New Age Islam
Wed Dec 08 2021, 11:43 AM

Urdu Section ( 14 Aug 2009, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Freedom is a natural, fundamental right in Islam اسلام میں آزادی کی قدر و قیمت

مولانا ندیم الواجدی

اسلام دین فطرت ہے،اور آزادی انسان کا فطری اور بنیادی حق ہے، اسلام سے پہلے انسان غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا، پوری دنیا دو گروہوں میں منقسم تھی، کچھ لوگ وہ تھے جو تمام تر وسائل زندگی پر قابض ہونے کی وجہ سے مضبوط او رمستحکم پوزیشن میں تھے، وہ سمجھتے تھے کہ اقتدار اور بالادستی ان کاپیدائشی حق ہے باقی لوگ صرف محکومت اور اطاعت کے لئے پیدا کئے گئے ہیں، دوسرے گروہ کے لوگ اگرچہ تعداد میں زیادہ تھے مگر کمزوری اور بے حسی نے ان کو ذہنی اور جسمانی طور پر غلام بنا کر رکھ دیا، نہ انہیں فکر و خیال کی آزادی میسر تھی او رنہ عقیدہ و مذہب کی، نہ انہیں کسب معاش کا حق تھا او رنہ کسی چیز کے مالکانہ حقوق حاصل تھے جس میں وہ اپنی مرضی سے تصرف کرسکتے، یہ لوگ بظاہر انسان تھے مگر انسانیت کے حوالے سے جو احترام اور مرتبہ و مقام انہیں حاصل ہوناچاہئے تھا اس سے بالکلیہ محروم تھے، ان حالات میں اسلام آیا، سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعث ہوئی اور انسانیت کو یہ مژدہ سنایاگیا: ”اور (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) ان لوگوں پر جو بوجھ اور طوق تھے ان کو دوڑ کرتے ہیں“(الاعراف:157)

دیکھا جائے تو اسلام کی آمد ان دبے کچلے لوگوں کے لئے م    ژدہئ جاں افزا تھی جو صدیوں سے غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے، ان ہی جیسے کچھ لوگ بالادست تھے، جو اپنے انسانوں کے ساتھ جس طرح چاہتے پیش آتے،کسی میں دم مارنے کی جرأت نہ تھی، سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے ایسے لوگوں کو زندگی کی ا س حقیقت سے روشناس ہونے کا موقع ملا جسے آزادی کہتے ہیں، آزادی بھی انہیں اپنے مفہوم کی تمام تر وسعتوں کے ساتھ میسر آتی،اس میں جان ومال کی آزادی بھی تھی، فکر و خیال کی آزادی بھی تھی، مذہب و عقیدت کی آزادی بھی تھی، شخصی اور نجی زندگی کی آزادی بھی تھی۔ اجتماعی اور تمدنی زندگی کی آزادی بھی تھی۔

سب سے پہلے تو آپ انسان کی جان کو لیجئے، اس سے زیادہ بیش قیمت کوئی دوسری چیز نہیں ہوسکتی، اسلام سے پہلے اس کی کوئی قیمت نہیں تھی، اگر تھی تو صرف ان لوگوں کی جان بیش قیمت تھی جو اقتصادی اور سیاسی طور سے مضبوط تھے اور جن کے پیچھے خاندانی نظام کی طاقت تھی، باقی لوگ عشرات الارض کی طرح حقیر تھے، جو چاہتا انہیں پاؤں تلے کچل دیتا، اسلام نے یہ اعلان کر کے ہر ذی نفس کو زندہ رہنے کی آزادی سے نوازا! ”جو شخص کسی ایسی جان کو قتل کرے جس سے قتل نہ کیا ہو اور نہ اس نے روئے زمین پر فساد برپا کیا ہو تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کر ڈالا او رجو کسی انسانی زندگی کی بقا کا سبب بنا تو اس نے تمام انسانوں کو زندگی بخشی“ (المائدہ: 32)۔

انسانی جان کے تحفظ او ربقا کا یہ اعلان تمام انسانوں کے لیے ہے، اس میں کسی مسلم غیر مسلم اپنے پرائے کی تخصیص نہیں ہے، انسان کو زندہ رہنے کی جو آزادی عطا کی گئی ہے اس کے تحفظ کے لیے اسلامی شریعت میں قصاص کا ایک مکمل نظام ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ اسلام ہر قیمت پر اس آزادی کو باقی رکھنا چاہتاہے او راگر کوئی شخص دنیوی سزا کے اس نظام سے بچ بھی جائے تو اس کے لیے اخروی عذاب کی اس قدر ہولناک وعیدیں ہیں کہ ان کی موجودگی میں کوئی سلیم الفطرت شخص کسی کی یہ آزادی سلب کرنے کی جرأت کرہی نہیں سکتا۔ پھر جان کی آزادی صرف یہ ہی نہیں کہ وہ زندہ رہے مگر اسے کسی طرح کا کوئی حق حاصل نہ ہو، نہ وہ کوئی اختیار رکھتا ہو، اسی لیے اسے حقوق و اختیارات بھی دیئے گئے تاکہ وہ اپنی مرضی سے زندگی گزار سکے، جان کے بعد اگر کسی کو کوئی چیز عزیز ہوتی ہے تو وہ مال و دولت ہے،اسلام انسان کو مال کمانے کی اجازت بھی دیتاہے او راس میں تصرف کرنے کی آزادی بھی عطا کرتاہے، بہ شرطیکہ یہ کسب و انفاق جائز حدود کے اندر ہو، اس میں بھی مرد و عورت، حاکم و محکوم کی کوئی قید نہیں ہے، ہر شخص اس کے لئے آزاد ہے،اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ مردوں کے لئے حصہ ہے اس میں جو وہ کھائیں اور عورتوں کے لئے حصہ ہے اس میں جو وہ کمائیں“۔ (النساء:32)

اسلام نے نہ صرف یہ کہ انسان کو جسمانی آزادی دی بلکہ دوسری نوع کے آزادیوں سے بھی نوازا، اس کو عزت و وقار عطا کیا،عدل و انصاف کے تقاضوں میں مساویانہ حقوق دیئے،اظہار خیال کی آزادی عطا کی، صرف احراء ہی کو نہیں بلکہ غلاموں کو بھی ان حقوق میں شریک کیا،ایک روایت میں ہے کہ حضرت بریرہؓ کو آزادی ملی تو انہیں شریعت کی طرف سے خود بہ خود یہ اختیار مل گیا کہ وہ اپنے شوہر حضرت مغیث ؓ کی زوجیت میں رہیں یا اس سے رشتے کو ختم کردیں، انہوں نے یہ طے کیا کہ وہ مغیثؓ کے نکاح میں نہیں رہیں گی، حضرت مغیثؓ یہ رشتہ باقی رکھناچاہتے تھے، اس مقصد کیلئے انہوں نے سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم سے سفارش کی درخواست کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بریرہؓ سے فرمایا کہ تم مغیثؓ کی زوجیت میں رہو، حضرت بریرہؓ نے عرض کیا کہ یہ آپ کا حکم ہے یا رسول اللہ! فرمایا نہیں، بلکہ سفارش ہے،عرض کیا پھر مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے، اظہار خیال کی آزادی کی اس سے بڑھ کر کیا مثال ہوسکتی ہے کہ ایک شخص نے برسر منبر خطبہ دیتے ہوئے حضرت عمر فاروق اعظم جیسے خلیفہ کو یہ کہہ کر روک دیا کہ ہم آپ کا خطبہ اس وقت تک نہیں سنیں گے اور آپ کی اطاعت اس وقت تک نہیں کریں گے، جب تک آپ اس کپڑے کے متعلق صحیح بات نہیں بتلائیں گے جو آپ کے بدن پر ہے، ایک بوڑھی عورت نے حضرت عمرؓ وہ دن یاد کرو جب عکاظ کے بازار میں لوگ تمہیں عمیر کہا کرتے تھے، کچھ دنوں کے بعد لوگ عمرؓ کہنے لگے اور اب تم امیرالمومنین ہو خدا سے ڈرکر کام کرنا،سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانی فطرت کے اس پہلو کو ہمیشہ رعایت کی ہے او رصحابہ کرامؓ کو اظہار خیال کاپورا پورا موقع عنایت فرمایا ہے، بعض انتظامی امور میں صحابہئ کرام ؓ منصب نبوت کا احترام ملحوظ رکھ کر مشورے دیا رکرتے تھے، اور وہ مشورے بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں قبول بھی کئے جاتے تھے، عزوہ اُحد کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے یہ تھی کہ مدینہ منورہ میں رہ کر مقابلہ کرنا چاہئے، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرامؓ کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے مدینہ منورہ سے باہر نکل کر مقابلہ کیا، اسی طرح غزوہئ بدر کے قیدیوں کے متعلق صحابہ کرامؓ سے مشورہ کیا گیا اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی رائے پر عمل کرتے ہوئے ان کو زر فدیہ لے کر رہا کردیا گیا۔ تاہم اسلام میں اظہار رائے کی آزادی کا یہ مطلب ہرگزنہیں ہے کہ کسی پر لعن طعن کیاجائے، کسی کی توہین کی جائے، اظہار رائے ہومگر حد دود وقیود کے ساتھ ہو،بڑوں کی تعظیم بھی ملحوظ رہے، حکام کا وقار بھی باقی رہے،آج جس اظہار رائے کاشور ہے وہ اسلام کی نظر میں مستحسن نہیں ہے کیونکہ اس میں اپنی رائے کا اظہار مقصود نہیں ہوتا بلکہ دوسروں کی توہین اور لآزاری مقصود ہوتی ہے۔ اسلام کو تو یہ بھی گوارا نہیں کہ اظہار رائے کا حوالہ دے کر معبود ان باطلہ کو براکہا جائے،حالانکہ یہ براہ راست مقام الوہیت کے خلاف بغاوت ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ”اور برامت کہو ان کو جن کی یہ خدا کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہیں“ (الانعام: 108)

اسی سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ اسلام انسان کو مذہبی آزادی بھی عطا کرتاہے، حالانکہ اسلام کے خلاف روز اوّل سے یہ پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ دین تلوا ر کے زور سے پھیلا ہے اور مسلمانو ں نے یہ جبرواگرہ دوسروں کو اپنا دین چھوڑنے پر مجبور کیا ہے۔ یہ ایک غلط پروپیگنڈہ ہے،پوری اسلامی تاریخ میں زبردستی کی کوئی مثال نہیں ملتی بلکہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ اسلام سے روکنے کے لئے ضرور زبردستی کی گئی ہے،جو لوگ اسلام کے دامن میں پناہ لے چکے تھے،یاپناہ لیناچاہتے تھے انہیں وحشتناک اذیتیں دی گئیں اور ان پر سخت ترین تشدد کیا گیا، تاریخ کی کتابیں اس طرح کے واقعات سے بھری پڑی ہیں، اس کے برعکس اسلام انسان کے لئے مذہبی آزادی کے حق کو تسلیم کرتاہے اور اس سلسلے میں وسعت ظرفی اور فراخ حوصلگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اعلان کرتاہے کہ ”دین کے سلسلے میں کسی طرح کی زبردستی نہیں ہے ہدایت گمراہی کے مقابلے میں قطعاً واضح ہوچکی ہے“۔(البقرہ: 34)۔

ایک جگہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:”اگر آپ کا رب چاہتا تو تمام لوگ مسلمان ہوجاتے کیا آپ ایمان قبول کرنے کے لئے لوگوں پر زبردستی کریں گے“(یونس:99)۔

ایک جگہ یہ مضمون ان الفاظ میں آیا ہے۔”آپ نصیحت کیجئے،آپ صرف نصیحت کرنے والے ہیں، آپ ان کے اوپر مسلط نہیں ہیں“۔ (الغاشیۃ:21-22) ایک اور آزادی جس کا ہم بہ طور خاص ذکر کریں گے وہ انسان کی نجی زندگی کی آزادی ہے،اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کو آزادی اور خود مختاری عطا کی ہے وہ اپنے بودوباش میں رہن سہن میں، بول چال میں، طرز معاش میں، طرز معاشرت میں، شرعی حدود کے اندر ہوتے ہوئے مکمل طور پر آزاد ہے کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ فرد کے ان کے حقوق میں کسی طرح کی مداخلت کرے، اسی لیے تانک جھانک سے تجسس سے، عیب جوئی سے، غیبت سے اور افشائے راز سے منع کیا گیا ہے کہ ان چیزوں سے فردگی خود مختاری اور نجی زندگی پر ضرب پڑتی ہے، اللہ تعالیٰ کو یہ آزادی اس قدر عزیز ہے کہ اس نے مسلمانوں کو حکم دیا:”اے ایمان والوتم اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں اس وقت تک داخل نہ ہو جب تک ان سے اجازت نہ لے لو او ران کے رہنے والوں کو سلام نہ کرلو“(النور:27)۔

اسی مضمون میں ہم نے حضرت بریرہؓ اور حضرت مغیثؓ کا ذکر کیا ہے یہ دونوں حضرات ابتدائے اسلام میں غلام تھے غلام کا ذکر آیا تو یہ بتلادینا ضروری ہے کہ اسلام پر مغربی دنیا کی طرف سے برابر یہ الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ اس نے غلامی کی رسم جاری رکھی،یہ الزام محض تعصب اور تنگ نظری پر مبنی ہے،مغرب کے ساتھ مصیبت یہ ہے کہ نہ اسے اسلام کی انسان دوستی اور انسانیت نوازی گوارا ہے او رنہ اس کی جامعیت اور آفاقیت برداشت ہے، ورنہ کیا وجہ ہے کہ اس طرح کے الزامات لگائے جاتے ہیں جب کہ بنیادی طور پر اسلام نے غلامی کی بدعت ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، تاریخ شاہد ہے کہ اسلام کی آمد سے پہلے غلام اپنی تمام تر قباحتوں کے ساتھ معاشرے میں موجود تھی یہ اور بات ہے کہ اسلام نے تمام برائیوں کی طرح اس برائی کو بھی ایک دم ختم نہیں کیا، کیونکہ اس سے معاشرے میں دوسرے مسائل پیدا ہوسکتے تھے بلکہ اپنے وصف اعتدال و توازن کوملحوظ رکھ کر ترغیب و تحریض کے ذریعے اس خرابی کو اس طرح مٹایا کہ آج غلامی کا کوئی تصور موجود نہیں ہے۔

اسلام کی آمد سے پہلے غلاموں کی باقاعدہ تجارت ہوتی تھی، معاشی، اقتصادی، زرعی، صنعتی اور نجی ضرورتوں کے لئے ان کا وجود ناگریز تھا، غلاموں کے باقاعدہ بازار تھے، جہاں اشیائے ضروریہ کی طرح ان کو فروخت کے لئے رکھا جاتا، قرآن کریم میں پیغمبر خدا حضرت یوسف علیہ السلام کا قصہ مذکور ہے کہ ان کے بھائیوں نے انہیں کنویں میں ڈال دیا،تاجروں کا ایک گروہ مصر جانے کے ارادے سے کنویں کے پاس پہنچا تو اس نے دیکھا کہ کنویں کے اندر ایک حسین و جمیل بچہ موجود ہے، تاجروں نے اس بچے کو جو حضرت یوسف تھے کنویں سے نکالا اور مصر پہنچ کر بازار غلاماں میں فروخت کردیا، اس زمانے کی مقدن کہلائی جانے والی قومیں ان غلاموں کو نہ صرف یہ کہ محنت طلب کاموں میں لگاتیں بلکہ ان کا جنسی طور پر استحصال کرتیں، دولت مند او راصحاب اقتدار ان غلاموں پر نشانہ بازی کی مشق کرتے، او رانہیں بھوکے شیروں کا لقمہ بنتے ہوئے دیکھ کر خوش ہوتے، ان کو جنگوں میں استعمال کیا جاتا، تلواروں اورنیزوں کے مقابلے میں اتارا جاتا، ان کے ساتھ جانوروں سے بدتر سلوک کیا جاتا، ان کو پیٹ بھر کھانے اور تن ڈھانپنے کیلئے ضروری کپڑوں سے محروم رکھا جاتا، معاشرے میں غلاموں کی اس قدر کثرت تھی کہ بعض مالدار لوگ سینکڑوں غلاموں کے مالک تھے، یہ لوگ اپنے غلاموں کے ساتھ جیسا چاہے سلوک کرتے، خود ہی فیصلے کرتے خود ہی سزا دیتے، ظالمانہ سلوک کے لئے کوئی ان سے باز پرس تک نہیں کرسکتاتھا۔

اسلام نے زندگی کے ہر شعبے میں اپنی تعلیمات سے انقلاب برپا کیا ہے، کوئی اخلاقی پستی اور غیر انسانی برائی ایسی نہیں ہے جس کو اسلام نے اپنے قوانین کے تدریجی ارتقا ء کے ذریعے ختم نہ کیا ہو، غلامی کا مسئلہ بھی بڑا سنگین تھا، اسلام نے روز اول سے اس کی سنگینی محسوس کی، وہ چاہتا تو ایک لخت اس سلسلے کو منقطع کردیتا، او رمالکان کو پابند کرتا کہ وہ بلاتاخیر اپنے غلام باندی آزاد کردیں، مگر اس نے دوسرے معاملات کی طرح اس معاملے میں بھی اپنی مخصوص حکمت عملی سے کام لیا، اپنے مزاج اور لوگوں کی نفسیات کو ملحوظ رکھ کر اس نے وہ طریقہ اختیار کیا جس سے لوگ خود بہ خود غلاموں کی آزادی کی طرف مائل ہوجائیں، اور آزادنہ کرسکیں تو کم از کم ان کے ساتھ وہ سلوک تو کریں جس کے وہ بحیثیت انسان مستحق ہیں، قرآن کریم نے واضح طور پر تمام انسانوں کی برابری کا اعلان ان الفاظ میں کیا۔

”اے لوگو اپنے اس پروردگار سے ڈرو جس نے تمہیں ایک ہی نفس سے پیدا کیا ہے“۔(النساء:1)

انسانی تخلیق میں وحدت کو بہ طور خاص جتلانے کامقصد دراصل اخوت کے اس رشتے سے آگاہ کاکرنا ہے جو تمام انسانوں کے درمیان ہمیشہ سے موجود ہے او رقیامت تک موجود رہے گا۔ یہ رشتہ اخوت: مساوات انسانی کی نشاندہی بھی کرتاہے او راس تصور کی نفی بھی کرتا ہے جس کی بنیاد پر کچھ انسان اپنے ہی جیسے انسانوں کے مالک بن بیٹھتے ہیں۔ اگر معاشرے کی ظالمانہ روش فطرت انسانی کے برخلاف کچھ کمزور لوگوں کو محکوم او رمملوک بنا بھی دیتی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک روا رکھا جائے او رانہیں ان کے بنیادی حقوق سے محروم کردیا جائے، اللہ تعالیٰ کا حکم ہے:”اوروالدین کے ساتھ اچھا معاملہ کرو اور رشتہ داروں کے ساتھ اور یتیموں کے ساتھ بھی اور غریبوں کے ساتھ بھی اور قریبی پڑوسی کے ساتھ بھی او ردوروالے پڑوسی کے ساتھ بھی او رہم مجلس کے ساتھ بھی اور راہ گیر کے ساتھ بھی او ران کے ساتھ بھی جو تمہارے مالکانہ قبضے میں ہیں“(النسا ء 36)۔

سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے غلاموں کی یہ حالت زار دیکھی تو نہایت آزردگی کے ساتھ ارشاد فرمایا:اخولکم جعلھم اللہ تحت ابدبکم فمن جعلہ الہ احاۃ تحت یدیہ فلیطعمہ مما یاکل ولیلیہ فصایالیسی ولا بکلفہ من العمل ما بعلبہ فان کلفہ فلیعنہ علیہ (صحیح البخاری: 5590) ”یہ غلام تمہارے بھائی ہیں جنہیں اللہ رب العزت نے تمہارے دست تصرف میں دیدیا ہے اس لیے انہیں اپنے جیسا کھلاؤ اپنے جیسا پہناؤ او ران سے مشقت بھرا کام نہ لو او راگر ایسا کوئی کام لو تو ان کی مدد بھی کرو۔“

اس طرح کی بے شمار روایات ہیں جن میں غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم دی گئی ہے، کسی شخص کے غلام ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ وہ انسانی شرف سے محروم ہوگیا ہے،ممکن ہے بعض خارجی عوامل اور معاشرتی روایات کی وجہ سے کوئی شخص اپنے ہی جیسے کسی شخص کا محکوم بن گیا ہو،مگر یہ محکومیت اس سے وہ وقار اور شرف نہیں چھین سکتی جو اسے خالق کائنات کے طرف سے عطا ہوا ہے، غلاموں او رباندیوں کے سلسلے میں قرآن وحدیث کی جس قدر بھی ہدایات ہیں ان سے پتہ چلتاہے کہ اسلام کے نزدیک غلامی کی حالت عارضی ہے، دائمی نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ حسن سلوک کی تعلیم سے آگے بڑھ کر یہ تلقین بھی کرتاہے کہ انہیں آزاد کردیا جائے او راس عمل کے ذریعے آخرت کا اجرو ثواب حاصل کیا جائے۔سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:

من اعشق رفۃ مسلمۃ اعشق اللہ بکل عضو منہ عضو امن النار حنی فرجہ بفرجہ(صحیح البخاری: 6221)”جس نے ایک مسلمان غلام کو غلامی سے آزاد کیا اللہ تعالیٰ اس غلام کے ایک عضو کے بدلے آزاد کرنے والے کے اعضاء کوآگ سے نجات دے گا یہاں تک کہ اس کی شرم گاہ کو غلام کی شرم گاہ کے بدلے نجات عطا کرے گا“۔

ترغیب و تحریض سے آگے بڑھ کر غلاموں کو پروانہ آزادی عطا کرنے کی تدبیر یں بھی بتلائی گئیں، چنانچہ بعض گناہوں کے کفارے کے طور پر یہ حکم دیا گیا کہ غلاموں کو آزاد کیا جائے، مثلاً قتل خضا میں ایک مسلمان غلام کی آزادی کا حکم دیا گیا۔(النساء:92) مسئلہ ظہار میں مسلمان کی قید بھی ہٹا دی گئی اور فرمایا گیا کہ ایسے موقع پرا ظہار کرنے والا رجوع کرنے سے پہلے غلام آزاد کرے (المجادلہ:3) جھوٹی قسم کے کفارے میں بھی فرمایا گیا کہ یا تو دس مساکین کو کھانا کھلاؤ یا انہیں کپڑا دے دو یا ایک غلام آزاد کرو (المائدہ:89)معاملہ اسی حد پر ختم نہیں ہوجاتا بلکہ قرآن کریم میں مالکان کو یہ ترغیب بھی دی گئی ہے کہ وہ غلاموں کی رہائی میں مالی تعاون کریں۔(النور:33) اور اگر ان میں خیر کا پہلو دیکھیں تو انہیں مکاتب بنادیں یعنی انہیں اختیار دے دیں کہ وہ اپنی رہائی کی قیمت ادا کرکے رہائی حاصل کرلیں۔(النور:33)

یہاں یہ سوال پیدا ہوسکتاہے کہ آخر غلاموں کے پاس اتنی رقم کہا ں سے آئے گی کہ وہ اپنی رہائی کی تدبیر کرسکیں او رمال ادا کرکے رہائی حاصل کرسکیں، قرآن کریم نے یہ پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا بلکہ انہیں مصارف زکوٰۃ میں سے ایک مصرف قرار دے کر ان کے لیے رہائی سبیل پیدا کی (التوبہ:10)اسلام نے یہاں تک حکم دیا کہ اگر کوئی شخص آزاد مسلمان عورت سے نکاح نہ کرسکے تو اپنی مملوکہ باندیوں سے نکاح کرلے۔(النسا: 25)

اس تفصیل سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اسلام حریت کا علمبردار ہے اور وہ استحصال کی ہر شکل کا مخاطب ہے غلامی استحصال کی سب سے مکروہ شکل ہے، اسلام نے آزاد مسلمانوں او رغلاموں میں اخوت کا رشتہ استوار کیا ”تمہارے غلام تمہارے بھائی ہیں“(ترمذی 2/16) اس میں مساوات قائم کی، حجۃ الوداع کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ انسانی مساوات کی بہترین تعلیم ہے، اسلام نے غلاموں کے لیے بھی عدل و انصاف کے وہ ہی پیمانے رکھے جو آزاد انسانوں کے لیے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ”جس نے اپنے غلام کو قتل کیا ہم اسے قتل کریں گے اور جس نے اپنے غلام کے اعضاء کاٹے ہم اس کے اعضاء کاٹیں گے“ (ترمذی: 1/169) اسلام نے غلاموں کو وہ شرف بخشا ہے آج کا ”مہذب“ معاشرہ جس کا تصور نہیں بھی کر سکتا، او راس شرف کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ”بلاشبہ اللہ کے یہاں زیادہ متقی ہی زیادہ شرف والا ہے“۔(الحجرات:13)

صحابہ کرامؓ نے قرآن کریم کی اس تعلیم کو ہمیشہ ملحوظ رکھا، حضرت عمر فاروقؓ باوجود یکہ خلیفۃ المسلمین تھے حضرت بلا ل حبشیؓ کو جو قبول اسلام کے بعد تک غلام رہے یا سید بلال کہہ کر آواز دیا کرتے تھے یہ احترام زبانی جمع خرچی تک محدود نہیں تھا، بلکہ صحابہ کرامؓ کے مزاجوں میں پوری طرح رچ بس گیا تھا، غلامی کے حوالے سے کوئی تفریق ہی نہیں کی جاتی تھی، غلاموں او رلونڈیوں سے شادی بیاہ کے رشتے قائم کئے جاتے تھے، سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پھوپھی زاد بہن حضرت زینب ؓ کا نکاح حضرت زیدؓ سے کرکے غلاموں کا احترام کے ساتھ اپنانے کی طرف پہلا قدم بڑھایا اور صحابہ نے اس کی تقلید کی، بہت سے جلّہ صحابہ کرامؓ نے غلاموں کو اخوت کی ڈور میں باندھا، حضرت زیدؓ اور حضرت حمزہؓ، حضرت خارجہ ابن اسدؓ اور حضرت ابوبکرؓ،حضرت بلالؓ اور حضرت خالد بن ردیحہؓ اسی رشتے سے ایک دوسرے کے بھائی تھے، اس سے بڑھ کر یہ کہ قیادتیں اور سیادتیں غلاموں کے سپر د کی گئیں۔حضرت زید بن حارثہؓ اور ان کی وفات کے بعد حضرت اسامہ بن زیدؓ لشکر اسلام کے امیر مقرر کئے گئے اور حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمر فاروقؓ جیسے کبار صحابہ نے ان کی قیادت میں جنگ لڑی،کیا اس مساوات کا کوئی نمونہ پیش کیا جاسکتا ہے؟

Source: Daily Jadeed Akhbar, New Delhi, 15 August 2009

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/freedom-is-a-natural,-fundamental-right-in-islam/d/1650


Loading..

Loading..