New Age Islam
Tue Nov 30 2021, 02:11 AM

Urdu Section ( 15 Oct 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Mosques of the Valley Are Calling On the Kashmiri Pandits وادی کی مسجدیں کشمیری پنڈتوں کو پکار رہی ہیں

معصوم مرادآبادی

14 اکتوبر،2021

گزشتہ ہفتے سرینگر میں تین کشمیری پنڈتوں کے بے رحمانہ ہلاکت نے ایک بار پھر ان کشمیری غیرمسلموں کے وجود پرسوالیہ نشان قائم کردیا ہے ۔جنہوں نے جان ومال کے تمام خطرات کے باوجود اب تک نقل مکانی نہیں کی ہے۔ گزشتہ منگل کومشہور کمیسٹ ماکھن لال کے قتل کے بعد جمعرات کو انتہا پسند وں نے پرنسپل سپیندر کور اور اسکول ٹیچر دیپک چند کو بے رحمی سے قتل کردیا ۔ اس حملے کی ذمہ داری کراچی سے چلنے والی دہشت گرد تنظیم ٹی آر ایف نے لی ہے۔ جب کہ ماکھن لال کے قتل کی ذمہ داری لشکر طیبہ نے قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آر ایس ایس کے لیے کام کرتے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ دہشت گردوں کی گولی کانشانہ بننے والی سپیندر کور ایک نیک دل خاتون تھیں اور وہ اپنی آدھی تنخواہ غریب بچوں کی تعلیم پرخرچ کرتی تھیں۔ انہوں نے ایک یتیم مسلم بچی کو بھی گود لے رکھا تھا۔ اس قتل پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے آل پارٹیز سکھ کوآرانیشن کمیٹی کے چیئر مین جگموہن سنگھ رینا نے کہا ہے کہ یہ حملے وادی میں اکثریت اور اقلیت کے درمیان دراڑ پیداکرنے کی سازش کا حصہ ہے۔

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ کشمیرمیں جاری علیحدگی پسند تحریک کا سب سے بڑا نقصان وہاں ہندو مسلم بھائی چارے کو پہنچا ہے ۔ کشمیر کی تاریخ میں بتاتی ہے کہ یہاں ہندو او رمسلمان سینکڑوں برسوں سے مل جل کر رہتے چلے آئے ہیں ۔ دونوں کی تہذیب او رمعاشرے ہی نہیں بلکہ زبان او رلب و لہجہ بھی ایک ہے ۔ کشمیر میں چپے چپے پر ہندومسلم یکجہتی کی نشانیاں نظر آتی ہیں۔ حالات کی اتنی ابتری کے باوجود آج بھی امرناتھ یاترا کے دوران وادی کے مسلمان ہی عقیدت مندوں کو ان کی منزل تک پہنچاتے ہیں ۔ سیر و تفریح کے لئے کشمیر پہنچنے والے لاکھوں سیاح بھی ڈل جھیل او رگل مرگ کی سیر کرنے کے لئے مقامی مسلمانوں کی مدد لیتے ہیں او ریہی ان کا مسلمانوں کی روزی روٹی کا ذریعہ بھی ہے۔ مگر جب سے وادی میں شورش کا آغاز ہوا ہے ، تب سے سیاحت تو لگ بھگ ختم ہی ہوگئی ہے او ریہاں کے ہندو مسلم بھائی چارے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ حالانکہ وادی کے امن پسند مسلمانوں نے کبھی نہیں چاہا کہ برسہا بر س سے ان کے پڑوس میں آباد کشمیری پنڈت ان سے جدا ہوں ،کیونکہ وہ ان کے وجود کاایک لازمی حصہ ہیں۔ اس کا ثبوت ہندوؤں کے خلاف حالیہ دہشت گردانہ واقعات کے بعد مقامی مسلمانوں کے ردعمل سے بھی ملتا ہے ۔

ہندی روزنامہ ’ دینک بھاسکر‘ نے گزشتہ 13 اکتوبر کو ہندو مسلم یکجہتی پر مبنی جو تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے، اس میں بتایا گیا ہے کہ کشمیر میں مقیم غیر مسلم باشندے دہشت زدہ ضرور ہیں ، لیکن امید کی ایک کرن یہ نظر آرہی ہے کہ کشمیر کے غیر مسلموں کو ان کی حفاظت کا بھروسہ دلانے کے لے جگہ جگہ مسلمان ہی آگے آرہے ہیں۔ وہ مظاہروں میں حصہ لے رہے ہیں اور دہشت کے خلاف آواز بلند کررہے ہیں۔ یہاں تک کہ دہشت گردی کا شکار ہونے والوں کے گھر جاکر ان کے پسماندگان کا دکھ دردبانٹ رہے ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ سری نگر کی دو اہم مسجدوں سے غیر مسلموں کی حفاظت کے لئے مسلمانوں سے آگے آنے کی اپیل کی گئی ہے۔

مذکورہ مسجد وں کے اماموں نے نمازجمعہ کے خطبہ کے بعد خاص طور پر سرینگر میں غیر مسلم پڑوسیوں کی حفاظت کرنے اور کشمیری پنڈتوں سے نقل مکانی نہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ اس سلسلے میں لال چوک پر جو احتجاج ہوا ہے ، اس میں مختلف علاقوں کے مسلمانوں نے حصہ لیا ہے۔ ان میں سرکاری ملازمین ، کھلاڑی ، بزرگ شہری اور دیگر لوگ شامل تھے۔ سبھی نے بے گناہوں کے قتل کی شدید مذمت کی اور قتل کی وارداتوں کو دہشت گردوں کی طرف سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی بگاڑنے کی کوشش قرار دیا۔ مظاہرین نے سبھی غیر مسلموں سے گزارش کی کہ وہ نقل مکانی کرکے دہشت گردوں کے منصوبوں کو کامیاب نہ ہونے دیں۔ کشمیر کے سرکاری ملازمین کی سب سے بڑی تنظیم کا ایک وفد کشمیر پنڈتوں کے علاقہ میں جاکر ان کی ڈھارس بندھا رہا ہے ۔کمیٹی کے صدر رفیق راتھر کاکہنا ہے کہ قتل کی یہ وارداتیں ہمارے تہذیبی تانے بانے کے خلاف ہیں۔کشمیری پنڈت او رکشمیری مسلمان سینکڑوں برسوں سے مل جل کر رہ رہے ہیں ۔ہماری تہذیبی قدریں زندہ رہیں گی ۔ ہم انہیں کسی شدت پسند کی سرگرمیوں کا شکار نہیں ہونے دیں گے۔ بارہمولا میں کشمیری پنڈتوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس وفد نے کہا کہ ’ اس مشکل گھڑی میں ہم مسلمانوں کے گھر اور دل آپ کے لئے کھلے ہیں۔‘

کشمیری پنڈتوں کے تئیں مقامی مسلمانوں کا یہ جذبہ لائق تحسین ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کشمیری پنڈتوں کی وادی سے نقل مکانی کے پیچھے جہاں حالات کا جبر کار فرماہے تو وہیں اس میں سیاست کی بھی کارفرمائی کچھ کم ہے۔ سبھی جانتے ہیں کہ 90 کی دہائی میں جب جگموہن ریاست کے گورنر تھے او روہاں کوئی منتخب سرکار نہیں تھی تو انہوں نے وادی سے کشمیری پنڈتوں کی نقل مکانی کی راہ ہموار کی تھی۔ جگموہن کی گورنری کا دور سخت تنقیدوں کی زد میں رہا ۔ یہاں تک کہا جاتاہے کہ انہوں نے وادی میں ہندو او رمسلمانوں کے درمیان خلیج کو بڑھانے کا کام ایک سیاسی ایجنڈے کے تحت کیا،جس کا خمیازہ کشمیری پنڈتوں اور مسلمانوں دونوں کو بھگتنا پڑا۔ آج وادی میں ان دونوں کے درمیان جو خلیج نظرآتی ہے وہ اصل جگموہن کے دور کی ہی پیداوار ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ شورش سے متاثر ہوکر صرف کشمیری پنڈت ہی نقل مکانی پر مجبور ہوئے بلکہ لاتعداد کشمیری مسلمانوں نے بھی امن کی تلاش میں وادی سے ہجرت کی ہے اور وہ بھی ملک وبیرون ملک کے مختلف علاقوں میں کسمپرسی کی زندگی جینے پر مجبور ہیں۔

کشمیر کی صورتحال یوں کافی عرصے سے خراب ہے ۔دہشت گردی نے پوری ریاست کے امن و امان کو غارت کررکھاہے۔ تشویش ناک بات یہ ہے کہ اب وادی میں عام شہریوں کی ہلاکتوں میں یک بیک اضافہ ہوگیا ہے، جس سے ان میں عدم تحفظ کا احساس بڑھتا چلا جارہا ہے ۔ اب تک مڈبھیڑ وں اور دہشت گردانہ حملوں میں سیکورٹی فورسیز پر حملے ہوتے تھے لیکن اب شہریوں پر حملوں کی وارداتوں میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ رواں سال میں اب تک دہشت گردوں نے 25 شہریوں کو قتل کیا ہے ۔ اس دوران سیکوٹری فورسز کے بھی 20 جوان شہید ہوئے ۔ رواں اکتوبر کے پہلے ہفتے میں جب سات شہریوں کو قتل کیا گیا ، ان میں تین کشمیری مسلمان دو سکھ اور دو ہندو شامل ہیں۔ شہر یوں کی بے رحمانہ ہلاکتوں کے خلاف جمو ں وکشمیر دونوں علاقوں میں غم و غصہ کی شدید لہر ہے۔ لوگوں کی عام شکایت یہ ہے کہ دفعہ 370 کے خاتمہ کو دو سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، لیکن حکومت حالات پر قابو نہیں پاسکی ہے۔ نہ ہی دہشت گردانہ وارداتوں میں کمی ہوئی ہے او رنہ امن و امان قائم ہوا ہے۔ اسی ہفتے سیکورٹی فورسز کے پانچ جوانوں کی ایک ساتھ شہادت بہت سے سوالوں کو جنم دیتی ہے۔ حکومت نے یہ تاثر دیاتھا کہ ریاست کی تقسیم اور دفعہ 370 کے خاتمے کے ساتھ ہی تمام مسائل حل ہوجائیں گے ۔مگر ایسا محسوس ہوتاہے کہ یہ محض طفل تسلی کے سوا کچھ نہیں تھا۔

اس دوران دہشت گردانہ واقعات میں کمی ہونے کے بجائے اضافہ ہی ہوا ہے۔ گزشتہ سال کے اعداد وشمار پرنظر ڈالنے سے پتہ چلتاہے کہ 2020 میں اس مدت کے دوران 33 شہری ہلاک ہوئے ۔ اسی طرح 2019 میں 36 شہریوں کو دہشت گردوں نے نشانہ بنایا۔ اسی مدت میں سب سے زیادہ اموات 2018 میں ہوئیں جب 40 شہریوں کو اپنی جانیں گنوانی پڑیں۔ حکومت نے گزشتہ تین سال کے عرصہ میں 630 دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جب کہ مختلف وارداتوں میں سیکورٹی فورسز کے 85 جوان شہید ہوئے ہیں۔ یہ بات گزشتہ اگست میں پارلیمنٹ میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں بتائی گئی تھی۔

14 اکتوبر،2021، بشکریہ : انقلاب ، نئی دہلی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/mosques-valley-kashmiri-pandits/d/125580

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..