New Age Islam
Wed Dec 08 2021, 01:46 AM

Urdu Section ( 26 March 2013, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Proper Education And Good Upbringing Of Children بچوں کے لیے تعلیم اور تربیت دونوں ضروری

 

مولانا اسر ارالحق قاسمی

16 مارچ، 2013

اولاد اللہ کی جانب سے یقیناً والدین  کے لیے بڑی  نعمت ہے جس کا تقاضا  ہے کہ وہ اس نعمت پر اللہ کےشکرگزار ہوں او راپنی اولاد کی اچھے انداز  میں پرورش و تربیت کریں۔ عام طور سے والدین  اپنی اولاد سے بے پناہ محبت  کے سبب حتی الواسع اس کی سہولیات  کا خیال کرتے ہیں اور بہت سے لوگ اس کی تعلیم  و تربیت پر بھی خطیر رقم خرچ کرتے ہیں۔ دراصل وہ یہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے کامیاب ہوں  اور ان کے بہترین وارث  بنیں ، لیکن موجودہ  زمانہ  کاالمیہ  یہ ہے کہ بہت سے لوگ اپنی اولاد کی پرورش  و تربیت  اس طور پر کرنے لگے ہیں جو بظاہر اس کے حق  میں بہتر دکھائی دیتی ہے مگر فی الواقع وہ حقیقی  کامیابی سے دور ہوتی چلی جاتی ہے۔ مثلاً بہت سے لوگ  اپنے بچوں کے ساتھ بہت زیادہ  پیار کا مظاہرہ  کرتے ہوئے انہیں  ہر طرح کے تعّشات  کی اشیاء فراہم  کرتے ہیں،  ان کے خرچ کے  لیے بڑی  رقمیں  دیتے ہیں  ، جہاں وہ گھومنے  کے لیے جانا چاہتے ہیں  انہیں اس  کی اجازت  دیتے ہیں، جس طرح کپڑوں  کی خواہش  کا وہ اظہار  کرتے ہیں، مہیا  کرتے ہیں ۔ آگے چل کر جس کا یہ نتیجہ  ظاہر ہوتا ہے کہ وہ  غلط  راہوں  میں بھٹکنے  لگتے ہیں  ۔ اگر شروع سے ان کی صحیح  خطوط پر پرورش  کی جاتی، انہیں بے جا آزادی نہیں دی جاتی  اور ان کی تمام خواہشات  کو پورا کرنے کے بجائے یہ سوچا جاتا  ہے کہ کیا ان کے حق  میں بہتر ہے اور کیاغلط  تو یہ صورت حال سامنے نہیں آتی۔ اس لئے ضروری ہے کہ والدین اپنے بچوں  کی پرورش  بہتر طور پر محتاط  انداز میں کریں۔ عصر حاضر میں یہ صورت حال بھی سامنے آرہی ہے کہ لوگ بغیر سوچے سمجھے اپنے بچوں کے لیے ایسی تعلیم  کا بندوبست کررہے ہیں  جس کے مادی  فوائد  نظر آتے ہیں لیکن روحانی و اخلاقی اعتبار  سے بچے کا  مستقبل  تاریک  ہوجاتا ہے، مگر چونکہ آج کل ہر چیز  کو مادیت  کے پیمانہ  پر تولا جارہا ہے،  اس لیے تعلیم  دیتے ہوئے بھی  اس چیز  کو پیش نظر  رکھا جاتا ہے کہ مادی  لحاظ سے اس تعلیم کا کیا فائدہ  ہے؟ یاد  رکھنا چاہئے کہ مال و دولت کا حصول حقیقی کامیابی  نہیں ہے،  اس سے دنیوی  زندگی  میں قدرے سہولیات  تو حاصل کی جاسکتی ہیں لیکن  یہ ضروری نہیں کہ اس کے ذریعہ  دنیا وآخرت  کی حقیقی کامیابی  بھی حاصل  ہوسکے ۔ اس لیے ضروری  ہے کہ اولاد  کے لیے ایسی تعلیم و تربیت کا بندوبست کیا جائے جو اسے حقیقی کامیابی  سے ہمکنار کرنے والی ہو۔والدین کو چاہئے  کہ وہ سب سے پہلے اپنی اولاد  کے لیے اس بات کی فکر کریں کہ وہ جہنم  کی آگ سے خلاصی پاجائے، کیونکہ جہنم  ایسا بڑا  ٹھکانہ  ہے جس کا ایندھن  انسان ہوں گے ۔ اللہ تعالیٰ  ارشاد فرماتا ہے : ‘‘ اے ایمان والو! اپنے آپ  کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم کی آگ سے بچاؤ’’ ( تحریم :6)

اس کے لیے ضروری ہے کے والدین اپنی اولاد کو ایسی تعلیم و تربیت  دیں جو انہیں جہنم  کی آگ  سے محفوظ  رکھ سکے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ  بچوں کو دینی تعلیم سے آراستہ کیا جائے، کیونکہ اس کا مقصد ہی انسان کو سیدھا راستہ دکھانا ، اللہ کی وحدانیت پر لوگوں کے یقین کو پختہ  بنانا اور اس بات  کو واضح کرنا ہے کہ ہر چیز  فنا ہوجانے والی ہے، شخص اللہ کی ذات باقی رہنے والی ہے، اس نے ساری دنیا  کو پیدا کیا ہے ، وہی  رازق و مالک ہے ، اس کی  مرضی کے بغیر پتّا  بھی نہیں ہلتا ۔ چنانچہ  وہی عبادت کے لائق ہے ، اس کے احکام کی پیروی  لازمی ہے اور اس کے مبعوث کیے ہوئے  دین پر چلنے میں ہی  فلاح یابی ہے اور ہر انسان کو بالآخر  اس کی طرف لوٹنا   ہے۔ رب کائنات  پر مضبوط یقین اور اس کے بھیجے  ہوئے انبیاءورسل پر اعتقاد کامل  کے بعد انسان کی فلاح  کے امکانات  روشن ہوجاتے ہیں اور وہ دینی تعلیمات پر عمل پیرا  ہونے لگتا ہے ۔ اس کے برعکس مادی علوم و فنون  کے بارے میں  پورے  طور سے یہ بات نہیں  کہی جاسکتی ۔ خاص  طور سے وہ نظام جو لینن  ، مارکس ، ڈارون ، فرائڈ جیسے لوگوں نے پیش کیے ، وہ انسان کو اس کے حقیقی مقصد  سے ہٹا کر محض  مادیت  پسند بناتے ہیں۔

تعلیم کے ساتھ تربیت کی افادیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ جہاں محض تعلیم ہے، مگر تربیت کا فقدان  ہے، وہاں تعلیم کے پورے  نتائج  سامنے نہیں آپاتے ۔ اگر تربیت  بچپن  سے ہی کی جائے تو اور  زیادہ بہتر  ہے۔ تربیت کے لیے ضروری نہیں  کہ وہ  ادارہ  میں ہی کی جائے اور گھر پر بچہ کو آزاد  چھوڑ دیا جائے بلکہ  وہ تربیت جو گھر پر  کی جاتی ہے،  عام طور سے زیادہ مؤثر و مضبوط  ہوتی ہے پھر گھر پر تربیت  کرنا زیادہ آسان بھی ہوتا ہے ۔ اس کا طریقہ  یہی ہے کہ والدین سب سے پہلے خود نیک ہوں اور اس چیز کی تربیت اولاد کو دیں پہلے اس پر خود عامل ہوں، بچے بہت سی باتیں  اپنے والدین کی نقل و حرکت اور ان کے کاموں  کو دیکھ کر سیکھتے ہیں  ۔مثال کے طور پر جب والدین کھانا سلیقہ  سے کھاتے ہیں ، لقمہ بناتے ہیں ،اپنے آگے  سےکھاتے ہیں، بسم اللہ پڑھ  کر کھاتےہیں تو بچے بھی ویسے ہی کرتے نظر آتے  ہیں،  والدین لباس  پہنتے ہیں او ربچوں  کوبھی وہی لباس پہناتے ہیں تو بچے بخوشی  اسے پہن لیتے ہیں ۔ اگر والدین نماز پڑھتے ہیں  تو وہ بھی نماز پڑھتے ہیں۔ اگر بچپن  میں والدین اپنے بچوں  کو سلام کی عادت ڈلواتے ہیں ، کلمے سکھاتے ہیں ، اچھے اچھے طریقے  بتاتے ہیں  تو وہ بہت  حد تک اپنے والدین کی باتوں  اور ان کے ماحول کو اختیار کر لیتے ہیں ۔

 تشویشناک  بات یہ ہے کہ آج کل مسلم معاشرہ  کےبہت سے گھرانوں  کا ماحول اس قدر آزاد ہوگیا ہے کہ اولاد  پر  اس کا اچھا  اثر مرتب ہوتا نظر آتا ۔ والدین رات کو دیر تک جاگتے ہیں  اور دن چڑ ھے تک سوتے رہتے ہیں ۔ بچوں کی بھی عادت اسی  طرح پڑ نے لگتی ہے۔ دن بھر گھروں  میں ٹی وی چلتا رہتا ہے  ، جسے والدین اپنے بچوں  کے ساتھ بیٹھ  کر دیکھتے ہیں ۔ نتیجہ  یہ کہ چھوٹے  بچوں  کو بھی ٹی وی دیکھنے  کی عادت پڑ جاتی ہے ۔ ایک تو  اس سے ضیاع  وقت ہوتا ہے  دوسرے اس پر بہت  سی منفی  باتیں دیکھنے کوملتی ہیں۔ بہت سے والدین قسم قسم  کے فیشن  کے کپڑے  خود بھی پہنتے ہیں  اور اپنی اولاد کو بھی پہناتے ہیں  ۔ بعض جگہ قوانین کے بے  جا میک اپ اور ان  کے فیشن سے بچے متاثر ہوتے ہیں او ربچیاں  انتہائی کم عمر میں میک اپ کرنے لگتی ہیں جس کا نتیجہ  بعد میں اچھا نہیں  نکلتا  ہے۔ اس لیے والدین کو تعلیم و تربیت  کے سلسلہ  میں بہت زیادہ سنجیدہ  و حساس ہونے کی ضرورت ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا ‘‘ باپ  کا اپنی  اولاد کے لیے بہترین تحفہ  یہی ہے کہ بہترین تعلیم و تربیت  سےآراستہ  کرے’’ ۔

اچھی تعلیم  و تربیت کے ساتھ والدین  کو چاہئے کہ وہ اپنی اولاد کے لیے بھی دعا  کریں۔ ارشاد  باری ہے ‘‘ اور میری  اولاد میں صلاح  و تقویٰ  دے’’ (احقاف :15) ‘‘تقویٰ’’ انتہائی اہم چیز ہے جس سے اللہ کا تقرب حاصل ہوتا ہے، اس سے انسان کی افضیلت  بڑھتی ہے ۔ ارشاد باری ہے ‘‘ بلاشبہ تم میں زیادہ مکرم اللہ کے نزدیک  وہ ہے جو متقی ہے’’ حیرت کی بات ہے کہ بہت سے لوگ  اپنی اولاد سےبے انتہا محبت کرتے ہیں،  ان کے لیے اعلیٰ سہولیات مہیا  کرتے ہیں،  ان کے لیے گاڑیاں  خریدتے ہیں۔ زمینیں خریدتے ہیں اور کشا دہ مکانات  بناتے ہیں ۔ تاکہ اولاد  پریشان نہ ہو اور وہ آرام کی زندگی بسر  کرے مگر اس کی تعلیم  کا بہتر بندوبست  نہیں کرتے  یا ایسی تعلیم دلانے  میں عار محسوس  کرتے ہیں جو اس کی دنیا و آخرت  دونوں  جہاں  کی  کامیابی کیلئے ضروری ہے ۔ اسلام تو یہ چاہتا ہے کہ والدین ایسا کردار پیش کریں کہ نئی نسل کا  میاب  و با مراد ہو۔ نئی نسل کے تحفظ  اور اس کی کامیابی  کیلئے دین اسلام کس قدر زور  دیتا ہے ، اس  کا اندازہ  اس آیت  سے لگایا جاسکتاہے جس میں پروردگار نے ارشاد فرمایا ‘‘ اور اپنی  اولاد کو افلاس کے ڈر سے قتل نہ  کرو، ہم  انہیں بھی رزق دیں گے او رتمہیں بھی ۔ حقیقت  یہ ہے کہ نسل کشی بہت ہی بڑا گناہ ہے’’ ( بنی اسرائیل :31) اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ نسل  کشی گناہ عظیم ہے اور اولاد کے قتل  کی تمام شکلیں  ناجائز ہیں۔ موجودہ  دور میں  بھلے  ہی والدین کے ہاتھوں  پنے بچوں کے قتل کے واقعات کی شرح فیصد  کتنی ہی  کم کیوں نہ  ہو، مگر  اولاد کو پیدا  نہ  ہونے دینے کیلئے دنیا  بھر میں بڑی  کوششیں  چل رہی ہیں ، منع  حمل  کے لیے مختلف  قسم کی دوائیوں  اور مختلف  تدبیروں  کا استعمال  کیا جاتا ہے۔

اس کے بعد  بھی اگرحمل  ٹھہر جاتا ہے تو رپورٹوں  کے مطابق اسے گرانے کیلئے خطرناک قسم کی دوائیوں  کا سہارا لینا ایک عام بات بن  کر رہ گئی ہے حتیٰ  کہ کئی کئی  ماہ کے بچوں  کی صفائی کے واقعات  بھی آئے دن  پیش آتے رہتے ہیں ۔اگر اس صورت حال پر گہرائی سے غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک طرح  سے  نسل کشی ہے اور اولاد کاقتل عام ہے۔ شریعت  اسلامی اس کی اجازت نہیں دیتی ۔ اسلام نہ ہی اولاد  کی پیدائش  پر روک لگا تاہے او رنہ ہی اولاد کی پیدائش پر روک لگا تاہے اور نہ ہی اولاد  کی پیدائش کے بعد  اسے بے یار  و مدد گار چھوڑ تاہے کہ  والدین پر ان کی پرورش  و تربیت  کے حقوق  متعین  کرتاہے۔ اسلام  کے مطابق والدین پر لازم  ہے کہ وہ  اولاد کی حتی المقدور دیکھ بھال  کریں۔ اگر  اولاد کو کھانے کی ضرورت  ہو، تو  اس کے لیے کھانے  کا انتظام  کریں ، اگر پانی کی ضرورت ہوتو پانی دیں، کپڑوں کی ضرورت ہو تو کپڑے مہیا کریں،  اگر علاج کی ضرورت ہوتو حتی الوسع علاج کرائیں ، کیونکہ  اگر والدین اپنے بچوں  کی پرورش  نہیں کریں گے تو اور کون کرے گا؟ اگر وہ کھانا نہیں  دیں گے تو وہ کس کے در پر کھانے کا سوال کریں گے،  اس لیے اولاد  کی پرورش اچھے انداز  میں کی جانی چاہئے۔

16 مارچ، 2013  بشکریہ : روز نامہ صحافت، نئی دہلی

URL:

https://www.newageislam.com/urdu-section/maulana-asrarul-haque-qasmi--مولانا-اسر-ارالحق/proper-education-and-good-upbringing-of-children--بچوں-کے-لیے--تعلیم-اور-تربیت-دونوں-ضروری/d/10908

 

Loading..

Loading..