجاتا ہے۔ اگر کسی دن اوپری حصے کی طرح ساری زمین سرد ہوجائے تو جس طرح روئی یا جذب کرنے والےکاغذ میں پانی جذب ہوجاتا ہے، اسی طرح پانی نہایت تیزی کے ساتھ زمین میں جذب ہونا شروع ہوجائے گا، اور چند سو سال کے اندر سطح زمین سے پانی اس طرح غائب ہوجائے گا، جس طرح وہ ریگستانوں سے غائب ہوا ہے۔ ایسی حالت میںساری زمین غیرآباد اور ویران ہو کر رہ جائے گی ،اور ہر جگہ چاند جیسی خاموشی طاری ہوگی۔

پھر یہ کیا محض اتفاق ہے کہ انسانوں کو آباد کرنے کے لیے زمین کا اوپری حصہ ٹھنڈا اور اندرونی حصہ نہایت گرم ہے، اور آسمان میں کبھی بالکل اچانک طورپر ایک نہایت چمک دار ستارہ دکھائی دیتا ہے، جس کو نیا تارہ (Nava) کا نام دیاگیا ہے۔ موجودہ تحقیقات سے یہ ثابت ہوا ہے کہ یہ نئے ستارے نہیں ہوتے، بلکہ پرانے دھیمے ستارے یک بیک بھڑک اٹھتے ہیں، اور بڑھتے بڑھتے 20-25 ہزار آفتابوں کے برابر تیز روشنی سے چمکنے لگتے ہیں۔ اس طرح کا عمل مختلف ستاروں کے ساتھ ہوتا ہے، مگر یہ ستارے چوں کہ ہم سے بہت دور ہیں، اس لیے ہماری زندگی پر ان کاکوئی اثر نہیں پڑتا، مگر سورج جو ہم سے قریب کا ستارہ ہے، اگر کسی دن تیز ہوکر بھڑک اٹھے تو اتنی شدید گرمی پیدا ہو کہ چند منٹ میں زمین سے ہر طرح کی زندگی کا خاتمہ ہوجائے گا۔

ماہر ارضیات لونکوئسٹ (Mr. Lencois)کا خیال ہے کہ ہر ستارہ 40 کرور سال میں ایک بار بھڑک اٹھتا ہے۔ سورج بھی ایک ستارہ ہے۔ جہاں تک ارضی تحقیقات کا تعلق ہے، کم ازکم ایک ارب سال پہلے تک سورج کے بھڑکنے کا کچھ پتہ نہیں چلتا۔ پھر کیا یہ محض اتفاق ہے کہ جو عمل دوسرے ستاروں کے ساتھ ہورہا ہے، وہ سورج کے ساتھ نہیں ہوتا، اور اس میں کسی بالا تر قوّت کا کوئی دخل نہیں ہے۔

زمین اور سورج دونوں اپنی اپنی کشش سے ایک دوسرے کو کھینچ رہے ہیں، اور وہ ایک خاص مقام پر آکر رک گئے ہیں۔ اگر کسی دن ایسا ہو کہ زمین کی قوت کشش (gravitational force) ختم ہوجائے تو وہ پوری انسانی آبادی کو لیے ہوئے اپنے تمام بڑے بڑے شہروں اور کارخانوں کے ساتھ صرف65 دن میں کھنچ کر سورج کے اندر جاگرے گی، اور پھر دم بھر میں اس طرح جل کر راکھ ہو جائے گی، جیسے کسی بہت بڑے الاؤ کے اندر ایک تنکا ڈال دیا جائے۔ مگر یہ دنیا کروروں سال سے آباد ہے ، اور پھر بھی یہاں ایسا نہیں ہوتا۔ کیا یہ محض اتفاق ہے، اور اس کے پیچھے کوئی قدرت کام نہیں کررہی ہے۔

رات کے وقت ٹوٹنے والے تارے آپ نے دیکھے ہوں گے۔ یہ دراصل سخت مادے کے ٹکڑے ہیں جو رائفل کی گولی سے سیکڑوں گنا زیادہ تیز رفتار ہونے کے ساتھ بے شمار تعدا دمیں ہر وقت فضا کے اندر دوڑتے رہتے ہیں، اور زمین کے گرد کرۂ ہوا (atmosphere)سے مسلسل ٹکراتے ہیں۔ ہوا کا کرہ ایک غلاف کی شکل میں تمام دنیا کو گھیرے ہوئے ہے۔ اس کی بلندی تقریباً 250 میل ہے۔ اس ہواکی وجہ سے شہابِ ثاقب (Meteor)ہماری زمین تک پہنچنے نہیں پاتے، بلکہ وہ کرہ ٔہوا کی بالائی سطح تک پہنچتے ہی ہوا کے ساتھ ٹکراتے ہیں، اور اسی رگڑ کی وجہ سے اتنی حرارت پیدا ہوتی ہے کہ شہابِ ِثاقب جل اٹھتے ہیں۔ یہی جلنے کی روشنی ہے ،جو ہم کو ٹوٹتے ہوئے تارے کی شکل میں نظر آتی ہے۔ اس ٹکراؤ سے شہابِ ثاقب پاش پاش ہو کر باریک ذرات کی شکل میں ہوا میں منتشر ہوجاتے ہیں۔ یہ ہوا کا غلاف دنیا کے گرد نہ ہوتا تو شہاب ثاقب بہت بڑی تعداد میں نہایت شدت کے ساتھ زمین پر گرتے۔ ہم اُن کے خلاف کوئی بچاؤ نہیں کرسکتے تھے، اور ساری دنیا کا وہی انجام ہوتا، جو انجام ہیروشیما اور ناگاساکی کا ایٹم بم کے حملے میں ہوچکا ہے۔ چاند کی سطح پر جو بہت سے غار ہیں، خیال کیا جاتا ہے کہ یہ اسی قسم کے بڑے بڑے شہاب ثاقب (Meteors) کی بم باری سے پیدا ہوئے ہیں ۔پتھروںکی یہ خطرناک بارش جو ہر وقت فضا میں ہورہی ہے، اس سے ہمارا بچے رہنا کیا محض ایک اتفاق ہے، اور اس میں کسی انتظام کرنے والے کا انتظام شامل نہیں ۔

کائنات کے اندر اس طرح کی بے شمار حقیقتیں اس بات کی گواہ ہیں کہ کوئی عظیم قوت ہے، جو اس کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے، اور نہایت باقاعدگی کے ساتھ اس کا انتظام کررہی ہے۔ کوئی شخص کیا محض اس لیے خدا کا انکار کرسکتا ہے کہ وہ کسی پہاڑ کی چوٹی پر بیٹھا ہوا نہیںہے۔جہاں جاکر وہ اسے دیکھ آئے۔ ایتھر(Ether) ایک ایسی چیز ہے، جو ہر وقت اور ہر جگہ موجود ہے، جس پر ٹیلی ویژن کی تصویریں اور لاسلکی (wireless)کے پیغامات سفر کرتے ہیں۔ مگر کیا ایتھر کو کسی نے دیکھا ہے۔ وہ ایک ایسا لطیف عنصر ہے، جس کا کوئی وزن نہیں۔ وہ نہ جگہ گھیرتا ہے، اور نہ کسی خورد بین سے دیکھا جاسکتا ہے ،مگر سب لوگ اس کا وجود تسلیم کرتے ہیں ۔

جو شخص یہ کہتاہے کہ میں خدا کو اس وقت تک نہیں مانوں گا، جب تک اپنی آنکھوں سے دیکھ نہ لوں، وہ گویا اس بات کا دعویٰ کرتا ہے کہ کائنات کی وسعتوں کو اس نے پار کرلیا ہے۔ جس کائنات کے بارے میں اب تک ہم یہ نہ جان سکے کہ وہ کتنی لمبی چوڑی ہے، ہم اس کے پیدا کرنے والے کا کس طرح احاطہ کرسکتے ہیں۔ سورج خدا کی ایک بہت چھوٹی سی مخلوق ہے، مگر کروروں میل دور ہو کر اس کی روشنی کا یہ حال ہے کہ ہم اس پر نظر ٹھہرائیں تو ہماری آنکھ کی روشنی زائل ہوجائے۔ پھر وہ خدا جو ساری قوتوں کا خزانہ ہے۔ جو نہ صرف سورج بلکہ اس سے بڑے بڑے بے شمار ستاروں کو بھی روشنی اور حرارت پہنچا رہا ہے۔ کیا وہ ایسا ہوگا کہ ہم اپنی آنکھوں سے اسے دیکھ لیں۔

خدا کو ماننے کے لیے خدا کو دیکھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔اس کو ہر جگہ اس کی حیرت انگیز کاریگری میں ہم دیکھ سکتے ہیں۔ اس پھیلی ہوئی کائنات کااس قدر منظم ہو کر چلنا، اور اس کے مختلف عناصر میں باہم اس درجہ موافقت (harmony) ہونا، ایک خدا کی موجودگی کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔

ہندستان میں ریلوے کا ایک چھوٹا سا نظام ہے۔ 1955میں اس کے راستوں کی لمبائی مجموعی طورپر 34ہزار میل ہے، اور جس کے انتظام کے لیے اِس وقت تقریباً سوا نو لاکھ آدمی ملازم ہیں۔ مگر اتنے سارے آدمیوں کی دیکھ بھال کے ساتھ اس مختصر سی لائن پر جو ٹرینیں دوڑتی ہیں، ان سے ہر سال تقریباً 25 ہزار حادثے ہوتے ہیں۔ مگر کائنات کا اتنا بڑا کارخانہ کروروں اور اربوں سال سے چل رہاہے، اور اس میں کوئی ٹکراؤ پیدا نہیں ہوتا ۔ کیا یہ واقعہ اس بات کے ثبوت کے لیے کافی نہیں ہے کہ یہاں ایک زندہ قوت موجود ہے، جو اپنے وسیع علم اور غیر معمولی اختیارات کے ذریعہ کائنات کے نظام کو چلارہی ہے۔

یورپ میں سترھویں صدی عیسوی میں سائنس اور کلیسا (church)کا جو تصادم ہوا، اور جس میں کلیسا نے بالکل غلط طور پر مذہب کا نام لے کر نئی سائنسی تحقیقات کو دبانے کے لیے نہایت وحشیانہ مظالم کیے۔ اس کے نتیجے میں سائنس دانوں کو مابعد الطبیعی نقطۂ نظر سے ایک ضد سی پیدا ہوگئی، اور انھوں نے کوشش کی کہ کائنات کی تعبیر اس طرح کی جائے جس سے ثابت ہو کہ کلیسا کی بنیاد جس خدا کے تصور پر قائم ہے، اس کا کہیں وجود ہی نہیں ہے۔ اس کائنات کا کوئی چلانے والا نہیں ہے، بلکہ وہ اپنے آپ ایک بے جان مشین کی طرح چلی جارہی ہے۔ اسی زمانے میںلارڈ کیل وِن (Lord Kelvin) نے کہا تھا کہ جب تک میں کسی چیز کا مشینی ماڈل نہیں بنا لیتا، تب تک میں اسے سمجھ نہیں سکتا۔ دمدار ستارے جو جاہل قوموں کے نزدیک سلطنتوں کے زوال اور بادشاہوں کے انتقال کانشان سمجھے جاتے تھے، جب ان کی حرکت، تجاذب (gravitation) کے عالم گیر قانون کے مطابق ثابت کی گئی، تو نیوٹن (Isaac Newton)نے کہا کہ کیا اچھا ہو، اگر دوسرے واقعاتِ قدرت بھی اسی قسم کے استدلال سے میکانکی اصولوں (mechanical principles) کے ذریعے اخذ ہوسکیں ۔

مگر یہ ایک جذباتی ردِّعمل تھا، اور بہت جلد معلوم ہوگیا کہ کائنات کی صحیح توجیہہ (explanation) بن نہیں سکتی ،اگر اس کو صرف ایک بے دماغ مشین مان لیا جائے۔ چنانچہ اب بڑے بڑے سائنس داں کائنات کے اندر ایک کار فرما قوت کو ماننے پر مجبور ہورہے ہیں۔مثال کے طورپر انگلستان کے مشہور سائنٹسٹ سرجیمز جینز (Sir James Jeans) نے اپنے ایک مضمون میں زمین اور آسمان کے حیرت انگیز نظام پر گفتگو کرتے ہوئے آخر میں لکھا ہے:

’’کائنات ایک بہت بڑی مشین کے بجائے ایک بہت بڑے ذہن (mind)سے زیادہ مشابہ معلوم ہوتی ہے۔ مادے کے اس نظام میں دماغ اتفاقی طورپر محض ایک اجنبی کی حیثیت سے داخل نہیں ہوگیا ہے، بلکہ یہی غالباً مادے کے اِس نظام کو بنانے والا، اور اس کے اوپر فرماں روائی کرنے والا ہے۔ پھر یہ دماغ یقیناً ایک عام انسان کے دماغ کی طرح نہیں ہے، بلکہ وہ ایسا دماغ ہے جس نے مادے کے جوہر (atoms) سے انسانی دماغ کی تخلیق کی ہے، اور یہ سب کچھ ایک اسکیم کی شکل میں اس کے ذہن میں پہلے سے موجود تھا‘‘

The Mysterious Universe, by Sir James Jeans, p. 137, 1938 (London)

یہی ’’ذہن‘‘ دراصل وہ عظیم اوربرتر خدا ہے، جو تمام انسانوں کا مالک اور ان کا حاکم ہے۔ ساری کائنات اسی خدا کی فرماں برداری میں لگی ہوئی ہے۔ پھر انسان کا راستہ کیوں کر اس سے الگ ہوسکتا ہے۔ ایک ریل گاڑی جو کسی تیز رفتار انجن کے ساتھ بندھی ہوئی دوڑی چلی جارہی ہو، اس کا کوئی ایک ڈبہ اگراپنے آپ کو اس سے الگ کرکے کوئی دوسرا راستہ بنانا چاہے، تو اس کا انجام تباہی کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے۔ اس لیے ہمارے نزدیک صحیح ترین راستہ صرف یہ ہے کہ انسان بھی اسی ہستی کا مطیع ہوجائے، جس کی اطاعت اس کے گرد و پیش کا سارا عالم کررہا ہے۔ آسمان کے ستارے اگر جذب و کشش کے نظام سے اپنے آپ کو الگ کرلیں، تو آپس میں وہ ٹکرا کر تباہ ہوجائیں، اور ایک دن بھی ان کی زندگی باقی نہ رہے۔

یہی حال آج انسان کا ہے۔ انسان نے اگرخدا کا حکم ماننے سے انکار کیا، تو گویا اس نےپورے نظام کائنات سے الگ راستہ اختیار کیا۔اس نے وہ راستہ چھوڑ دیا، جس پر مخلوقات کا پورا قافلہ چلا جارہا ہے، یعنی فطرت کا راستہ۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ انسانی زندگی میں سخت ابتری پیدا ہوگئی ہے۔ امن اور خوش حالی اور سکون کے الفاظ ڈکشنریوں میں لکھے ہوئے تو ملتے ہیں، اور لیڈروں کی زبان سے آئے دن سنے بھی جاتے ہیں، مگر واقعہ یہ ہے کہ دنیا اب ان نعمتوں سے محروم ہوچکی ہے۔ اور نہایت تیزی سے وہ ایک خوفناک انجام کی طرف دوڑی چلی جارہی ہے۔

اس کا علاج صرف یہ ہے کہ آدمی اپنے خالق کی طرف اپنے اختیار سے پلٹ آئے۔ وہ اس کو اپنا رب اور خالق تسلیم کرے، اور اس رسی کو مضبوطی سے تھام لے، جس کے علاوہ ایک مرکز پر جمع ہونے کا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہے۔

انسانی جسم کا تجزیہ کیاگیاتو معلوم ہوا کہ 12عناصر ہیں، جن سے مل کر آدمی کا جسم بنا ہے۔ ہائیڈروجن،آکسیجن، نائٹروجن، کاربن، فاسفورس، گندھک، کیلشیم،میگنیشیم، پوٹاشیم، سوڈیم، کلورین اور فولاد۔ یہی 12 چیزیں ہیں جن سے ننانوے فی صد انسانی جسم کی ترکیب ہوتی ہے۔ ان کے علاوہ 3عناصر (elements)اور ہیں، جن کی ضرورت جسم کو برابر پڑتی ہے— آیوڈین، میگنیز اور تانبا۔

یہ عناصر جس مقدار میں جسم کے اندر موجود ہیں، ان کا تخمینہ کرکے قیمت کا اندازہ کیاگیا تو 25 فرانک ہوئی۔ اس 25فرانک کے مادّے سے انسان جیسی حیرت انگیز مخلوق کا بنانا کیا محض ایک کھیل ہے ،جو چند دن کے لیے کھیلا گیا ہے۔ ہم بولتے ہیں۔ بظاہر یہ بہت آسان سی بات ہے، مگر کوئی چھوٹے سے چھوٹا حرف بولنے کے لیے بھی جسم انسانی کے اندر70نسوں (veins) کو حرکت کرنی پڑتی ہے۔ ہم دیکھتے اور سنتے ہیں، لیکن فضا کے اندر روشنی اور آواز کی لہریں پیدا ہونے کا عجیب و غریب انتظام نہ ہوتا تو ہم آنکھیں رکھ کر بھی اندھے ہوتے اور کان ہوتے ہوئے بھی ہمیں کچھ سنائی نہ دیتا۔ یہ خون جو ہم کو قوت اور زندگی بخشتا ہے۔ اس کو دل سے جسم کے مختلف حصوںمیں پہنچانے کے لیے جتنی شریانیں (arteries) ہیں، اور پھر دل کی طرف واپس لانے کے لیے جو وریدیں (veins) ہیں، اگر ان کے سروں کو ایک دوسرے سے ملا کرناپا جائے تو 3 لاکھ 50ہزار میل کی لمبائی ہوگی، جو پوری زمین کے گرد چودہ بار لپیٹی جاسکتی ہے۔

پھر یہ دماغ جس سے ہم سوچتے ہیں، اور جو 3 لاکھ سے زیادہ اعصابی تاروں کے ذریعہ پورے بدن کو کنٹرول کرتا ہے، کس قدر عجیب ہے۔ کیا یہ حیرت انگیز انسان بس اسی لیے ہے کہ چند سال دنیا میں زندگی گزارے ،اور اس کے بعد مرکر مٹی میںمل جائے۔ یہ انسان جس کی زندگی کے لیے ہوا ا ور پانی اور سورج کا انتظام کیاگیا ہے، جس کی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے زمین میں بے شمار قسم کی چیزیں پیدا کی گئی ہیں، کیا اس کا انجام بس یہی ہے کہ وہ بچہ سے جوان ہو، پھر بوڑھا ہو، اور پھر ایک دن مرکر ختم ہوجائے۔

ایک اور پہلو سے دیکھیے، ایک شخص بہت نیک اور معقول ہے، مگر اس کی ساری زندگی تکلیف میں گزر جاتی ہے۔ وہ خود کسی کا مال نہیں چھینتا، مگر دوسرے اس کے گھر میں چوری کرتے ہیں۔ وہ کسی کو تکلیف نہیں پہنچاتا، مگر دوسروں سے اسے تکلیف اٹھانی پڑتی ہے۔ وہ جھوٹ نہیں بولتا، مگر دوسرے اس پر جھوٹا الزام لگاتے ہیں۔ وہ جب عدالت میں داد رسی کے لیے جاتا ہے ،تو وہاں بھی دوسرے لوگ اپنے پیسے اور سفارش کے زور سے مقدمہ جیت جاتے ہیں، اور الٹے اسی کو سزا ہوجاتی ہے۔ کیا اس ظلم کا کوئی انصاف نہیں ہوگا۔

کچھ لوگ اپنے ذہن سے ایک نظریہ گھڑتے ہیں، اور اس کو نافذ کرنے کے لیے لاکھوں بندگانِ خدا کو قتل کرکے ان کی اِملاک اور جائداد چھین لیتے ہیں، اور پورے ملک کوجیل خانہ کی زندگی گزارنے پر مجبور کرتے ہیں۔ کیا اِس کی کوئی باز پرس نہیں ہے، کچھ لوگ ملک کے نظم ونسق پر قابض ہو کر قدرت کے ذرائع کی اس انداز میں تحقیق کرتے ہیں کہ ان سے کیسے کیسے خطرناک ہتھیار بنائے جاسکتے ہیں، اور پھر بموں کی بارش سے پورے پورے شہروں اور ملکوں کو آگ میں بھون ڈالتے ہیں۔ کیا اس کی کوئی پوچھ ان سے نہیں ہوگی۔

کسی ملک میں چند سرمایہ داروں کے پاس اناج اور پھل کی کافی پیداوار ہوتی ہے، مگر وہ بھاؤ گرنے کے ڈر سے لاکھوں من پیداوار کو جلا ڈالتے ہیں،یا سمندر میںپھینک دیتے ہیں۔ حالانکہ خود ان کے ملک میںاور ملک کے باہر بہت سے لوگ انھیں چیزوں کے لیے ترستے ہیں۔ کیا ایسی کوئی عدالت نہیں ہے، جہاں انھیں اپنے اس فعل کا جواب دیناہو۔

اس وقت دنیا میں جو کچھ ہورہا ہے۔ اس کی ہم کوئی توجیہہ نہیں کرسکتے ،اگر ہم ایک ایسے دن کو تسلیم نہ کریں، جب کہ ایک ایک شخص اور ایک ایک قوم کی کارگزاریوں کی جانچ ہوگی، اور اس کے کارنامے کے مطابق، اس کو اچھا یا برا بدلہ دیا جائے گا۔ اس طرح کے ایک دن کو مانے بغیر یہ دنیا محض بچوں کا کھیل نظر آتی ہے۔

اس طرح کا ایک دن ماننا اس لیے بھی ضروری ہے کہ دنیا میں آدمی کو صحیح رویہ پر قائم رکھنے کے لیے اس کے سوا اور کوئی صورت نہیں ہے۔ اگر زندگی بس یہی دنیا کی زندگی ہے، اور مرنے کے بعد کوئی حساب نہیں ہونے والا ہے، تو پھر کیا ضرورت ہے کہ آدمی سچائی اور دیانت داری اختیار کرے، کیوں نہ اپنے فائدے کے لیے وہ جھوٹ بولے، کیوں نہ رشوت لے اور غبن کرے، کیوں نہ ایک قوم دوسری قوم پر ڈاکہ ڈالے۔ اس نظریے کو نہ ماننے کے بعد پھر کوئی ایسا عامل (factor) باقی نہیں رہتا، جو آدمی کو صحیح رویہ پر برقرار رکھنے کے لیے مجبور کرسکتا ہو، پھر یہ انسانی آبادی ایک جنگل میںتبدیل ہوجاتی ہے، جہاں ایک جانور دوسرے جانور کو کھا جانا چاہتا ہے، اور کوئی فرد کسی اخلاقی اور انسانی ضابطے کا پابند نہیں ہے۔

٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭

انسان جب پیدا ہوتا ہے، تو اس کی سب سے پہلی دریافت، شعوری طور پر تو نہیں، مگر غیرشعوری طور پر یہ ہوتی ہے کہ کیسا عجیب ہے ،وہ خالق جس نے پوری دنیا کو میرے لیے کسٹم میڈ دنیا بنا دیا۔ رحم مادر، اسی طرح خارجی دنیا کا پورا نظام، عین وہی ہے، جو انسان کے لیے مطلوب تھا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسان دنیا کے لیے بنا ہے، اور دنیا انسان کے لیے بنائی گئی ہے۔

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/maulana-wahiduddin-khan-for-new-age-islam/on-the-verge-of-new-age-نئے-عہد-کے-دروازے-پر/d/122831


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..