مولانا سید جلال الدین عمری
9 فروری 2024
اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں انسانوں
کی ہدایت کے لئے جو کتابیں نازل کیں ان میں قرآن مجید سب سے آخری کتاب ہے، لیکن
اپنے اثرات کے لحاظ سے اس کا مقام سب سے آگے ہے۔ انسانوں نے جو کتابیں تصنیف کیں
ان کا تو شمار ہی نہیں کیا جاسکتا۔ ان میں سے بعض کتابوں کا اثر بھی، اس میں شک
نہیں، دنیا نے قبول کیا، لیکن قرآن مجید سے اس کی کوئی نسبت نہیں ہے۔ اس طرح کی
ہر انسانی تصنیف نے ایک محدود دائرے میں اپنے اثرات مرتب کئے، لیکن قرآن مجید نے
ایک عالم کو بدل کر رکھ دیا۔ اس نے دنیا کو نئے افراد دیے، نیا سماج دیا اور نیا
طرزِحکومت عطا کیا۔
کسی فرد کو بدلنا دنیا کا مشکل ترین
کام ہے۔ قرآن نے فرد کو خطاب کیا اور اس کے ذہن و فکر اور سیرت و کردار ہی کا
نہیں، اس کے جذبات و احساسات تک کا رخ موڑ دیا۔ اس نے طہارتِ فکر و نظر اور اخلاق
و کردار کی اساس پر ایک پاکیزہ معاشرہ کا تصور دیا اور اس طرح کا معاشرہ قائم کرکے
دکھادیا۔ اس نے کہا کہ ریاست کو حرّیتِ فکر و عمل، عدل و انصاف اور مساوات کی اساس
پر قائم ہونا چاہئے اور انسانی حقوق کا احترام اس کا فرض ہے۔ دنیا کو اس کے ذریعہ
اس ریاست کا تجربہ ہوگیا۔ دنیا تغیرات کی آماجگاہ ہے۔ یہاں چھوٹی بڑی تبدیلیاں
ہوتی ہی رہتی ہیں، لیکن انسان نے قرآن کے ذریعہ ایک ہمہ جہت تبدیلی کا مشاہدہ
کیا۔ یہ تبدیلی ہمیشہ کے لیے نمونہ بن گئی۔ جب بھی انسان خیر و فلاح کا وسیع تصور
کرے گا یہ نمونہ اس کے سامنے ہوگا۔
قرآن حالات کا ردِّ عمل نہیں ہے
یہ عظیم انقلاب کسی ایک خطۂ زمیں تک
محدود نہیں رہا، بلکہ دنیاکے بڑے حصے نے اس کا استقبال کیا اور بخوشی اس تبدیلی کو
قبول کیا۔ اس کی بہت سی توجیہات کی جاسکتی ہیں۔ ایک توجیہ یہ کی جاتی ہے کہ یہ اس
وقت کے عالمی اور خاص طور پر عرب کے ناگفتہ بہ حالات کا رد عمل تھا۔ پوری دنیا ایک
طرح کے سیاسی انتشار میں مبتلا تھی۔ ایک طرف مذہب کے ماننے والوں کا غیر عقلی
رویہ، ان کے باہمی نزاعات اور دوسری طرف بادشاہوں اور امیروں کی عیش کوشی، عوام کی
معاشی بدحالی، طبقاتی کشمکش، عدم مساوات، جنسی آوارگی اور اخلاقی بندشوں سے
آزادی نے دنیا کو نڈھال کررکھا تھا۔ اس کا رد عمل بھی کہیں کہیں ہوا، لیکن حالات
اس سے بڑے رد عمل کا تقاضا کررہے تھے۔
جہاں تک جزیرۃ العرب کا تعلق ہے، حالات
اس سے کہیں زیادہ ابتر تھے۔ وہاں کوئی مضبوط سیاسی نظام نہیں تھا۔ مختلف قبائل
اپنے دائرے میں آزاد تھے۔ وہ اصنام پرستی میں مبتلا تھے، لیکن ہر قبیلہ کا بت الگ
تھا۔ ان کے درمیان تعصب اور عداوت کی دیواریں حائل تھیں۔ خانہ جنگی، جہالت، معاشی
بدحالی اور اخلاقی بگاڑ نے انہیں اپنے نرغے میں لے رکھا تھا۔ قرآن اسی کا رد عمل
تھا اور یہ ردعمل کامیاب رہا اور عرب سے نکل کر عالمی سطح پر بھی اثر انداز ہوا۔
زبوں حال دنیا نے اس کا ساتھ دیا، جیسے وہ اس کی منتظر تھی۔
قرآن کی ہمہ گیر تعلیمات
ردِّ عمل کے اس فلسفہ میں اس حقیقت کو
نظر انداز کردیا جاتا ہے کہ ردِعمل انتقام کے جذبہ سے سرشار اور حدود و قیود سے
آزاد ہوتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں کوئی مثبت اور بڑی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔ قرآن
کے ذریعہ جو انقلاب آیا اس کا امتیاز یہ ہے کہ وہ اخلاق و قانون کا پابند اور عدل
و انصاف کا حامی اور محافظ تھا۔ اسے ردِّ عمل قرار دینا ناواقفیت کی دلیل ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ قرآن کے ذریعہ جو انقلاب آیا اس کے اسباب خارج میں نہیں، بلکہ اس
کے اندر موجود تھے جس کی وجہ سے لوگ اس کی طرف کھنچے چلے آرہے تھے۔ دشمنوں کے
دلوں میں وہ اپنی جگہ بنا رہا تھا اور مخالف صفوں میں پیش قدمی کررہا تھا۔ ان ہی
میں سے بعض اسباب کا یہاں ذکر کیا جارہا ہے:
تصورِ توحید
اللہ تعالیٰ کے وجود کا تصور انسان کی
فطرت میں ہے۔ دنیا کے تمام ہی مذاہب نے اس کی تائید اور تصویب کی ہے، لیکن یہ
آلودۂ شرک بھی رہا ہے۔ اللہ کے رسولوں نے توحید کی دعوت دی اور اسی پر اپنی
تعلیمات کی بنیاد رکھی، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ چشمۂ صافی گدلا ہوتا چلا گیا۔
قرآن مجید نے اسے نکھار کر رکھ دیا اور اب وہ بے آمیز اور خالص شکل میں دنیا کے
سامنے تھا۔ قرآن مجید نے پوری تفصیل سے عقیدۂ توحید پیش کیا کہ اللہ تعالیٰ کی
ذات وحدہ لاشریک ہے۔ پوری کائنات، جس کی وسعت کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا، تنہا اس
کی پیدا کردہ ہے۔ اس کی تخلیق میں کوئی دوسرا شریک نہیں ہے۔ وہی اس کا مالک اور
فرماں روا ہے، کسی اورکا اس میں ذرہ برابر دخل نہیں ہے۔
اللہ ہی خالق و فرماں روائے کائنات ہے
مذہب کی دنیا میں یہ خیال پایا جاتا
تھا کہ اس کائنات کی تخلیق کے بعد اللہ تعالیٰ اس سے بے تعلق ہوگیا ہے۔ قرآن نے
اس کی تردید کی اور بتایا کہ وہ عرشِ بریں کا مالک ہے اور پورے کارخانۂ عالم کو
اپنی مرضی سے چلا رہا ہے:
’’بے
شک تمہارا رب وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا، پھر عرش پر
متمکن ہوا۔ جو رات کے ذریعہ دن کو ڈھانک دیتا ہے اور دن تیزی سے اس کے پیچھے چلا
آتا ہے۔ اس نے سورج، چاند اور ستارے پیدا کیے۔ سب اس کے حکم کے تابع ہیں۔ سن لو!
اسی کے لیے خاص ہے پیدا کرنا بھی اور حکم دینا بھی۔ بابرکت ہے اللہ کی ذات جو ربُّ
العالمین ہے۔ ‘‘
(
﴿الاعراف: ۵۴﴾)
وہ حَی و قیوم ہے۔ سارے عالم کو تھامے
ہوئے ہے۔ ایک لمحہ کے لئے بھی وہ اس سے غافل نہیں ہے:
’’اللہ
تعالیٰ وہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ زندہ ہے اور کائنات کو تھامے ہوئے
ہے۔ نہ اسے اونگھ لاحق ہوتی ہے اور نہ نیند آتی ہے۔ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ
ہے سب اس کی ملکیت ہے۔ ‘‘ (البقرۃ:۲۵۵﴾)
قرآن نے شرک کی جڑکاٹ دی اورسوائے
ایک ذاتِ خداوند کے ہر چھوٹے بڑے خدا کے تسلط اور اقتدار سے انکار کردیا۔ اب انسان
اس دنیا پر صرف اللہ ِ واحد کی حکمرانی دیکھ رہا تھا۔
اللہ کی ذات سے انسان کا تعلق
اللہ تعالیٰ سے انسان کا تعلق
غیرواضح، بلکہ ایک طرح سے منقطع رہا ہے۔ قرآن نے انسان کا رشتہ اللہ تعالیٰ سے
جوڑ دیا۔ اس نے کہا کہ انسان اس دنیا میں خود سے نہیں آتا، اس کی پیدائش، اس کا
رزق، اس کی صلاحیتیں اور توانائیاں، اس کا مرض و صحت سے دوچار ہونا اور اس کی موت
و حیات سب کچھ اللہ کے ہاتھ میں ہے، کسی دوسرے کے پاس کچھ نہیں ہے۔ لہٰذا تمہارا
تعلق اس سے اور صرف اس سے ہونا چاہئے۔ سورۂ فاطر میں ہے:
’’اللہ
نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا اور پھر نطفہ سے اس نے تمہارے جوڑے بنائے، جو عورت حاملہ
ہوتی ہے اور بچے کو جنم دیتی ہے سب اس کے علم میں ہے۔ کسی کو زیادہ عمر ملتی ہے
اور کسی کی عمر میں کمی ہوتی ہے تو یہ سب ﴿اللہ کے ہاں ایک کتاب میں لکھا ہوا ہے۔
ان میں سے کوئی کام اللہ کے لئے دشوار نہیں ہے۔ اور پانی کے دونوں ذخیرے یکساں
نہیں ہیں ایک میٹھا اور پیاس بجھانے والا ہے، پینے میں خوشگوار، اور دوسرا سخت
کھارا کہ حلق چھیل دے مگر دونوں سے تم تر و تازہ گوشت حاصل کرتے ہو، پہننے کے لیے
زینت کا سامان نکالتے ہو، اور اسی پانی میں تم دیکھتے ہو کہ کشتیاں اُس کا سینہ
چیرتی چلی جا رہی ہیں تاکہ تم اللہ کا فضل تلاش کرو اور اُس کے شکر گزار بنو۔ اسی
کی ذات ہے جو رات اور دن کو ایک دوسرے میں داخل کرتی رہتی ہے۔ سورج اور چاند کو اس
نے مسخر کررکھا ہے، جو ایک مقررہ مدت تک گردش میں ہیں۔ وہی اللہ تمہارا رب ہے،
بادشاہی اسی کی ہے، اُسے چھوڑ کر جن دوسروں کو تم پکارتے ہو وہ ایک پر ِکاہ کے
مالک بھی نہیں ہیں، انہیں پکارو تو وہ تمہاری دعائیں سن نہیں سکتے اور سن لیں تو
ان کا تمہیں کوئی جواب نہیں دے سکتے اور قیامت کے روز وہ تمہارے شرک کا انکار کر
دیں گے، حقیقت حال کی ایسی صحیح خبر تمہیں ایک خبردار کے سوا کوئی نہیں دے سکتا۔
‘‘
(فاطر:۱۱؍تا۱۴)
اس طرح کی تصریحات پورے قرآن میں
پھیلی ہوئی ہیں۔ اللہ واحد کے عقیدہ نے انسانوں کو ہر جھوٹے معبود سے نجات دی۔
انسان کی گردن میں خودساختہ خداؤں کا جو طوق غلامی پڑا ہوا تھا، اسے کاٹ دیا۔ جب
کسی کے ہاتھ میں کوئی اقتدار نہیں ہے تو کیوں وہ اس سے توقع رکھے اور اسے اپنا
مالک و کارساز سمجھے۔ اب کسی فرعون کو اجازت نہ تھی کہ اپنی بادشاہت و حکومت کا
ڈنکا پیٹے اور دوسروں کو غلام بنائے۔
اللہ تعالیٰ تک براہ راست رسائی
ہوسکتی ہے
اللہ تعالیٰ تک رسائی کےلئے انسان
ذرائع اور واسطوں کو ضروری خیال کرتا تھا۔ مشرکین کہتے تھے: ’’ہم ان معبودوں کی
صرف اس لئے عبادت کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اللہ سے قریب کردیں۔ ‘‘ (الزمر:۳﴾)۔ قرآن نے بتایا کہ
اللہ تک پہنچنے اور اس کا تقرب حاصل کرنے کے لئے انسان کو کسی واسطہ کی ضرورت نہیں
ہے۔ اس سے وہ براہِ راست تعلق قائم کرسکتا ہے۔ وہ سب سے زیادہ اس سے قریب ہے اور
اس کی دعائیں سنتا ہے اور جواب دیتا ہے۔ ان کا کام یہ ہے کہ وہ اس پر ایمان رکھیں
اور اس کی ہدایات پر عمل کریں :
’’جب
میرے بندے میرے متعلق آپ سے سوال کریں تو بتادیجئے کہ میں قریب ہی ہوں۔ پکارنے
والا جب پکارتا ہے تو میں اس کی پکار سنتا اور جواب دیتا ہوں۔ لہٰذا انھیں بھی
چاہیے کہ میری پکار کا جواب دیں اور مجھ پر ایمان رکھیں۔ امید ہے وہ ہدایت پائیں
گے۔ ‘‘ (البقرہ: ۱۸۶﴾)
یہا ں ایک اور آیت مبارکہ سے استفادہ
ضروری ہے جس میں اللہ دریافت فرماتا ہے:
’’کون ہے جو بے قرار کی دعا سنتا ہے جبکہ وہ
اُسے پکارے اور کون اس کی تکلیف رفع کرتا ہے؟ اور (کون ہے جو) تمہیں زمین کا خلیفہ
بناتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی (یہ کام کرنے والا) ہے؟ تم لوگ کم ہی
سوچتے ہو۔ ‘‘ (النمل:۶۲) (جاری)
9
فروری 2024، بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی
---------------
URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/fundamental-lessons-holy-quran-world-part-1/d/131698
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism