New Age Islam
Sun Sep 27 2020, 07:01 AM

Urdu Section ( 14 Oct 2014, NewAgeIslam.Com)

Shang Parivar's Attempt to Give a New Direction to History تاریخ کو نئی سمت میں موڑ نے کی سنگھی مہم

 

 

مولانا عبدالحمید نعمانی

14 اکتوبر، 2014

اگر اکثریتی  سماج کو غور سے دیکھاجائے تو تین باتیں  بہت صاف نظر آتی ہیں ۔

(1)  یہ کہ داخلی طور سے سناتن دھرم اور بھارتیہ سنسکرتی کے نام پر بر ہمن وادی نظریے کی بنیاد یں متزلزل ہورہی ہیں ، گھر کے لوگ ان کو لے کر نہ صرف یہ کہ شکوک و شبہات کا شکار ہورہے ہیں، بلکہ ان پر حملہ کررہے ہیں، خاص طور سے تعلیم یافتہ دلتوں  اور جو بودھ مت اختیار کرچکے ہیں ، جو سوالات  اٹھائے جارہے ہیں ، انہوں نے سنگھ پریوار کے علاوہ تسلیم شدہ چار ( 4) اور دیگر مٹھوں کے شنکر اچاریوں کے لیے بڑی مشکلیں کھڑی کردی ہیں، ان پیدا شدہ حالات نے دیگر مذاہب کے ساتھ ہندو  اکثر یتی سماج کی ایک بڑی تعداد کو اسلام اور اس کی تعلیمات اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے متعلق معلومات حاصل کرنے کی طرف متوجہ کیا ہے، اسے فرقہ پرست عناصر اور صیہونی لابیز اپنے وجود کے لئے خطرہ اور مقاصد کے حصول کی راہ میں رکاوٹ مانتے ہوئے۔

(2) نمبر دو پر شدت پسند ی اور زور زبردستی او رملک کی انتظامیہ کو اثر میں لے کر جھوٹی او ربے بنیاد باتوں پر اپنی سرگرمیوں کو جارحانہ رخ دینے میں لگے ہوئے ہیں، تاکہ اصل سوالات پر سماج کی توجہ نہ ہوسکے، لیکن سماجی  اونچ نیچ ، جات پات کی بیماریاں اور مختلف طبقات کے درمیان تقدس و تحقیر کے تصورات جیسی داخلی کمزوریوں کا جو بار بار ظہور ہوتا ہے، اس نے ماضی کی روشن روایات کے حوالے کے استناد پر بہت سارے سوالات کھڑے کردیئے  ہیں، طبقاتی تقسیم اور اونچ نیچ  اور اس بنیاد پر تہذیبی و دھارمک جارحیت ، آنکھوں کے سامنے کی حقیقت ہیں، اس کا علاج سنگھ کی سرپرستی میں برہمن وادیوں نے یہ نکالا ہے کہ ہندو سماج میں برائیوں او ربیماریوں کے وجود ہی سے انکار کردیا جائے ، اور دوسرے نمبر پر یہ پرزور طریقے سےباور کرایا جائے کہ برائیاں اور بیماریاں  ہندوستان کے باہر کےمسلم حملہ آوروں اور ظالم انگریز حکمرانوں کی پیداکردہ ہیں، ظاہر ہے کہ یہ دعوے جھوٹ پھیلانے کی مخصوص جرأت کے بغیر نہیں کیے جاسکتے ہیں، اس  طرح  کا دعویٰ دو دہائی سےکچھ پہلے وشو ہندو پریشد کے کار گزار صدر اشوک سنگھل نے کیا تھا اور جسے ہفت روزہ سنڈے نے نمایاں طور سے شائع کیا تھا، اور اب حال فی الحال آر ایس ایس سے وابستگی رکھنے والے بی جے پی کے قومی ترجمان اور لیڈر ڈاکٹر وجے سونکر شاستری نے باقاعدہ تین کتابیں (1) ہندو والمیکی  جاتی، (2) ہندو چرم کا رجاتی (3) اور ہندو کھٹک جاتی لکھ کر ایسے دعوے کئے  ہیں ، ان کتابوں کا اجرأ سنگھ سربراہ موہن راؤ بھاگوت نے کیا ہے، یہ کتابیں دہلی سے بہت اہتمام سے شائع کی گئی ہیں،  جن میں یہ دعوے کئے گئے ہیں کہ مذکورہ تینوں  جاتیوں کو قابل رحم اور ذلت آمیز  حالت میں پہچانے کے لئے مسلم حکمراں  خصوصاً مغل حکمراں  اور ہندوستان کے باہر مسلم حملہ آور ذمہ دار ہیں، نیز تحقیر و تقدیس کی بنیاد پر سماجی اونچ نیچ اور چھوا چھوت کو بھی انہوں نے ہی فروغ دیا۔

 اور  ایسا اس لئے کیا گیا ہے کہ ان ہندو جاتیوں نے اسلام قبول نہیں کیا اور ہندو بھارتیہ دھرم اور سنسکرتی ( تہذیب) کا ہر قیمت پر تحفظ کیا اور مسلم حملہ آوروں کا پوری جرأت و طاقت سے مقابلہ کیا لہٰذا سزا کے طور پر بد تر حالت تک پہنچادیا گیا، حیرت او رکمال کی بات ہے کہ آر ایس ایس کے اعلیٰ زمرے کے ذمہ داروں نے اپنے اطاعت شعار سنگھی مصنف سونکر کی کتابوں پر تعارفی کلمات تحریر کرکے زبردست تحسین و تائید  کی ہے کہ انہوں نے پہلی بار اس قدر تفصیل کے ساتھ حقائق کو سامنے لاکر بڑا تاریخی کار نامہ انجام دیا ہے، مذکورہ تینوں کتابوں میں سے ہر کتاب تقریباً ساڑھے تین سو صفحات پر مشتمل ہے، بات کہنے او رلکھنے  کا طریقہ پوری طرح سنگھی مغالطے اور پر فریب تعبیرات اور تشریحات پر مبنی ہے، اور بنیادی سوالات کو نظرانداز کرتےہوئے کہیں  کی باتوں کو کہیں سے جوڑ کر پیش کیا ہے، بیشتر  مقامات پر محض  الزامات اور دعاوی بغیر حوالے کے کرتے ہوئے کہیں کہیں کسی بات کا حوالہ دے کر قارئین کو اس طرح گمراہ کیا گیا ہے کہ سارے مذکورہ الزامات اور دعوؤں کا ذکر پیش کردہ حوالہ کتاب  میں ہوگا ، جب کہ ایسا نہیں ہے،  ہر کتاب کے آخر میں ماخذ کامرعوب کن انداز میں ذکر کیا گیا ہے ۔

مثلاً  ہندو و المیکی جاتی میں دو سو پندرہ کتابوں کا ذکر ماخذ کے طور پر کیا ہے، اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کتابیں لکھنے اور مغالعہ دینے میں  مصنف نے بڑی محنت اور دماغ سوزی سے کام لیا ہے، لیکن ان کا اصلی چہرہ بھی بے نقاب ہوگیا ہے کہ ان کا خمیرہ  کس مٹی سے اٹھا ہے، انہوں نے جن سنسکرت ، ہندی انگریزی اردو ، فارسی کی کتابوں کا حوالہ دیا گیا ہے،  ان میں سے کم از کم پچاس ، ساٹھ کتابوں میں ڈاکٹر وجے سونکر کے دعوؤں کی تردید کے لیے کافی حوالے موجود ہیں، بذات خود راقم سطور نے محولہ کتابوں میں سے بڑی تعداد کا ایک طالب  علم کی حیثیت سے مطالعہ کیا ہے، جس کی بنیاد پر وہ  یہ کہہ رہا ہے کہ ڈاکٹر سونکر نے تاریخ نگاری کے نام پر حقائق  کاقتل اور محض افسانہ نگاری اور تاریخ سازی کا کام کیا ہے، ہمارا خیال ہے کہ اگر وہ تاریخ  نگاری کے بجائے کہانی، ناول لکھتے تو زیادہ نام کماتے، جن مسلم حکمرانوں اور باہری  حملہ آوروں پر ہندو پس ماندہ جاتیوں کو شودر بنانے کاالزام لگایا  جارہا ہے، وہ بچارے او رمسلم اہل علم  تو شودر کے معنی بھی کسی ہندوستانی پنڈت کے بتائے بغیر نہیں  جانتے ہوں گے، دیگر سنگھیوں کے ساتھ  مصنف کا دعویٰ اس سوال سے ہی ہوا ہو جاتا ہے کہ اگر مسلم حکمرانوں اور مسلمانوں نے سماجی اونچ نیچ او رچھوا چھوت کی بیماری پھیلائی تو  ہندو اکثریتی  سماج نے اسے اپنے گلے کاہار او ر برہمن واد کی زینت کیوں بنا لیا، اور آج تک بنائے ہوئے ہے، مندروں  میں داخلے اور کنواں تالاب سے پانی لینے پینے سے کیوں دلتوں کو روکا جاتا رہا ہے ، اور ان ڈاکٹر امبیڈ کر کو کیوں تحریک چلانی پڑی، جن کے حوالے سے ڈاکٹر وجے سونکر شاستری اپنی باتوں میں دم پیدا  کرنا اور دلتوں کو پھسلا کر اپنے ساتھ رکھنا چاہتے ہیں ۔

 اگر ڈاکٹر امبیڈکر اور سونکر کی تحقیق کےمطابق شودر پہلے برہمن کے زمرے میں تھے تو بعد میں کس نے اور کب پھر شودر بنایا او رمسلمانوں او رمسلم حکمرانوں  کے ہندوستان آمد سے پہلے ہی ہندو دھرم کی اولین بنیادی کتابوں میں دلتوں ، شودروں کے متعلق  طبقات تقسیم اور اونچ نیچ  پر مبنی احکامات و ہدایات کیسے درج ہوگئی ہیں، اس طرح کے سوالات کو نظر انداز کر کے آر ایس ایس کے نمائندوں  نے دروغ گوئی اور لغو گوئی کی انتہا ء کردی ہے کہ ہندوستان میں ایس  سی ایس ٹی کے وجود کے لیے مسلم حملہ آور ذمہ دار ہیں، ان کے ظلم و زیادتی  کے نتیجے میں یہ جاتیاں اس اذیت  ناک حالت تک پہنچی ہیں، اس کو آر ایس ایس کے تین اعلی منصب دار معاون کار گزار ، سریش سونی ، سریش جوشی ( بھیا جی) اور ڈاکٹر  کرشن گوپال نے مذکورہ تینوں کتابو ں کے پیش لفظ میں بار بار کئی مقامات  پر دہرایا ہے، اس طرح کے انکشاف انگیز دعوے پر ہندو، مسلم سارے اہل علم  و خبر حیرت زدہ ہیں کہ ہم خواب دیکھ رہے ہیں یا بیداری  میں حقائق  کو دیکھ رہے ہیں،  چند دن  ہوئے کہ راقم سطور کے پاس ڈاکٹر  اعجاز علی کے ساتھ سوامی ششی کانت تشریف لائے تھے ، جب انہوں نے ڈاکٹر وجے سونکر شاستری کی کتابیں  میرے پاس دیکھیں  اور ان میں کیے گئے دعاوی  کو دیکھا  تو کہنے لگے کہ یہ برہمن وادیوں کے ان ہی روایات و اعمال  کاحصہ او رسلسلہ  ہے ، جن کے تحت انہوں نے حقائق کا قتل اور اکثریت کو غلام بنائے رکھنے کا جتن اور دوسروں کے خلاف دلتوں اور محنت کشوں کو استعمال کرنے کا کام کیا ہے اور حیرت  اور افسوس ہے کہ یہ دلت اور محنت کش  فریب میں آکر  استعمال بھی مسلسل ہورہے ہیں ۔

نریندر مودی ان ہی پش ماندہ ہندو جاتیوں میں سے گھانچی برادری کے ہیں، لیکن وہ سنگھی  اور برہمن وادیوں کے مقاصد و اغراض کے مطابق ہی چلتے رہے ہیں ، ان کی سرکار بننے کے بعد برہمن وادی اور سنگھی  الگ الگ عنوانات سےاپنی فرقہ وارانہ سرگر میاں  تیز کر چکے ہیں، ان ہی کا حصہ  تاریخ میں تحریف اور نئی تاریخ سازی ہے، وجے سونکر شاستری  کی کتابوں کو مذکورہ مہم سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا ہے، رامائن، مہا بھارت،  گیتا ، منوسمرتیاں ، دھرم سوتر، پران وغیرہ جو اتفاق سے آپ کے پاس بھی ہیں، میں ہم جات پات سماجی اونچ نیچ اور طبقاتی تقسیم کے ساتھ  چھوا چھوت وغیرہ کے سلسلے میں جو کچھ اب تک پڑھتے آرہے ہیں ، کیا وہ سب جھوٹ ہے؟  ابھی حال ہی میں راجستھان میں  11 دلت بچوں کو اسکول سے محض  اس لیے نکال دیا گیا کہ  انہوں نے نام نہاد اونچی جاتیوں کے لیے رکھے برتن سے پانی پی لیا تھا ۔ اس تبصرے  سے یہ تو ظاہر ہوتا ہے کہ سوامی ششی کانت جیسے افراد کو آر ایس ایس  کے لیے مطمئن کرنا آسان نہیں ہوگا،  اور اسے سمجھنا  بہت زیادہ مشکل نہیں ہے  کہ ہندو اکثریتی  سماج  میں حقارت و ذلت  آمیز  طبقاتی  تقسیم کی جاری روایت سے انکار محض  اس لیے کیا جارہا ہے کہ جن افراد نے اس سے نفرت کرتےہوئے اسلام اور دیگر مذاہب کو اختیار  کیا ہے،  اس کے جواز کو مسترد کیا جائے  اور اسلامی عقائد  و احکام کی خوبیوں سے متاثر  ہوکر اور مسلم دعاۃ  و صوفیاء کی کوششوں سے اشاعت اسلام پر پردہ ڈالا  جائے، اور مشرف بہ اسلام ہونے والے افراد کے متعلق  یہ باور کرایا جائے کہ وہ سب زبردستی مسلمان بنائے گئے تھے ۔

 یا ڈر کر مسلمان ہوئے تھے،  اچاریہ دھرمیندر  کہتے ہیں، او رہمارے ساتھ  ایک ٹی وی چینل کے مذاکرے میں بھی کہا کہ جو ویر تھے  وہ قربان  ہوگئے،  جو کائر تھے وہ مسلمان ہوگئے، تو سوال ہے کہ اچاریہ  جی پھر  کیسے بچ گئے مسلمان ہونے سے۔ وہ کس کی سنتان (اولاد) ہیں،  اچاریہ جی کہتے ہیں کہ سارے مسلمان زبردستی کےبنائے ہوئے ہیں، اسے ڈاکٹر وجے سونکر مزید آگے بڑھ کر بتارہے ہیں کہ جنہوں نے  اسلام قبول نہیں کیا انہیں سزا کے طور پر باہر  سے آئے مسلم  حملہ آور ، حکمرانوں نے اچھوت اور سماج میں پست  تر بنادیا ، ورنہ قدیم ہندوستان کے ہندو سماج میں بعد کے بنائے اچھوتوں اور شودروں کی باعزت  حیثیت تھی، لیکن  دھرم شاستروں کی ہدایات و احکامات اس دعوے کی تردید کردیتے ہیں  ، بہار کے وزیر اعلیٰ جتین  رام مانجھی  نے یہ کہہ کر برہمن وادی  سماج کے چہرے کو پھر ایک بار بے نقاب کردیا ہے کہ لوگ ہمیں آج بھی اچھوت سمجھتے ہیں ، ہم مہادلتوں  کے سماج  میں برتی جارہی  چھوا چھوت اور تعصب کا شکار ہوئے ہیں، گوتم دھرم سوتر کوئی مسلم دور حکومت  کی لکھی ہوئی کتاب نہیں ہے ، جس  میں کہا گیا ہے کہ اگر شودروید  منتر سن لے تو اس کے کانوں میں سیسہ اور رانگ  پگھلا کر ڈالنا چاہیئے ، ( دیکھیں مذکورہ 2،3،4) منونے ہدایت دی ہے کہ شودر ایسے نام رکھے جن میں غلامی کی جھلک ہو، ( منو سمر تی باب 2، اشلوک 32) پراشر سمرتی ( باب 6، اشلوک 11،12) میں کہا گیا ہے کہ چنڈال ( والمیکی) کو دیکھ کر سورج کا درشن کرے تب شدھی ہوگی ۔ اس موضوع پر سریندر اگیات کی کتاب ‘‘ جاتی، اتہاس اور سروپ ’’ چشم کشا ہے، اکثر یتی  سماج کے آگیات جیسے اہل علم کے اٹھائے  ہوئے سوالات و نکات سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ تشہیری  مہم چلائی گئی  ہے کہ چھوا چھوت  اور شودروں کی ذلت آمیز حالت  کے لیے مسلم حکمراں ذمہ دار ہیں ، لیکن یہ پروپیگنڈہ کامیاب بھی ہوگا، آنےوالے  دنوں میں اس سوال کا جواب مل جائے گا، اس کے علاوہ اور بھی بہت  سے سوالات  او رمباحث کا دروازہ کھلے گا اور حقائق  کی تلاش  کے دوران میں لوگوں کے سامنے دیگر حقائق  بھی آئیں گے۔

14 اکتوبر، 2014  بشکریہ : روز نامہ ہمارا سماج، نئی دہلی 

URL:http://newageislam.com/urdu-section/maulana-abdul-hameed-nomani/shang-parivar-s-attempt-to-give-a-new-direction-to-history--تاریخ-کو-نئی-سمت-میں-موڑ-نے-کی-سنگھی-مہم/d/99517

 

Loading..

Loading..