New Age Islam
Sat Sep 19 2020, 04:10 PM

Urdu Section ( 27 Nov 2016, NewAgeIslam.Com)

Concern for Huquq ul Ibad is a Must along with Huquq ul Allah حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد کی بھی فکر ضروری ہے

 

 

 

 

  

مولانا اسرارالحق قاسمی

25 نومبر، 2016

اسلام میں جتنی اہمیت ان عبادات کی ہے ، جن کا تعلق بندے او راس کے رب سے ہے،اتنی ہی بلکہ بعض معنوں میں اس سے بھی زیادہ اہمیت ان عبادات او راعمال صالحہ کی ہے، جن کا تعلق بندوں سے ہے۔ اس ضمن میں مخلوق خدا کی خدمت کرنا، ان کے کام آنا، ان کےمصائب اور پریشانیوں کو دورکرنا ، ان کے دکھ درد کو بانٹنا او ران کے ساتھ ہمدردی و غمخواری اور شفقت کرنا جیسے نیک اعمال آتے ہیں ۔ ان تمام اعمال کو مختصر طور پر خدمت خلق سے تعبیرکیا جاتا سکتا ہے۔ خدمت خلق کتنی بڑی نیکی اور کتنا افضل عمل ہے اور قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کا کیا مقام و مرتبہ ہے یہ نہایت ہی اہم موضوع ہے، جس پر علمی اعتبار سے یہ نہایت ہی اہم موضوع ہے، جس پر علمی اعتبار سے علماء نے سیکڑوں کتابیں لکھی ہیں ۔ قرآنی آیات، احادیث پاک اور فقہی تصنیفات کے زیادہ تر حصوں کا تعلق انسانوں کے باہمی معاملات سے ہے اور ان سب کا مرکزو محور کسی نہ کسی طور خدمت خلق کو قرار دیا جاسکتا ہے۔

قرآن مجید کے مطابق تخلیق انسانی کی غرض عبادت خداوندی ہے، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ‘‘ اور میں نے جنات او رانسانوں کو صرف اپنی عبادت کےلئے پیدا کیا ہے۔’’ ( الذاریات: 56) اس آیت کا ظاہری مفہوم تو یہی ہے کہ انسانوں اور جنات کو صرف اس لئے اس دنیا میں بھیجا گیا ہے کہ وہ اپنے رب کی عبادت کرتے رہیں، مگر مفسرین لکھتے ہیں کہ عبادت سے یہاں مراد صرف پانچ وقت کی نمازیں اور نوافل نہیں،بلکہ یہ تعبیر اپنے جامع اور عام مفہوم میں رضائے الہٰی کی طلب کے مترادف ہے۔ عبادت کے مفہوم میں جو وسعت ہے،اس کا اندازہ قرآن مجید کی ایک دوسری آیت سےبھی لگایا جاسکتا ہے ۔ سورہ بقرہ میں ارشاد ہے : ‘‘نیکی یہی نہیں کہ تم اپنا رخ مشرق یا مغرب کی طرف کرو بلکہ اصل نیکی یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ ،قیامت کے دن، فرشتوں (آسمانی ) کتابوںاور پیغمبروں پر ایمان لائے اور اس کی محبت میں اپنا مال خرچ کرے، قرابت داروں، مسکینوں، راہ گیروں اور سائلوں پر اور گردنوں ( غلاموں ) کو آزاد کرانے میں ۔’’(آیت نمبر 177)

نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ میں او رآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جلیل القدر صحابہ کی زندگیوں میں اس کی سیکڑوں مثالیں ملتی ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اپنی امت کے لئے ایک اصول بیان فرما دیا ہے کہ ‘‘دین خیر خواہی کا نام ہے۔’’ اس خیر خواہی میں عملی خیر خواہی بھی شامل ہے اور زبانی خیر خواہی بھی ۔ یعنی اگر کوئی بھائی آپ سے کسی معاملے میں مشورہ طلب کرے تو اسے اپنی سمجھ کی حد تک اچھا اور مفید مشورہ دینا چاہئے ، اسی طرح اگر کوئی شخص مصیبت میں پھنس جائے اور اسے مالی مدد کی ضرورت ہوتو اپنی استطاعت کے مطابق اس کی مدد کرناچاہئے ۔ یہ دونوں چیزیں دین کے بنیادی تقاضوں میں شامل ہیں اور ان سے یہ ثابت ہوگا کہ ہم نے دین کو کتنا سمجھا ہے اور اسے اپنی عملی زندگی میں کس حد تک نافذ کرتےہیں۔

صحابۂ کرام حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ سنتے تھے اسے فوری طور پر اپنی عملی زندگی میں نافذ کرتے تھے، نیکی کرنے میں ان میں سے ہر ایک دوسرے پر سبقت لے جانا چاہتا تھا ۔ اس سلسلے میں عہد نبوی کے صرف ایک واقعے کا ذکر کافی ہوگا، یہ واقعہ محض اسلامی تاریخ کے ایک زریں اور سنہرے پہلو ہی سے روشناس نہیں کراتا بلکہ یہ ہمارے لئے سبق آموز بھی ہے۔ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کی ضرورتوں کے پیش نظر صحابہ ٔ کرام کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے انہیں صدقے کا حکم فرمایا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ‘‘ اس زمانے میں میرے پاس کچھ مال موجود تھا، میں نے سوچا اگر میں ( نیکی میں) ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کبھی آگے بڑھ سکتا ہوں تو آج اس کا اچھا موقع ہے، یہ سوچ کر میں گھر آیا او ر جو کچھ بھی گھر میں رکھا تھا، اس میں سے آدھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے آیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا ‘‘گھر والوں کے لئے کیا چھوڑ ا ؟’’ تو میں نے کہا کہ ‘‘ ان کےلئے آدھا مال چھوڑ آیا ہوں ۔ ’’ پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے گھر سے مال لے کر آئے، ان سے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا ‘‘ گھر والوں کےلئے کیا چھوڑ ا ؟’’تو انہوں نے جواب دیا ‘‘ اللہ اوراس کے رسول کے نام کی برکت اور ان کی رضا جوئی و خوشنودی کو چھوڑ کر آیا ہوں ۔’’ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کہتےہیں ‘‘ اس وقت مجھے یقین ہو گیا کہ میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کبھی بھی آگے نہیں بڑھ سکتا ۔’’ ( ابو داؤد) رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کےان دو عظیم الشان صحابہ کے واقعے میں ہمارے لئے کئی اسباق پوشیدہ ہیں ۔ایک تو یہ کہ محتاجوں او رغریبوں کی مدد کے لئے فوری طور پر آگے آناچاہئے او رجو مال ہے اس کے ذریعے مدد کرنی چاہئے ، دوسرے یہ کہ خود آگے بڑھیں یہ نہ سوچیں کہ فلاں آگے آئے، پھر میں بھی بڑھوں گا اور تیسرا سبق ہے ایثار کا جس کی مثال دونوں صحابیوں نے پیش کی، البتہ دونوں کےعمل میں فرق تھا ۔

افسوس کی بات ہے کہ عصر حاضر میں ہم نے صرف نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ کوہی عبادت کامطلب سمجھ لیا ہے اور عملی طور پر اخلاقیات ،معاملات اور معاشرت کو دین کے دائرے سے تقریباً نکال رکھا ہے۔ حالانکہ یہ سب بھی جزوِ دین ہیں اور اسلام کے اندر ان کابھی وہی درجہ ہے جتنا کہ عقائد اور دیگر عبادات کا اور دونوں میں فرق یہ ہے کہ عقائد اورایمانیات کا تعلق انسان کی اپنی ذات سےہے جب کہ اخلاقیات ومعاملات او رمعاشرت کاتعلق پورے انسانی معاشرے او رسماج سے ہے او راس کی وجہ سے ان چیزوں کی اہمیت بڑھ جاتی ہے ۔ اس کو مثال کے ذریعے ہم یوں سمجھ سکتےہیں کہ نماز ایک فرض عبادت ہے ، لیکن یہ مخصوص اوقات میں ہی فرض ہے، پس اگر کوئی عین اس وقت نماز پڑھنا چاہے جب سورج طلوع ہورہا ہے یا زوال آفتاب کے وقت پڑھے تو وہ فرض عبادت بھی کوئی معنی نہیں رکھتی ۔اس سے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ اصل چیز جو مطلوب ہے وہ ہے حکم الٰہی کی تکمیل او ر نماز اس کی ایک ظاہری صورت ہے۔ اسی طرح روزہ بھی ایک فرض عبادت ہے لیکن عید کے دن روزہ رکھنا حرام ہے ، حج بھی مخصوص ایام میں ہی قابل قبول ہے او رزکوٰۃ کےلئے بھی کچھ مخصوص شرائط ہیں ۔ ان کے برخلاف جو انسانی حقوق ہیں اور ایک دوسرے کی ذمے داریاں ہیں، ان کی ادائیگی ہمیشہ ، ہر جگہ اور ہر وقت ضروری ہے۔ چاہے وہ انسان کی اپنی ذات کے حقوق ہوں، والدین ، بچوں، اساتذہ ،رشتہ داروں ، دوست احباب یا ہمسایوں کے حقوق ہوں یا ملک میں رہنے والے ہم وطنوں کے حقوق ۔ یہاں تک کہ جانوروں کے حقوق بھی متعین ہیں ۔ ان کی مکمل ادائیگی سے ہی معاشرے میں خوشحالی اور حسن پیدا ہوسکتا ہے ۔ حقوق اللہ کے مقابلے میں حقوق العباد کی اہمیت اس لئےبھی بعض دفعہ بڑھ جاتی ہے کہ دنیا کی ساری مخلوق اللہ کا کنبہ ہے ، جیسا کہ ایک حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ‘‘ دنیا کی ساری مخلوق اللہ تعالیٰ کا کنبہ ہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب او رپسندیدہ وہ آدمی ہے جو اس کے کنبے (مخلوق) کے ساتھ بھلائی کرے ۔’’ لہٰذا ہمیں بھی اسلامی تعلیمات کےاس پہلوکواپنی عملی زندگی میں مد نظر رکھنا چاہئے او رانسانی خیر خواہی وبہبودی کے اعمال کوعبادت اور تقرب ِ خداوندی کا ذریعہ سمجھ کر انجام دیناچاہئے ۔

25 نومبر، 2016 بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

URL: http://newageislam.com/urdu-section/maulana-asrarul-haque-qasmi/concern-for-huquq-ul-ibad-is-a-must-along-with-huquq-ul-allah--حقوق-اللہ-کے-ساتھ-حقوق-العباد-کی-بھی-فکر-ضروری-ہے/d/109208

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 

Loading..

Loading..