New Age Islam
Fri Apr 03 2026, 12:58 PM

Urdu Section ( 11 Feb 2013, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The ‘Islamic’ Principle Of Parity In Marriage Is Just A Cover For Caste-Supremacism غیر کفو میں ،برادری سےباہر شادی ، مسئلہ یا مسئلے کا حل؟

اسلام شاد ی کے لئے رشتہ طے کرنے کے معاملے میں مسلک، برادری ، حسب نسب اور رنگ کی بنیاد پر تفریق برتنے کا حامی نہیں ہے۔ وہ اعلی یا کمتر برادریوں  میں شادی کی مخالفت نہیں کرتا۔ پھر بھی شادی بیاہ میں کفو کا معاملہ مسلم لڑکوں اور لڑکیوں کی شادی میں ایک مسئلہ اور رکاوٹ بن گیا ہے خاص کر جب خود لڑکا یا لڑکی برادری سے باہر اپنی پسند کے لڑکی یا لڑکے سے شادی کرنا چاہتے ہیں۔ کچھ معاملوں میں تو اس قسم کی غیر کفو میں شادی کا نتیجہ قتل یا خاندان میں قریبی رشتہ داروں میں قطع تعلقات تک ہو جا تاہے۔ کسی لڑکی کے اپنے ولی یا سرپرست کی مرضی کے بغیر اپنی پسند کے لڑکے سے شادی کے فیصلے  پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا۔ صرف کفو کے اصول کی بنا پر ایسی شادیوں کی مخالفت کرنا گویا اسلام کا مذاق ا ڑانا ہے۔ذات یا برادری کی برتری کا احساس سنگین مسائل پیدا کرتا ہے اور  اور بین برادری شادیوں کی مخالفت کی راہ ہموار کرتا ہے اور اس طرح اسلامی مساوات کے اصول کی خلاف ورزی ہوتی ہے جسے مسلمان اسلام کی خصوصیت ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ۔ اس مضمون میں مولانا عبدالحمید نعمانی نے کفو میں شادی کے مسئلہ پر مثبت نقطہء نظر سے سیر حاصل بحث کی ہے اور مسلم لڑکوں خصوصاً ان  لڑکیوں کی شادی میں کفو مٰیں کے اصول کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسئلے کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کی ہے جو کفو میں مناسب رشتے کے انتظار میں بوڑھی ہو جاتی ہیں۔۔ نیو ایج اسلام ایڈٹ ڈیسک

---------------

مولانا عبدالحمید نعمانی

5 فروری، 2013

سماج کو امن اور ترقی کی راہ پر لے جانے کےلئے ضروری ہوتا ہے کہ سماجی مسائل کو صحیح  نہج پراعتدال کےساتھ حل کیا جائے، اس کے لیے جہاں  فطری جذبے کا لحاظ ضروری ہوتاہے، وہیں زمینی  حقائق و حالات کو نظرانداز کردینا  دانش و بصیرت اور قابل لحاظ تقاضوں کےمنافی  ہے۔ معاشرتی مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ مرد، عورت او رلڑکا لڑکی کے رشتہ ازدواج میں منسلک ہونا بھی ہے، اس سلسلے میں ان تمام امور کا ممکن حد تک لحاظ کیا جانا چاہئے ، جن سے دونوں  کی ازدواجی زندگی  بہتر طور سےگزر سکے ، کفاء ت (برابری) کا اعتبار  ، اس تناظر میں انتظامی لحاظ  سے کیا جاتا ہے ، ادھر کچھ دنوں سے پھر شادی بیاہ میں کفاءت کو لے کر بحث و گفتگو چل رہی ہے، لیکن واقعہ  یہ ہے کہ شادی  بیاہ  میں برابری  (کفاءت ) کےسلسلے میں  خاصی افراط  تفریط  پائی جاتی ہے، کچھ لوگ توسرے سے ہی کفاء ت کا انکار کرتے ہوئے فقہ اور فقہاء تک کو تنقید کانشانہ بناتے ہیں ، دوسری طرف کچھ لوگ کفاءت کو شرط او رمدارِ نکاح کا درجہ دیتے ہوئے اپنی اشرافیت و برتری کو بین السطور میں ثابت کرتے ہیں اور غیر کفو میں نکاح  کو ناجائز  قرار دیتے  ہیں، جب  کہ راہِ صواب افراط و تفریط کے درمیان سےہوکر گزرتی ہے، اگر کفا ءت کے سلسلے میں  کوئی قرآنی آیت او رکسی بھی  درجے کی کوئی حدیث نہ ہوتی تو بھی لڑکا، لڑکی کے درمیان بہتر نبھاؤ (نباہ) کےمد نظر یہ دیکھنا عقل وفہم کا تقاضا ہے کہ ایسی  برابری  کا لحاظ کیا جائے جو دونوں میں ذہنی  ، عملی ہم آہنگی پیدا کرکے زندگی  گزارنے میں معاون  بنے ۔

مرد و عورت ، شادی سے قبل اجنبی ہوتے ہیں، شادی دونوں کو ایک کردیتی ہے،یہ ملاپ کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہے، او رنہ ان کا گھروندہ کہ بنانے بگاڑ نے سے زندگی پرکوئی اثر مرتب نہیں ہوتا ہے،بلکہ ایک سنجیدہ  معاملہ ہے، پائیدار اور خوشگوار  ازدواجی زندگی  کے لیے ان امور کا لحاظ رکھنا چاہئے ، جو کفاءت  کے ذیل آتے ہیں ۔ اس کےمدنظر ائمہ اربعہ کے علاوہ دیگر فقہا وائمہ مجتہدین نے بھی کفاءت کا اعتبار کیا ہے۔

یہ اور بات ہے کہ سب کے نزدیک تمام امور کفاءت کو یکساں  درجہ حاصل نہیں ہے  ، اور نہ وہ درجہ دیا گیا ہے جو بعد کے دور میں کفاءت کو مل گیا ہے، خاص طور سےبرادری کے معاملے میں ۔ برادری سےباہر شادی بیاہ کو بعض حلقوں میں بہت معیوب سمجھتے ہوئے ایسی حیثیت  دی گئی ہے کہ قتل تک ہوجاتے ہیں یا اس کے لیے لڑکا، لڑکی کی زندگی تک تباہ کردی جاتی ہے، یا پھر غیر برادری میں شادی ہوجانے کی صورت میں ہمیشہ کے لیے تعلقات ختم کر لیے جاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسا شریعت کی محبت  او رلحاظ میں نہیں کیا جاتا ہے، بلکہ اپنی انا او رمفروضہ خاندانی غیرت میں کیا جاتا ہے ، او ربے بنیاد طور سے فقہ اور فقہاء کے اقوال و آراء کا سہارا لیا جاتاہے ۔ فقہ اسلامی  اور شریعت میں لڑکی کی مرضی او رپسند کو اوّلیت  حاصل ہے، اور اگر اس کے اولیا ( سرپرست) دینی اور سماجی  مصالح کے مد نظر غیر برادری اور غیر کفو میں شادی کردیں تو اس کے انعقاد میں شرعاً و سماجاً کوئی قباحت و رکاوٹ نہیں ہے۔ اسے عام طور سے بتانے سے گریز کیا جاتاہے، اگر اسے بتایا جائے تو یقیناً کفاءت سے متعلق  شدت میں کمی آئے گی۔

فقہاء نے اس سلسلے میں ایک بات یہ بھی  کہی ہے کہ لڑکی ، غیر کفو لڑکے کی فراش (وظیفہ زوجیت کی ادائیگی کی حالت) بننے  میں اپنی توہین و ذلت  محسوس  کرتی ہے، او ریہ بہتر خوشگوار ازدواجی زندگی  کی راہ میں رُکاوٹ ہے۔ لیکن لڑکی  جب خود برادری سےباہر، لڑکے کو پسند کرکے اس سے ازدواجی رشتہ قائم کر کے اپنی  زندگی  گزارنا چاہتی ہے اور دونوں  میں خونی رشتے اور دودھ کی بنیاد پر حرمت کاکوئی معاملہ  بھی نہیں  ہے تو پھر لڑکے کو گھٹیا ، خسیس سمجھ کر فراش نہ بننے کامذکورہ  سبب خود بہ خود ختم ہوجاتا ہے، یہ قابل توجہ امر ہے کہ شادی بیاہ میں کفاءت کو حد سے زیادہ اہمیت دینے والے  مذکورہ سبب کو حد سے زیادہ نمایاں  کرکے بیان کرتے ہیں۔ یہ سبب  اس وقت اہم اور قابل توجہ ہے جب لڑکی، لڑکے کو پسند نہ کررہی ہو، اور اس کی مرضی  کے بغیر کسی سے نکاح کردیا جائے، موجودہ دور میں ایسے واقعات شاذ و نادر ہوتےہیں، مسئلہ تو وہاں پیدا ہورہاہے کہ لڑکا لڑکی ایک دوسرے کو پسند کرکے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوناچاہتے ہیں یا بالغ ہونے کی صورت میں  اولیاء کے مرضی کے خلاف شادی، کر لیتے ہیں ،  ایسی صورت میں مسئلے کی وہ نوعیت نہیں رہ جاتی ہے، جس کا حوالہ دے کر کفاءت کی بنیاد پر نکاح  کو باطل بمعنی  کالعدم، غیر منعقد قرار دے دیا جاتا ہے۔

  گزشتہ دنوں کئی معاملے  ایسے سامنے  آئے جن میں کہا گیا کہ اولیاء ( سرپرستوں)  کی اجازت و مرضی کے بغیر بالغ لڑکا لڑکی کا غیر برادری میں کیا ہوا نکاح سرے سے ہوا نہیں ، لہٰذا طلاق لینے کی ضرورت نہیں ہے، اس کے بغیر ہی اولیاء جہاں چاہئے لڑکی کا نکاح کردیں، بلاشبہ کئی متاخرین حنفی فقہاء نے امام اعظم کی ظاہر روایت اور اصل کے خلاف فتویٰ دیا ہے، اور بعد میں ایک خاص صورت حال کے تحت اسے بہت سے اصحاب فتویٰ  میں توجہ مل گئی، ممکن ہے کہ کسی وقت مخصوص حالات میں کچھ وجوہ سے ایسا فتویٰ دیا گیا، لیکن آج  شادی بیاہ  کی از حد  دقتوں او رمشکلات کا تقاضا ہے کہ ظاہر روایت اور اصل فتویٰ کے مطابق عمل کیا جائے، جیسا کہ مولانا مفتی ارشاد احمد القاسمی جیسے حضرات نے لکھا ہے، لیکن ساتھ  ہی اس پر زور دے کر ماحول  بنانے کی شدید ضرورت ہے کہ کوئی  بھی بالغ لڑکی اولیاء کی مرضی کو نظر انداز کر کے اپنا نکاح نہ کرے، یہ سراسر شرافت و حیاء کے خلاف ہے، ولی کی اجازت کو نظر انداز کر کے نکاح کو شریعت نے انتہائی نا پسند یدگی کی نظر سے دیکھا ہے،اس سلسلے کی روایات پر فقہائے احناف نے اپنی تحقیق  کے مدنظر مختلف جہات سےبحث و گفتگو کی ہے، لیکن یہ روایات برادری، قبیلہ میں  کفاءت سے متعلق پیش کردہ روایات سے باعتبار پسند زیادہ قابل استدلال اور قابل توجہ ہیں اور اذن ولی کے سلسلے میں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے

کیوں کہ احناف  کے یہاں بھی ولی کی مرضی و اجازت سے غیر کفو میں نکاح بالکل جائز ہے، ایسی  صورت میں اذنِ ولی کی بات گھوم پھر کر قابل توجہ ہوجاتی ہے ، اگر لڑکے کاگھر گھرانہ او رمعیار زندگی لڑکی والے سےملتا جلتا ہے او رلڑکا  ،لڑکی میں اقتصادی ، سماجی ، تعلیمی  و ذہنی  طور سے ہم آہنگی اور یکسانیت پائی جائے تو لڑکی کی پسند کا لحاظ کرتے ہوئے جنسی و سماجی برائیوں اور فساد، جس کی طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا ہے،بچتے ہوئے  اس کے پسند یدہ لڑکے  سے نکاح کر دینا  ہی دانش مندی  کا نقاضا ہے۔ غیر برادری میں شادی کا مسئلہ  ایسا قطعاً نہیں ہے کہ اسے موت، اور زندگی کا مسئلہ بنا لیا جائے، ایسا  جو بھی کرتے ہیں ، وہ اپنی زندگی کے ساتھ اپنی اولاد کی زندگی کو غیر ضروری طور سے عذاب اور اجیرن بنارہے ہوتے ہیں۔ آج کے حالات میں بہت سی مسلم لڑکیاں  دین و شریعت کو نظر انداز کر کے حرام کی غیر اسلامی شادیاں  کررہی ہیں، اہل کتاب کی پاک دامن  عورت سے نکاح کے استثنیٰ  کے ساتھ غیر مذہب کے لڑکے لڑکیوں سے نکاح شرعاً سرے سے منعقد ہی نہیں ہوتا ہے، ایسی حالت میں  اِکا دُکا غیر کفو لڑکا لڑکی کی شادی میں محض غیر برادری ہونے کے سبب رکاوٹ ڈالنا سراسر حالات کی اَن دیکھی اور غیر راست رویہ ہے، اس سے مسائل پیدا ہورہے ہیں ، مسئلے  کا  حل نہیں  نکل رہا ہے ۔

یہ خوش آئند  بات ہے کہ اس پر اہل علم و افتاء  کی ایک بڑی تعداد اپنی توجہ مبذول کررہی ہے، او رکتاب و سنت اور فقہ اسلامی میں موجود مختلف اقوال و آراء میں ترجیح و تطبیق دے کر مسئلے کا حل نکالنے کی راہ پر گامزن ہے۔ اہل علم کو معلوم ہے کہ حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ  ، مولانا مفتی شفیع دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ اور مولانا احمد رضا خاں کا مسئلہ کفاءت  میں  کیا موقف و رویہ  تھا  ، لیکن  وقت اور حالات کے مدنظر مشہور عالم و محقق  مولانا مفتی  محمد تقی  عثمانی اور صاحب نظر بریلوی  عالم مفسر قرآن اور شارح حدیث، مولانا غلام رسول سعیدی  نے اپنے تحقیقی مطالعہ  کی رشنی  میں ضرورت محسوس کرتے ہوئے  جو نقطۂ نظر پیش کیا ہے، اس سےشادی بیاہ میں کفاءت کا وہ درجہ نہیں  رہ جاتا ہے، جس سے غیر برادری او رغیر کفو میں حل کے بجائے شادی مسئلہ بن جائے ،مولانا سعید ی نے تفسیر  ‘بتیان القرآن’ کی سورہ احزاب میں مذکورہ حضرات زید رضی اللہ عنہ اور زینب رضی اللہ عنہ  کے نکاح کے تناظر میں متعلقہ آیات کی تفسیر کرتے ہوئے او رمسلم شریف کے ترجمہ  و شرح کی کئی جلدوں میں بحث  کر کے مسئلے کا جورُخ پیش کیا ہے ، اس سے بات بہت حد تک واضح  ہوجاتی ہے کہ  کہ نکاح میں کفاءت (برابری) کی کیا حیثیت ہے ، اور اس کا کیا معنی  و مطلب ہے ۔ مولانا مفتی تقی  عثمانی  کی تحریروں اور خطبات کا دس جلدوں پر مشتمل ایک مجموعہ مکتبہ نعیمیہ  دیوبند سےہماری زندگی اور اسلام کے نام سے شائع ہوا ہے، اس کی پانچویں جلد میں  مولانا عثمانی نےبرادری  سے باہر شادی کے سلسلے میں شدت پسند ی کی قباحت کے تناظر میں امریکہ کی ایک ایسی مسلم لڑکی کادرد ناک واقعہ  لکھا ہے ،جس کےباپ نے غیر برادری میں ماں بھائی  کی مدد سے بڑی عمر میں نکاح کرنے کے باوجود ہمیشہ کے لیے اپنی بیٹی  سے تمام تر تعلقات ختم کرلیے ہیں۔

مولانا  عثمانی نے اس روش پر تنقید  کرتے ہوئے لکھا ہے کہ شادی بیاہ  کے معاملے  میں  ابھی  تک لوگ خود ساختہ  خیالات کے بندھن  میں بری  طرح جکڑےہوئے ہیں ، پھر نکاح اور برادری کے عنوان کے تحت کفاءت سے متعلق وہ لکھتے ہیں کہ بعض  احادیث و روایات میں یہ ترغیب  ضرور دی گئی ہے کہ نکاح کفو میں  کرنے کی کوشش کی جائے، تاکہ دونوں خاندانوں کے مزاج آپس میں میل کھاسکیں، لیکن  یہ غلط ہے کہ کفو  سے باہر نکاح شرعاً بالکل ناجائز  ہے، یا یہ کہ کفو سےباہر  نکاح درست نہیں ہوتا ۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر لڑکی اور اس کے اولیاء  کفو سے باہر  کرنے پر راضی ہوں تو کفو سے باہر کیا نکاح  بھی شرعاً منعقد ہوجاتا ہے ، اور اس میں کوئی گناہ ہے  نہ کوئی ناجائز بات، لہٰذا اگر کسی لڑکی کا رشتہ کفو میں میسر نہ آرہا ہو اور کفو سے باہر کوئی مناسب رشتہ مل  جائے تو وہاں  شادی  کردینے میں کوئی حرج  نہیں ۔ آگے لکھا ہے: برادری کی شرط پر اتنا زور دینا تو او ربھی  زیادہ بے  بنیاد او رلغو حرکت ہے جس کا کوئی جواز نہیں ہے۔ (دیکھیں اسلام او رہماری زندگی، ص 52 تا 54، جلد 5، مطبوعہ مکتبہ نعیمیہ دیوبند ، اپریل 2011ء)

جو لوگ کفاءت پر حد سے زیادہ زور دیتے ہیں انہیں اس سے زیادہ اس بات پر غور کرنا چاہیے  کہ کوئی لڑکی غیر کفو برادری سےباہر شادی کرنے پر آخر کیوں مجبور ہوئی؟ سچ تو یہ ہے کہ مخصوص حالت میں در پیش  غیر کفو میں نکاح، مسئلے کا ایک حل ہے، نہ کہ مسئلہ ۔ اس لیے اسے ایک  حل کی صورت میں دیکھنا  چاہیے ۔ حل کو مسئلہ بنانا عقل  مندی نہیں ہے۔ راقم سطور مسئلہ کفاءت پر اپنی کتاب ‘ مسئلہ کفو اور اشاعت اسلام’  میں خاصی تفصیل سے لکھ چکا ہے ۔ یہاں سمجھ  دار آدمی کے لیے یہ سطوربھی فہم  مسئلہ کے لیے کافی ہوں گی۔ آج کی تاریخ میں اصل مسئلہ لڑکے  خصوصاً لڑکی کو دائرۂ دین سے باہروہاں  شادی سے روکنا ہے، جہاں  شرعاً سرے سے نکاح منعقد ہی نہیں ہوتا  ہے، نہ کہ اہل ایمان  میں سے برادری سے باہر نکاح اصل مسئلہ ہے۔

5 فروری، 2013  بشکریہ : روز نامہ ہمارا سماج ، نئی دہلی

URL for English article

https://newageislam.com/islamic-society/the-‘islamic’-principle-kufu-(parity)/d/10362

URL:

https://newageislam.com/urdu-section/the-‘islamic’-principle-parity-marriage/d/10366

 

Loading..

Loading..