New Age Islam
Sat Apr 10 2021, 08:20 AM

Urdu Section ( 7 May 2012, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Burning the Quran Cannot Eradicate It قرآن کریم جلانے سے مٹ نہیں سکتا


مولانا ندیم الواجدی

07مئی 2012

بدنام زمانہ ملعون امریکی پادری ٹیری جونز نے ایک بار پھر اپنی خباثت کا مظاہرہ کرتے ہوئے قرآن کریم کی بے حرمتی کی ہے،اور اس مقدس آسمانی صحیفے کو نذرآتش کر کے دنیا بھر کے مسلمانوں کے دلوں میں مجروح کیا ہے، اس شیطان صفت پادری نے اس سے پہلے بھی 20مارچ 2011کو یہ مکر وہ حرکت کی تھی، اور تیس پادریوں کی موجودگی میں قرآن کریم کے نسخے کو آگ کے حوالے کیا تھا، ا س وقت کیوں کہ اس کے خلاف امریکی حکومت نے کوئی کارروائی نہیں کی تھی، ا س سے حوصلہ پاکر ا س کم بخت نے دوبارہ یہ حرکت کی ہے، اس واقعہ کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اس شخص نے یہ بدبختانہ کارروائی کسی بند کمرے میں انجام نہیں دی، اس  نے یہ غلیظ حرکت علی الا علان کی ہے، بلکہ امریکی جریدے ‘‘کرسچن پوسٹ’’ کی ایک رپورٹ کے مطابق ٹیری جونز نے اپنے ناپاک منصوبے پرعمل کرنے سے پہلے امریکی کاؤنٹی گینسو ائل فائر ڈپارٹمنٹ سے باقاعدہ اجازت طلب کی تھی، اس ڈپارٹمنٹ کے چیف آفیسر جینے پرنس نے یہ اجازت دی تھی کہ پادری، اپنے چرچ ڈور ورلڈ آؤٹ ایچ سینٹر کے باہر قرآن کریم نذر آتش کرسکتا ہے، اگر چہ اب یہ کہا جارہا ہے کہ یہ اجازت صرف الاؤ روشن کرنے کے لیے دی گئی تھی ، یہ اجازت کسی مذہبی کتاب کو جلانے کی نہیں تھی، مگر یہ صرف عذر لنگ ہے، اگر اجازت صرف الاؤ روشن کرنے کی تھی تو چرچ کی طرف جانے والے تمام راستوں پر انتظامیہ کی سخت نگرانی کا کیا مطلب تھا، اور اگر یہ تسلیم بھی کرلیا جائے کہ اجازت صرف الاؤروشن کر نے کی دی گئی تھی تو پادری ٹیری جونز کی حرکت سے ثابت ہوجاتا ہے کہ اس نے قرآن پاک کا نسخہ جلا کر قانون کی خلاف ورزی کی ہے ۔

اس جرم کی ا س شخص کو سزا کیو ں نہیں دی گئی، اس پر صرف 270ڈالر کا معمولی جرمانہ کیا گیا ہے وہ بھی ا س لیے کہ اس نے آگ جلاکر ماحولیات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے، قرآن کریم کو نذر آتش کرنے کے منظر کو براہ راست انٹر نیٹ پردکھلایا گیا، ایسی تصویر یں بھی سامنے آئی ہیں جن میں بہت سے کیمروں بردار لوگ واقعہ سے پہلے کے منظر کی ویڈیو گرافی کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں، ان حالات میں یہ کہنا کہ پادری نے یہ کام اچانک کیا ہے بالکل غلط ہے، اس سے بھی زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ اس واقعہ سے پورے عالم اسلام میں اضطراب کی لہر دوڑ گئی، امریکہ میں رہنے والے بیس لاکھ مسلمان بے چین ہو اٹھے لیکن امریکی انتظامیہ کہ کانوں پر جوں تک نہ رینگی ،پنٹاگون نے محض یہ وارننگ دینے پراکتفاکیا کہ ٹیری جونز کی اس رکیک حرکت کے نتائج افغانستان میں امریکی افو اج پرطالبان کے حملوں کی صورت میں برآمد ہوں گے، امریکی چرچ  وابستہ پادریوں نے ٹیری جونز کی اس حرکت پر اپنی ناپسندیدگی ظاہر کی ہے مگر ویٹی کن سٹی اور اس کے سربراہ پوپ بینی ڈکٹ نے اب تک کوئی لفظ بھی مذمت کا نہیں کہا ، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ٹیری جونز کو امریکی  انتظامیہ اور مسیحی مذہب کے مرکز کی جیوف کلف کا ایک بیان ضرور شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے ملعون پادری کے اس عمل کوبین المذاہب ہم آہنگی اور رواداری کے اصولوں کے خلاف قرار دیا ہے ، انہوں نے مسلمانان عالم سے اپیل کی ہے کہ وہ اس خود ساختہ پادری کی مذموم حرکت پرکوئی دھیان نہ دیں، کیوں کہ عیسائیت سے تعلق رکھنے والے مذہبی رہنما ؤں کا ٹیری جونز سے کوئی تعلق نہیں ہے او روہ کلیسا کی نمائندگی نہیں کرتا، مانا کہ کلیسا سے وابستہ شخصیتیں ٹیری جونز کی مذمت کررہی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا مذمت سے ان زخموں کا اندمال ہوجائے گا جو دنیا بھر میں پھیلے ہوئے اربوں مسلمانوں کے دل جگر میں پیوست ہوگئے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ اگر مسلمانوں کا یہ عقیدہ نہ ہوتا کہ قرآن کریم آسمانی کتاب ہے ، اس کی حفاظت خود اللہ کرنے والا ہے اور یہ  کہ اس طرح کی حرکتوں سے قرآن کریم کا تقدس پامال نہیں ہوتا، آسمان پر تھوکا خود اپنے منہ پر گرتا ہے اگر مسلمانوں میں صبر وتحمل نہ ہوتا تو دنیا بھر میں آگ لگ جاتی اور خود امریکہ آگ کے جہنم میں تبدیل ہوجاتا، مسلمانوں نے احتجاج تو کیا، اپنے غم وغصے کا اظہار بھی کیا ،لیکن ایسا کوئی کام نہیں کیا جس سے اعدا اسلام کو انگشت نمائی کا موقع ملے۔ البتہ مسلم ملکوں کے سربراہوں کی خاموشی او ربے حسی پر ضرور افسوس ہوتا ہے، کیا ان میں اتنا بھی حوصلہ نہیں کہ وہ امریکی حکومت کے سفیر وں کو طلب کر کے یہ بتلا دیتے کہ پادری کی حرکت ناقابل معافی ہے اگر اسے گرفتار نہ کیا گیا اور اس پر مقدمہ نہ چلایا گیا تو ہم امریکہ سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے پرمجبور ہوں گے، مسلم ملکوں کے حکمراں ہونٹ سیئے بیٹھے ہیں ، اسی طرح بیٹھے رہیں گے ، کیو نکہ انہیں قرآن عزیز سے عزیز تو وہ کرسی ہے جس پر وہ بیٹھے ہوئے ہیں اور اس کرسی کا استحکام امریکہ کی خوشنودی پر منحصر ہے۔

قرآن کریم نے چودہ  سوسال پہلے ہی یہ حقیقت آشکار کردی تھی کہ یہود ونصاریٰ کبھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہوسکتے، اسی لیے وقتاً فو قتاً اس طرح کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں ، ان دونوں مذاہب کے شدت پسندوں کو قرآن کریم سے جس قدر دشمنی ہے اتنی دشمنی انہیں کسی چیز نہیں ہے ،برطانیہ کے ایک سابق وزیر گلیڈ اسٹون نے اپنی پارلیمنٹ میں قرآن کریم کا نسخہ ہاتھ میں لے کر کہا تھا کہ جب تک یہ کتاب دنیا میں موجود ہے لوگ مہذب نہیں ہوسکتے ، غیر منقسم ہندوستان کے صوبہ یوپی کے گورنر ولیم میو ر پادری بھی کہا کرتاتھا کہ دنیا میں انسانیت کی دشمن دوچیزیں ہیں ایک محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار اور دوسرا قرآن ،مغربی دنیا آج بھی اسی بدگمانی میں مبتلا ہے، اور اس زمانے میں بھی جب کہ اسلام  بہ حیثیت مذہب مسلسل ترقی پذیرہے او رخود مغرب اس کی آغوش رحمت میں پناہ لے رہا ہے انسانیت کے دو عظیم محسنوں ،سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم اورکتاب ہدایت قرآن عظیم سے ازلی دشمنی باندھے ہوئے ہے، حالا نکہ اس دشمنی سے نہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی بے غبار ذات گرامی پر کوئی حرف آسکتا ہے او رنہ قرآن کریم کا تقدس مجروح ہوسکتا ہے۔

ہاں یہ حقیقت بھی سامنے رہنی چاہئے کہ مغرب قرآن کریم کے خلاف کتنا ہی پروپیگنڈہ کیو ں نہ کرلے اس پر تنگ نظری، تشدد پسندی ، او ردہشت گردی کے کتنے ہی الزامات کیوں نہ  لگائے وہ اس کتاب کی نہ اثر انگیز ی کو متاثر کر سکتا ہے او رنہ اس کو حرف غلط کی طرح مٹا سکتا ہے ، یہ  بائبل ،انجیل یا زبور نہیں ہے جن کو لفظی او ر معنوی تحریفات کے ذریعے ناقابل اعتبار بنادیا گیا ہے، یہ قرآن ہے جس کی حفاظت کا وعدہ خود اللہ رب العزت نے کیا ہے، اگر اس کی حفاظت کی ذمہ داری انسانوں پر ڈال دی جاتی تو دشمنان اسلام کب کے اپنی سازشوں میں کامیاب ہوچکے ہو تے ،مگر چودہ سو سال سے یہ کتاب اپنے ایک ایک لفظ ،ایک ایک حرف ،ایک ایک نقطے ، اپنے سیاق وسباق ،اپنی سورتوں کی ترتیب کے ساتھ اسی طرح باقی ہے جس طرح نازل ہوئی تھی، دشمنوں نے ہر دور میں اس کی حفاظت کے خدائی نظام کو چیلنج کیا ہے لیکن  ہمیشہ منہ کی کھائی ہے۔

جس وقت قرآن کریم نازل ہورہا تھا ،او رلوگ اس کی پاکیز ہ آیات سن سن کر حلقہ بہ گوش اسلام ہورہے تھے اس وقت بھی مشرکین مکہ کی خواہش بلکہ کوشش یہ رہتی تھی کہ لوگ اس کتاب ہدایت کی طرف متوجہ نہ ہوں، اس کی طرف متوجہ نہ ہوں ، اس کی طرف کان نہ لگائیں ، کیو  نکہ ایسا ممکن ہی نہیں ہے کہ کوئی شخص دل لگا کر قرآن سنے اور اس کی اثر انگیز ی سے محفوظ رہ جائے ، مشرکین مکہ کہا کرتے تھے:‘‘ اور یہ کافر کہتے ہیں کہ اس قرآن کو سنو ہی مت اور اس کے بیچ  میں شور مچا دیا کرو شاید تم ہی غالب رہو ’’ ( حم سجدۃ :26)وہ ہمیشہ اس کوشش میں رہتے تھے کہ قرآن میں تبدیلی ہو جائے ، کسی طرح اس کے الفاظ او رکلمات میں تحریف ہوجائے تاکہ اللہ کا صحیح صحیح پیغام لوگوں تک نہ پہنچ سکے۔

‘‘ اور جب ان کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں جو بالکل صاف صاف ہیں تو یہ لوگ جن کو ہمارے پاس آنے کی امید نہیں ہے یوں کہتے ہیں کہ اس کے سوا کوئی دوسرا قرآن لائیے یا اس میں کچھ ترمیم کر دیجئے  آپ کہہ دیجئے کہ مجھ سے یہ نہیں ہوسکتا کہ میں اپنی طرف سے اس میں ترمیم کردوں بس میں تو اسی کا اتباع کروں گا جو میرے پاس وحی کے ذریعے سے پہنچا ہے’’( یونس :15)آج بھی یہ کوششیں کی جارہی ہیں، قرآن کریم کے خلاف اس دشمنی کا سلسلہ نہ ختم ہوا ہے اور نہ ختم ہوگا، صدیاں گزرگئیں اور بہت سی صدیاں گزریں گی، مگر قرآن کریم کا ایک ایک لفظ اسی طرح روشن ،پائے دار، اور اثر انگیز رہے گا جس طرح کل تھا اور جس طرح آج ہے، قرآن محفو ظ ہے، اسے نہ پانی میں بہا کر مٹایا جاسکتا ہے اور نہ آگ میں جلا کر ختم کیا جاسکتا ہے ، جس وقت قرآن کریم نازل ہورہا تھا اسی وقت یہ آیت بھی نازل ہوئی تھی : اَنّا نَحنُ نَزَّ لْناَ اُلذِّ کْرَ وَ اِ لَہُ لَحَفِظُونَ(الحجر:9) ‘‘ہم ہی نے قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں’’۔

مفسرین نے لکھا ہے کہ قرآن کریم کی حفاظت کا وعدہ اللہ نےخود کیا ہے، جب کہ تو رات اور انجیل کی حفاظت کی ذمہ داری خود ان لوگوں پر ڈالی ہے جن کے پیغمبروں پر یہ کتابیں نازل کی گئیں ، قرآن کریم میں ہے: بِما استحفِظُوْ امِنْ کِتٰبِ اللہِ وَکاَ نوا­­­­­ عَلَیہِ شہَدَ آ ۔ ‘‘ ان کو اس کتاب اللہ کی حفاظت کا حکم دیا گیا تھا اور وہ اس کے اقراری ہوگئے تھے’’ (المائدۃ :44)یعنی یہود نصاریٰ کو کتاب اللہ تو رات و انجیل کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے اور وہ خود ہی اس پرگواہ بھی ہیں، یہ یہود ونصاریٰ اپنی ذمہ داری پوری طرح ادانہ کرسکے، اور آہستہ آہستہ یہ کتابیں تحریف کے مرحلوں سے گزرتی ہوئیں مسخ و محترف ہوکر ضائع ہوگئیں ،اس  کے برعکس قرآن  کریم کے بارے میں اللہ نے خود فرمایا کہ ہم اس کی حفاظت کرنے والے ہیں  ، اللہ نے اپنے اس وعدے کی اس طرح پاس داری کی کہ آج چودہ سو صدیاں گزرگئیں مگر مسلمانوں کی عملی کوتاہی اور غفلت کے باوجود یہ کتاب کسی ادنی تغیر یا تبدیلی کے بغیر جو ں کی توں موجود ہے، ہر زمانے میں لاکھوں مسلمان جوان ، بوڑھے، عورت اور مرد ایسے موجود رہتے ہیں جن کے سینوں میں قرآن کریم محفوظ رہتا ہے، کسی بڑے سے بڑے عالم کی یہ جرأت نہیں ہوتی کہ قرآن کریم کو غلط پڑھ دے ، اگر کسی نے غلطی سے بھی غلط پڑھا تو اس کو ٹوکنے والے کوئی رعایت کئے بغیر فوراً ٹوک بھی دیتے ہیں ،قرآن کریم کی حفاطت کا یہ نظام اسی  طرح قائم ہے ، اور اسی طرح قائم رہے گا۔

 اگر ہم حفاظت قرآن کے معاملے میں غور کریں تو اس کے کچھ اور قابل غور پہلو بھی ہیں، سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم ایک ایسی امت پر نازل کیا جو اپنا ادبی اور تاریخی سرمایہ دل دماغ میں محفوظ رکھنے کی عادی تھی، پھر قرآن کی آیات دفعۃً نازل نہیں کی گئیں ، کیونکہ اس طرح ان کو سینے میں محفوظ کرنا دشوار ہوجاتا بلکہ ان کا نزول بہ تدریج ہوا، یہاں تک کہ تئیس سال میں سلسلہ نزول مکمل ہوا، حالانکہ کفار مکہ کو اس تدریجی نزول پر اعتراض بھی ہوا، مگر قرآن کریم میں ان کے اعتراض کا حکیمانہ جواب دیا گیا، فرمایا :‘‘ او رکافر لوگ یوں کہتے ہیں کہ ان پیغمبر پر یہ قرآن ایک ہی مرتبہ کیوں نہیں نازل کیا گیا اس طرح تد ریجاً ہم نے نازل کیا ہے تاکہ ہم اس کے ذریعہ سے آپ کے دل کو قوی رکھیں اور اسی لیے ہم نے اس کو بہت ٹھہر اٹھہرا کراتا را ہے ’’ (الفرقان :32)ایک جگہ فرمایا :‘‘ اور قرآن میں ہم نے جابہ جافصل رکھا تا کہ آپ اس کو لوگوں کے سامنے ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں اور ہم نے اس کو اتا رنے میں بھی تدریجا اتارا’’ (الاسرا: 106) اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی آیات کو اتنا سہل ،شیریں او رپرکشش بنایا کہ لوگوں کے لیے انہیں یاد کرنا ، یادر کھنا آسان ہوگیا، یہاں تک کہ چھوٹے چھوٹے بچے بھی بلا تکلف اسے یاد کرلیتے ہیں ،اور جب چاہتے ہیں فرفر پڑھ دیتے ہیں ، قرآن کریم کی یہ خصوصیت بار بار بیان کی گئی ہے: ‘’اور  ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لئے آسان کردیا ہے سو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے’’۔

(القمر :17)قرآن کریم کی حفاظت کا پہلا ذریعہ اسے اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتے حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ذریعہ اپنے آخر ی پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم پرنازل کیا اور اس کا ایک ایک لفظ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے میں محفو ظ کردیا، جس وقت قرآن کریم نازل ہورہا تھا آپ صلی اللہ علیہ  وسلم کی یہ کوشش رہتی تھی کہ کسی طرح آپ جلدی سے اسے زبان سے ادا کرلیں اور یاد کرلیں ، اس خوف سے کہ کہیں کوئی لفظ یاد کرنے سے نہ رہ جائے ، آپ جلدی جلدی زبان مبارک کو حرکت دیا کرتے تھے ، اس پراللہ تعالیٰ نے سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اطمینان دلایا کہ ‘‘ اور اے پیغمبر آپ قرآن پراپنی زبان نہ ہلایا کیجئے تاکہ آپ اس کو جلدی جلدی لیں کیوں کہ ہمارے ذمے ہے آپ کے قلب میں اس کا جمع کردینا اور آپ کی زبان سے اس کا پڑھوا دینا’’( القبامۃ :17۔16)حافظ ابن کثیر نے لکھا ہے کہ اس آیت کے ذریعے سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کو تعلیم دی گئی کہ وحی کس طرح لی جائے،کس طرح اسے سنایا جائے ،گویا آپ کا کام غور سے سننا ہے ، اللہ تعالیٰ خود آپ کے سینہ مبارک میں اس کو محفوظ کردے گا، اور آپ کی زبان مبارک سے اس کی ادائیگی آسان بناد ےگا، اور آپ کو اس کی تفسیر و تشریح پر قادر کردے گا، (تفسیر ابن کثیر :4/577)سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ  وسلم کا سینہ مبارک حالانکہ محبت وحی قرآنی تھا ، اور دنیا میں سب سے پہلے آپ باقاعدہ کسی مکتب میں پڑھے ہوئے نہیں تھے، اور نہ کسی استاد کے شاگرد تھے ،اللہ ہی آپ کے معلم حقیقی تھے، او راللہ ہی نے آپ کو سینہ مبارک حفظ قرآنی کے لیے کشادہ کردیا تھا، اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال رمضان المبارک میں حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کریم کا ورد کیا کرتے تھے، ایک حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ سخی تھے اور آپ کی یہ سخاوت رمضان میں اس وقت اور بڑھ جاتی تھی جب آپ کی ملاقات حضرت جبرئیل علیہ السلام سے ہوتی تھی ، آپ رمضان کی ہر شب میں حضرت جبرئیل علیہ السلام سے ملاقات فرماتے اور قرآن کریم کا دور فرماتے (صحیح البخاری :6/470، رقم الحدیث :1769) جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں تشریف فرمارہے ،قرآن کریم کے ساتھ آپ کے اشتغال کا یہی عالم رہا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بذات خود صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو قرآن کریم پڑھا یا کرتے تھے، حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ  روایت فرماتے ہیں کہ میں نے سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے سن کر قرآن کریم کی ستر سورتیں حفظ کی ہیں (مسند احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ :7/452، رقم الحدیث             :3417)۔

جب کوئی شخص اسلام قبول کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو کبھی بذات خود قرآن سکھاتے او رکبھی اپنے اصحاب میں کسی صحابی کو حکم فرماتے اور وہ یہ خدمت انجام دیتا، حضرت عبادہ ابن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو قرآن سکھلانے کے لیے میرے سپرد کیا وہ شخص ہمارے ساتھ رات کا کھانا کھاتا اور میں اسے قرآن کریم پڑھاتا (مسند احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ :46/249، رقم الحدیث :21703)قرآن کریم کے حفظ کے لئے سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس اہتمام اور دلچسپی کو دیکھ کر خود صحابہ کرام رضی اللہ عنہ بھی حفظ قرآن میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش فرماتے تھے  ، ہر روز قرآن کریم جتنا بھی نازل ہوتا وہ سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہ فوراً یادکرلیتے ، دنیا کی کوئی مشغولیت اس راہ میں مانع نہ ہوتی، حضرت عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اور میرے ایک پڑوسی نے ایک ایک دن کی باری مقرر کرلی  تھی، ایک دن میں حاضر ہوکر اس دن نازل ہونے والی  آیات یاد کر کے اس کو سنادیتا ، اور دوسرے دن وہ اسی طرح کرتا (مسند احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ : 1/221، رقم الحدیث :217) قرآن کریم سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو اس قدر شغف تھا کہ بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہ رات رات بھر قرآن کریم کی تلاوت کرتے رہتے تھے ، ایسے ہی ایک صحابی تھے حضرت عبداللہ بن عمر وبن العاص رضی اللہ عنہ ، ان کی اہلیہ نے سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر شکایت کی تو سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صحابی رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا کہ تم کس طرح کرتے ہو، فرمایا میں ہرروز ایک قرآن شریف ختم کرلیتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مہینے میں تین روز ے رکھو، او رمہینے میں ایک ختم کرو، عبداللہ بن عمر بن العاص رضی اللہ عنہ باہمت انسان تھے ،انہو ں نے سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ میں اس سے زیادہ کرسکتا ہوں آپ نے انہیں ایک دن چھوڑ کر روزہ رکھنے کی اور ہفتے میں ایک قرآن ختم کرنے کی اجازت مرحمت فرمادی (صحیح البخاری :477/15، رقم الحدیث :4646)۔

 حضرت عثمان ذوالنور ین رضی اللہ عنہ کی اہلیہ حضرت نائلہ فرماتی ہیں کہ وہ روزانہ رات کو عبادت کرتے اور ایک ہی رکعت میں پورا کلام پاک ختم کردیتے ( المعجم الکبیر اللطبرانی :1/55) حضرت اُبی ابن کعب سات راتوں میں ایک کلام پاک ختم کیا کرتے تھے، اسی طرح حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ سات دن میں ایک مرتبہ او رکبھی کبھی ایک رات میں بھی قرآن کریم ختم کرلیتے تھے ۔(فضائل القرآن ابن کثیر :1/165)صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے سینوں میں قرآن کریم کے الفاظ ومعانی پوری طرح راسخ ہوجائیں اس سلسلے میں سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کا منہج دراسی یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے سامنے دس دس آیت تلاوت فرماتے اور جب تک وہ دس آیات صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو یاد نہ ہوجاتیں اور جب تک ان دس آیات کی تشریح صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے سامنے نہ آجاتی اس وقت تک آگے نہ بڑھتے (کتاب السعبۃ فی القرا ات ،ص :69)بسا اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے قرآن کریم سنا بھی کرتے تھے، حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہمیں کچھ پڑھ کر سناؤ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں آپ کو سنا ؤں حالانکہ قرآن تو آپ پرنازل ہوا ہے، فرمایا ہاں میرا دل چاہتا ہے کہ میں قرآن کریم دوسروں سے بھی  سنوں تعمیل حکم میں میں نے سورہ نسا کی تلاوت شروع کی ، جب میں اس آیت پر پہنچا :فَکَیْفَ اِ ذَا جِئنَا مِن کُلِّ أُ مَّتہِ بِشَھِیدِِ وَ جِئْنَا بِکَ عَلَیٰ ھَؤُ لآَ شَھِیدًا۔(النسا :41) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بس رک جاؤ ،اس وقت آپ کی آنکھوں سے اشک رواں تھے ( صحیح  البخاری :14/76، رقم الحدیث :4216)۔

بشکریہ: روز نامہ صحافت ، نئی دہلی

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/burning-the-quran-cannot-eradicate-it--قرآن-کریم-جلانے-سے-مٹ-نہیں-سکتا/d/7266

 

Loading..

Loading..