New Age Islam
Sun Sep 27 2020, 09:52 AM

Urdu Section ( 23 Jan 2013, NewAgeIslam.Com)

Importance of 12th Rabiul Awwal and its Obligations بارہویں ربیع الاول کی اہمیت اور تقاضے

مولانا اسرار الحق قاسمی

22 جنوری، 2013

12 ویں ربیع الاول کےموقع پر ملک و بیرون ملک کے کروڑوں مسلمان پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سےاپنے تعلق کا اظہار کرتے ہیں۔ بہت سی جگہوں  پرچھٹیاں  منائی جاتی  ہیں، چپہ چپہ  سے جلوس  محمدی صلی اللہ علیہ وسلم  نکالے جاتے ہیں ، اس موقع پر جلسوں اور پروگراموں  کا انعقاد بھی کیا جاتا ہے ، جن میں مقررین و خطبا ء حضرات پورے جوش و جذبے کے ساتھ  تقاریر کرتےنظر آتے ہیں۔ اس موقع پر عموماً مقررین اتنا جذباتی لہجہ  اختیار کرتے ہیں کہ  ایسا  محسوس ہوتا ہے، جیسا  کہ جنگ کابگل بج چکا ہو اور فوجیوں  کے جذبات کو ابھارا جارہا  ہو۔ سیرت طیبہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر پہلو کو اتنے جذباتی  انداز میں پیش کرنا زیادہ مناسب معلوم نہیں ہوتا، کیونکہ اس طرح  وہ سامعین  جو اشتیاق کے ساتھ تقاریر سننے کے لیے جمع  ہوتے ہیں وہ انداز  کی گھن گرج میں یا انداز کےنشیب و فراز میں گم ہوکر رہ جاتے ہیں،  کیا بیان کیا گیا؟ تقریر کے خاتمے کے بعد انہیں اس کا کچھ علم نہیں ہوتا ۔ گویا کہ کانوں کو ایک طرح  سے لذت حاصل ہوتی ہے، مگر بات دماغ  میں نہیں اترتی  او رکچھ  یاد نہیں رہتا، جب کچھ یاد نہیں رہتا تو پھر ان باتوں پر جو سیرت سے متعلق  تقاریر میں بیان کی جاتی ہیں، ان سے وہ کس طرح فائدہ حاصل کرسکتے ہیں او رانہیں  کس طرح اپنی زندگی  میں لا سکتے ہیں؟ کیا ہی اچھا  ہو کہ مقررین حضرات اس موقع کو غنیمت  جانتے ہوئے سامعین کو سیرت مبارکہ کے مختلف  پہلوؤں سے آشنا کرائیں  اور  انہیں ایسی باتیں بتائیں جو انہیں نہ صرف جلسے  کے ختم ہونےکے بعد بھی یاد رہیں ، بلکہ طویل عرصہ تک یاد آئیں ، تاکہ وہ ان باتوں کو دوسروں تک بھی پہنچا سکیں او رخود بھی  ان پر عمل پیراہوں ، اس لیے اگر اس  موقع پر سمجھانے والا انداز اختیار کیا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا ۔ جذباتی  یا شور والے  لہجے میں تقریر کر کے مفید  باتو ں کو  سامعین  کے دل و دماغ میں اتارنا مشکل کام ہے۔

12ویں ربیع الاول کے موقع پر لوگ سیرت طیبہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جاننا چاہتے ہیں، اس لیے اگر اس انداز سے ان کے سامنے سیرت بیان کی  جائے کہ  ان کے سامنے سیرت طیبہ  کے مختلف  پہلو آجائیں  تو یہ اہمیت کی حامل بات ہے۔ ان جلسوں میں سامعین کو بتایا جائے کہ جس رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کے وہ امتی ہیں وہ کتنے عظیم تھے، ان کی ولادت سے قبل دنیا کے کیا حالات تھے اور انہوں نے کس طرح ان حالات کو تبدیل کیا، کس طرح جہالت کی تاریکیوں  میں علم کا چراغ  روشن کیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بچپن  کس طرح  گزرا؟ تاکہ لوگ اپنے  بچوں کو اس نہج پر لانے کی کوشش کریں کہ ان کا بچپن بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بچپن کی طرح گزرے۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے بچپن کے حالات بتانا اس لیے بھی  ضروری ہے کہ ان مجلسوں وپروگراموں میں بہت سے بچے بھی ہوتے ہیں، بعض بچے اگر چہ کم عمر ہوتے ہیں لیکن وہ اچھی  باتوں کو سمجھتے  ہیں ، یاد کرلیتے ہیں او رانہیں اپنی زندگیوں میں لانے کی کوشش بھی کرتے ہیں ۔کہا جاتا ہے کہ بچے  کا ذہن کورے کاغذ کی طرح ہوتا ہے ، یعنی جس طرح خالی کاغذ  پر کچھ بھی لکھا جاسکتا ہے ، اسی طرح  بچہ کو مختلف قسم کی باتیں ذہن نشین  کرائی جاسکتی ہیں۔ اگر بچے کے سامنے اچھے باتیں پیش کی جائیں گی تو وہ نہ صرف اس کے  دماغ میں گھر کر جائیں گی، بلکہ اس کی زندگی  میں بھی نظر آئیں گی ۔ اگر بچے کے سامنے بری  باتیں بیان کی جائیں گی یا اس کی غلط ڈھنگ سے تربیت کی جائے گی یا  پھر اس کو نامناسب ماحول فراہم کیا جائے گا تو اس کی زندگی میں اسی  کے اثرات دکھائی دیں گے۔ لہٰذا 12 ویں  ربیع الاول کے موقع پر منعقد ہونے والے جلسوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بچپن  کے حالات کو بیان کیا جانا اہمیت و افادیت سے خالی نہیں ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جوانی کے حالات و واقعات کو بھی  اس موقع پر منعقد ہونے والے پروگراموں میں بیان  کیا جائے، تاکہ نوجوان طبقہ  آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی جوانی کی زندگی  کے بارے میں جان کر سبق حاصل کرسکیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات ایسے پیرا ئے میں بیان کیے جائیں  کہ وہ ان کے ذہن نشین  ہوجائیں  او رانہیں  بار بار یاد آئیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جوان تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہایت بردبار، ایمانداری ، دیانت دار تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق بہت وسیع تھے  ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم امانت دار تھے، جس سے وعدہ کرتے اسے ہر حال میں پورا کرتے ، کبھی جھوٹ نہ بولتے ، کسی کے ساتھ  سختی سے پیش نہ آتے تھے۔ عہد حاضر  میں نوجوانوں کے سامنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جوانی کی زندگی  کو لانا اس لیے  بھی ضروری  ہے کہ فی زمانہ  نوجوانوں کے حالات بہت زیادہ دگر گوں نظر آرہے ہیں ، نوجوانوں میں بردباری بھی دکھائی  نہیں دے رہی ہے ۔ آج  بہت سے نوجوان آوارگی میں پیش پیش دکھائی دیتے ہیں ، کتنے مسلم نوجوان ایسے ہیں جو گروپ بناکر سیدھے و شریف  لوگوں کو ستاتے ہیں  ، کتنے چوری  بھی کرتے ہیں ، کتنے جرائم کی وارداتیں بھی انجام  دیتے ہیں، کتنے ایسے  بھی ہیں جو اپنے والدین کی کھلی نافرمانی کرتے ہیں، بلکہ انہیں  ڈانٹتے ڈپٹتے  بھی ہیں، بہت سے نوجوان اپنے کاروبار کو آگے بڑھانے کے لئے ناجائز  راستوں کو بھی اختیار کررہے ہیں  ، عہد شکنی کرنا، وعدوں کو نہ نبھانا ، اپنے مفاد  کے لیے دوسروں کی حق تلفی  کرنا اور اپنی طاقت  کے زعم  میں دوسروں کو معمولی  سمجھنا  ایک عام سی بات بن  کر رہ گئی ہے۔

آج بہت  سے نوجوان دیگر اقوام کی نقالی  بھی کررہے ہیں اور تہذیب جدید سے بہت زیادہ متاثرین بھی دکھائی  دے رہے ہیں جس کے سبب ان کے لباس کے اندر تبدیلی آرہی ہے، ان کے کھانے پینے اور رہنے کے طریقوں میں بدلاؤ آرہا ہے، ان کے انداز و اطور میں نمایاں  فرق دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ اس طرح  آہستہ آہستہ اسلامی معاشرت کو و ہ چھوڑ تے جارہے ہیں  ۔ اس صورت حال نے ان کے مستقبل  کو اور ان کی پرسکون  زندگی  کومفلوج  بنادیا ہے۔ ہر چہار جانب  سے رقص  ، فحاشی ، شراب نوشی، کذب بیانی ، جوا، سٹہ بازی جیسی لتیں ان کا محاصرہ کررہی ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ نوجوانوں کے سامنے مغربی  تہذیب اپنی پوری  چمک دمک کے ساتھ موجود  ہے، جنسی  آوارگی ، عیاشی اور موج مستی  کے سارے سامان ہر جگہ دستیاب ہیں، ماحول  بھی مغربی  ہے، اسکولوں میں ، کالجوں میں اور یونیورسٹیوں میں جہاں جائیے  وہاں بے راہ روی صاف طور پر نظر آتی ہے۔ ظاہر سی  بات ہے کہ ایسے حالات میں نوجوان کا غلط راہ کی طرف چل پڑنا کوئی بعید از قیاس بات نہیں ۔ ایسے میں انتہا ئی ضروری ہے کہ نوجوانوں  کو اسلامی لٹریچر  سے جوڑا جائے، ان کے سامنے روحانیت اور اسلامی معاشرت کی باتیں  بیان کی جائیں، ان کے سامنے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم  کی زندگی  کو پیش کیا جائے۔یہ تشویشناک بات ہے کہ نوجوان طبقے  میں جس بڑے پیمانہ پر کام کیا جانا چاہئے ، اس کا عشر عشیر بھی نہیں ہورہا ہے ۔ 12 ویں ربیع الاول کے موقع پر  مسلم نوجوانوں  کی بڑی  تعداد جلسوں و غیرہ  میں شرکت  کرتی ہے، اگر اس موقع کو غنیمت  جانتے ہوئے سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلامی معاشرت سے متعلق کچھ باتیں  ان کو سمجھادی جائیں تو کیا بعید  کہ بہت زندگیوں میں انقلاب برپا ہوجائے ۔

اس کے علاوہ اس موقع پر سیرت طیبہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ واقعات ، جو معاشرے کی اصلاح میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں ، انہیں  بھی بیان  کیا جائے، کیونکہ ہمارا  مسلم  معاشرہ  بہت دگر گوں حالات سےگزر رہا ہے ۔ روز بروز برائیاں  پھیلتی  جارہی ہیں ، رسومات کی ایک طویل فہرست ہے، فضول خرچی ، اخلاقی  انار کی ، قتل و غارت گری، لڑائی  جھگڑے ، وعدہ خلافی او رجھوٹ جیسی  برائیاں  تو  ہمارے معاشرے میں پائی ہی جاتی ہیں ، لیکن جدید تہذیب کی بھی بہت  سی چیزیں  ہمارے معاشرے میں دیکھنے کو مل رہی ہیں، برتھ ڈے، نیا سال،  ویلن ٹائن ڈے، اپریل فول، کرسمس اور اس قسم کی متعدد چیزیں  اب ہمارے معاشرے میں دبے  پاؤں تیزی  سے داخل ہورہی ہیں، لہٰذا ضروری  ہے کہ معاشرے کی اصلاح کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں  ، جن  میں ایک  اہم قدم سیرت مبارکہ کے مطابق زندگی  گزارنا ہے۔ اگر مسلم معاشرے کے افراد سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم  کے مطابق زندگی گزارنے لگیں تو آناً فاناً معاشرے سے برائیاں ختم ہوجائیں گی۔ 12 ویں  ربیع الاول  کے موقع پر لوگوں کو بتایا  جائے کہ 12 ویں ربیع الاول  کا تقاضا یہ ہے کہ تمام مسلمان سنت کے تقاضوں کو پورا کریں ، جن چیزوں کے کرنے کے لیے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ہے، انہیں کریں اور جن چیزوں کے کرنے سے منع کیا ہے، ان کے قریب بھی نہ جائیں، یہی رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت ہے ۔ وہ شخص جو جلسوں میں آگے رہے  ، جلوس نکالنے  کے لیے خطیر رقم  بھی خرچ کرے، جھنڈے بھی اٹھائے ، لیکن اگر اس کے اعمال سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق نہ ہوں گے تو وہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم  سے سچی محبت  کرنے والا کیسے ہوسکتاہے۔ رسول سے محبت تو اسی وقت مانی جائے گی ، جب کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق زندگی  بھی گزاری جائے۔

مولانا اسرار الحق قاسمی لوک سبھا کے ایم پی اور آل انڈیا  تعلیمی و ملی فاؤنڈیشن  کے صدر ہیں۔

22 جنوری، 2013  بشکریہ : روز نامہ راشٹریہ سہارا ، نئی دہلی  

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/maulaa-asrarul-haq-qasmi-مولانا-اسرار-الحق-قاسمی/importance-of-12th-rabiul-awwal-and-its-obligations-بارہویں-ربیع-الاول-کی-اہمیت-اور-تقاضے/d/10127

  

Loading..

Loading..