New Age Islam
Sun Apr 11 2021, 12:20 PM

Urdu Section ( 4 March 2013, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Talibani Ideology That Declares The Friendship of Infidels ‘Fitna’ Must be Rebutted by Muslims- Final Part غیر مسلم کی دوستی کو فتنہ قرار دینے والے طالبانی نظریہ کی تردید مسلمانوں کی اجمتاعی ذمہ داری

 

طا لبان کے ترجمان رسالے نوائے افغان جہاد کے اس مضمون میں طالبانی مفتی غیر مسلموں سے کسی بھی طرح کے تعلقات رکھنے کو غیر اسلامی اور کفر قرار دیتے ہیں   اور اس طرح سے دنیا کے نصف حصے میں بسنے والے مسلمانوں کے لئےجو اقلیت میں ہیں اور انکا روزوشب غیر مسلموں سے واسطہ پڑتا ہے  غیر مسلموں سے تعلق توڑ کر زندہ رہنا دشوار ہی نہیں نا ممکن ہے یہ پاکستان جیسے مسلم اکثریت والے ملک میں رہنے والے طالبانی کیا جانے۔ پھر اس عذر کے جواب میں  وہ یہ کہتے ہیں کہ اگر غیرمسلم اقلیت والے ملک میں رہنا مسلمانوں کے لئے ممکن نہیں تو خدا کی زمین بہت کشادہ ہے وہاں سے ہجرت کیوں نہیں کرجاتے ایسے ملک میں جہاں مسلمان اکثریت میں ہوں۔ مگر شاید وہ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ آج کے جدید دور میں ایک ملک کی سرحد سے  نکلنا کتنا مشکل ہے اور اگر کسی طرح سے مظلوم مسلمان مسلم اکثریت والے ملک میں داخل بھی ہو جاتے ہیں تو وہاں کی اسلامی حکومت انہیں اپنانے سے انکار کردیتی ہے۔ مثال کے طور پر جب برما میں مسلمانوں کا قتل عام ہوا اور وہاں کے مسلمان بنگلہ دیش میں پناہ کے لئے داخل ہوئے تو وہاں کی حکومت  جو مسلموں کی حکومت ہے نے انہیں اپنے یہاں پناہ دینے سے انکار کر دیا۔ یہ لوگ آج در در کی ٹھوکریں کھارہے ہیں۔ اسی طرح پاکستان کی تقسیم کے بعد بنگلہ دیش کے اردو داں طبقے نے بنگلہ دیش کو اپنا وطن ماننے سے انکار کردیا اور پاکستان واپس آنا چاہتے ہیں مگر پاکستان انہیں اپنانے کو تیار نہیں ہے ۔ لہذا وہ گذشتہ ۴۰ برسوں سے بنگلہ دیش کے رفیوجی کیمپوں میں کسمپرسی کی ذندگی گذار رہے ہیں۔ طالبان اگر دین کے اتنے ہی بڑے پیرو ہیں تو حکومت پاکستان سے کہ کربرما اور بنگلہ دیش کے خانماں  برباد مسلمانوں کو پاکستان میں بسانے کا انتظام کرے۔

اسلام پڑوسیوں اور ہم وطنوں اور رفقائے کار سے حسن سلوک کی تلقین کرتاہے اور اس میں کسی مذہب  کی بنیاد پر تفریق کو روا نہیں رکھتا۔اسلام صرف ان غیر مسلموں سے دور رہنے کا مشورہ دیتاہے جو مسلمانوں کے خلاف جارحانہ رویہّ اختیار کرتے ہیں، ان کے خلاف سازشیں کرتے ہیں یا سازشوں  میں اعانت کرتے ہیں یا ان کی جاسوسی کرتے ہیں۔قرآن کا حکم اس معاملے میں بہت واضح ہے۔ذیل میں ہم  اس مضمون کو پیش کررہے ہیں تاکہ قارئین طالبان کے خطرناک نظریات  سے آگاہ ہوسکیں اور اس کے سدباب کا کوئی اجتماعی حل ڈھونڈ سکیں ۔۔ نیوایج اسلام ایڈٹ ڈیسک

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مولانا عبدالستار مدظلہ العالی

جنوری، 2013

مسلمانوں کی خصوصیات:

مسلمانوں کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

أَذِلّۃٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَی الْكَافِرِين (المائدہ :54)

‘‘ (ایمان والے) مومنوں پر (آپس میں ) نرمی کرنے والے (خیر خواہی کرنے والے ،نرم دل) اور کافروں کےمقابلے میں سختی کرنے والے (سخت دل) ہیں’’۔

اللہ رب العزت نے مسلمانوں کو کفار سے دوستیاں کرنے سےمنع فرمایا ہے۔ صریح انداز میں منع فرمایا گیا کہ آپ ان کو اپنا قابل اعتماد بنائیں ، اپنی راز کی باتیں  بتائیں یا آپ کو ان کا طرز زندگی  پسند آجائے یا آپ اپنے فارغ اوقات ان کے ساتھ گزاریں یا آپ ان کی محفلوں میں اور وہ  آپ کے محفلوں میں، دعوتوں  میں ،تقریبات میں مسلسل آنے  جانے کا سلسلہ شروع کردیں یا آپ مسلمانوں کو چھوڑ کر ان کی مدد کریں ، آپ مسلمانوں کو چھوڑ کر ان کے ساتھ تعاون کریں، یہ سب  امور حرام ہیں۔ ان میں سے بعض چیزیں کفر کے درجے کی ہیں مسلمان کافروں سے ایسی محبت کرے کہ ان کے دین  کو بھی پسند  کرے اور ان کے نظریے  کو بھی اچھا  جانے اور ان کے ساتھ ہر قسم کی مدد بھی  کرنے لگے تو یہ کفر کے درجے میں ہے۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ جو ان سے دوستی کرے گا وہ انہی میں سے ہوگا، وہ بھی کافر ہوگا اس کا ایمان ختم ہوجائے گا۔

کافروں سے محبت گناہِ کبیرہ ہے:

کچھ معاملات ایسے ہیں کہ وہ کفر تو نہیں لیکن کبیرہ  گناہیں مثلاً دل سے ان کے ساتھ محبت کرنا ، اس سے اللہ نے بڑی سختی سے منع فرمایا ہے۔ اس لیے کہ جب دوستی  ہوتی ہےتو پھر اس کا لازمی نتیجہ  یہ ہوتاہے کہ مسلمان آہستہ آہستہ  اسی رنگ  میں رنگ جاتا ہے۔ اسی کافر دوست کے رنگ میں رنگ  جاتا ہے ، اسی دوست کے کھانے پینے کا انداز اختیار کرنے لگتا ہے ، اسی دوست کی عادات اختیار کرنے لگتا ہے ، اسی دوست کی طرح  باتیں کرنے لگتا ہے ۔ اسی کی مشابہت  اختیار کرنے لگتا ہے ۔ حدیث  میں ایسے  شخص کے بارے میں بہت سخت و عید آئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو کسی کی مشابہت  اختیار کرے گا تو قیامت میں اسی کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔

دوسری صورت یہ ہو تی ہے کہ جب کافروں سےدوستی ہوجاتی ہے تو کافروں کے ملک میں  رہنا پسند آتا ہے، وہیں اس کی زندگی  گزرتی ہے ۔ اللہ رب العزت نےایسے  لوگوں کے بارے میں  فرمایا ہے کہ جب ان لوگوں کی روح قبض ہوگی اور فرشتے ان کے اوپر سختی  کریں گے تو یہ کہیں گے کہ اے اللہ! ہم اس ملک کے اندر کمزور تھے، ہم دین پر اس لیے نہیں  چل سکے کہ کفر کا نظام تھا، کفر کا قانون تھا، کفر کا ماحول تھا، بے دینی تھی تو انہیں جواب ملے گا کہ کیا اللہ کی زمین کشادہ ت نہ تھی کہ تم ہجرت کر لیتے اور اپنا ایمان بچا لیتے؟ تمہیں پیٹ بچانے کی فکر توہوئی اور ایمان بچانے کی فکر نہیں ہوئی، اللہ کی زمین تو بہت کشادہ تھی۔ باقی اگر یہ عذر ہو کہ کمانے کے لیے وہاں نہ جائیں تو کہاں سے کھائیں گے؟ تو قرآن مجید میں اللہ پاک کا ارشاد ہے:

وَكَأَيِّن مِّن دَابَّۃٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقھَا اللّہُ يَرْزُقھَا وَإِيَّاكُمْ وَھُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (العنکبوت:60)

‘‘ اور کتنے جانور ایسے ہیں جو اپنی روزی کا بوجھ (ذمہ داری) اٹھا نہیں سکتے۔ اللہ  ا ن کو بھی او ر تمہیں بھی روزی دیتا ہے’’۔

ارے! ذرا پرندوں کو دیکھ کر عبرت پکڑ لیا کرو کہ صبح  وہ اپنے گھونسلو ں  سےنکلتے ہیں تو ان کے پیٹ خالی ہوتے ہیں اور شام کو جب وہ واپس آتے ہیں تو ان کے پیٹ بھرے ہوئے ہیں۔ اللہ انہیں روزی دیتا ہے تو تمہیں بھی دے گا ، ضرور دے گا۔

تو میرے دوستو! جب دوستیاں ہونے لگتی ہیں تو پھر آدمی اسی دوست کے ماحول میں زندگی  گزارنے لگتا ہے۔

کفار سے دوستی کا نقصان:

اسی  طرح جب کافروں سے دوستیاں ہوجاتی ہیں تو مسلمانوں کے بجائے  کافروں کی مدد کی جاتی ہے۔ ان کے ساتھ تعاون کیا جاتا ہے، ا ن کی ترقی میں ان کا معاون  و مددگار بنا جاتاہے حالانکہ  اللہ رب العزت نے اس سے منع فرمایا ہے اور اسی  طریقے سے جب دوستیاں ہوجاتی ہیں تو کافروں کی جو خاص رسومات ہوتی ہیں  جیسے یوم  پیدائش ہوگیا ، کرسمس  ہوگئی، ان کی مذہبی  رسومات  ہوگئیں ، ان کے مذہبی  طور طریقے ہوگئے یا ان کے معاشرے کی خاص تاریخیں  جن میں  وہ خوشیاں  کرتے ہیں  او رمجالس  قائم کرتے ہیں ان کے اندر مسلمان شریک ہونے لگتا ہے ۔ جب  کہ قرآن  کریم ایمان والوں کے بارے میں اعلان  کرتا ہے کہ جو خالص  ایمان  والے ہوتے ہیں  وہ ان محفلوں  میں شریک نہیں ہوتے ۔ مگر جب دوستی ہوجاتی ہے تو پھر چونکہ دوست آغا خانی ہوتاہے، ہندو ہوتا ہے  ، عیسائی ہوتا ہے، اس کے برتھ ڈے ہوتی ہے تو اس کے لیے جاتے ہیں اور وہاں کھانا بھی کھاتے ہیں ۔ اور اب تو اسکول اور کالج کے نوجوان مسلمان لڑکے ان کی مذہبی  رسومات میں بھی شریک ہوتے ہیں....... اس لیے کہ جب پڑھتے ہی عیسائیوں کے اسکول میں  ہیں ان کی تربیت  وہاں ہوتی ہے تو پرنسپل  یا استاد کے بلاوے یا دعوت پر انہیں  جانا پڑتا ہے اور ان کی مذہبی رسومات میں بھی  شریک ہونا پڑتا ہے۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا واقعہ:

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ توریت اٹھائی اور اسے کھولا ہی تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ دیکھا کہ تو غصے کی وجہ سے چہرہ  سرخ ہوگیا ۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ  نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ہاتھ مارا  او رکہا کہ عمر کیا کررہے ہو؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے  کی طرف دیکھو ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نےفوراً کہا : یا رسول اللہ ! میں اسلام پر راضی ہوں، آپ کو رسول مانتا ہوں  اور الہ کی وحدانیت کا قائل  ہوں ۔ آپ مجھے معاف فرمادیں۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! اگر آج موسیٰ علیہ السلام بھی زندہ ہوتے تو وہ بھی میری شریعت کا اتباع کرتے، وہ بھی میری  ہی نبوت کے تابع  ہوکر زندگی  گزارتے۔ اندازہ لگائیے  کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ توریت صرف دیکھ رہے تھے او ربہت  بڑے درجے کے صحابی او رمضبوط ایمان والے  تھے۔ کیا ان کے ایمان  کے بارے میں  کسی قسم  کا خطرہ تھا؟ نہیں! لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر بھی غصہ  کا اظہار کر کے یہ سمجھادیا کہ غیروں کے طور طریقے اور رسوم و رواج مسلمان کو زیب نہیں دیتے۔

آج کہتے ہیں کہ جناب نہیں ! میں تو صرف تھوڑی ریسرچ کررہا ہوں تاکہ دیکھ تو لو کہ یہ کیا کہتے ہیں ۔ حالانکہ  اپنے ایمان  کی بنیاد یں کمزور ہیں اور غیر وں کی مذہبی کتابوں کا مطالعہ  کررہے ہوتے ہیں اور پھر اسی وجہ سےان کے نظریات  سے متاثر ہونے لگتے ہیں۔ اس لیے ان کافروں سے دوستیوں کا نتیجہ  ہی یہ ہوتا ہے کہ مسلمان ان کی رسومات میں ، ان کی مذہبی مجالس میں شریک ہونے لگتا ہے ۔ اسی طرح آہستہ آہستہ دوستی  سے متاثر ہوکر ، ماحول  سے متاثر ہوکر ان کی نقالی شروع کردیتا ہے حتیٰ کہ نام بھی ان سے ملتے جلتے  رکھنے لگتا ہے۔

ذہنی غلامی کا ایک اور نتیجہ :

آج مسلمان گھرانوں میں نئے نئے نام سننے میں آتے ہیں۔ پہلے مسلمانوں کے نام معروف ہوا کرتےتھے، ان کے آباؤ اجداد سےچلا کرتے تھے، نام سنتے ہی معلوم ہوجاتا تھا کہ یہ مسلمانوں کی برادری سےتعلق  رکھتا ہے ۔ اب نام ایسے رکھے جاتے ہیں کہ پتہ ہی  نہیں چلتا  کہ یہ کون سی برادری  ہے۔ مسلمانوں کی  ہے یا کسی اور کی ہے۔ پیارے  رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بہترین نام بتائے ہیں کہ بہترین نام ‘‘ عبداللہ’’ ، ‘‘ عبدالرحمٰن ’’ اور حضرت انبیاء کے نام ہیں اور ان میں سے سب سے افضل  نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے کا نام ‘‘محمد’’ اور ‘‘احمد’’ ہے۔

لیکن اب کیا ہے کہ آباو اجداد  سے جو نام چلے آرہے ہیں وہ پسند نہیں ہیں، اب نئے نئے  نام رکھے جاتے ہیں۔ کسی فن کار کا نام سن لیا، کہیں کہانی میں پڑھ لیا، کسی  اداکار نے کچھ کہہ دیا، کسی  میگزین  میں آگیا، بس نیا نام رکھ لیا، نہ معنی پتہ، نہ مفہوم کا کچھ خیال۔ تو یہ اسی تہذیب سے متاثر ہیں، فلمیں  دیکھتے ہیں ، ان کے اندر جس قسم کے نام استعمال کیے جاتے ہیں ، ویسے ہی نام رکھتے ہیں ۔ اس لیے کہ کسی  کے نام پر اپنی اولاد کے نام تب ہی رکھے جاتے ہیں جب دل  میں ان کی عظمت بیٹھتی  ہے ۔ ہمارے گھر میں  اگر کوئی چپڑاسی یا بھنگی  آئے تو ہم اپنے بچے کا نام اس کے نام پر تو نہیں رکھیں گے، اسی  کے نام پر اپنے بچے کا نام رکھیں گے جو ٹی وی  ، فلم یا اسٹیج کا کوئی بڑا اداکار یا ہیرو ہوگا۔ پہلے ان کی عظمت دل میں آتی ہے پھر بچوں کا نام بھی ان کے نام جیسا  رکھتے ہیں۔

پہلے مسلمان اپنی اولاد کے نام صحابہ کرام رضی اللہ عنہ ، تابعین ، محدثین  اور فقہا کے نام پر رکھنے میں  سعادت سمجھا کرتے تھے لیکن جب سےکفار اور کفار  کے ایجنٹوں سے متاثر ہوئے ہیں، ان سے دوستیاں  کی ہیں، تعلق  بنایا ہے تو مسلمان بھی اپنے بچوں کا نام ان کے ناموں پر رکھنے لگے ہیں۔

اہل کفر کی دوستی  سے بچنے کا طریقہ:

اس لیے میرے  عزیزو ! اس فتنہ سے نکلنے  کا راستہ  یہ ہے کہ ہم ایمان کے تقاضوں کو پورا کریں، ان میں  سے ایک تقاضایہ  ہے کہ ہماری  محبت، نفرت، غصہ اور سختی  خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہو، اپنی ذات کے لیے  نہ ہو۔ ہم اللہ کے لیے محبت  کریں، اللہ کے لیے دیں، اللہ کے لیے روکیں اور جہاں اللہ نے نفرت  کرنے کا حکم دیا ہے وہاں اللہ ہی  کے لیے نفرت کریں۔

کافروں کی ذات سے نفرت نہیں ہے:

دیکھئے ! ہمیں کافروں کی ذات سے نفرت نہیں ہے لیکن جب ان کی ذات کفر اختیار کرتی  ہے تو قابل نفرت  ہوجاتی  ہے۔ ہاں  اگر یہی  ذات اسلام کے لبادے  میں آجائے تو ہم اسے سینے سے لگالیں  گے کیونکہ ذات سے نفرت نہیں ہے۔ لیکن جب ذات کفر اختیار کررہی ہے تو قابل نفرت ہوگی اس لیے کہ جہنم  میں اس  لیے کہ جہنم میں اس کی  ذات ہی  تو جائے گی، نظریہ تو نہیں  ہوجائے گا ۔ ہاں ذات سے نفرت بایں  معنی نہیں کہ اگر کلمہ  پڑھ لے  تو اسلامی  برادری  یہ نہیں  کہے گی کہ توُ تو کافر تھا۔ نہیں ایسا نہیں  ، نفرت  تیری ذات  سے نہیں بلکہ  تیرے  نظریے  سے تھی۔ توُ نے وہ چھوڑ  دیا اب تو ہمارا اسلامی  بھائی ہے او رہمیں قبول  ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس  یہودی  آیا اور  اسلام قبول کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے گلے لگا لیا۔

اسے حیرت ہوئی  کہ میں ابھی کافر سے مسلمان  ہوا ہوں او رمسلمانوں کے آقا نے مجھے گلے لگالیا ہے، میرے پسینے ، میرے گندے کپڑوں کا خیال بھی نہیں کیا ۔ دیکھ کر  حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا ‘‘  اس کی فکر نہ کرو، اللہ تعالیٰ  تمہارے  اس پسینے کو جنت  کی خوشبو سےبدل دےگا ’’ ۔ چونکہ  تمہارے دل  کی دنیا  ایمان کے نور سے  چمک اٹھی ہے اب تمہارے  اس ظاہر ی گندگی کی وجہ سے اللہ کے ہاں تمہاری  قدر و منزلت میں کوئی کمی  نہیں آئے گی۔

تو میرے عزیزو! ذات سے  دشمنی  نہیں ہے بلکہ  ان کے کفر یہ نظریے سےدشمنی  ہے۔ انہیں دنیا کی اتنی بڑی سچائی سمجھ نہیں آرہی کہ اس کائنات کا ایک خالق  ہے، دنیا  کی اتنی بڑی صداقت  سمجھ میں نہیں  آتی جو اسلام کی صورت  میں ہےلہٰذا  ان سے بڑا احمق کوئی  نہیں ہے۔ لوگ کہتے ہیں  کہ یہ بڑے سمجھ دار ہیں۔ ارے سمجھ  دار ہوتے  تو دنیا کی سب سے بڑی سچائی کے قائل  ہوتے، ان کا انکار کبھی نہ کرتے۔

اسلام دنیا کا سب سے سچا مذہب ہے:

اسلام دنیا کا سب سے بڑا  اور سچا  مذہب  ہے ۔ اس لیے میرے عزیز  و ! اپنے مذہب اور دین پر  فخر  کرنا چاہئے  او رکوشش کرنا چاہیے  کہ ہماری  دوستی  اور یاری  بھی اللہ کے لیے ہو  ، نفرت اور بغض بھی اللہ کے لیے ہو ، تمام اعمال میں اللہ کی رضا  مقدم ہو، یہی کمال  ایمان کی علامت ہے۔

جنوری، 2013  نوائے افغان جہاد

URL for Part-1:

https://www.newageislam.com/urdu-section/the-mischief-of-friendship-with-infidels-–part-1--کفار-سے-دوستی-کا-فتنہ۔-قسط-اوّل/d/10631

URL:

https://www.newageislam.com/urdu-section/maulana-abdul-sattar- 

Loading..

Loading..