New Age Islam
Sat Sep 26 2020, 08:36 PM

Urdu Section ( 20 Jun 2012, NewAgeIslam.Com)

Skies Tremble from the Rise of Human Being عروج آدم خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں


مولانا ندیم الواجدی

18 جون ، 2012

اسر اء او رمعراج یہ دو لفظ ایک حیرت انگیز واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے گیارہویں سال میں پیش آیا، قرآن کریم میں اس واقعے کا ذکر اس آیت کریمہ میں کیا گیا ہے:‘‘ پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے (محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ) رات کے وقت مسجد حرام  سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا’’ (بنی اسرائیل :1)

اس آیت میں ایک ایسا محیرالعقول واقعہ بیان کیا گیا ہے جو تاریخ انسانی میں نہ پہلے کبھی پیش آیا اور نہ آئندہ کبھی پیش آئے گا ، سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے معمولی واقفیت رکھنے والے لوگ بھی جانتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی سخت مصائب وآلام میں گزری ہے، کوئی ظلم ایسا نہ  تھا جو مشرکین مکہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ کے جاں نثار صحابہ رضی اللہ عنہ پر نہ ڈھایا ہو، اخیر میں جب کوئی بس نہ چلا تو ان مشرکین نے بنو ہاشم اور بنو عبدا لمطلب کے خلاف آپس میں یہ معاہدہ کرلیا کہ ان قبیلوں سے اس وقت تک کسی قسم کا کوئی تعلق ،کوئی رابطہ ، کوئی معاملہ نہیں  رکھا جائے جب تک کہ وہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرکے ہمارے حوالے نہیں کریں گے۔   اس معاہدے کے نتیجے میں ان دونوں قبیلوں کے تمام افراد (  ابولہب کے علاوہ کہ وہ مشرکین کے ساتھ تھا) شعب ابی طالب میں محصور ہوکر رہ گئے ،حالات انتہائی ناگفتہ بہ تھے ،اس معاہدے کے نتیجے  میں سامان خورد ونوش کی آمد معطل ہوگئی ، لوگ پتے اور چمڑے کے ٹکڑے کھانے پر مجبور ہوگئے، بھوک سے بلبلاتے ہوئے بچوں اور عورتوں کی آوازیں گھاٹی سے باہر تک سنائی دیتی تھیں ، یہ معاملہ پورے تین سال تک چلا ،نبوت کے دسویں سال یہ معاہدہ جو خانہ کعبہ کی دیوار پر آویزاں تھا اللہ کے  حکم کے مطابق کیڑوں کے ذریعے صاف کردیا گیا، قریش کے بعض دوسرے قبیلوں کے سرکردہ افراد نے بھی اس ظلم سے توبہ کرلی اور ان کے دل بھی محصور ین کے لیے نرم پڑگئے، اس طرح سرکار دوعالم  صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے گھر والے ،دوست احباب جاں نثار صحابہ رضی اللہ عنہ اور عزیز اقارب شعب ابی طالب سے باہر آئے ،اس واقعہ کے چھ ماہ بعد آپ کے چچا ابو طالب وفات پاگئے ، جن سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کار ِدعوت میں بڑی تقویت حاصل تھی،اس حادثے کے چندروز بعد ام المؤ منین حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہما وفات پا گئیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی غمگسار تھیں، ان مسلسل حوادث نے آپ کو نڈھال کردیا، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان حالات میں بھی دعوت دین کی ذمہ داری ادا کرتے رہے۔ 

مشرکین مکہ سے مایوس ہوکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا رخ کیا ، یہ شہر مکہ مکرمہ سے ساٹھ میل کی مسافت پر واقع ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سفر کے دوران ہر قبیلے کو دعوت اسلام دی، لیکن کسی نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعوت قبول نہ کی، اس کے بجائے ان لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شہر سے باہر نکالنے کے لئے آوارہ لڑکوں کو پیچھے لگادیا، یہ بدنصیب لڑکے آپ پر آواز ے کستے اور پتھر برساتے پیچھے  پیچھے چل رہے تھے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں جوتے جسم کے خون سے رنگین ہوگئے تھے۔

یہ تھے وہ حالات جن  میں  نبوت کے  11سال بعد   واقعہ معراج پیش آیا ،مشہور قول یہ ہےکہ اس دن رجب المرجب کی ستائیسویں تاریخ تھی ،سیرت نگاروں نے لکھا ہے کہ ایک طرف آپ کو عزیز چچا اور                محبوب بیوی کی جدائی کا دوہرا صدمہ تھا، دوسری طرف اپنے ہی ہم وطنوں کی طرف سے مسلسل انکار کی اذیت تھی، بات صرف انکار ہی کی نہیں تھی بلکہ آپ کو طرح طرح کی اذیتیں بھی پہنچائی جارہی تھیں، ایک روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غموں سے نڈھال ہوکر اپنے رب کے آگے ہاتھ پھیلا کر یہ دعا کی ‘‘یا اللہ ! میں تجھ ہی سے اپنے ضعف کا،اپنی بے بسی اور بے کسی کا اور لوگوں کے دلوں میں اپنی ناقدری کا شکوہ کرتا ہوں، اے اللہ! تو کمزوروں کا رب ہے اور تو ہی میرا رب ہے ،تو نے مجھے کس کے حوالے کردیا ہے؟ کیا کسی اجنبی  بیگانے کے جو میرے ساتھ ترش روئی سے پیش آئے یا کسی دشمن  کے جس کو تونے میرا مالک بنادیا ہے، اگر یہ حالات تیرے غیظ وغضب کا نتیجہ نہیں ہیں تب مجھے کوئی پرواہ نہیں ، لیکن تیری گاہِ عافیت میرے لیے زیادہ کشا دہ اور وسیع ہے’’ ۔ یہی وہ لمحہ تھا جب رحمت حق کو جوش آیا اور اس نے طے کیا کہ جس قدر میرے بندے کو اس راہ میں ذلیل ورسوا کیا گیا ہے میں اسے اتنی ہی عزت اور سربلندی  عطا کروں گا اور اس کے سر پر عظموں کا تاج رکھوں گا، چنانچہ آپ کو اسرا ءومعراج کی عزت سے سرفراز کیا گیا اور ایسے مقامات کی سیر کرائی گئی جو منتہائے کائنات ہیں اور اس قدر ارفع واعلیٰ ہیں کہ ملائکہ کے سردار حضرت جبرئیل علیہ السلام کی رسائی بھی وہاں تک نہیں ہے۔

روایات میں ہے کہ ایک رات سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہ کے گھر میں آرام فرمارہے تھے، نیم خوابی کی سی کیفیت تھی کہ اچانک کمرے کی چھت میں شگاف ہوا اور اس شگاف سے حضرت جبرئیل امین علیہ السلام چند فرشتوں کے ساتھ اترے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اٹھایا اور مسجد حرام کی طرف لے گئے، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینۂ مبارک کو شق کیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب مبارک کوزمزم کے پانی سے دھوکر سینے میں رکھ دیا گیا اور اسے برابر کر کے دونوں شانوں کے درمیان مہرنبوت لگادی گئی ۔  یہ مہر ختم نبوت کی محسوس کی جانے والی اور ظاہر میں نظر آنے والی ایک علامت تھی، اس کے بعد آپ کو سفید رنگ کے براق پر سوار کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے حضرت جبریئل امین علیہ السلام تشریف فرما تھے، راستے میں مختلف مقامات سے گزر ہوا، متعدد جگہوں پر اُتر کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوافل بھی پڑھے، یثرب (مدینہ) وادیٔ سینا،مدائن ، بیت اللحم ان تمام مقامات کی نسبت انبیا کرام علیہ السلام کی طرف ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان جگہوں پر کچھ دیر ٹھہرے او رنفل نماز پڑھ کر آگے کے سفر پر روانہ ہوئے، ان مقامات کے علاوہ کچھ افراد واشخاص کے پاس سے بھی یہ برق رفتار سواری گزری ،راستے میں ایک بڑھیا ملی، اس نے سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کو آواز بھی دی، حضرت جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف توجہ نہ دیں ،یہ دنیاہے، بوڑھی عورت اس کی صورت  مثالیہ ہے جس سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ دنیا کی عمر بس اتنی رہ گئی ہے جتنی اس بوڑھی عورت کی عمر، اسی طرح ایک بوڑھا شیطان بھی نظر آیا ، اس نے بھی آواز دی، حضرت جبرئیل علیہ السلام نے اس کے متعلق بھی یہی کہا اور بتلایا کہ یہ شیطان ہے، ان دونوں کا مقصد آپ کو اپنی طرف متوجہ کرنا اور اس سفر سے روکنا ہے، راستے میں کچھ لوگ کھڑے ہوئے ملے جنہوں نے آپ کو سلام کیا، ان کے بارے میں بتلایا گیا کہ یہ لوگ جنہو ں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا ہے حضرت ابراہیم ،حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام ہیں۔

اس مقامات پر ٹھہرتی ہوئی اور ان اشخاص کے پاس سے گزرتی ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ آسمانی سواری بیت المقدس پہنچی اور اس جگہ پر اس کو باندھ دیا گیا جہاں اس سے پہلے انبیا ِءکرام علیہ السلام کی سواریاں باندھی جاتی تھیں، اس کے بعد آپ صلی علیہ وسلم مسجد اقصیٰ کے اندر تشریف لے گئے اور تحیۃ المسجد ادا فرمائی ،یہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے استقبال کے لیے انبیاءکرام علیہ السلام پہلے سے سراپا  انتظار اور دیدار کے لیے سراپا شوق بنے ہوئے تھے ،مؤذن نے اذان دی، اقامت کہی گئی، صفیں  ترتیب دی گئیں، جبرئیل امین علیہ السلام نے سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک پکڑ ا اور نماز پڑھانے کے لیے آگے کردیا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام انبیاء کی امامت کی جو اس سے پہلے معبوث ہوچکے تھے ، اس نماز میں شرکت کے لیے آسمان سے فرشتے بھی نازل ہوئے،جبرئیل امین علیہ والسلام نے حاضر ین سے سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کا تعارف کراتے ہوئے کہا  کہ یہ محمد رسول اللہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انبیاء کرام علیہ السلام سے ملاقات کی، ان حضرات  نے اللہ کی حمد وثنا بیان کی،آخر میں سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نےاللہ کی حمد کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ ٔ حمد سن کر جو نہایت جامع اور پر اثر تھا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے باقی  انبیاٍء علیہم السلام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا انہی فضائل و کمالات کی وجہ سے محمد صلی  اللہ علیہ وسلم آپ سے آگے بڑھ گئے ہیں،نماز سے فراغت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد اقصیٰ سے باہر تشریف لائے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تین اور ایک روایت کے مطابق چار پیالے پیش کئے گئے ایک دودھ کا ، دوسرا شراب کا ، تیسرا پانی اور چوتھا شہد کا، آپ نے دودھ کاپیالہ پسند کیا ۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دین فطرت اختیا رکیا ہے، اگرآپ صلی اللہ علیہ وسلم شراب کا پیالہ پسند فرماتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت گمراہ ہوجاتی ، مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک کے اس سفر کو سیرت کی اصطلاح  میں اسراء کہا جاتاہے، مسجد اقصیٰ  سے جو سفر آسمانوں کی طرف ہوا  اسے معراج کہتے ہیں۔

اسراء کا ذکر سورۂ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں موجود ہے او رمعراج کا ذکر سورۂ النجم کی آیات میں ہے، قرآن کریم میں اسراء اور معراج  کاذکر اختصار کے ساتھ ہے، روایات میں جو تواتر کے ساتھ صحابہ رضی اللہ عنہ نے منقول ہیں ان کی مکمل تفصیلات ملتی ہیں ،  دونوں واقعات  ایک ہی رات  میں مختصر وقفے کے اندر بہ حالت بیداری پیش آئے بلکہ اگر کہا  جائے کہ یہ ایک ہی واقعہ ہے تو غلط نہ ہوگا، مسجد اقصیٰ میں قیام سفر کے دوران کسی منزل پر کچھ دیر رک کر آرام کرنے کا وقفہ تھا، یہاں سے یہ قافلہ آگے بڑھا ،بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اگلے سفر میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم  براق پر تشریف فرما ہوئے اور بعض سے معلوم ہوتا  ہے کہ مسجد اقصیٰ سے باہر تشریف لانے کے بعد آپ کے لیے زبر جد اور زمرد کی ایک سیڑھی لٹکا ئی گئی جس کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم آسمانوں پر تشریف لے گئے اور براق وہیں مسجد اقصیٰ کے پاس بندھا رہا۔

سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم جب پہلے آسمان پر پہنچے تو حضرت جبریئل علیہ السلام نے دروازہ کھلوایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے فرشتوں نے مرحبا کہہ کر دروازہ کھول دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر داخل ہوئے وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی ملاقات حضرت آدم علیہ السلام سے ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کیا، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سلام کا جواب دیا، مرحبا کہا اور دعا دی، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ جب حضرت آدم علیہ السلام دائیں جانب دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں اور بائیں جانب دیکھتے ہیں تو روتے ہیں ، معلوم ہوا کہ دائیں  جانب سعادت مند اور بائیں جانب بدبخت روحیں ہیں، دوسرے آسمان پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات حضرت یحییٰ ،حضرت ذکریا اور حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہم السلام سے ہوئی، آپ نے ان تینوں کو سلام کیا، انہوں نے جواب دیا اور مرحبا کہا، تیسرے آسمان پر حضرت یوسف علیہ السلام سے، چوتھے پر حضرت ادریس علیہ السلام سے، پانچویں پرحضرت ہارون علیہ السلام سے، چھٹے پر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے  اور ساتویں پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ہوئی  ، تمام  انبیاء کرام علیہ السلام نے آپ کو مرحبا کہا، ختم نبوت کی مبارک باد دی او ردعائیں دیں۔

انبیاء کرام علیہ السلام سے آسمانوں پر ملاقات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سدرۃ المنتہیٰ تک لے جایا گیا،یہ ساتویں آسمان پر بیری کا ایک درخت ہے، اس کا ذکر قرآن کریم میں بھی موجود ہے، اسے سدرۃ المنتہیٰ اس لیے کہا جاتا ہے کہ زمین سے جو چیزیں اوپر جاتی ہیں وہ سدرۃ المنتہیٰ پرجاکر ٹھہر جاتی ہیں، پھر وہاں سے اوپر اٹھائی جاتی ہیں، اسی طرح جو چیز اوپر سے نیچے آتی ہے وہ بھی سدرۃ المنتہیٰ پر آکر رُک جاتی ہے ،پھر نیچے اتر تی ہے، اسی آسمان پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیت معمور ظاہر کیا گیا، اس کا ذکر بھی قرآن کریم میں ہے، بیت معمور فرشتوں کا قبلہ او رکعبہ ہے، ٹھیک خانہ کعبہ کے اوپر واقع ہے ، فرشتے ہر دن اس کا طواف کرتے ہیں، سدرۃ المنتہیٰ کے قریب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرئیل  امین علیہ السلام کو ان کی اصل صورت میں دیکھا ۔  جنت سدرۃ المنتہیٰ کے قریب ہے ، جیسا کہ قرآ ن کریم میں ہے : ‘‘ سدرۃ المنتہیٰ کے قریب اس کے قریب جنت الماویٰ ہے’’ ( النجم : 14,15)

یہاں  سے آپ کو جنت کی زیارت کرائی گئی اور اس کے بعد جہنم کا مشاہدہ کرایا گیا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس جگہ لے جایا گیا جہاں صریف الاقلام کی آواز سنی جارہی تھی ، یعنی وہ آواز جو قلم سے لکھنے کے وقت پیدا ہوتی ہے، گویا یہ جگہ وہ تھی جہاں فرشتے قضا وقدر کے خدائی فیصلے لوح محفوظ پر لکھنے میں مصروف تھے، صریف الاقلام سے گزر کر آپ تجلیات کا مشاہدہ کرتے ہوئے بارگاہ رب ذوالجلال میں پہنچے اور اتنے قریب ہوئے کہ اللہ  کے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان صرف دو کمان کا فاصلہ رہ گیا، اسی کو قرآن کریم میں اس طرح تعبیر کیا گیا ہے:

‘‘ پھر نزدیک ہوا او رلٹک آیا پھر رہ گیا فرق دوکمان کے برابر یا اس سے بھی نزدیک ’’ (النجم :8,9)

یہ تفسیر صحابہ ٔ کرام رضی اللہ عنہ میں حضرت انس اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے، تفسیر مظہری میں بھی اسی کو اختیار کیا گیا ہے، (معارف القرآن 195/8) جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے دربار میں پہنچےتو بے اختیار سربہ سجود ہوگئے ، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ  وسلم نے حجاب کبریائی کے واسطے سے رب کائنات کے حسن بے مثال کا یعنی نور اعظم کا مشاہدہ کیا اور براہ راست کلام الہٰی کے سامع او رمخاطب بنے : ‘‘پھر اللہ نے اپنے بندے پر وحی نازل فرمائی جو کچھ کہ نازل فرمائی ’’ (النجم :10)

اس وقت اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر پچاس نمازیں فرض فرمائیں ، واپسی کے سفر میں حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات کے بعد یہ نمازیں کم ہوتے ہوتے پانچ پر رہ گئیں، اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سورۂ بقرہ کی آخری آیات کا تحفہ بھی عطا کیا گیا، ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے کمال رأفت و رحمت ،لطف وعنایت ،عفو ومغفرت اور فتح ونصرت کاذکر فرمایا ہے، یہ آیات بہ شکل دُعا امت کو اس تلقین کے ساتھ عطا کی گئی ہیں کہ تم ہم سے اس طرح مانگو ہم تمہیں عطا کریں گے۔

اس سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجّال کو بھی دیکھا اور داروغہ جہنم کو بھی دیکھا جس کا نام مالک ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایسے لوگوں پر بھی ہوا جن کے ناخن تانبے کے بنے ہوئے تھے اور جوان ناخنوں کے ذریعے اپنے چہروں او رسینوں کا گوشت کھرچ رہے تھے، حضرت جبرئیل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو انسانوں کا گوشت کھاتے ہیں یعنی ان کی غیبت کرتے ہیں، ایک شخص کو دیکھا کہ جو نہر میں تیر رہا ہے او رپتھر کو لقمہ بنا بنا کر کھارہا ہے ، معلو م ہوا کہ یہ سودخور ہے، ایسے لوگ بھی ملے  جو ایک ہی دن میں بیج بھی بولیتے ہیں اور فصل بھی کاٹ لیتے ہیں ، اس کے بعد ان کی کھیتی  پھر سرسبز وشاداب ہوجاتی ہے، حضرت جبرئیل  امین علیہ السلام  نے بتلایا کہ یہ لوگ راہ حق کے مجاہدین ہیں، ان کے ایک عمل کا ثواب سات سو گنا  ہوتا ہے ، کچھ لوگوں کے سر پتھروں سے کچلے جارہے تھے، اس عمل کے بعد ان کے سر پھر جوں کے توں ہوجاتے، یہ سلسلہ اسی طرح چل رہا تھا، معلوم ہوا کہ یہ فرض نمازوں کی ادائیگی میں سستی کرنے  والے ہیں ، کچھ لوگوں کی شرمگاہوں پر آگے اور پیچھے چیتھڑے لپیٹے ہوئے تھے اور وہ جانوروں کی طرح جہنم کے کانٹے کھارہے تھے اور پتھر چبارہے تھے ،بتلایا گیا کہ یہ لوگ زکوٰۃ نہ دینے والے ہیں، کچھ لوگوں کے پاس پکا ہوا گوشت بھی تھا او رکچا سڑا ہوا بھی ، مگر وہ لوگ پکا ہوا گوشت کھانے کے بجائے کچا او رسڑا ہوا گوشت کھارہے تھے ، یہ وہ لوگ تھے جو اپنی عفیفہ او ر منکوحہ عورتوں کے بجائے بدکار عورتوں کے ساتھ رات گزارتے ہیں ، ایک لکڑی دیکھی جو قریب سے گزرنے والی ہر چیز کو روک کر اسے پھاڑ ڈالتی تھی،  یہ امت کے ان ا فراد کی صورت مثالیہ تھی جو رہزنی کرتے ہیں اور راستوں میں بیٹھ کر آنے جانے والوں کو لوٹتے ہیں ، کچھ لوگ سروں پر بھاری  پتھر اٹھا ئے ہوئے ملے ، ان میں اٹھانے کی طاقت نہیں تھی، اس کے باوجود وہ اس گٹھر میں لکڑیاں ٹھونس رہے تھے، یہ وہ لوگ تھے جن پر دوسرے کے حقوق ہیں، ان کے پاس دوسروں کی امانتیں ہیں،  نہ وہ حقوق ادا کرتے ہیں او رنہ امانتیں واپس کرتے ہیں ، کچھ ایسے لوگ بھی ملے جن کی زبانیں اور ہونٹ لوہے کی قینچیوں سے تراشے  جارہے تھے جب یہ کٹ جاتے پھر اپنی حالت  پرواپس آجاتے ، حضرت جبرئیل علیہ السلام نے بتلایا کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے خطیب اور واعظ ہیں جو لوگوں کو وعظ و نصیحت تو خوب کرتے ہیں مگر خود عمل نہیں کرتے، جو لوگ یتیموں کا مال ظلم وتعدی سے کھا جاتے ہیں، ان کے ہونٹ اونٹ کے ہونٹوں کی طرح تھے اور وہ اپنے منہ میں پتھروں سے بڑے انگارے ٹھونس رہے تھے جو پاخانے کے راستے سے باہر نکل رہے تھے۔

جس شان اور اعزاز کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آسمانوں پر تشریف لے گئے، اسی طرح واپس تشریف لائے، مسجد اقصیٰ سے براق پر سوار ہوکر مکہ مکرمہ پہنچے اگلی صبح جب سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین مکہ کو اپنے سفر مسجد اقصیٰ اور سفرآسمان کی اطلاع دی تو وہ ہنسنے لگے، انہوں نے کہا کہ ایسا ممکن نہیں ہے، جو لوگ بیت المقدس کا سفر کر چکے تھے انہوں نے آزمائش کے طور پر وہاں کی نشانیاں دریافت کیں، اللہ تعالیٰ نے تمام حجابات اٹھا دیئے اور بیت المقدس نگاہوں کے سامنے آگیا ،جو بات بھی انہوں نے معلوم کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلادی ، وہ حیران ضرورتھے ، مگر ان کے دلوں پر مہر لگ چکی تھی، اس لیے انہوں نے اس واقعے کی تصدیق نہیں کی بلکہ آخر تک تکذیب کرتے رہے اور مضحکہ اڑاتے رہے، سفر کے دوران آتے جاتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ کے ایک تجارتی قافلے کو بھی دیکھا تھا جو شام سے واپس آرہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلایا کہ اس قافلے کا ایک اونٹ گم ہوگیا تھا اب مل گیاہے، تین دن کے بعد اس قافلے کے لوگ سرزمین مکہ  پر قدم رکھیں گے او ربھورے رنگ  کا اونٹ قافلے میں سب سے آگے ہوگا ، ایسا  ہی ہوا ، لیکن مشرکین کو تصدیق کرنی ہی نہیں  تھی سو انہوں نے نہیں کی حالانکہ صداقت کی تمام نشانیاں موجود تھیں۔

معراج کا عظیم الشان واقعہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک خصوصی اعزاز اور امتیازی معجزہ ہے، قرآن کریم اور احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہوتا  ہے کہ بارگاہ ایزدی میں ایک بندے کا یہ عروج روحانی ہی نہیں  بلکہ جسمانی بھی تھا، ٹھیک اسی  طرح جس طرح عام انسان سفر کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المقدس کا سفر کیا اور آسمانوں کی سیر کی ، اگر یہ صرف خواب کاسفر ہوتا تو اس کاذکر اتنے اہتمام کے ساتھ کیوں کیا جاتا ، اس لیے کہ خواب تو ہر انسان دیکھتا ہے اور اس سے بھی زیادہ محیر العقول چیزیں دیکھتا  ہے ،مشرکین مکہ نے تو الصادق المصدوق کے بیان کی تکذیب کی ، لیکن روم کے بادشاہ ہر قل کے دربار میں جب اس واقعے کا ذکر ابوسفیان نے اس لیے کیا کہ بادشاہ یہ واقعہ سن کر مذاق اڑائے گا، ہوسکتا ہے بدظن بھی ہوجائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو واپس کردے، اس موقع پر شاہ روم کے قریب بیت المقدس کا سب سے بڑا عالم موجود تھا ،اس نے کہا کہ میں اس رات سے واقف ہوں ، میری عادت یہ تھی کہ میں رات کو بیت المقدس کے تمام دروازے بند کرنے کے بعد گھر واپس جاتا تھا، اس رات بھی میں نے تمام دروازے  بند کردیئے ، ایک دروازہ بند نہ ہوسکا ،بڑی کوشش کی ناکام رہا ،ماہرین کو بلایا انہوں نے بھی تمام تدبیریں  اختیار کیں، مگر دروازہ ٹس سے مس نہ ہوا، ہم اسی طرح چھوڑ کر چلے گئے، صبح کو آئے، ذرا سی جنبش سے دروازہ بند ہوگیا، میں نےدروازے کے قریب ایک چٹان  پر دیکھا کہ اس پر ایک تازہ سوراخ بنا ہوا ہے جیسے  کیسی جانور کو کیل گاڑ کر باندھا گیا ہو، میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا  کہ آج اللہ نے اس دروازے کو اس لیے بند ہونے روکا ہے کہ کوئی نبی  یہاں آنے والے تھے۔

معراج کی حکمت کیا ہے؟ اس کا جواب خود قرآن کریم نے بہت اختصار کے ساتھ نہایت جامع طریقے پر ان الفاظ میں دیا ہے: ‘‘تاکہ ہم آپ کو اپنی کچھ نشانیاں دکھلادیں’’( بنی اسرائیل :1)

چنانچہ اس سفر میں جو معجز اتی  طور پر رات کے ایک مختصر حصے میں  واقع ہوا اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب  ومقرب بندے پروہ راز ہائے سربستہ منکشف کردیئے  جو اب تک پردہ حجابات میں تھے، یہ اللہ تعالیٰ کی تکوینی  سنت ہے کہ وہ انبیاٍ ء کرام علیہ السلام کو کائنات کے اسرار پر مطلع کرتا ہے تاکہ وہ یقین وایمان کی انتہائی بلندیوں پر پہنچ جائیں، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں ارشاد ہے:

‘‘ اور اسی  طرح  ہم نے ابراہیم علیہ السلام کو آسمانوں اور زمین کی مخلوقات دکھلائیں  تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوں’’( الانعام :76)

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا :‘‘ تاکہ ہم تمہیں  اپنی کچھ بڑی نشانیاں دکھلائیں ’’( طٰہٰ :23)

مشرکین مکہ کے ذہن و فکر کی نمائندگی کرنے والے آج بھی موجود ہیں جو معراج کے اس سفر کو خوابوں کا سفر کہہ کر اس کی تکذیب  یا تاویل کرتے ہیں، حالانکہ قرآن کریم اور احادیث سے بالکل واضح ہے کہ یہ سفر بیداری کی حالت میں پیش آیا، کسی واقعے کا حیرت انگیز یا ناقابل یقین ہونا اس عدم وقوع کی دلیل نہیں ہے، معجزہ کہتے ہی اس واقعے کو ہیں جو ناقابل یقین حد تک حیرت انگیز ہو، یہ بھی ایک معجزہ تھا جس کی حقیقت تک انسان کی عقل نار سا نہیں پہنچ سکتی، رات کے مختصر وقفے میں اس طویل ترین سفر کو ناقابل یقین سمجھنے والے دور حاضر کے تیز رفتار راکٹ اور خلائی گاڑیوں کو سامنے رکھیں جو منٹوں سیکنڈوں میں انتہائی بلندی پر پہنچ کر سینکڑوں میل کی مسافت طے کرلیتی ہیں ،سائنس داں آسمان کو نہیں مانتے ،مگر کسی چیز کو نہ ماننا اس کے نہ ہونے کی دلیل نہیں بن سکتی ، سائنسی  انکشافات اور تجربات کا سفر جاری  ہے، دوسری حقیقتوں کی طرح اس پر کبھی نہ کبھی  آسمانوں کے وجود کی حقیقت بھی منکشف ہوگی، ہم محدود عقل رکھنے والے سائنس دانوں کی بات کیسے مان لیں جب لا محدود عقل، علم اور قدرت رکھنے والی ذات نے اپنی کتاب  عظیم میں جگہ جگہ آسمانوں کا ذکر کیا ہے ، اگر کچھ لوگ اسے تسلیم نہیں کرتے تو یہ ان کی  کوتاہ عقلی ہے قرآن  کریم کی حقانیت پر اس سے کوئی فرق نہیں  پڑتا اور نہ اس سے معراج کی صداقت متاثر ہوتی ہے۔

18  جون، 2012   بشکریہ : روز نامہ صحافت ، نئی دہلی

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/skies-tremble-from-the-rise-of-human-being--عروج-آدم-خاکی-سے-انجم-سہمے-جاتے-ہیں/d/7689

 

Loading..

Loading..