New Age Islam
Wed Sep 23 2020, 11:09 AM

Urdu Section ( 3 Jul 2016, NewAgeIslam.Com)

Think, Have We Started Our Journey to Toward Taqwa غور کیجئے، کیا ہم نے تقویٰ کی جانب سفر شروع کردیا ہے؟

 

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

1 جولائی، 2016

اسلام نے جنتی عبادتیں فرض کی ہیں ، ان میں انسان کی تربیت اور اصلاح کاپہلو بھی ملحوظ ہے۔ روزہ بھی ان ہی عبادتوں میں سے ایک ہے جس میں نفس کی تربیت اور تزکیہ کی غیر معمولی صلاحیت ہے۔ قرآن مجید نے اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‘‘تم پر روزے اس لئے فرض کئے گئے ہیں، تاکہ تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہو ’’۔( البقرۃ :183) ‘‘تقویٰ’’ کالفظ عربی زبان میں ‘‘وقایہ’’ سے ماخوذ ہے، وقایہ کے معنی انتہائی درجہ حفاظت کے ہیں ۔ الوقایۃ فرط الصیانۃ (تفسیر کبیر:1/381) تقویٰ کے معنی جہاں بچنے کے ہیں وہیں خوف اور خشیت کے بھی ہیں اور قرآن مجید میں مختلف مواقع پر یہ لفظ اسی معنی کے لئے استعمال ہواہے۔ (دیکھئے : النسا ء: آل عمران :102) گویا محض اللہ تعالیٰ کے خوف سے آدمی اپنے آپ کو گناہوں سے بچائے رکھے اسی کا نام ‘‘تقویٰ’’ ہے۔

اسی کوسلف صالحین نے مختلف الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے۔ خود خدیث شریف میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد منقول ہے کہ جب تک بندہ گناہ کی باتوں سے بچنے کے لئے ازراہ احتیاط بعض جائز باتوں سے بھی اجتناب نہ کرے متقیوں کے درجہ کو نہیں پہنچ سکتا ۔ (تفسیر کبیر:1/381) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک دفعہ حضرت اُبی رضی اللہ عنہ سے تقویٰ کے بارے میں دریافت کیا تو حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے ایک مثال کے ذریعہ تقویٰ کو سمجھایا۔ حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : کہ کیا آپ رضی اللہ عنہ کبھی کسی خاردار راستہ سے گزرےہیں؟حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں۔ حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کہ اس موقع پرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کیا؟ فرمایا : میں نے پا ئینچے اٹھا لئے اور احتیاط سے کام لیا ‘‘ تشمرت و حذرت’’۔ حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اسی کا نام تقویٰ ہے، (تفسیر قرطبی :1/162) گویا دنیا ایک رہ گزر ہے جو خار دار جھاڑیوں سے گھری ہوئی ہے۔ یہ جھاڑیاں خواہشات اور گناہوں کی ہیں جو انسان کے دامن عمل سے لپٹ جانا چاہتی ہیں، متقی شخص وہ ہے جو اپنے ایمان اور عمل کے دامن کو خدا کی نافرمانیوں اور عصیان شعاریوں سے بچا کر دنیا کا یہ سفر طے کر لے۔

اس طرح تقو یٰ ایک جامع لفظ ہے جو خیر کی تمام باتوں کو شامل ہے۔ (قرطبی1/262) چنانچہ مشہور بزرگ شیخ ابویزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ متقی وہ ہے جو کچھ کہے، اللہ کے لئے کہے، اور جو کچھ کرے اللہ تعالیٰ کے لئے کرے : ‘‘ من اذاقال قال اللہ و من اذاعمل عمل اللہ ’’( حوالہ سابق :1/161) تقویٰ کے اسی وسیع مفہوم کو قرآن مجید نے سورۂ بقرہ کے شروع میں بیان فرما دیا ہے کہ : ‘‘متقی وہ لوگ ہیں جو غیب کی باتوں پر ایمان رکھتے ہیں ، نماز قائم کرتے ہیں، جو کچھ ہم نے عطاکیا ہے اس میں سے خرچ کرتےہیں، اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی گئی اور ان کتابوں پر بھی جو آپ سےپہلے نازل کی گئیں اور جو آخرت میں یقین رکھتے ہیں ۔’’ (البقرۃ : 3:4)

اس سے معلوم ہواکہ تین باتوں کو تقویٰ میں بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ ا ن میں پہلی چیز عقیدہ و ایمان کی اصلاح ہے۔ یہ اسلام کی خشت اول ہے او راسی پردین کی پوری عمارت کھڑی ہے۔ ایمان کا حاصل یہ ہے کہ خدا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی ان دیکھی باتوں پر اس کا یقین ایسا ہو جیسا انسان کو دیکھی ہوئی باتوں کا یقین ہوتاہے ‘‘یقین’’ بہ ظاہر ایک معمولی سی بات معلوم ہوتی ہے لیکن درحقیقت کسی بات کا یقین انسان کی زندگی میں بہت بڑے انقلاب کا داعی ہوتا ہے ۔ اگر لوگوں کے مجمع میں پلاسٹک کا مصنوعی سانپ بنا کر رکھ دیا جائے یا کسی عجائب خانہ میں شیر کا بھیانک مجسمہ بنا ہوا ہو ا ہو تو کتنے ہی بڑے اور چھوٹے بچے اور جوان ، مرد اور عورت اس کو ہاتھ لگاتے ہیں ، اس سے کھیلتے ہیں اور بعض منچلے تواس کی سواری کرنے سے بھی نہیں چوکتے، لیکن اگر لوگوں کے مجمع میں اس سےبہت چھوٹا حقیقی اور زندہ شیر آجائے یا سانپ نکل آئے تو ہر شخص کا خوف سے برُا حال ہوگا، اچھے اچھے بہادروں کو بھی راہ فرار مطلوب ہوگی، نہ کھیل ہوگا نہ تماشہ ہوگا ،نہ تبصرہ کی ہمت ہوگی ۔ یہ ‘‘یقین ’’ کافرق ہے ، حالانکہ شکل و صورت کے اعتبار سے دونوں شیر اور سانپ ہیں لیکن آدمی جس چیز کے بارے میں شیر اور سانپ ہونے کا یقین نہ رکھتا ہو تو خواہ بہ ظاہر وہ کتنا ہی بھیانک نظر آئے ، اس سےکوئی خوف اور ڈر نہیں ہوتاہے او رجب شیر ہونے کا یقین ہوجائے تو سوچ کاانداز ہی بدل جاتا ہے۔

‘‘ایمان ’’ ایسے ہی انقلاب انگیز یقین کانام ہے جو دلوں کی دنیا میں ہلچل پیدا کردے اور فکر و نظر کی کائنات میں انقلاب کا پیغمبر ثابت ہو ، خدا پر ایمان انسان میں ایسی کیفیت پیدا کرے ،کہ گویا وہ اپنے خالق کے سامنے کھڑا ہے او راس کے دامن کو تھامے ہوئے ہے، خدا کی محبت اس کےدل سے اُمنڈنے لگے، اللہ تعالیٰ کی خوشنودی پر چل کر وہ اتنا خوش ہو، کہ گویا اس نے سب سے بڑی نعمت پالی ہے، خدا کے عذاب کا خوف اس کو لرزا دے اور آنکھیں اشکبار ہوجائیں، اسے ایسالگے کہ جیسے جنت اور دوزخ اس کے سامنے رکھی ہوئی ہے، خدا کی کتاب پر اس کو اس درجہ کا یقین حاصل ہواکہ آنکھوں دیکھی باتوں پر بھی آدمی کو اس درجہ اطمینان نہیں ہوتا اسے یوں لگےکہ جیسے یہ کتاب اسی کو مخاطب کررہی اور اللہ تعالیٰ اس سے ہم کلام اور سرگوش ہے۔اس کیفیت کے بغیر ہمارا ایمان ناقص او رنا تمام ہے۔ ایک بے روح ایمان جو نہ گناہوں سےہمارے قدموں کو روک سکے او رنہ نیکوں کی طرف ہمیں لے جاسکے ،مذکورہ کیفیت تقویٰ کیلئے پہلا زینہ ہے!

دوسری چیز جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا : ‘‘اقامۃ صلاۃ’’ یعنی نمازوں کو قائم کرنا ہے۔ نماز کیا ہے؟ اپنے آپ کو خدا کے آگے بچھا دینا اور سرسے پاؤں تک اللہ تعالیٰ کی مرضیات کے سانچہ میں ڈھال لینا! ازبان خدا کے ذکر سے تر ہے، ہاتھ نیاز مندانہ ، خدا کے سامنے بندھے ہوئے ہیں، آنکھیں ایک غلام کی طرح جھکی ہیں، جسم بے حرکت کھڑا ہے، پھر جب نمازی رکوع میں جاتا ہے تو فروتنی اور بڑھ جاتی ہے ، پشت خمیدہ ، سر افگندہ ، زبان پر تسبیح ، اب سجدہ کی منزل ہے، جو عجزہ و انکساری او ربے بسی کا نقطہ عروج ہے سر، پیشانی او رناک انسان کے عزت و وقار کا سب سے بڑا مظہر ہیں لیکن خدا کےسامنے یہ سب زمین پر خاک آلود ہیں، ہاتھ بچھے ہوئے ہیں، جسم کے ایک ایک انگ سے خود سپردگی اور غلامی و بندگی ظاہر ہے، قدم قدم پر خدا کی کبریائی کانعرہ ہے، اس کی حمد و ثنا ء کا زمزمہ ہے، الحاح و التجا ہے، تضرع و دُعا ء ہے، اپنی گنہگاری کااقرار و اعتراف ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ نماز خدا کی بندگی کا ایسا فطری اور اثر انگیز طریقہ ہے کہ اس کی ایک ایک کیفیت سے روح و جد میں آئے اور انسان کو خدا سے اپنی قربت کااحسا س ہونے لگے ۔ اس کو یوں محسوس ہونے لگے جیسے وہ خدا کے سامنے کھڑا ہے۔

پس یہ نماز ایک عنوان ہے اور اس کے ذریعہ انسان کو ان تمام اعمال کی طرف متوجہ کیا گیا ہے جس کا مقصد اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کرنا ہے کہ خدا کا کوئی حکم مسلمان سے ٹوٹنے نہ پائے، ایسا نہ ہوکہ انسان اپنی خواہشات اور چاہتوں کا ایسا دیوانہ ہوجائے کہ اللہ کی مرضیات اور اس کی چاہتیں ان کی نگاہوں سے اوجھل ہوجائیں، وہ خدا کے حکم کو ہر حکم پر مقدم رکھے اورجہاں نفس کو گراں گزرے وہاں بھی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کو اپنے آپ پر نافذ کرے۔

متقیوں کی تیسری صفت ‘‘انفاق’’ ہے۔ انفاق کے معنی خرچ کرنے کے ہیں۔ قرآن کے بیان کے مطابق تقویٰ والوں کی ایک اہم صفت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کچھ بھی کم وبیش عطا ہوتا ہے، وہ ا س کا ایک حصہ اپنے غریب بھائیوں پر خرچ کرتاہے۔ دراصل دنیا میں جو چیز سب سے زیادہ دامن نفس کو کھینچتی اور اپنا فریفتہ کرتی ہے وہ مال و دولت ہے۔ اس کی حرص اولاً خدا سے بے توجہ کرتی ہے، پھر دولت و ثروت کا نشہ و دماغ پر چڑھتا ہے اور کبر و غرور انگڑائیاں لینے لگتے ہیں ۔ یہی کبردین و اخلاق کےلئے سم قاتل ہے ، اس سےخود غرضی پیدا ہوتی ہے ایثار کا جذبہ مفقود ہوتاہے او روہ لوگوں کے حقوق کو ایک بوجھ سمجھنے لگتا ہے۔ ‘‘انفاق’’ اسی کا علاج ہے۔ گویا انفاق سے صرف دوسرے انسانوں کی مالی اعانت ہی مراد نہیں ہے، بلکہ یہ ‘‘خقوق العباد’’ کے لئے ایک عنوان کےدرجہ میں ہے، کہ جیسے انسان خدا کے حقوق ادا کرے، اسی طرح خدا کی مخلوق کے حقوق کی بھی رعایت کرے، اس لئے کہ خدا کاحق اپنی ضرورت سمجھ کر ادا کرنا ہے ، خدا انسان کی عبادت او ربندگی کا محتاج نہیں اور لوگوں کے حقوق ادا کرنا لوگوں کی ضرورت کے پیش نظر ہے کہ انسان محتاج او رضرورت مند ہے، اسی لئے بعض وجوہ سےحقوق الناس کی اہمیت حقوق اللہ سے بھی زیادہ ہے۔

اس طرح تقویٰ تین باتوں کو شامل ہے، دل میں ایمان و یقین کی حقیقی کیفیت کو پیدا کرنا، ایسا یقین جو دل کی دنیا کو بدل دےاور خدا کی مرضیات کو بجالانے میں اسے لطف آنے لگے، دوسرے وہ اللہ کے حقوق کو ادا کرنے والا ہو، فرائض و واجبات کو پورا کرتاہو او رگناہوں سے بچتا ہو، تیسرے وہ لوگوں کے حقوق ادا کرنے والاہو، مال کے ذریعہ بھی غریب بھائیوں کا تعاون کرتا ہو اور اپنی زبان سے بھی لوگوں کی عزت و آبرو کو محفوظ رکھتا ہو۔ اس طرح تقویٰ پوری انسانی زندگی کو شامل ہے اور زندگی کاکوئی گوشہ اس سے باہر نہیں ۔

انسان کو چاہئے کہ جیسے وہ اپنی جسمانی بیماریوں کو تلاش کرتا ہے اسی طرح اپنی روحانی بیماریوں کو بھی تلاش کرے اور ان کے علاج کی طرف متوجہ ہو، کسی کی بیماری ایمان و عقیدہ میں چھپی ہوئی ہے۔ وہ نماز پڑھتا ہے ، روزے رکھتا ہے، لیکن توہمات کاشکار ہے، خدا سے نفع و نقصان اپنے دل میں بٹھائےہوئے ہے اور خدا کے خزانہ ٔ غیبی سے زیادہ دنیا کے اسباب پر اس کا یقین ہے ، تو اس کا تقویٰ یہ ہے کہ وہ اپنے ایمان کی اصلاح کرے۔ اگر ایک شخص نیکیوں کے تمام کام کرتا ہو لیکن نماز کی توفیق سے محروم ہو تو نماز کا اہتمام ہی اس کے لئے تقویٰ کی کسوٹی ہے۔ عبادت کا اہتمام کرتا ہو، لیکن لوگوں کے حقوق میں غافل ہو، غریب بھائیوں پر خرچ کرنا اس کی ڈکشنری میں نہ ہو تو اس کے لئے تقویٰ کا معیار ‘‘انفاق’’ ہے، اگر نماز و روزہ کی بھی توفیق ہو، اللہ کے راستہ میں خرچ بھی کرتا ہو، لیکن اس کے اخلاق اچھے نہ ہوں ، اس کا زبان لوگوں کی عزت ریزی پر کمربستہ رہتی ہو، اس کا سینہ اور دل ، کینہ اور کدورت سے بھرا ہوا ہو ،لوگ اس کی ترش روئی سے گھبرا تے او ر اس کی تندکلامی سے خوف کھاتےہو ں تو اخلاق میں اس کا تقویٰ چھپا ہوا ہے، اور اگر وہ اس کی اصلاح کرلے ، تو ‘‘متقی’’ ہے۔

غرض تقویٰ زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھتا ہے اور تقویٰ کی منزل تک پہنچنا اس کے بغیر ممکن نہیں کہ انسان اپنی روحانی بیماری کی شناخت کرے اور جہاں گناہ کاپیپ ہے وہیں اصلاح کا نشتر لگائے ۔ اگر اللہ تعالیٰ نے کچھ نیکیوں کی توفیق فرمائی تو اس سے دھوکہ نہ کھائے کہ کسی مریض کےلئے اس سے زیادہ نقصان دہ کوئی بات نہیں ہوسکتی کہ وہ اپنے آپ کو صحتمند تصور کرنے لگے۔ روزہ کا مقصد ایک مسلمان کو تقویٰ کی منزل تک پہنچاناہے۔ اب جب کہ رمضان المبارک کے آخری ایام ہیں ، ہم اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھیں اور احتساب کا آئینہ اپنے رخ زندگی کی طرف سفر شروع کردیا ہے اور اگر شروع نہیں کیا تو کیا اب بھی اس کا وقت نہیں آیا ؟

1 جولائی، 2016 بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/maulana-khalid-saifullah-rahmani/think,-have-we-started-our-journey-to-toward-taqwa--غور-کیجئے،-کیا-ہم-نے-تقویٰ-کی-جانب-سفر-شروع-کردیا-ہے؟/d/107851

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 

Loading..

Loading..