New Age Islam
Wed Dec 08 2021, 10:19 AM

Urdu Section ( 2 Apr 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Dara Shikoh, the Fountain of Interfaith and Sectarian Harmony دارا شکوہ، بین مذاہبی توافق اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی راہ

مولانا عبدالحمید نعمانی

1 اپریل 2021

بھارت کو پانے اور سمجھنے کی جدو جہد ، قدیم سے جدید دور تک جاری ہے۔ اس میں دو پہلو سامنے آتے ہیں ایک ہے بھارت کا مستقبل  اور دوسرا ہے مستقبل کا بھارت۔ملک کی اکثریت میں بھارت کے مستقبل کولے کر فکرمندی ہے، جبکہ ہندوتوادی عناصر کے سامنے حال کے بھارت کو اپنے نقشے اور آئیڈیالوجی کے مطابق بنانے کو لے کر جذبہ ہے اس کی بڑی حد تک پوری نقشہ گری اور منصوبہ بندی موجودہ سنگھ سربراہ ڈاکٹر موہن راو بھاگوت کے ستمبر۱۷،۱۸؍۲۰۱۸ء دوروزہ خطابات اور بعد کے کئی بیانات میں نظر آتی ہے۔ دیگر ہندوتوادی عناصر کی طرح ڈاکٹر بھاگوت کو بھی لگتا ہے کہ اسلامی فکرو تہذیب کی مخصوص طرح کی شناخت اور اس کی حامل مسلم اقلیت کا وجود، ہندوراشٹر اور ا س کی آئیڈیالوجی کی عملی شکل لینے کی راہ میں مزاحم اور اس سے متصادم ہے، ایسا اس لیے بھی ہے بھارت کے باہر سے رہنمائی و روشنی لینے والے اس کے باشندوں میں بھارتیہ سنسکرتی اور اس میں اپنے آپ کو پانے والے طبقے سے پوری طرح تال میل اور ہم آہنگی نہیں ہے۔جب تک کم ازکم مغل شہزادے داراشکوہ کے طرز فکروعمل کو اختیار نہیں کیا جائے گا تب تک اس کی شناخت اور امتیازی وجود کو بچانے کی جدو جہد کے نام پر متحدہ ہندوسنسکرتی جو اصلا بھارتی سنسکرتی ہے کے لیے پوری طرح راہ ہموار نہیں ہوسکتی ہے۔ اورنگ زیب کے طرز پر داراشکوہ کے عمل کے ردعمل سے بات بنتے بنتے بگڑ جاتی ہے، طریق عبادت کے اختلافات کوئی مسئلہ نہیں ہے، مسئلہ بھارت میں رہتے ہوئے خود کو ہندو نہ ماننا ہے، جبکہ ہندستان میں رہنے والے تمام باشندے ہندو ہیں۔ یہ ہے خلاصہ، سنگھ کے موقف اور آئیڈیالوجی کا ۔

۲۰۱۸ءکے دوروزہ دہلی اجلاس میں ڈاکٹر بھاگوت سنگھ اوربھارت میں رونما ہونے والے مسائل اور کئی ضروری سوالات کے جوابات فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔خطابات اور سوالات وجوابات پر مشتمل کتاب، مستقبل کا بھارت کے نام سے شائع ہوکرمنظر عام پر آگئی ہے اور اسے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، وزارت تعلیم حکومت ہند نے شائع کیا ہے، اس کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نے بذات خود کتاب کاترجمہ کیا ہے، اس لیے کتاب کے مستند ہونے میں شک وشبہ کا کوئی جواز نہیں ہے۔ اس کا مطالعہ ہمارے قائد ین کو کرنا چاہیے ،اردو داں حضرات بھی اس سے پوری طرح استفاد ہ کرسکتے ہیں اور خود کے تئیں طے اورفیصلے کرسکتے ہیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور جانا کس طرف اس کس طرح سے؟ قرآن و سنت، فقہ، تصوف، علم کلام، فلسفہ، تاریخ کے حوالے سے ہمارے پاس بھی ، خالق کائنات، اس کی اشیاء و مخلوقات اور انسانی سماج کے متعلق نظریات و اعمال کا ریکارڈ اور نقاط نظر ہیں ان کی بنیا دپر فکروعمل کے تعین و تعبیر کے مباحث ہیں، جیسا کہ سنگھ، اوردیگر مذاہب اور مکاتب فکر کے پاس ان کے دعوے کے مطابق ہیں۔ اس سلسلے میں فکری و عملی جبر کے بجائے آزادی کی معتد ل راہ اور عالمی اقدار کے موافق ہے۔ رحیم، ملک محمد جائسی، رس کھان یا دارا شکوہ کے حوالے سے پیش کردہ نقاط نظر و رویے کے لیے سنگھ کی آئیڈیالوجی میں جگہ کس حدتک ہے؟ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے متعلق مختلف فرقوں اور اہل مذاہب میں آمادگی کس حدتک ہے، تہذیبی توافق اور واحد ہندوتووادی تہذیب کو پورے ملک کے تما م باشندوں کی تہذیب باورکرانے اور اختیار کرنے کرانے کی جارحانہ مہم میں فرق ہے کہ نہیں ؟

دارا شکوہ

-----

اورنگ زیب کے مقابلے میں دارا شکوہ کے طرز فکروعمل کو بطور نمونہ سامنے لانے سے ، سنگھ اور دیگر ہندو تووادی عناصر کے پیدا کردہ ماحول میں توافق کی راہ ہموار کیسے ہوسکتی ہے؟ اس کا جواب ڈاکٹر بھاگوت کے خطابات و بیانات میں نہیں ملتا ہے؟ ۲۰۱۸ء کے دو روزہ دہلی کے اجلاس کے تفصیلی خطابات اورسوالات وجوابات میں ، بہت سے سوالات و جوابات نہیں ہیں۔۱۸؍ فروری۲۰۲۱ء کے اے بی پی پرموجودہ بیان میں بھی صراحت و وضاحت نہیں ہے اور نہ ہی کوئی مستند حوالہ ہے، یہ سوال تو ہے کہ اورنگ زیب کے بجائے ہندوسماج، داراشکوہ کے ساتھ کھڑا کیوں نہیں ہوا ، اکبر اور داراشکوہ سے بھی زیادہ، ہندو امراء اور افراد کی نمائندگی اور نگ زیب کی حکومت میں ہونے کا مطلب کیا ہے؟ خیر اس سوال کا تعلق تو تاریخی پس منظر سے ہے، اصل بات یہ ہے کہ دارا شکوہ کے طرزفکروعمل کے تحت تہذیبی وسماجی توافق کے عمل کو آگے لے جانے کی کوشش، اورنگ زیب کی وفات اور بہت بعد کے دنوںانیسویں، بیسویں صدی اور سنگھ کے بینر تلے کتنی ہوئی ہے، داراشکوہ ، اعلانیہ حنفی مسلک، قادری مشرب تھا۔ اس نے ترک اسلام کا اظہار کبھی نہیں کیا تھا، اسلام اور ہندو ویدانت اوروحدۃ الوجود کے درمیان توافق و تعبیر کے متعلق کئی باتیں وضاحت طلب اور بحث گفتگو کی متقاضی ہیں۔ تاہم یہ طے اورتسلیم شدہ ہے کہ دارا شکوہ نے مسلم سماج میں رائج وحدۃ الوجود کے نظریے اور بعض اسلامی عقائد و احکام کی تائید و توافق دکھانے میں کہیں کہیں حد سے تجاوز کرتا نظر آتا ہے۔ یہ اس طرح کی انحرافی تعبیرات کے زمرے کی باتیں ہیں، جس طرح دیگر بہت سے حضرات خالق کے وجود کے مطلب و معنی کے افہام وتفہیم کی کوشش کرتے ہوئے کہتے رہے ہیں۔ لیکن دارا شکوہ کے بین مذاہبی توافق وتفاہم میں غیراللہ کے وجود کا بہ طورمعبود کی کوئی جگہ نہیں ہے یہ توحید، شرک کے درمیان بنیادی اختلاف ہے، جسے گروگولولکر سے لے کر ڈاکٹر موہن راؤ بھاگوت تک سمجھ نہیں سکے ہیں۔ اس میں مظاہرپرستی کے ماحول اور سماجی پس منظر کا بڑا دخل ہے۔ خالق کائنات کے سوا دیگر وجود کو معبود کا درجہ دینے کی صورت میںانسانی توقیر وعظمت باقی نہیں رہ جاتی ہے۔ عہد مغلیہ کے لٹریچر کے مطالعہ سے داراشکوہ میںخود ستائشی اور خوشامد پسندی اور نتیجے میں اختلاف رکھنے والوں کی تحقیر اور اپنی برتری کے جراثیم کا پتہ تو چلتا ہے، لیکن اکثرتی ہندوسناتنی سماج کی طرح غیراللہ کا وجود بطور الہ کے دو ر دور تک نام و نشان نہیں ملتا ہے۔ داراشکوہ، جہاں ’سراکبر‘ میں برہما،حضرت آد م علیہ السلام کو قرارد یتا ہے، وہیں’مکالمہ داراشکوہ بابابالال‘ میںداراشکوہ نے بابالال سے یہ سوال کیا ہے کہ ہندستان کے عوام کے لیے بت پرستی کی کیااہمیت ہے اور کس نے اس کا حکم دیا ہے؟ اس کا جواب بابا لال نے یہ دیا کہ یہ ارتکاز (ذہن) کی ایک مشق ہے، جسے روح کا علم ہوگا وہ ہیئت و صورت کی بات کیوں کرے گا،لیکن جو باطنی شعور سے محروم ہے اسے اپنے آپ کو کسی نہ کسی روپ سے منسلک کرنا پڑتا ہے، یہی حقیقت ہے بت پرستی کی۔ جن کو روح کی معرفت نہیں ہے وہ شکل وصورت کے توسط سے اس کے حصول کے لیے یقینا کوشاں ہوں گے۔ لیکن جوں ہی ان کو باطنی شعور حاصل ہوجائے گا، وہ اس بت پرستی کو ترک کردیں گے۔ اس جواب سے واضح ہوتا ہے کہ مسلم سماج ابتدا ہی سے باطنی شعورحاصل کرکے صورت و ہیئت پرستی سے بلند ہوچکا ہے۔ جب کہ دیگر مظاہر پرست سماج کی طرح بھارت کے اکثریتی سماج کوآج بھی باطنی شعور حاصل نہیں ہے۔ اس لیے ان کی بت پرستی کی رسم اب تک جاری ہے اس کتاب میں ایک سوال جواب اس طرح ہے: گفتم برائے فقیر چہ مناسب است (میں نے کہا فقیر کے لیے کیا مناسب ہے) گفت لاالہ اللہ(انہوں نے کہا اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں)

دارا شکوہ کی سب سے زیادہ متنازع کتاب ’مجمع البحرین‘ ہے اس میں صفات اللہ کے عنوان کے تحت داراشکوہ نے سناتنی ہندوسماج کے بالکل برعکس تری مورتی برہما، وشنو، مہیش کو ہندو فقراء اور مسلم صوفیا کی فکری ہم آہنگی اور توافق کے پیش نظرجبرئیل، میکائیل، اور اسرافیل قرار دیتا ہے۔ اسلامی فکرو تصور میں فرشتے، مدبرات امور کے زمرے میں آتے ہیں یہ تصور ہندوسماج کے مذہبی سفر میں بگڑ کر تری مورتی دیوتا، معبود کی شکل اختیارکرگئے ہیں۔ جسے اسلام نے پھر انہیں صحیح مقام پر رکھنے کا کام کیا ہے، لہذا مرجع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی وحی الہی ،قرآن ہے، نہ کہ سابقہ کتب و تصورات۔ مولانا مودودی نے تفہیم القران میں اس طرف توجہ مبذول کرائی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ غیر اللہ اور مظاہر کائنات کومعبود یت کے مقام سے ہٹا کرمخلوق و خدمت گار کے مقام پرفائز کردیا جائے تو داراشکوہ کے فکر وعمل سے بھی مذاہب کے درمیان تفاہم و توافق کا بہتر سلسلہ شروع ہوسکتا ہے اور حقیقت اعلیٰ کی طرف جانے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے، اس پر سنگھ کس حدتک آمادہ ہوگا اورکس طور سے غوروفکرسے کام لے گا؟ یہ کہنا مشکل ہے۔

1 اپریل 2021،بشکریہ:انقلاب، نئی دہلی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/dara-shikoh-fountain-interfaith-sectarian/d/124643


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..