New Age Islam
Mon Nov 29 2021, 02:48 AM

Urdu Section ( 9 Oct 2020, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Islam Likes Every Piece of Knowledge That Is Beneficial To Humanity انسانیت کے لئے نفع بخش ہر علم کو اسلام پسندیدگی کی نظر سے دیکھتا ہے


مولاناخالد سیف اللہ رحمانی

9اکتوبر 2020

علم انسان کی عظمت اور سربلندی کی اساس ہے اور علم سے محرومی ایمان کے بعد سے بڑی محرومی اور نامرادی ہے ۔ علم ہی کی وجہ سے انسان بلند درجہ مقام کا حامل ہوتا ہے ۔ ’’اور جن کو علم بخشا گیا ہے ۔ اللہ ان کو بلند درجے عطا فرمائے گا ۔ ‘‘( المجادلہ:11) قرآن کہتاہے کہ ’’اصحاب علم او ربے علم برابر نہیں ہوسکتے ۔ ‘‘( الزمر:9) ’’نابینا اور بینا برابر نہیں ہے ۔ نہ تاریکیاں اور روشنی یکساں ہیں ۔ نہ ٹھنڈی چھاؤں اور دھوپ کی تپش ایک جیسی ہے ۔ ‘‘( فاطر :19تا 21)

انسان کو جو بھی علم حاصل ہے وہ اللہ ہی کاعطا کیا ہوا ہے اور اگر انسان نے بظاہر علم کے ہمالیہ فتح کرلئے ہیں پھر بھی اس کا علم اس کے جہل کے مقابلہ اور اس کی جانی ہوئی باتیں انجانی حقیقتوں کے مقابلہ بہت کم ہیں :’’ او رتمہیں بہت ہی تھوڑا سا علم دیا گیا ہے ۔ ‘‘(الاسراء :85) علم ا یک ذریعہ وحی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبروں پر اپنی آیات و احکام اتارتے ہیں اور ان کے واسطے سے یہ اللہ کے بندوں تک پہنچتا ہے ۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت کا سلسلہ تمام ہوچکا ۔ علم کا یہ ذریعہ معصوم ہے،یعنی اس میں غلطی اور بھول چوک کاکوئی امکان نہیں ۔ علم دوسرا ذریعہ انسانی عقل او را س کا تجرباتی سفر ہے ۔ یہ عقل بھی اللہ تعالیٰ کی عطا فرمائی ہوئی ہے ،لیکن یہ معصوم نہیں ۔ عقل ٹھوکر کھاسکتی ہے او رکھاتی ہے ،تجربات غلط ہوسکتے ہیں اور ہوتے ہیں ، ہوسکتاہے انسان جس شے کو بیش قیمت سونا سمجھے وہ ایک کم قیمت پیتل ہو اور انسان جس چیز کو ہیرا خیال کرے وہ کوئی بے قیمت چمکنے والی شے ہو، لیکن عقل اور تجربہ کے ذریعے انسان جن سچائیوں کو حاصل کرتا ہے او رجن حقائق وایجادات سے اپنا دامن مراد بھرتا ہے ، اس میں بھی انسان کے ذاتی کمالات کا دخل نہیں ،بلکہ وہ بھی عطیہ خداوندی ہیں ۔

اسی لئے کوئی بھی علم جو انسانیت کے لئے نفع بخش ہو ،اسلام اسے پسندیدگی کی نظرسے دیکھتاہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی لئے حکمت کو مومن کا گمشدہ مال قرار دیا ہے ۔ آج جس تعلیم کو ہم عصری یا جدید تعلیم کہتے ہیں ،وہ اسی حکمت کا مصداق ہے،حالانکہ قرآن وحدیث سے زیادہ عصری کوئی علم نہیں ہوسکتا، کیونکہ یہ ہر عہد او رعصر سے ہم آہنگی رکھنے والا علم ہے ۔ اسلامی تعلیم سے بڑھ کر جدید کوئی اور تعلیم نہیں ہوسکتی کیونکہ انسان کے وضع کئے ہوئے اصول تو دس بیس سال میں ساتھ چھوڑ دیتے ہیں لیکن یہ زندہ و پائندہ اور سدا بہار ہیں ،لیکن مذہبی تعلیم اور عام تعلیم کے درمیان فرق کرنے کےلئے اس تعبیر کے استعمال کرنے میں کچھ حرج نہیں ۔

یہ عصری علوم نہ مذہب سے متصادم ہیں او رنہ مذہب کی رہنمائی سے بے نیاز ۔ بعض لوگوں کے ذہن میں یہ واہمہ ہے کہ اسلام اور جدید سائنس وٹیکنالوجی دومتضاد چیزیں ہیں ،اور اگر اسلام اس کا مخالف نہیں تو کم از کم علمائے اسلام اس کے مخالف ہیں ۔ لیکن یہ دونوں ہی باتیں خلاف واقعہ ہیں ۔ سائنس وٹیکنالوجی کا کام وسائل وذراءع پیدا کرنا ہے اور اسلام وسائل کو استعمال کرنے کا طریقہ بتاتاہے او رمقاصد کی رہنمائی کرتاہے ۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ اسلام جدید علم کے لئے معاون او ررہنما ہے،جیسے ٹریفک پولیس اہلکار کی رہنمائی کرتے ہیں اور سمت سفر بتاتے ہیں ۔ اسی طرح مذہب سائنس کو راستہ بھٹکنے سے روکتا ہے ۔ ایسی صورت میں ٹکراوَ اور تصادم کا کیا سوال ہے;238; اورجو چیز اسلام کے خلاف نہ ہو ،علماء کی طرف سے اس کی مخالفت کاکوئی معنی نہیں ۔

لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آج جو طلبہ عصری درسگاہوں میں پڑھ کر نکلتے ہیں ۔ ان میں ایک بڑی تعداد دین سے بے بہرہ لوگوں کی ہے اور ایک قابل لحاظ تعداد تو دین بیزار لوگوں کی ہوتی ہے ۔ اس میں کچھ ذمہ داری علماء پر بھی عائد ہوتی ہے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ آج بھی مسلم معاشرہ پر علماء کی جو گرفت ہے اس کی کوئی او رمثال نہیں ملتی، مساجد کا نظام علماء کے ہاتھ میں ہے ،مدارس کی بہاران کے دم سے قائم ہے،بہت سی دینی جماعتوں اورتنظیموں میں وہ قبلہ نما کا درجہ رکھتے ہیں لیکن یہ بات حقیقت ہے کہ ماڈرن ایجوکیشن او رٹیکنیکل تعلیم کی طرف انہوں نے توجہ نہیں کی ۔ اگروہ ایسے تعلیمی ادارے قائم کرے تو ان اداروں کی کچھ او رہی شان ہوتی اور ان کی افادیت کئی چند ہوجاتی ۔ اس سلسلہ میں کم از کم دوباتیں تو بالکل ظاہر وباہر ہیں :

ایک یہ کہ ان درسگاہوں میں جدید تعلیم اور سرکاری نصاب کی رعایت کے ساتھ ساتھ بنیادی دینی تعلیم نصاب کا جزوہوتی او رپوری اہمیت کے ساتھ دینی تعلیم کا نظم ہوتا ۔ انسانی فکر پر تعلیم کے ساتھ ساتھ ماحول کا بڑا گہرا اثر پڑتاہے ۔ بلکہ بعض اوقات ماحول کا اثر تعلیم سے بھی بڑھ جاتاہے ۔ اگر علماء اور اہل دین ایسے ادارے قائم کرتے تو ان میں بہتر معیار تعلیم کے ساتھ ساتھ اعلیٰ اخلاقی اسلامی تربیت کا نظم بھی ہوسکتا تھا ۔ ایسے اداروں سے فارغ ہونے والے طلبہ مستقبل میں دیندار ڈاکٹر ،دیندار انجینئر ،دیندار وکیل اور مختلف شعبوں میں اسلامی فکر وعمل کے ترجمان او رنقیب ہوتے اور معاشرہ پران کی گہری چھاپ ہوتی ۔ آپ کسی ایسے معاشرہ کا تصور کیجئے جس میں مسجد کے امام سے لے کر الیکٹریشین اور پلمبر تک ہر پیشہ کا آدمی دین سے آگاہ ،دینشناس اور دیندار ہو،تو وہ سماج کس قدر صاف ستھرا اور پاکیزہ ہوگا!

دوسرا بڑا فائدہ یہ ہوتا کہ تعلیم سستی ہوتی علماء نے مدارس کی صورت میں جونظام قائم کیا ،اس کی اساس اس پر ہے کہ قوم کے اصحاب وثروت سے پیشے وصول کئے جائیں ۔ چاہے اس کے لئے ان کی خوشامد کرنی پڑے اور تحقیر و تذلیل سے دوچار ہونا پڑے ، اور ان پیسوں سے قوم کے غریب لوگوں کو جھوپڑیوں تک علم کی روشنی پہنچائی جائے ۔ جو دینی علوم آج کل دینی مدارس میں دیئے جارہے ہیں ، ایک زمانہ میں یہ تعلیم نوابوں کے محلات اور جاگیرداروں کی کوٹھیوں میں ہوا کرتی تھی اور عام مسلمانوں کی رسائی سے باہر تھی،لیکن اللہ جزائے خیر دے حاجی ثناءواللہ مہاجر مکی کے خلفاء کو کہ انہوں نے مدارس کے نظام کو قائم کیا اور عام سے عام آدمی پر بھی علم کے دروازے کھول دیئے ۔ اگر علما ء نے جدید تعلیم کو اپنے ہاتھ میں لیا ہوتا تو مجھے یقین ہے کہ یہ ایک خدمت ہوتی نہ کہ تجارت ،اور سماج کے غریب وبے کس لوگ بھی اپنے بچوں کو تعلیم سے بہروور کرسکتے تھے ۔ افسوس کے اس وقت جن مسلمانوں نے عصری تعلیمی ادارے قائم کررکھے ہیں ،چند کو چھوڑکر سبھی کا مقصد تجارت بن گیا ہے ۔

ہرمسلمان پر یہ بات واجب کہ وہ پوری امت کا خیر خواہ ہو ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض صحابہ;230; سے ہیں پر بیعت لی کہ وہ تمام مسلمانوں کے ساتھ خیر خواہی کا معاملہ کریں گے ۔ ‘‘(بخاری :58 مسلم:56) ہم نے ایک فیصد یا اس کے کم طلبہ جو مذہبی تعلیم حاصل کرتے ہوں ۔ ان کی خیر خواہی کے لئے بڑی بڑی جامعات اورعظیم الشان دارالعلوم قائم کررکھے ہیں ،اور ننانوے فیصد بلکہ اس سے زیادہ قوم کے بچے جو عصری تعلیم کے شعبوں میں ہیں ، کیا ان کی خیر خواہی ہم پر واجب نہیں ;238;اور کیا اس کے سے بھی بڑھ کر خیر خواہی ہوسکتی ہے کہ ہم مسلمان باقی رہنے میں ان بچوں کا تعاون کریں ;238;

اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ علماء دینی درسگاہوں کے ساتھ ساتھ جدید تعلیم او رٹیکنیکل تعلیمی ادارے بھی قائم کریں جن میں تعلیم اعلیٰ معیار کی ہو اور تربیت کے لئے اسلامی ماحول بھی فراہم ہو ۔

9اکتوبر، 2020، بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/islam-likes-every-piece-knowledge/d/123095


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..