New Age Islam
Sat Sep 26 2020, 05:02 PM

Urdu Section ( 1 Jul 2016, NewAgeIslam.Com)

The Divorce Problem: Further Study and Explanations مسئلہ طلاق، مزید توضیح و تحقیق

 

 

 

مولانا عبدالحمید نعمانی

30 جون، 2016

مسلم سماج میں ایسے لوگوں کی ایک تعداد ہے جو طلاق کےمسئلے کو غلط طریقے سے پیش کرتے ہوئے ائمہ فقہاء اور علماء کی تحقیر کرتےہیں اور یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اسلام اور قرآن و سنت کو ان سے ہم زیادہ سمجھتے ہیں ،جب کہ معاملہ بالکل برعکس ہے، میڈیا میں ان لوگوں کی غیر علمی اور سطحی باتو ں کو زیادہ نمایاں اور اہمیت کےساتھ پیش کیا جاتاہے ، جو قرآن و سنت اور اسلامی شریعت وفقہ کاپختہ اور ضرو ری علم نہیں رکھتے ہیں ۔ اس کا نمونہ سنگھ کے ترجمان پانچ جنیہ اور تہلکہ کا تازہ شمارہ ( 30 جون 2013) ہے ۔ ایسے عناصر کو وہ افراد ، تقویت فراہم کرتے ہیں جومسلکی وابستگی اور تعصب کے سبب اپنے موقف کو انتہائی جارحانہ اور اصل سوالوں کا جواب دیے بغیر پیش کرتے ہیں ۔ وہ یہ نہیں جانتے کہ سائرہ بانو اور آفرین رحمن وغیرہ کے ذریعہ تین طلاق کو ایک یا زبانی طلاق کو کالعدم قرار دے کر اس کو سرے سے ہی بے اثر او ربے معنی بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ، تاکہ یونیفارم سول کوڈ کے نفاذ کا راستہ ہموار ہوجائے ۔ اسی کےمد نظر راقم سطور نےطلاق کےمسئلے کے مختلف پہلوؤں کو پیش کرکے سنجیدہ او رعلمی انداز میں سامنے لانے کی کوشش کی تھی ۔ لیکن کچھ لوگ شرعی اصول و ضوابط پر مبنی بحث و گفتگو کے بجائے دریدہ ذہنی او ربرہنہ گفتاری پر اتر کر باتیں کررہے ہیں ۔ ہمارے اٹھائے سوالات اور نکات کاجواب دیے اور زیر بحث لائے بغیر یہ باور کرارہےہیں او ر عوام میں گمراہی پھیلارہے ہیں کہ ائمہ مجتہدین نے شرعی احکام کو سمجھےبغیر احادیث رسول کو نظر انداز کرکے فتوے صادر کیے ہیں ، ظاہر ہے کہ یہ رجحان بہت ہی خطرناک ہے۔

آپ کسی سےاتفاق نہ کریں اس کی بات کو فریب مکاری ، تلبیسات ، مجموعہ ہفوات او ر احمقانہ قرار دینا غیر علمی اور تحریری اخلاقیات سے عاری طرز بحث کے ذیل میں آتا ہے ۔ جیسا کہ 27 جون کے ایک اردو اخبار میں ایک صاحب نے لکھاہے۔ یہ لوگ بغیر کسی صحیح سبب کے ایک ساتھ تین طلاق دینے والوں کے مجرمانہ عمل کے خلاف کوئی موثر کارروائی کرنے کے بجائے ان کےعمل کو جائز ٹھہرانے کی کوشش کررہے ہیں اور تین طلاقوں کو ایک قرار دےکر شوہر بیوی کی ازدواجی زندگی کو حرمت و تشکیک میں ڈال کر اولاد کے لیے مسئلہ پیدا کررہے ہیں ۔ بے سوچے سمجھے کوئی روایت اور اس کا ترجمہ پیش کردینا کافی نہیں ہے، نہ ہی مسئلے کا صحیح حل ہے۔ یہ لوگ تقلید کو حرام اور شرک بتاتے ہوئے صرف تقلید ی انداز میں امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ اور علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ کانام لیتے ہیں، لیکن راقم السطور نےان کو طالب علمانہ طور سے پڑھا ہے، اس کے بعد ہی اظہار خیال کیا ہے۔ دیگر متعلقہ مصادر و مراجع بھی ہماری نظر میں ہیں، ایسی  صورت میں اصل مسئلہ پر بات کرنے اور اس کے سلسلے میں پیدا ہونےوالے سوالات و نکات کو نظر انداز کرکےطلاق کے مسئلے کا مطالعہ اور مصادر ومراجع پڑھنے کامشورہ دینا کوئی زیادہ معنی نہیں رکھتا ۔

علمی بحث کا راقم سطور خیر مقدم کرتاہے، لیکن حدیث کےنام پرمسئلہ کو غلط طور پر پیش کرنےکی تائید نہیں کی جاسکتی ہے۔ ایک صاحب نے ہماری تحریر پر تنقید کرتےہوئے مسلم شریف او رمسند احمد، ابوداؤد اور سنن ابن ماجہ میں موجود روایت رکانہ کا حوالہ دیا ہے کہ عہد رسالت او رزمانہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دوسالوں میں تین طلاق ایک ہوتی تھیں ۔ راقم سطور نے ان دونوں روایتوں کے ابہام اور کمزوریوں کی طرف اپنی تحریر میں اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے تھا کہ وہ کسی مبتوع امام حتیٰ کہ راوی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کےنزدیک بھی قابل عمل نہیں ہے۔ جس امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ نےاپنی مسند میں حضرت رکانہ رضی اللہ عنہ کی روایت کو نقل کیاہے، وہ بھی دی گئی تین طلاق کو تین ہی مانتےہیں ۔ امام ابودادٔد رحمۃ علیہ نے رکانہ کی طرف سے تین طلاق دینے کی بات کو خلاف واقعہ اور ضعیف قرار دیتے ہوئے ایک ہی طلاق (بتہ) دینے کی بات کو زیادہ صحیح قرار دیا ہے،رہی سنن ابن ماجہ کی بات تو اس کارکانہ رضی اللہ عنہ سے متعلق تین طلاق کو ایک رجعی قرار دینے والی روایت موجود نہیں ہے،بلکہ ابن ماجہ میں طلاق بتہ کاذکر کرتے ہوے رسول پاک کےسامنے بتہ سےایک طلاق کی نیت وارادہ کرنے کی قسم کھانے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سےاس پر تاکید ی قسم لینے کے بعد ایک طلاق رجعی قرار دینے کاذکر ہے،نہ کہ تین طلاق کو ایک قرار دینے کا ، جیساکہ مضمون نگار نے لکھا ہے۔ لگتا ہے کہ تین طلاق کو ایک قرار دینے والے کرم فرما مضمون نگار نے ابو داؤد او رابن ماجہ بغیر دیکھے پڑھے دونوں کا نام لےلیا ہے،حدیث کی یہ کتابیں نایاب نہیں ہیں، ہر جگہ دستیاب ہیں، ان میں ہر کوئی دیکھ سکتا ہے کہ اصل بات کیا ہے۔ عدت گزر جانے کے بعد رجعی طلاق بھی بائن ہوجاتی ہے ۔ روایت میں حضرت رکانہ رضی اللہ عنہ کے یہ کہنے پر کہ خدا کی قسم میں نے بتہ سے صرف ایک طلاق کی نیت وارادہ کیا تھا اور آنحضرت صلی اللہ نے قسم لینے کےبعد بیوی سے رجوع کرایا تھا ( اللہ مااردت بھا الا واحدۃ ۔فردھاعلیہ) قرآن وسنت اور اسلامی شریعت وفقہ کا ایک معمولی طالب علم بھی جانتا ہےکہ طلاق بائن میں رجوع نہیں کیا جاسکتا ہے، اس میں سابق شوہر سے ( شرعی حلالہ کےبغیر) دوبارہ نکاح کیا جاسکتا ہے۔ جب کہ ابن ماجہ کی روایت میں سیدھے سیدھے روجوع کی بات ہے، دیکھا جاسکتاہے کہ کس طرح بات کو کچھ سےکچھ بنایا جارہاہے ۔ طاؤس کے حوالے سےحضرت ابن عباس کی جو روایت مسلم شریف سے پیش کی جاتی ہے اس میں تین طلاقوں کو ایک طلاق رجعی قرار دینے سےمتعلق نہ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی فرمان کا ذکر ہے اور نہ ہی ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا کوئی فتویٰ و فرمان ہے، محض ایک آدمی ماضی کے تعلق اپنا تاثر بیان کررہا ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے فتاوی اور روایات کامجموعہ ‘‘فقہ ابوبکر صدیق ’’ کے نام سے سامنےآچکا ہے۔ اس میں کہیں بھی صحیح سند سے کوئی روایت یا فتوی تین طلاق کو ایک طلاق قرار دینےسےمتعلق نہیں ہے۔ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کےابتدائی دوتین سالوں میں تین طلاق ایک شمار کی جاتی تھی تو اس کےمتعلق واضح طور سے صحیح سند کےساتھ کوئی روایت، یا کسی صاحب فتوی صحابی رضی اللہ عنہ کاکوئی فتویٰ یا واقعہ ، روایات اور فتاوے کے ذخیرے میں کیوں نہیں ملتا ہے ، احادیث و روایات او ران پر عمل تو امام مسلم اور ان کی کتاب مسلم شریف وجود میں آنے سے پہلے بھی تھا۔

حضرات صحابہ رضی اللہ عنہ او رامت عمل او رصاحب افتا ء او راجتہاد کے فتوی او رعمل کو نظر انداز کرکےصحیح معنی ومطلب کےتعین کے بغیر محض کسی روایت کو سامنے رکھ کر بات کرنے سےمسئلہ حل نہیں ہوتا ہے، مثلاً مسلم شریف میں ہی اسی کتاب النکاح میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک نہیں بلکہ دو روایتوں میں کہا گیا ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد میں ایک مٹھی چھوہاروں اور ستو کےعوض متعہ کرلیاکرتےتھے، حتی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نےاس کی ممانعت کااعلان کردیا، اس طرح کی روایات پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی سیاسی کارروائی قرار دے کر اہل سنت کا کوئی مکتب فکر عمل نہیں کرتاہے اور نہ متعہ کے جواز کا فتوی دیتا ہے ۔ اسی طرح کا معاملہ مسلم کی طاؤس ( (ابن طاؤس) کے واسطے سےحضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی تین طلاق کو ایک بتانے والی روایت کاہے، اس طرح کی روایتوں کادیگر صحیح روایات اور صاحب افتا ء و اجتہاد کےعمل و فتاوی کی روشنی میں صحیح معنی و مطلب متعین کرنا ضروری ہوتا ہے ۔ کسی بھی روایت کی وہی تو ضیح و تعبیر صحیح ہوسکتی ہے جو شرعی اصول و ضابطہ اور دیگر صحیح روایات و واقعات کےمطابق اور ان کے متن سےہم آہنگ ہو۔ خصوصا مجتہد ائمہ اربعہ کی تحقیقات کے موافق بھی ۔ طلاق کے سلسلے میں بھی یہی طریقہ اعتدال و صواب پرمبنی ہے۔

30 جون ، 2016 بشکریہ : انقلاب، نئی دہلی

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/maulana-abdul-hameed-nomani/the-divorce-problem--further-study-and-explanations--مسئلہ-طلاق،-مزید-توضیح-و-تحقیق/d/107829

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 

Loading..

Loading..