New Age Islam
Tue Sep 29 2020, 06:29 AM

Urdu Section ( 29 Jun 2016, NewAgeIslam.Com)

From The History of The Salaf: The Martyrs for People (Part-1) شہداء علی الناس

 

 مولانا عبدالرزاق

26 جون، 2016

نستعین .....الخ۔ امیر المؤمنین علیہ السلام خلافت کو اپناہی حق سمجھتے تھے ۔ مگر قریش کو اندیشہ تھا کہ ایک دفعہ خلافت خاندان رسالت میں چلی گئی ، تو پھر کبھی نہ نکلے گی ، اور وہ اس سے کھیل نہ سکیں گے ، اسی لیے قریش خلافت کو اہل بیت سے دور رکھنے کی کوشش کرتے رہے۔

جاہلیت میں بنی امیہ نے قریش کی قیادت کی تھی۔ اب اسلام میں بھی سرداری چاہتے تھے پہلے دوخلفا کے زمانے میں ابھر نہ سکے ، مگر تیسرے خلیفہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بنی امیہ ہی میں سے تھے ۔ اب امویوں کو اپنی سلطنت قائم کرلینے کا موقعہ ملا، او رانہوں نے طے کر لیا کہ حکومت ہاتھ سے جانے نہیں دیں گے۔

خلافت کامعاملہ اب تک اس طرح طے ہواکرتاتھا کہ مدینے کے اکابرمہاجرین و انصار کسی شخص پر اتفاق کر لیتے تھے اور اسی کو خلیفہ مان لیا جاتا تھا،مگر یہ دستور بنی امیہ کے مفید مطلب نہ تھا ، کیونکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے تین ہی سربر آوردہ مہاجر باقی رہتے تھے ۔ علی رضی اللہ عنہ، طلحہ رضی اللہ عنہ اور زبیر رضی اللہ عنہ پرانے دستور کے مطابق انہی میں سے کوئی خلیفہ ہوتا،مگر ان میں سے کوئی بھی اموی نہ تھا۔ یہ صورت حال بنی امیہ کو منظور نہیں ہوسکتی تھی ۔ ان کے مقاصد کے لئے ضروری تھا کہ پرانا دستور ٹوٹ جائے انتشار پیدا ہو ، اور خلافت کے فیصلہ تلوار کے سپرد ہوجائے ۔ امویوں کو انتشار او ر خانہ جنگی میں اپنی کامیابی اس لیے دکھائی دیتی تھیں اور ان کے لیڈر امیر معاویہ بن ابی سفیان گورنر شام بہت طاقتور ہوچکے تھے ۔

ایک طرف یہ اموی سیاست تھی ، دوسری طرف اکابرمہاجرین میں طلحہ رضی اللہ عنہ اور زبیر رضی اللہ عنہ بہت دولت مند ہوگئے تھے اور اقتدار حکومت میں نمایاں شرکت چاہتے تھے ۔ یہ خواہش پوری نہ ہوئی تو عثمان حکومت کی خرابیاں اچھالنے اور لوگوں کو مخالفت پر ابھارنے لگے ۔

حضرت علی علیہ السلام کی پوزیشن یہ تھی کہ اپنا حق سمجھنے پر بھی خلافت حاصل کرنے کےلیے کوئی خفیہ یا اعلانیہ کوشش نہیں کررہے تھے عثمانی حکومت کی بدعنوانیوں سے نالاں ضرور تھے مگر تخریب نہیں، اصلاح چاہتے تھے، خلیفہ کو ایسے مشورے دیتےرہتے تھے کہ فتنوں کا سدباب ہو اور امت کا شیرازہ بکھرنے نہ پائے، مگر یہ رو ش نہ طلحہ رضی اللہ عنہ و زبیر رضی اللہ عنہ کو پسند تھی نہ بنی امیہ کو۔ دونوں پارٹیاں امیر المومنین رضی اللہ عنہ سے ناراضی میں متفق تھیں اور اس اتفاق نے ان میں بند بند ہمدردی پیدا کردی تھی۔

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ستر برس کی عمر (23 ھ) میں خلیفہ میں خلیفہ ہوئے تھے۔ عمر کے ساتھ ساتھ حکومت میں بھی خرابیاں بڑھتی رہیں، لوگوں کو جو بڑی بڑی شکایتیں پیدا ہوئیں ان کا خلاصہ حسب ذیل ہے ۔ (1) سب بڑے عہد ے ، بنی امیہ کو دے دیے۔ حالانکہ یہ لوگ نہ صحابی ہیں ۔ نہ اچھی سیرت رکھتے ہیں ۔ (2) مدینہ کے اطراف میں بہت بڑی چراگاہ، مسلمانوں پر بند کرکے اپنے اور بنی امیہ کے مویشیوں کے لیے خاص کردی۔ (3) اکابر مہاجرین و انصار سے صلاح و مشورہ لینا چھوڑدیا ۔(4) مروان کے باپ الحکم بن العاص کو مدینہ بلا لیا حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے جلا وطن کرچکے تھے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی پیہم سفارش پر بھی اگلے خلفا نے اس کی واپسی منظور نہ کی تھی۔ (5) مروان کو فتح افریقہ کا مال غنیمت بخش دیا۔ یہ بہت بڑی رقم تھی اور فدک بھی مروان کی جاگیر میں دے دیا ۔ (6) ولید بن عقبہ ، گورنر کوفہ نے نشے میں امامت کی ، کوفہ والوں کی شورش پر اسے معزول تو کردیا ، مگر سزا دینے سے گریز ہوتارہا ۔ (7) حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی کو محض اس لیے جلاوطن کردیا کہ بنی امیہ کی دنیا پرستی پر معترض تھے ۔

حضرت عمار بن یاسر اور عبداللہ بن مسعود جیسے اکابر صحابہ کو ناحق بے دردی سے پٹوایا ، شکایتیں غلط نہ تھیں ۔ مگر ایسی بھی نہ تھیں کہ اصلاح نہ ہو سکے اور معاملہ خلیفہ کے قتل تک پہنچ جائے ۔ مگر طلحہ رضی اللہ عنہ و زبیر رضی اللہ عنہ کی پارٹی انہی شکایتوں کو لے کر ورغلاتی رہی اور بنی امیہ کی پارٹی اور زیادہ اشتعال دلا کے برہمی و خانہ جنگی کے لئے زمین ہموار کرتی رہی۔

صوبوں کے مسلمان ، اموی گورنروں سے پہلے ہی نالاں تھے ۔ دفعتاً مدینہ سے ایک خط پہنچتا ہے۔

مہاجرین اوّلین اور بقیہ اہل شوریٰ کی طرف صحابہ اور تابعین کے نام ۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

‘‘ہمارے پاس دوڑ کر پہنچو اور سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خلافت کو برباد ہونے سےبچالو۔

‘‘تمہیں معلوم ہوناچاہئے کہ اللہ کا دین بد ل ڈالا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پلٹ دی گئی ہے اور اگلے خلفاء کے احکام ملیامیٹ کردیئے گئے ہیں’’۔

‘‘ اصحاب رسول اللہ صلی اللہ اور تابعین لہم با حسان میں سے جو کوئی ہمارا یہ خط پڑھے ہم اسے خدا کا واسطہ دیتے ہیں کہ فوراً چل پڑے ، یہاں آجائے ہم سے حق لے اور ہمیں حق دے۔

پس اگر تم اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو بلا تاخیر ہمارے پاس چلے آؤ اور حق کو اسی شاہراہ پر قائم کردو، جس پرتم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا ہوئے تھے اورجس پر اگلے خلفا ء سے رخصت ہوئے تھے ۔’’

‘‘ یہ پر اثر اور باغبانہ خط کس نے لکھا تھا؟ تاریخ جواب نہیں دیتی ، لیکن یہ بات قابل لحاظ ہےکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر جب باغیوں کی سختیاں بہت بڑھ گئیں اور حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے رو رو کر انہیں منع کیا تو مالک بن حارث اشتر نحعی نے یہی خط سب کے سامنے پیش کرکے طلحہ رضی اللہ عنہ سے کہا اب ٹسوے بہاتے ہو، حالانکہ تم نے یہ خط بھیج کے ہمیں بلایا ہے ، مگر طلحہ رضی اللہ عنہ نے خط سے قطعی لا علمی ظاہر کی ۔

ممکن ہے طلحہ رضی اللہ عنہ و زبیررضی اللہ عنہ کی پارٹی نے خط لکھا ہو اور یہ بھی ممکن ہےکہ اموی سازشیوں کی کارستانی ہو لیکن تاریخی واقعات پر غور کرنے سے ظاہر ہوجاتا ہے کہ طلحہ رضی اللہ عنہ وزبیر رضی اللہ عنہ کی پارٹی یہ تو چاہتی تھی کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو پریشان کرکے زیادہ سے زیادہ مراعات حاصل کرے ۔ مگر شاید اس کے وہم میں بھی نہیں تھا کہ فتنے کی آگ خلیفہ کو ہلاک اور امت کی وحدت کا بھسم کرکے رہے گی۔

بہر حال جب مذکورۂ بالا خط ، صوبوں میں پہنچا تو ایک آگ سی لگ گئی اور شورہ پشت لوگ مدینے کو چل پڑے۔ مصر سے چھ سو آدمی آئے تھے۔ ان میں سے چار سو کا سرغنہ ، محمد بن حذیفہ تھا ۔ یہ شخص بنی امیہ میں سے تھا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ہی کی گود میں پلا تھا ۔ خفا ہوکر مصر چلا گیا تھا اور اب اپنے محسن کے خلاف بغاوت پر تلا ہوا تھا ، دراصل وہ بنی امیہ کی سیاست کو کامیاب بنا رہاتھا ۔

مصر کے علاوہ بصر ے او رکوفہ سے بھی شورش پسند آئے تھے ۔ان سب نےمدینہ پر فوجی قبضہ جما لیا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو ان کے گھر میں نظر بند کردیا۔ مگر شروع شروع مسجد میں آنے اور نماز پڑھنے پڑھانے سےنہیں روکا ، بلکہ خود بھی انہی کے پیچھے نماز پڑھتے رہے ۔

محاصرے کے زمانے میں پہلا جمعہ آیا تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نےاپنے اموی مشیروں کی اشتعال انگیزی سے سرکشوں کوبرا بھلا ہی نہیں کہا بلکہ ملعون بھی قرار دیا۔ اس پر مسجد میں ہلڑ مچ گیا ، باغیوں نے نمازیو ں کو رگید کے نکال دیا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر ایسا نرغہ کیا کہ بے ہوش ہو کر منبر سےنیچے گر پڑے۔

حضرت علی علیہ السلام طلحہ رضی اللہ عنہ اور زبیر رضی اللہ عنہ مزاج پرسی کو گئے ۔اموی لوگ ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو گھیرے بیٹھے تھے ۔ انہوں نے طلحہ رضی اللہ عنہ اور زبیر رضی اللہ عنہ کو تو کچھ نہیں کہا۔ لیکن حضرت علی کو مخاطب کرکے چلانے لگے۔ ‘‘تم نے ہمیں مار ڈالا ہے’’۔

حاضرین پر گہرا اثر ہوا ، روتے روتے ہچکیا ں بند ھ گئیں مگر جب حضرت مسجد سے گھر پہنچے ، تو مروان نےبولنے کی اجازت چاہی ، حضرت کی بیوی نائلہ بنت الفرافصییہ چیخ اٹھیں ‘‘ چپ رہو تم بڑے میاں کو قتل کراکے اور ان کے بچوں کو یتیمی کا داغ دے کر چین لو گے امیر المؤمنین جو کچھ فرما آئے ہیں اب اس سے پھر جانا ان کی شان کے خلاف ہے۔’’

مگر مروان نہ مانا کہنے گا ۔ ‘‘امیر المومنین ! میرے ماں باپ قربان بخدا میری کسی آرزو ہےکہ آپ مسجد میں جو کچھ کہہ آئے ہیں ایسی حالت میں کہتے کہ آپ کے ہاتھ میں طاقت ہوتی ، لیکن آپ کایہ اعلان ایسی حالت میں ہوا ہے کہ آپ کو بے بس سمجھ لیا گیا ہے۔ یہ تو کھلی ذلت ہے ۔ بخدا گناہ پر اڑے رہنا جس سےرجوع کیا جاسکتا ہے اس توبہ سے کہیں بہتر ہے جومجبوری سےہو ۔ آپ جانتے ہیں بھی ہیں کیا کرآئے ہیں ۔ لوگوں کو اوربھی شیر کر آئے ہیں ’’۔

حضرت نےجواب دیا ۔ ‘‘ جو کچھ کہہ آیا ہو ں، اب اس سے پھروں کیسے ؟ میں نے تو وہی کیا ہے جو اچھا سمجھا تھا ’’۔

مروان نے کہا : اچھا سمجھا تھا ! مگر خبر بھی ہے کہ پہاڑ جیسی ایک بھیڑ آپ کے دروازے پر کھڑی ہے۔ کوئی ظلم کی شکایت کررہا ہے، کوئی روپیہ پیسہ مانگتا ہے ، کوئی عہدہ دارو ں کی معزولی کامطالبہ کررہاہے ۔ سچ تو یہ ہے کہ آپ نے اپنی خلافت مٹی میں ملادی ہے آپ مضبوط رہتے تو یہ کچھ بھی نہ ہوتا۔

پھر مروان ، مجمع کے سامنے پہنچ گیا ۔ اور اس نے جو کچھ کہا، اس کا خلاصہ حسب ذیل ہے ۔

‘‘تم کیو ں آئے ہو، لوٹ مار کا ارادہ ہے؟ دور ہوں یہاں سے ! خدا کی قسم ، ہمارے منہ آؤگے تو ہم چھٹی کا دودھ یاد دلادیں گے ! خدا کی قسم ہم نہ مغلوب ہیں نہ کمزور ہیں ۔ ہم خوب جانتے ہیں کہ جو سلطنت ہمارے ہاتھ میں آچکی ہے اس کی حفاظت کس طرح کرنا چاہئے ۔

مروان کی تقریر سے لوگ بہت برہم ہوئے۔ بعضو ں نے حضرت علی سے بھی شکایت کی تو آپ نے فرمایا ۔

‘‘عجب مشکل میں ہوں، گھر بیٹھ رہتا ہوں تو عثمان کہتے ہیں، مجھے چھوڑ دیا،بولتا ہوں اور بگڑی بننے لگتی ہے تو مروان آگے ان سے کھیلنے لگتا ہے ، افسوس اس عمر اور صحبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے باوجود مروان کاکھلونا بن گئے ہیں ’’۔

پھر حضرت علی علیہ السلام حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سےملے او رجو کچھ ہوا تھا اس پر ناخوشی ظاہر کی،صاف کہہ دیا ۔‘‘آئندہ دخل نہیں دوں گا۔’’ آپ کے چلے جانے کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی بیوی نائلہ نے اپنے شوہر کو سمجھایا ۔‘‘ آپ تو مروان کےہاتھ میں اپنی مہار دے چکے ہیں جدھر چاہتا ہے لے جاتاہے، خدا سے ڈریے اگلے خلفاء کی پیروی کیجئے ، مروان ہی کے پیچھے چلتے رہیں گے ، تو ضرور آپ کو قتل کرا کے رہے گا ا س کی عزت ہی کیا ہے بلکہ اس کی وجہ سے تو سب لوگوں نے آپ کو چھوڑ دیا ۔ علی علیہ السلام کو منا لیجئے ۔ دیر نہ کیجئے ۔ سوچئے تو ان کے کہتے ہی مصری باغی کس طرح لوٹ گئے ۔’’

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت علی علیہ السلام کو بلوایا ،مگر وہ نہیں آئے ،اس پرحضرت عثمان رضی اللہ عنہ رات کو چھپ کر ان کے گھر گئے اور الٹے شکایت کرنے لگے ۔‘‘ ابوالحسن ! آپ نے مجھ سے بیوفائی کی ہے اور لوگوں کو میرے خلاف ابھار دیا ہے۔’’

حضر ت علی علیہ السلام نے جواب دیا ۔‘‘ خداگواہ ہے، میں نے سب سے زیادہ آپ کی مدافعت کرتا رہا ہوں ۔ لیکن خو د آپ نے مجھے بے بس کرڈالا ہے۔ آپ کی بھلائی کے لیے جو کچھ کرتا ہوں ، مروان اس کے خلاف ہوتا ہے اور آپ میری نہیں مروان  کی سنتے ہیں ، ایسی حالت میں میرا دخل دینابے سود ہے۔’’

حضرت علی علیہ السلام نے حمایت کرنا چھوڑ دیا، یہاں تک محاصرہ کرنے والوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر پانی بھی بند کردیا ۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ مشک چھپائے لیے جارہی تھیں ، سرکش تار گئے ۔ مشک چھین لی اور خود ام المومنین کو تکلیف پہنچائی ، حضرت علی علیہ السلام نے سنا تو بہت غمگین ہوئے طلحہ رضی اللہ عنہ سےکہا پانی پہنچا نا چاہئے مگر طلحہ رضی اللہ عنہ نے یہ بھی پسند نہ کیا اس پر حضرت خود اٹھے اور پانی پہنچا دیا۔

اب نیا شگو فہ کھلتا ہے ، حضرت علی علیہ السلام سمجھا بجھا کےمصریوں کو لوٹاچکے تھے ، مگر تین دن بعد وہ پھرواپس آگئے اور بتا یا کہ رستے میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا غلام ملا اس کے پا س سے سیسے کی نلی میں چھپا ہوا خط نکلا ، خط پر خلیفہ کی مہر ہے اور اس میں گورنر کو حکم دیا گیا ہے کہ ہمارے سرداروں کے کوڑے لگائے جائیں ، سراور ڈاڑھیاں مونڈ کر ان کی تشہیر کی جائے ، انہیں قید کردیا جائے او رمحمد بن ابی بکر کو قتل کردیا جائے ۔

بعض مصری حضرت علی علیہ السلام کی خدمت میں بھی حاضر ہوئے اور اصرار کیا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے ملیں اور دیکھیں یہ معاملہ کیا ہے حضرت علی علیہ السلام گئے ۔ کچھ مصری بھی ساتھ تھے ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے قسم کھائی کہ وہ خط سےبا لکل بے خبر ہیں ۔ مصریوں نے کہا : ‘‘ یہ کیسی بات ہے؟ مروان اس قدر ڈھیٹ ہوگیا ہے کہ آپ کے نام سے فرمان لکھتا ہے آپ کے غلام کے ہاتھ بھیجتا ہے ۔ سرکاری اونٹ پر غلام کو روانہ کردیتا ہے لیکن آپ کو خبر تک نہیں ہوتی ! دو میں سے ایک ہی بات ہوسکتی ہے آپ سچے ہیں یا جھوٹے ہیں تو آپ کو معزول کردینا قطعاً ضروری ہے کیونکہ آپ نے ہم بے گناہوں کو ناحق سزا دینے اور قتل کرڈالنے کا حکم دیا ہے۔ اور سچے ہیں تو بھی معزول ہونے کے مستحق ہیں کیونکہ خلافت کی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے میں آپ کمزور ثابت ہوچکے ہیں ۔ ایسے کمزور اور غافل آدمی کے ہاتھ میں خلافت چھوڑی نہیں جاسکتی ۔ لہٰذا بہتر یہ ہے کہ آپ خود ہی خلافت سے دست بردار ہو جائیں (جاری)

26 جون، 2016 بشکریہ : روز نامہ صحافت ،نئی دہلی

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/maulana-abdul-razzaq/from-the-history-of-the-salaf--the-martyrs-for-people-(part-1)--شہداء-علی-الناس/d/107804

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 

Loading..

Loading..