ثاقب سلیم،
نیو ایج اسلام
18 اکتوبر 2023
مولانا ابوالکلام آزاد نے
10 فروری 1947 کو ایک خط میں سردار ولبھ بھائی پٹیل کو لکھا کہ، ’’آپ (سردار پٹیل)
شاید نہیں جانتے کہ میں (مولانا آزاد) نے ہمیشہ ہندوستانی موسیقی میں گہری دلچسپی لی
ہے اور ایک زمانہ تھا کہ میں نے خود اس کی مشق بھی کی ہے۔‘‘ وہ "آل انڈیا ریڈیو
کی نشریات کے معیار" سے مطمئن نہیں تھے اور پٹیل سے کہا کہ وہ اس معاملے کو دیکھیں
تاکہ "آل انڈیا ریڈیو ہندوستانی موسیقی میں ایک معیار قائم کرے اور اسے مسلسل
بہتری کی طرف لے جائے۔"
Maulana
Abul Kalam Azad, India's first education minister
------
یہ بات بہت کم لوگوں کو معلوم
ہے کہ ایک اسلامی اسکالر اور مجاہد آزادی مولانا ابوالکلام، ایک تربیت یافتہ موسیقار
بھی تھے۔
مولانا آزاد نے 16 ستمبر 1943 کو
مولانا حبیب الرحمن شیروانی کے نام ایک بغیر پوسٹ کیے گئے خط میں لکھا، ’’میں آپ کو
ایک بات بتاتا ہوں! میں نے کئی بار اس پر غور کیا ہے۔ میں زندگی میں ہر چیز کے بغیر
خوش رہ سکتا ہوں، لیکن موسیقی کے بغیر نہیں۔ میرے لیے موسیقی کی آواز زندگی کا سہارا،
دماغی الجھنوں اور جسم کی تمام بیماریوں کا علاج ہے.... اگر آپ مجھے زندگی کی آسائشوں
سے محروم کرنا چاہتے ہیں تو مجھے موسیقی سے محروم کر دیں۔"
مولانا آزاد کے اندر 1905 میں اس
وقت موسیقی میں دلچسپی پیدا ہوئی جب انہوں نے فقیر اللہ سیف خان (اورنگ زیب کے ہم عصر
موسیقار) کے ذریعہ ہندوستانی موسیقی پر ایک قدیم سنسکرت کتاب کا فارسی ترجمہ راگ درپن
خریدا۔ جب وہ کتابوں کی دکان پر تھے تبھی عالیہ کالج کولکاتہ کے پرنسپل ڈینس راس نے
ایک 17 سالہ مولانا کو اس کتاب کے مندرجات ومشمولات کی وضاحت کرنے کا چیلنج دیا۔ وہ
موسیقی نہیں جانتے تھے اور نہ ہی سمجھا سکتے تھے۔ اس کے بعد انہوں نے موسیقی سیکھنے
کو ایک چیلنج کے طور پر لے لیا۔
مولانا نے مسیتا خان کو، جو ان
کے صوفی والد کے شاگرد تھے اور جے پور اور دہلی کی روایات میں تربیت یافتہ موسیقار
تھے، موسیقی سکھانے کے لیے کہا۔ مولانا کے والد موسیقی کے خلاف تھے اس لیے مسیتا نے
انہیں موسیقی کی تعلیم ایک دوست کے گھر پر دی۔ انہیں ستار سیکھنے میں زیادہ دیر نہیں
لگی۔ وہ تقریباً پانچ سالوں تک روزانہ ستار کی تربیت لیتے رہے یہاں تک کہ ایک ماہر
ستار باز بن گئے۔
مولانا آزاد نے لکھا ہے کہ
’’اسی دور کا ایک واقعہ ہے کہ آگرہ کے سفر کا اتفاق ہوا۔ اپریل کا مہینہ تھا اور چاندنی
راتیں تھیں۔ جب رات کا آخری پہر شروع ہونے والا ہوتا تو چاند کا پردہ ہٹ جاتا اور ایک
ایک کر کے جھانکنے لگتا۔ میں نے خاص کوشش کی تھی کہ رات کو ستار لے کر تاج کی چھت پر
جمنا کی طرف منہ کر کے بیٹھ جاؤں۔ پھر جیسے ہی چاندنی پھیلنے لگتی، میں ستار بجاتا
اور اسی کی دھن میں کھو جاتا۔ میں کیا کہوں اور کیسے کہوں کہ ان آنکھوں کے سامنے سے
سراب کی چمک کیسے گزرتی"۔
مولانا آزاد نے 26 صفحات پر مشتمل
اپنے اس خط میں ہندوستانی موسیقی اور قرون وسطی کے دوران اس کے فروغ کی ایک مختصر تاریخ
درج کی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ موسیقی ہندوستان کی رگوں میں دوڑتی ہے۔ جب اورنگ زیب
نے موسیقی پر پابندی لگا دی تب بھی ہندوستانیوں کو موسیقی سیکھنے اور بجانے سے نہیں
روکا جا سکا۔ یہ حکم صرف درباری موسیقاروں کو ہی متاثر کر سکتا تھا، اس لیے کئی موسیقاروں
نے اس روایت کو شاہی درباروں کے باہر زندہ رکھا۔
آزادی کے بعد جب مولانا آزاد نے
ہندوستان کے وزیر تعلیم کا عہدہ سنبھالا تو انہوں نے ہندوستانی موسیقی کے فروغ میں
خصوصی دلچسپی لی۔ ان کی وزارت کے ذریعے شروع کیے گئے اولین کاموں میں سے ایک ہندوستانی
ثقافت میں موسیقی، ڈرامہ اور رقص کی تربیت کے لیے ایک ٹرسٹ قائم کرنا تھا۔
مولانا آزاد نے 29 اگست 1949 کو
ایک تقریر میں کہا، "اس مقصد کے لیے تین اکیڈمیاں ہونی چاہئیں، یعنی ہندوستانی
زبانوں، ادب، فلسفہ اور تاریخ کے لیے اکیڈمی آف لیٹرز، ایک اکیڈمی آف آرٹس (بشمول گرافک،
پلاسٹک اور فنون تطبیقی) اور آرکیٹیکچر کے، اور اکیڈمی آف ڈانس، ڈرامہ اور موسیقی۔
ان اکیڈمیوں کا مقصد ان اپنے اپنے مضامین میں تعلیم کو فروغ دینا ہونا چاہئے۔
انہوں نے یہ بھی اعلان کیا،
"حکومت ہند نے، ہندوستانی موسیقی کی حوصلہ افزائی کے لیے پہلے قدم کے طور پر،
دو اکیڈمیاں قیام کی ہیں - ایک ہندوستانی موسیقی کی لکھنؤ میں اور دوسری کرناٹکی موسیقی
کی مدراس میں۔ ان اکیڈمیوں کا مقصد ہندوستانی موسیقی کی ان شاخوں میں جدید علوم اور
تحقیق کو فروغ دینا ہوگا۔
28 جنوری 1953 کو انڈین اکیڈمی
آف ڈانس، ڈرامہ اینڈ میوزک (سنگیت ناٹک اکادمی) کا افتتاح کرتے ہوئے مولانا آزاد نے
کہا، ’’یہ میرا یقین ہے کہ موسیقی کے میدان میں ہندوستان کا کارنامہ یونان سے بھی بڑا
ہے۔ ہندوستانی موسیقی کی وسعت اور گہرائی شاید بے مثال ہے۔ ہندوستانی تہذیب اور ثقافت
کا جوہر ہمیشہ سے گلھانا ملنا اور جذب ہونا رہا ہے۔ یہ موسیقی کے میدان سے زیادہ واضح
طور پر کہیں اور دکھائی نہیں دیتا۔
مولانا آزاد نے مزید کہا ’’رقص،
ڈرامہ اور موسیقی ایک قیمتی ورثہ ہے جس کی ہمیں آبیاری کرنی چاہیے۔ ہمیں ایسا نہ صرف
اپنی خاطر کرنا چاہیے بلکہ بنی نوع انسان کے ثقافتی ورثے میں تعاون کے طور پر بھی یہ
کرنا چاہیے۔ فن کے میدان کے علاوہ کہیں بھی یہ اتنا واضح نہیں ہے کہ زندہ رکھنے کا
مطلب تخلیق کرنا ہے۔ روایات کو محفوظ نہیں کیا جا سکتا بلکہ نئے سرے سے تخلیق کیا جا
سکتا ہے۔ یہ ان اکیڈمیوں کا مقصد ہوگا کہ وہ اپنی روایات کو ادارہ جاتی شکل دے کر محفوظ
رکھیں۔
مولانا آزاد نے بطور وزیر تعلیم
اپنے دور میں ہندوستانی موسیقی کے فروغ کے لیے طلبہ اور اداروں کے لیے مالی امداد بھی
مختص کر رکھی تھیں۔
--------------------
English
Article: Maulana Abul Kalam Azad: Precious Heritage Of Dance,
Drama And Music Is One Which We Must Cherish And Develop
URL:
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism