New Age Islam
Wed Sep 23 2020, 12:12 PM

Urdu Section ( 15 Jan 2013, NewAgeIslam.Com)

System Based on Atheism and Democracy is not Acceptable Part 1 (ہمیں نظامِ کفر قبول نہیں (قسط 1

The author of this article Asmatullah Muawiyah is the former head of the banned terrorist organisation Sipah-e-Sahaba (Militia of the Companions of the Prophet) and the emir of Punjabi Taliban, Pakistan. In this article, he reiterates the Taliban’s ideological stand echoing Maulana Maududi’s view on democracy that it is an un-Islamic form of government and a system based on kufr (non-belief). Of late, he has been trying to have a ‘meaningful dialogue’ with the Pakistan government for reasons known to him since his organisation Taliban has declared the Pakistan government a government of kafirs though the majority  of the ministers are Muslims and Islamic Shariah is the basis of the law of the land.

It should be noted that in their writings, the Talibani scholars harp on common issues of the people of the Pakistan and shed crocodile tears for them by mentioning the poverty, corruption of their leaders, plundering the wealth of the country by the feudal lords and nawabs who have captured power, and never ever say anything on the issues of killing of Shias, destroying the Sufi shrines and carrying out suicide attacks on civilians in the residential and commercial areas.  In this article the Maulana has tried to show the human face of Taliban (though it has none) by shedding tears on the plight of the common people. Like most Urdu writers, he has used rhetoric and emotional rants spiced by Urdu couplets to arouse public sympathy in favour of the Taliban covering up their inhuman terrorist activities killing everyone who disagrees with them. They did not hesitate even to attack a 13 year old Muslim girl for peacefully opposing their policy. This article shows their duplicity in the worst form. We at New Age Islam will keep exposing this duplicity of these terror mongers and enemies of Islam.—Edit Desk, New Age Islam

 

اس مضمون کے مصنف  ممنوعہ دہشت گرد تنظیم  سپاہ صحابہ کے سابق سربراہ اور پنجابی طالبان کے  امیر  عصمت اللہ معاویہ ہیں۔ اس مضمون میں  انہوں نے جمہوریت پر طالبان کے موقف  کا اعادہ اور مولانہ مودودی کے اس  نظرئیے کی تائید کی ہے کہ جمہوریت  ایک غیراسلامی اور کفر پر مبنی نظام حکومت ہے۔ فی زمانہ وہ پاکستانی حکومت کے ساتھ ‘معنی خیز ’ گفتگو کے خواہاں ہیں جو کہ ناقابل فہم  بات ہے کیونکہ طالبان حکومتِ پاکستان کو  کافروں کی حکومت قرار دے  چکے ہیں جبکہ اس میں وزیروں کی اکژیت مسلما ن ہے اور ملک کے قانون کی بنیاد اسلامی شریعت پر ہے۔

اس مضمون میں مولانا نے  یہ باور کرانے کی جی توڑ کوشش کی ہے کہ پاکستان کے سماجی ، سیاسی اور معاشی مسائل اسی 65 سالہ جمہوریت کا ثمرہ ہے جو کفر پر مبنی ہے اور یہ کہ صرف طالبان ہی   اس ملک کو بدعنوانی کے دلدل سے نکال  سکتے ہیں۔

یہ امر قابل  غور ہے کہ  طالبانی علماء پاکستان کےعوام کے  عام مسائل کا تذکرہ تو کرتے ہیں   اور غریبی ، لیڈروں کی بدعنوانی، حکومت پر قابض جاگیرداروں اور نوابوں کے ذریعہ ملک کی دولت کی لوٹ پر عوام کی ہمدردی میں گھڑیالی آنسو بھی بہا تے ہیں  مگر وہ شیعوں کے قتل ، صوفیوں کے مزاروں  کی تباہی اور رہائشی اور تجارتی علاقوں میں  شہریوں پر  خود کش حملوں کا کبھی  ذکر نہیں کرتے۔ لہذاٰ، اس مضمون میں مولانا نےعوام کے دکھوں پر مگر مچھ کے آنسو بہا کر  انہیں  طالبان کا انسانی چہرہ  ( جو سرے سے ہے ہی نہیں ) دکھانے کی کوشش کی ہے۔ اردو کے بیشتر شعراء کی طرح  انہوں نے جذباتی نعروں اور لچھے دار زبان کے ساتھ ساتھ اشعار کااستعمال کر کے طالبان کی انسانیت سوز سرگرمیوں اور مخا لفین کے قتل کی پالیسی  پر پردہ ڈالنے اور  طالبان کی حمایت میں عوامی ہمدردی بٹورنے  کی کوشش کی ہے۔ مگر یہ بات بھلائی نہیں جا سکتی کہ انہیں  انکی پالیسی کی پرامن طور پر مخالفت کرنے والی ایک 13 سالہ لڑکی پر جان لیوا حملہ کرنے میں بھی شرم نہیں آئی۔ اس مضمون میں بھی انکی  دوغلی پالیسی پوری طرح ظاہر ہو گئی ہے۔ نیو  ایج اسلام انکی اسی دوغلی پالیسی کو بے نقاب کرتا رہے گا۔۔۔۔ نیو ایج اسلام ایڈٹ  ڈسک   

---------------

 

مولانا عصمت اللہ معاویہ

اَلْحَمْدُ للہِ وَ حْدَہُ ، اَلْذی ھَزَمَ ا لْاَ خْزَبَ وَ حْدَہ، وَ نَصَرَ عَبْدَہ، وَالصَّلوٰۃُ وَ السَّلامُ علَی نَبِّی السّیفِ وَ نَبِّی الْمَلاَ حِمْ ، اَلّذِیْ اُ رْسِلَ لِیُحِقَّ الْحَقَّ وَ یُبْطِلَ وَ یُظْھِرَ دِیْنَہُ عَلیٰ اَدْیاَنِ کُلّہٖ۔ اعوذ بااللہ من الشیطن الرجیم ، بسم اللہ الرحمن الریم ، ۔ فَلاَ وَرَبّکَ لاَ یُوْ مِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکَّمُوْک فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَھُمْ ثُمَّ لا یَجِدُو ا فِیْ اَنْفُسِھِمْ حَرَ جًا مِمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلَّمُوْاَ تسْلِیْما۔

جس خون شہیداں سے اب تک یہ پاک زمین گل رنگ ہوئی ۔

اُس خون کے قطرے قطرے سے طوفان اُٹھا کر دم لیں گے۔

ہرازم کے بت کو توڑیں گے اسلام سے رشتہ جوڑیں گے۔

باطل کو مٹا کر چھوڑیں گے اسلام کو لاکر دم لیں گے۔

قرآن ہمارا رہبر ہےاسلام ہماری منزل ہے۔

اس پاک وطن میں اسلامی دستور بنا کر دم لیں گے۔

فرعون بنے جو پھرتے ہیں ڈھاتے ہیں ستم کمزو ر وں پر۔

ان سرکش و جابر لوگوں کو قدموں پہ جھکا کر دم لیں گے۔

اب آگ نہ جلنے پائے گی نمرود صفت عیاروں کی ۔

ہم رحمت حق سے شعلوں کو گلزار بنا کر دم لیں گے۔

آج بہت کچھ بدل گیا ، ترجیحات بدل گئیں ، افکار و خیالات بدل گئے ، طور و اطوار بدل گئے ، آج  ہم ایسے مریض کی طرح ہوگئے ، جسے دودھ اور شہد بھی بد ذائقہ محسوس ہونے لگتے ہیں ۔ حالانکہ اس میں دودھ اور شہد  قصور وار تو نہ تھے۔ خود اس فردِ  بیمار کے منہ کا ذائقہ  ہی بدل گیا ۔مگر ان تمام تحفظات سے بالاتر ہوکر مجھے تو محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری امت تک امر با المعروف اور نہی  عن المنکر کا فریضہ  ادا کرنا ہے۔ مخبرِ صادق صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔

وَ الذِی نَفْسِی بِیدہ لَتَا مُرَنَّ بِا المَعْرُوفِ وَ تَنْھَوْونَ عنِ المُنْکرِ اَوْ لَیُو شکَنَّ اللہَ اَنْ یَبْعَثَ عَلَیْکم عِقَا باً مِنہُ ثُمَّ تَدْ عَو نَہُ فَلَا یُجَا بَ لَکُم

قسم ہے اُس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے۔ تم ضرور نیکی کا حکم دو، او ربرُائی سے منع کرو۔ ورنہ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ تم پر عذاب مسلّط کردے پھر تم اس سے دعا ئیں  کروگے لیکن وہ قبول کرے گا ۔

اگر ہم برُائی کی طوفان بد تمیزی پر خاموش رہیں، اور رب کی بغاوت پر مصلحت اور چشم پوشی، زبان بندی سے کام لیتے رہیں ، تو یقیناً نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا، کہ پھر عذاب کاہمیں انتظار کرنا ہوگا۔ اپنی دعاؤں کے مرد ود ونا مطلوب کا بھی انتظار کرنا ہوگا۔کیوں نہ اس عارضی جان کو راہِ خدا کی نظر کردیا جائے ۔ ایسی بنیاد میں اپنا خون دے جائیں جس کی عمارت ‘‘امارت اسلامی ’’ کہلائے ، اور نظام ‘‘نظام اسلام’’ کہلائے ۔ رب کاکلمہ بلند ہو۔ شریعت  نافذ نظر آئے ۔ ہم بے خوف ہیں۔ ہم زندگی  کے ہر سانس کو آخری سانس سمجھ کر، ہر لقمے  کو زندگی کا آخری  لقمہ سمجھ کر، ہر قدم کو زندگی کا آخری قدم سمجھ کر اُٹھارہے ہیں۔ ہم اس عارضی زندگی پہ اُخروی او رہمیشہ کی زندگی کو ترجیح  دے چکے، اس لیے دشمن اسلام کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر حکمرانانِ پاکستان کے سامنے سینہ تان کر حق بات کہہ رہے ہیں ۔ہمارے سروں پر منڈ لاتے ڈرون طیارے ہمیں ذرہ برابر بھی خوف زدہ نہ کرسکے ، حالانکہ ہم اپنے سیکڑوں ساتھیوں او رہر دل عزیز قائدین کو اپنے ہاتھوں سے قبرو ں میں اُتار چکے ، ہم اس صورت میں اپنے رب کے حضور حاضر ہونا چاہتے  ہیں کہ جابر حکمرانوں نے کلمہ حق کہنے کی بنیاد پر ہمارے خون کو اپنے لیے حلال بنا لیا تھا ۔اے میرے پاکستانی بھائیو! میرا ایک ایک لفظ میرے شہید بھائیوں کی امانت ہے۔ جو میں تمہارے حوالے کررہا ہوں ۔ میرا ایک ایک جملہ شریعت کا آئینہ  دار اور مظلوموں کی صدا ہے، جو میں تمہارے دروازوں پر دستک کی طرح  سنانا چاہتا ہوں ۔ میں تمہیں رب کا واسطہ دےکر کہنا چاہوں گا کہ میرے ایک ایک لفظ پر غور کرنا عمل کے لیے قدم  بڑھانا ،دعاؤں کے لیے ہاتھ اُٹھانا آپ کی ذمہ داریوں میں سے ہے ۔ آج ملک پاکستان اندرونی  انتشار اور بیرونی کھلی جارحیت کا شکار ہے۔ افراتفری کا عالم ہے۔ بد امنی و بے سکونی کا راج ہے۔ چور بازاری  عام ہے۔ جبر وستم ، ظلم و سربریت کی شاہی ہے ۔ تھانے دار او رپٹواری  سے لے کر ایوان ہائے اقتدار  تک چور اور ڈاکوں کا جمِ غفیر عوام کی جمع پونجی  رشوت ، سود، ٹیکسز او رمہنگائی کےذریعے  لوٹ رہے ہیں۔ لوٹ مار، قتل و غارت گری، عزتوں کی پامالی روز کا معمول ہے۔ غریب کی قمیض  تک اتر چکی ، گلے میں روٹی لٹکائے وہ دہائیاں دیتا پھر رہا ہے ۔ حکمران سوئٹز ر لینڈ  کے بنک بھر چکے ۔ دبئی ، امریکہ، برطانیہ تک ان کی جائیداد پھیل گئیں۔ غریب کو نہ سایہ میسر ہے نہ کھانا دستیاب ، کوئی حیدر آباد کے بازاروں میں بچے  بیچ  رہا ہے ، تو کوئی مینار پاکستان پر خود سوزی کررہا ہے۔

پیٹرول ....... ڈیزل ...... گیس ...... بجلی ....... موت کے پھندے بنادیے گئے ۔ جن کا سوچ کر غریب کا سانس بھی اس پر بھاری ہوگیا، غریب  غربت کی قبر میں گاڑدیا گیا ۔ امیر تاروں پر بستر دراز کئے دکھائی دیتا ہے ۔ قارئین محترم! یہ  ناانصاف معاشرہ ، یہ ظلم پر مبنی رویے ، یہ خون  نچوڑ نے والی جونکیں  ہم پر کیوں مسلّط  ہیں۔ یہ مرض  کیوں متعدی ہوگیا ۔ اسباس ڈھونڈ نے ہوں گے۔ ان بیماریوں کا علاج کرنا ہوگا ۔ قارئین  ذی قدر!  بس مجھے آپ سے یہی کہنا  ہے۔ ظلم و نا انصافی کے اسباب کیا ہیں۔ ظالم و نا انصاف کون ہیں۔ ان کا علاج کیا ہے۔ ان ظالم نظام کے رکھوالوں  کے نزدیک اٹھارہ کروڑ پاکستانیوں کی حیثیت  غلاموں اور کیڑوں مکوڑوں سے زیادہ نہیں ۔ لہٰذا یہ ظالم حکمران اپنا حق سمجھتے  ہیں کہ ان کے ان مظالم کو سب سبر و چشم قبول کریں۔ نہیں، بس نہیں ، بہت ہوگیا۔

نہ مری جان، نہیں ، یہ تو نہیں ہوسکتا

درد جاگا ہے جواب اور نہیں  سوسکتا

اب تو تبدیلی حالات کی خاطر ہم کو

جادِ شوق سے ہر خار ہٹا دینا ہے

جس کے دامن پہ ہیں میرے لہو کے چھینٹے

ایسے قاتل کو سرِعام سزا دیتا ہے

کارواں راہ محبت پہ چلانے کے لیے

ہم نے انداز ، قیادت کو نیا دینا ہے

پھر وہی چہرے نئی  چال سے آہی نہ سکیں

منصف وقت کو دو ٹوک بتا دینا ہے

65 سال گزر گئے ...... اس ظالمانہ نظام کی چکی تلے ، رب کی بغاوت کے سائے میں مسلمانوں کی نیک خواہشات او ربنیادی حقوق کا استحصال کرتے ہوئے نسل در نسل ہم پر مسلّط یہ حکمران اور جرنیل انگریز کی آکسفورڈ ، کیمرج یونیورسٹیوں کی نرسری کی یہ  پیدا وار  یہ سر، یہ نواب، یہ خان دراصل انگریزوں  کے حقیقی وارث  ، گورے ٹیچروں کے کالے مانیٹر  ہیں ۔ جو ہم پر مسلّط ہیں۔ یہ عیاش عریاں طبیعتوں کے مالک غریب سے لقمہ  چھیننے کے بعد اب غریب کی بیٹی  کے سرکا دوپٹہ  بھی اُتار نا چاہتے ہیں۔ دراصل یہ چاہتے ہیں کہ لو گ غیرت ، حمیت ، عزت ، اور ناموس تک کو بھول جائیں ۔ تاکہ اس گندے  تالاب اور جوہڑوں میں پلتے ان مگر مچھوں سےکوئی کبھی بھی جان نہ چھڑواسکے ۔ ہم پر مسلّط  وڈیرہ شاہی، نو کرشاہی ، سرمایہ دار ، جاگیر دار کبھی بھی  نہیں چاہتے کہ وہ انگریز سرکار کے سامراجی  نظام سے ایک انچ بھی پیچھے  ہٹیں ۔

 یہ آج کی نہیں 65 سال پرانی کہانی ہے۔ جب پانچ لاکھ شہد ا لہو دے چکے ۔ اسلام کے نام پر یہ پیارا ملک حاصل کرلیا گیا ۔ چاہیئے تو یہ تھا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر اسلام نظام حکومت کرواتے ، اور اسلامی اصولوں کے مطابق حکومت کا قیام عمل میں لایا جاتا۔ ہمارے ساتھ دھوکہ ہوا۔ ہمارا پہلا چیف آف آرمی اسٹاف ایک انگریز ہم پر مسلّط کیا گیا، پہلا وزیر قانون ایک ہندو مسلّط کیا گیا،پہلا وزیر خارجہ ایک آغاخانی مسلّط کیا گیا، 1951 سے لے کر 1959 تک آئی ایس آئی کا سربراہ ایک انگریز مسلّط رہا ۔ پاکستان کی پہلی اقتصادی  معاشی  کمیٹی کے پندرہ  ارکان میں سے گیارہ امریکن مسلّط کیے گئے تھے ۔ پاکستان کی نامور ملٹری  اکیڈمی کا کول کیڈٹ کالج کا پہلا بریگیڈ یئر ایک  انگریز رہا ۔ جنرل یحییٰ ، جنرل ایوب ، جنرل ضیاء الحق تک  تمام رائل انڈین آرمی کے کمیشنڈ آفیسر تھے ۔ جو پاکستان کے حصہ میں آئے اور گل کھلاتے رہے ۔ یہی وجہ تھی کہ جب 50 کی دہائی میں  ملاّ ایپی فقیر رحمۃ اللہ علیہ نے شریعت کا مطالبہ کیا تو پاکستانی فضائیہ  نے ان مجاہدین پر چڑھائی کی اور شدید بم باری کی ۔ جب ستر (70) کی دہائی میں تحریک نظام مصطفیٰ نے اسلام کا مطالبہ  کیا تو  دس ہزار پاکستانی  شہریوں کو لاہور او رپشاور کی گلیوں میں موت کے گھات اتار دیا گیا۔ یہاں ختم نبوت  جیسے بنیادی اسلامی عقیدے کے لیے  قربانیاں  دینا پڑیں ۔

اسلام کے نام پر حاصل کیے جانے والے اس ملک میں شریعت کے مطالبے کی سزا موت ہے، گم نام قبریں   ہیں، ہجرتیں ہیں، جلی سڑی گم نام لاشیں ہیں ، مسخ  شدہ لاشیں ہیں، لاپتہ  قیدی ہیں، بلکتے بچے ، تڑپتی مائیں آہیں  لیتے بوڑھے ہیں،جیسا کہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہوا۔ قارئین ذی وقار ! انگریز جاتے جاتے  بچے اور گندے انڈے دونوں کو چھوڑ کر گیا۔ ہم ایک سازش  کے تحت  دو طبقے انگریز نے مسلّط کیے۔ (1) رائل انڈین آرمی کے تربیت  یافتہ  جرنیلوں  کے ماتحت اسٹبلشمنٹ کا طبقہ (2) جاگیر داروں ، سرمایہ داروں ، وڈیروں ، نوابوں پر مشتمل سیاست  دانوں کا طبقہ ۔ بس 65سال سے ہم چکی  کے  ان دو پاٹوں میں پڑے پس رہے ہیں۔ دونوں باری باری  ہم پر مسلّط  ہوجاتے ہیں ۔ کبھی  جرنیل  سیاست دانوں کو کرپٹ کہہ کر ہم پر مسلّط  ہوجاتے ہیں ۔ تو عوام مٹھائیاں تقسیم کرتے ہیں۔ او رکبھی سیاست دان جرنیلوں کو آمر کہہ کر باری کے تحت  ہٹاتے ہیں ، تو پھر بھی عوام مٹھائیاں  تقسیم کرتے ہیں۔

جمہوریت اور آمریت  کے اس چوہے بلی  کے کھیل  میں عوام کو تماشہ  بنا دیا  گیا ۔  آخر کب تک ہم آمریت اور جمہوریت جیسے اسلام مخالف ظالم نظاموں میں گھن کی طرح پستے رہیں گے ۔ اے لوگو! کب تک اس ظالمانہ کافرانہ نظام کے تحت ہم در پر دہ کفار کی غلامی کرتے رہیں گے ۔ یہ ملک اسلام کے نام پر لیاگیا ، اس کی مٹی کا مقدر اسلام ہے۔ ہماری تباہیوں  اور بربادیوں اور تمام بیماریوں  کا علاج بھی اسلام ہی ہے۔ جن جاگیر داروں نے سرمایہ اور جاگیراروں کی وجہ سے ہم پر حکومت قائم کر رکھی ہے ۔ کیا یہ وہی لوگ نہیں ہیں جن کے آبا انگریزوں کے وفادار تھے ۔ کیا یہ وہی جاگیر یں نہیں  جو انگریز کی عطا کردہ ہیں۔ (جاری ہے)

نوائے افغان جہاد ،  دسمبر ، 2012

URL:

 http://www.newageislam.com/urdu-section/system-based-on-atheism-and-democracy-is-not-acceptable-part-1-(ہمیں-نظامِ-کفر-قبول-نہیں-(قسط-1/d/10032

 

Loading..

Loading..