New Age Islam
Sat Sep 19 2020, 04:53 AM

Urdu Section ( 27 Jul 2012, NewAgeIslam.Com)

Problem of Sighting Moon in India ہندوستان میں رؤیت ہلال کامسئلہ


مولانا ندیم الواجدی

23  جولائی ،2012

ہندوستان میں رؤیت ہلال کا مسئلہ کافی زمانے سے حل طلب بنا ہوا ہے، شاید ہر سال ہی ملک کے کسی نہ کسی حصے میں یا تو لوگ باقی ملک سے پہلے روزے شروع کردیتے ہیں یا عید منالیتے ہیں  یا بعد میں ، پورےملک میں ایک ہی دن رمضان کاآغاز ہو اور ایک ہی دن سب لو گ عید منائیں اس سلسلے میں بے شمار جلسے ، کانفرنسیں ،کنوینشن اور سیمینار منعقد کئے جاچکے ہیں  ، تجاویز بھی منظور کی جاچکی ہیں لیکن ابھی تک کوئی ایسی صورت پیدا نہیں  ہوسکی کہ ان تجاویز پر عمل ہوسکے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ملک میں ابھی تک کوئی ایسی کمیٹی  وجود میں نہیں آسکی جس پرمسلمانوں کے ہر فرقے کو او رہر فرقے کے تمام گروپوں کو اعتماد ہو، کچھ کمیٹیاں دہلی میں قائم ضرور ہیں ، دوسرے بڑے شہروں میں بھی ہیں لیکن نہ ان میں ہم آہنگی ہے اور نہ ان کا نیٹ ورک اتنا پھیلا ہوا ہے کہ اگر کسی جگہ چاند نظر آجائے تو وہ اس کی اطلاع شرعی ضابطوں کے تحت مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کو دے دے اور مرکزی کمیٹی  اس کو ملک بھر میں پھیلادے ، اس طرح عیدین اور رمضان وغیرہ میں جو اجتماعیت اور وحدت مطلوب ہے وہ حاصل ہوجائے، اس وقت صورت حال بڑی مضحکہ خیز ہوجاتی ہے جب ایک ہی علاقے میں مختلف ایام میں عید منائی جاتی ہے اس سے عید کا صحیح  لطف حاصل نہیں ہو پاتا ، حکومت اور نجی اداروں کوبھی علاقوں کے اعتبار سے مختلف دنوں میں تعطیل کرنی پڑتی ہے اور غیر وں کو بھی ہنسنے کا موقع ملتا ہے۔

 بعض اہل علم ایسے حالات میں جب ایک ہی ملک میں مختلف جگہوں پر مختلف تاریخوں میں عید منائی جارہی ہو یہ کہہ کر مطمئن ہوجاتے ہیں کہ عیدین ورمضان وغیرہ میں وحدت مطلوب ہی نہیں ہے بلکہ حدیث شریف میں تو یہ فرمایا گیا ہے: صو موالرؤیتہ وأفطروالرؤیتہ ‘‘ چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر ہی عید کے لیے افطار کرو’’( بخاری : 2/674، رقم الحدیث :1810)۔

اس سے بھی زیادہ واضح روایت یہ ہے: الشھر تسع وعشرون لیلۃ فلا تصومواحتی تروہ فان غم علیکم فاکملوا العدۃ ثلاثین۔‘‘مہینہ (کم از کم) انتیس راتوں کا ہوتا ہے اس لیے جب تک انتیس کا چاند نہ دیکھ لو روزہ نہ رکھو اور اگر چاند تم سے چھپ جائے تو تیس دن پورے کرکے روزے شروع کرو’’( بخاری شریف :2/674، رقم الحدیث 1808)۔ اسی طرح ایک رو ایت میں ہے کہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں ایک جگہ رمضان پہلے شروع ہوگیا اور مدینہ منورہ میں بعد میں شروع ہوا، آپ نے دونوں جگہوں کی تاریخوں میں مطابقت پیدا کرنے کی کوشش نہیں فرمائی بلکہ یہ ارشاد فرمایا : ان لکل بلدرؤیتھم ،  ہر اہل بلد کے لیے ان کی رؤیت معتبر ہوگی( مسلم شریف :2/764)۔

ان روایات سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ وحدت مطلوب ہی نہیں ہے بلکہ ہر جگہ چاند دیکھ کر رمضان شروع کیا جائے اور چاند دیکھ کر ہی رمضان ختم کیا جائے ، اگر انتیس تاریخ کو کسی جگہ چاند نظر نہ آسکے تو تیس دن پورے کئے جائیں ،پھر روزے شروع کئے جائیں اور اسی اعتبار سے عید منائی جائے ، اگر واقعی منشأ حدیث یہی ہے تب تو رؤیت ہلال  کا کوئی جھگڑا ہی نہیں ہے ، ہر جگہ کے لوگ آزاد ہیں، جب چاند نظر آجائے روزہ رکھ لیں جب چاند نظر آجائیں عید کرلیں ،مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ رؤیت کی شہادت کے متعلق اور اختلاف مطالع کے سلسلے میں فقہاء نے اس قدر درد سر کیوں مول لی ہے او رکیوں ورق کے ورق سیاہ کئے ہیں، بات صرف اتنی تھی کہ یہ کہہ کر بات ختم کردی جاتی کہ ہر جگہ کی رؤیت اسی جگہ کے لیے معتبر ہے ۔ فقہی کتابوں کو اٹھا کر دیکھا جائے تو ان میں رؤیت کے  متعلق مستقل ابواب قائم کئے گئے ہیں  ان ابواب میں اس طرح کے بہت سے مسائل زیر بحث آئے ہیں کہ اگر کسی جگہ رؤیت نہ ہو اور دوسری جگہوں  پر رؤیت ہوجائے تو وہاں کی شہادت کن حالات میں معتبر ہوگی اورکن حالات میں معتبر نہیں ہوگی ، بلد کام مفہوم بھی زیر بحث آیا ہے کہ آخر حدیث میں اس سے کتنا علاقہ مراد ہے، عربی کا یہ لفظ عام ہے، ایک شہر پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے اور ایک ملک پر بھی فقہاء یہ بحث کرتے نظر آتے ہیں کہ یہاں حدیث میں بلد سے پورے ایک ملک یا ایک وسیع خطہ مراد ہے جو سینکڑو ں میلوں کا احاطہ کرتا ہے یا ایک چھوٹا شہر جو چند میلوں میں پھیلا ہوا  ہوتا ہے۔

یورپ او رامریکہ وغیرہ ملکوں میں بسنے والے مسلمانوں نے تو رؤیت ہلال کے اختلاف سے بچنے کے لیے یہ حل نکال لیا ہے کہ وہ حرمین شریفین کے مطابق ہی روزہ رکھ لیتے ہیں اورحرمین شریفین کے مطابق ہی عید منالیتے ہیں  حالاں کہ ان کا یہ فیصلہ خلاف عقل ہے ، ان ملکوں سے سعودی عرب اتنے فاصلے پر ہے کہ وہاں چاند کے نکلنے او رچھپنے میں ، اسی طرح سورج کے طلوع ہونے اور غرو ب ہونے کے اوقات میں بڑا فرق ہے، اسی فرق کی وجہ سے ان  ملکوں میں سے بعض میں دن رات کا اور بعض میں کئی کئی گھٹنے کا فرق ہوتا ہے، ہمارے  ہندوستان میں کیرالہ کے لوگ بھی سعودی عرب کے اعلان پر عمل کرتے ہیں وہ یہ دیکھنے کی زحمت ہی نہیں کرتے کہ ہمارے یہا ں چاند نکلا بھی ہے یا نہیں،امریکہ کے مسلمانوں کی ایک تنظیم نے یہ طے کیا ہے کہ جدید فلکیاتی سہولتوں سے فائدہ اٹھایا جائے اور ان کی پیشین گوئیوں کی بنیاد پر ہی وقت سے کافی پہلے چاند کا فیصلہ کردیا جائے تاکہ کوئی اشتباہ ہی نہ رہے،یہ فیصلہ بھی قابل قبول نہیں ہوسکتا ، ہمارے چاروں ائمہ کرام چاند کی رؤیت کے سلسلے میں فلکیاتی ماہرین کی رائے کوناقابل اعتبار قرار دے چکے ہیں، دیکھا جائے تو یہ دونوں ہی صورتیں شریعت کے منشأ کے خلاف ہیں، کیو نکہ روایات میں صاف ہے کہ ہر بلد کی اپنی رؤیت ہے نیز یہ بھی فرمایا گیاکہ چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر روزے ختم کرو، ان دونوں روایتوں کو سامنے رکھنے سے تو یہ  معلوم ہوتا ہے کہ شریعت چاہتی ہے کہ چاند دیکھ کر ہی صوم و افطار کا فیصلہ ہو، نیز ایک بلد کی رؤیت کا اعتبار اسی بلد کے دائرے میں ہوگا اس سے تجاوز نہ ہوگا، کیا امریکہ یورپ اور کیرالہ کے مسلمان ان دونوں حدیثوں پر عمل کررہے ہیں؟

 اصل بات یہ ہے کہ عیدین کے معاملے میں ایسی وحدت اس وقت تک بہ روئے کار نہیں لائی جاسکتی جب تک  بلد کا دائرہ متعین نہ ہو ، بلد کا دائرہ متعین کر کے یہ کوشش کی جانی چاہئے کہ کم از کم اس دائرے میں وحدت قائم ہوجائے۔اس سلسلے میں فقہاء نے مطالع کے اختلاف پر جو بحث کی ہے کہ کتنے فاصلے پر مطلع مختلف ہوجائے گا اور کتنے فاصلے کا مطلع ایک مانا جائے گا ، شہادت ، خبر مستفیض ، کتاب القاضی الی القاضی وغیرہ کے تعلق سے جو احکام فقہاء نے مستنبط و مرتب کئے ہیں ان سے بھی یہی  معلوم ہوتا  ہے کہ یہ سب کچھ ایک شہر کے چاند کو دوسرے شہر کے حق میں معتبر کرانے کے لیے کیا گیا ہے، قابل غور بات صرف اتنی ہے کہ وہ شہر جہاں چاند نظر آیا ہے او روہ شہر جہاں نظر نہیں آیا ہے ان دونوں میں کس قدر فاصلہ معتبر ہوگا، کیا اتنا جتنا  دہلی ، مدراس یا کلکتہ او رممبئی  میں ہے، ایسا نہیں  ہے کہ ہمارے علماء اس سے غافل رہے ہوں ، چاند کی رؤیت میں وحدت کی ضرورت پر کافی کچھ غور وخوض ہوچکا ہے ، او ربہت سی تجاویز منظور بھی کی جاچکی ہیں ،او رکئی اہم فیصلے کئے جاچکے ہیں ، مسئلہ صرف ان تجاویز کے نفاذ کا ہے جو ہندوستانی مسلمانوں کی تفرقہ بازی او رانتشار پسندی کی وجہ سے ابھی تک ممکن نہیں ہوسکا ۔

مجلس تحقیقات شرعیہ ندوۃ العلما ء لکھنؤ کے اجلاس ،منعقدہ 3/4مئی 1967میں مختلف مکاتب فکر کے علماء او رنمائندہ شخصیتوں نے اس سلسلے میں جو فیصلہ کیا اس کے چند نکات یہ ہیں۔ (1) نفس الأمر میں پوری دنیا کا مطلع ایک نہیں ہے، بلکہ اختلاف مطالع مسلم ہے ، یہ ایک واقعاتی چیز نہیں ہے، اس میں فقہائے کرام کا کوئی اختلاف نہیں ہے اور حدیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے ( 2) البتہ فقہاء اس باب میں مختلف ہیں کہ صوم اور افطار صوم کے باب میں یہ اختلاف معتبر ہے یا نہیں ،محققین احناف اور علمائے امت کی تصریحات او ران  کے دلائل کی روشنی میں مجلس کی متفقہ رائے یہ ہے کہ بلاد بعیدہ میں اس باب میں اختلاف معتبر ہے (3) بلاد بعید ہ سے مراد یہ ہے کہ ان میں باہم اس قدر دوری واقع ہوکہ عادتاً ان کی رؤیت میں ایک دن کا فرق ہوتاہے، ایک شہر میں ایک دن پہلے چاند نظر آتاہے اوردوسرے میں ایک دن کے بعد ، ان بلاد بعیدہ میں ایک اگر ایک ہی رؤیت دوسرے کے لئے لازم کردی جائے تو مہینہ کسی جگہ اٹھائیس دن کا رہ جائے گا اور کسی جگہ تیس دن کا قرار پائے گا، حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کے قول سے اس کی تائید ہوتی ہے، بلاد قریبہ وہ شہر ہیں جن کی رؤیت میں عادتاً ایک دن کا فرق نہیں پڑتا ، فقہاء ایک ماہ کی مسافت کی دوری کی جو تقریباً پانچ سو، چھ سو ، میل ہوتی ہے بلا د بعید ہ قرار دیتے ہیں  ،علما ئے ہند و پاک کا عمل ہمیشہ اسی پر رہا ہے او رغالباً تجربے سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ ان ملکوں کے شہروں میں اس قدر بعد مسافت نہیں ہے کہ مہینہ میں ایک دن کا فرق پڑتا ہو ان دونوں ملکوں میں جہاں بھی چاند دیکھا جائے شرعی  ثبوت کے بعد ان کا ماننا  ان دونوں ملکوں کے تمام اہل شہر پر لازم ہوگا (4) مصر اور حجاز جیسے دور دراز ملکوں کا مطلع ہند وپاک کے مطلع سے علیحدہ ہے، یہاں کی رؤیت ان  ملکوں کے لیے اور ان ملکوں کی رؤیت یہاں کے لیے ہر حالت میں لازم او رقابل قبول نہیں ہے اس لیے ان میں اور ہندو پاک میں اتنی دوری ہے کہ عموماً ایک دن کا فرق ان میں واقع ہوجاتا ہے ، اوربعض اوقات اس سے بھی زیادہ (تجاویز منظور شدہ ، اجلاس مجلس تحقیقات شرعیہ ندوۃ العلما ء لکھنؤ ۔3/4 مئی 1967)۔

یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ بعد مسافت کے سلسلے میں بعض مفتیان کرام نے پانچ، سو چھ سو ، میل کے بجائے ایک ہزار میل تجویز کیا ہے، ملاحظہ فرمائیے حضرت مولانا مفتی محمود حسن گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کی رائے، فرماتے ہیں:ایک ہزار میل کے بعد پر مطلع بدل جاتاہے اگر رؤیت بہ طریق شرعی ثابت ہوجائے تو روزہ اور عید کا حکم ہوگا ورنہ نہیں ( فتاوی محمودیہ :10/34) اسی لیے بعض اہل علم بعد مسافت کی حدود طے کرنے میں ماہرین فلکیات کی رائے قبول کرنے پر زور دیتے ہیں ، وہ جدید آلات رصد کی مدد سے یہ طے کرسکتے ہیں کہ  کتنے فاصلے پراتنا مطلع بدل جاتا ہے کہ عادتاً چاند ایک یا دو دن کے فرق سے  نظر آئے ۔جمعیۃ علماء ہند کے ذیلی ادارے ادارۃ المباحث الفقہیہ نے بھی اس سلسلے میں اپنے متعدد اجتماعات میں غور وخوض  کیا ہے اس ادارے کے سابق ناظم او رمشہور فقیہ حضرت مولانا محمد میاں دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ نے تو ایک باضابطہ دستور العمل مرتب کر کے شائع بھی کردیا  تھا اور اس میں یہ  واضح کردیا تھا کہ رمضان او رعید کے چاند کے سلسلے میں اگر کسی جگہ مطلع ابر آلو د ہو، یا مطلع تو ابر آلود انہ ہومگر وہاں چاند نظر نہ آیا ہو اور ملک میں کسی دوسری جگہ نظر آگیا ہو تو وہاں کی شہادت کو باقی  ملک میں کن اصولوں کے تحت قابل قبول سمجھا جائے گا۔

 اس دستور العمل پرادارۃ المباحث الفقہیہ نے اپنے ساتویں فقہی سیمینار (منعقد ہ 26، 27، رجب المرجب ، 1421بہ مقام دیوبند ) میں غور خوض کیا او رکچھ مفید اضافے بھی کئے ، حضرت مولانا محمد میاں دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے دستور العمل میں کل ہند رؤیت ہلال کمیٹی  کی تشکیل پر بڑا               زور دیا ہے اس سے بھی معلوم کے لئے معتبر بنانےکے لئے اس کمیٹی  کی تشکیل ضروری سمجھتے تھے ، اس سلسلے میں ‘‘فرائض ہلال کمیٹی ’’کے عنوان سے دستور العمل کی یہ چند سطور ملاحظہ فرمائیں  : (1) ‘‘ ہررؤیت ہلال کمیٹی مقررہ تاریخ 29 میں تمام ریڈیواسٹیشنوں سے نشر ہونے والی دوسری کمیٹیوں کےا علان کو سننے کا انتظام اور التزام کرے گی (2) اعلان کمیٹی کی تجویز کردہ عبارت اور الفاظ میں ہوگا، کمیٹی  اس اعلان میں یہ بھی واضح کرے گی کہ فیصلہ رؤیت عامہ کی بنا پر کیا گیا ہے یا باضابطہ شرعی شہادت پر ۔(3)مرکزی کمیٹی ملک کے مختلف مقاما ت پر مقتدر اور دین دار حضرات پر مشتمل ہلال کمیٹیاں  قائم کرائے گی جن کا اعلان پورے ملک کے لئے سمجھا جائے گا اور کمٹی اپنے قریبی شہروں میں مقامی کمیٹیاں بنائے گی۔(4) کمیٹی کا اجلاس باضابطہ ہو، اگرمستقل صدر نہ ہوتو اجلاس کا ایک مستقل صدر بنایا جائے، وہی کمیٹی کا صدر ہوگا ،فیصلہ وہی صادر کرے گا اور اسی کی طرف سےاعلان کیا جائے گا، (فقہی اجتماعات کے اہم فقہی فیصلے)اگر چہ کوششیں کی گئی ہیں لیکن ان میں پوری طرح کامیابی نہیں مل سکی ہے اسی لیے بعض حضرات مفتیان کرام اس مسئلے کو عقیدہ ٔ لا ینحل  ہی سمجھتے ہیں ۔

 ملاحظہ کیجئے یہ عبارت : چاند کے مسئلے میں گڑ بڑ اور اختلافت راشدہ کے دور میں  بھی یہ رہا ، اس اختلاف کو ختم کرنے کی سعی قدرت کا مقابلہ کرنا ہے، اس لیے کہ پہلا سبب اختلاف تو یہ ہے کہ چاند کبھی 29 کو نظر آتا ہے ،کبھی 30 کو ،دوسرا سبب یہ ہے کہ جب چاند نظر آتا ہے تو ہر جگہ مطلع صاف نہیں  رہتا، کہیں صاف، کہیں غبار آلود اس لیے کہیں  نظر آیا کہیں نظر نہیں آیا ، تیسرا سبب یہ ہے کہ ہر مہینے کا چاند ایک جگہ سے نظر نہیں آتا کبھی مغرب سے مائل بہ جنوب کبھی یمین مغرب میں کبھی مائل بہ شمال نظر آتا ہے ، پانچواں سبب یہ ہے کہ دیکھنے والوں کی سب کی نظر ایک نہیں، کسی کی قوی ،کسی  کی ضعیف ،کوئی بغیر چشمے کے دیکھے کسی کو چشمے سےبھی نظر نہیں آوے ، چھٹا  سبب یہ ہے کہ کوئی شخص ایسا نہیں  کہ جس کی بات ماننے کو سب تیار ہوجائیں جس کا  شکوہ تمام انسانوں کو ہے، ساتواں سبب یہ ہے کہ گواہی دینے والے سب یکساں نہیں  کسی کی گواہی مقبول ،کسی کی مردود ہوتی ہے آٹھواں سبب یہ ہے کہ ہر جگہ رؤیت ہلال کمیٹی موجود نہیں ، نہ بنانے کےلیے تیار ہیں باوجود یہ کہ ہر جگہ بار بار درخواست کی گئی ،نواں سبب یہ ہےکہ جہاں رؤیت ہلال کمیٹی موجود ہے وہاں بھی اس کے تمام ارکان مسائل شرع کے ماہر اور احکام سنت کے پابند نہیں دسواں سبب یہ ہے کہ ریڈیو پر اپنا قبضہ نہیں کہ پابندی عائد کی جاسکے کہ اعلان کیا جائے یا نہ کیا جائے ، نہ ہرجگہ عالم کو اس کا مکلّف کیا جاسکتا ہے کہ ریڈیو اسٹیشن پر آکر خود اعلان کرے نہ یہ اس کے قبضے میں ہے ، ان اسباب عشرہ کے پیش نظر آپ ہی بتلائیں کہ یہ مسئلہ کیسے حل کیا جائے  (فتاوی محمود یہ :10/74،75)۔

کل ہند رؤیت ہلال کمیٹی  کا تصور نیا نہیں ہے ان دونوں اجتماعات سے بھی بہت پہلے علماء اس ضرورت کو محسوس کرچکے ہیں ، ( ملاحظہ فرمائیے آلات جدیدہ کے شرعی  احکام مصنفہ حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب مفتی اعظم پاکستان)تین سال پہلے دہلی کی شاہ جہانی مسجد میں بھی ایک کل ہند اجتماع رؤیت ہلال کے سلسلے میں منعقد ہوچکا ہے اور تقریباً وہی سابقہ تجاویز نئے الفاظ میں مرتب کر کے منظور کی  جاچکی ہیں لیکن ابھی تک کل ہندرؤیت ہلال کمیٹی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں  ہوسکا ہے ، ایسی کمیٹی جس میں مسلمانوں کے تمام فرقوں کی اعلا سطحی نمائندگی ہو بے حد ضروری ہے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ اس کمیٹی کے علاوہ باقی تمام کمیٹیاں جو مختلف جماعتوں یا شخصیتوں نے اپنے اپنے طور پر بنا رکھی ہیں تحلیل کردینی چاہئیں ،اور پورے ملک کے مختلف شہروں میں اس کمیٹی کی ذیلی کمیٹیاں وہاں کے علماء او رذمہ دار حضرات پر مشتمل بنائی جانی چاہئیں ، صرف اسی صورت میں رمضان وعیدین میں وحدت قائم کی  جاسکتی ہے ۔ ہمارے ملک میں مسلمانو ں کی جو سیاسی صورت حال ہے اس نے اتحاد اور یکجہتی  کے بہت سے مواقع ہماری دسترس سےدور کردیئے ہیں، ہر مکتبہ فکر کے لوگ اپنی بالادستی  چاہتے ہیں ، ایک مکتبہ فکر کے مختلف گروہ بھی دوسرے کو آگے بڑھنے نہیں دینا چاہتے  اس صورت حال نے ہمارے اجتماعی سسٹم کو بری طرح متاثر کیا ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ رؤیت ہلال کا مسئلہ جماعتی سطح سے بالا تر ہوکر حل کیا جائے ، سب ہی فرقوں کی بھر پور نمائندگی ہو مگر اصل قیادت کسی ایسی شخصیت کے ہاتھ میں ہو جو تمام فرقوں مسلکوں ، تنظیموں اور ادارو ں کے لیے قابل قبول ہی نہ ہو بلکہ قابل احترام بھی ہو اور اس شخصیت کی ذمہ داری یہی ہو کہ وہ کمیٹی کی قیادت کرے اور ہر سال شرعی ضابطوں کے تحت چاند کی رؤیت کا پورے ملک کے لیے اعلان کر کے برئ الذمہ ہوجائے ۔

23 جولائی ، 2012  بشکریہ : روز نامہ ہندوستان ایکسپریس ، نئی دہلی

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/problem-of-sighting-moon-in-india--ہندوستان-میں-رؤیت-ہلال-کامسئلہ/d/8083

 

Loading..

Loading..