New Age Islam
Thu Mar 12 2026, 06:39 PM

Urdu Section ( 11 Oct 2025, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Gaza: Two Years of Israeli Brutality غزہ: اسرائیلی درندگی کے دوسال

معصوم مرادآبادی

9 اکتوبر،2025

7اکتوبرکو غزہ میں اسرائیلی درندگی اوربربریت کے دوسال پورے ہوگئے۔ اس عرصے میں ایسا کون ساظلم ہے جو ظالم وجابر اسرائیل نے نہتے او ربے قصور فلسطینیوں پر نہ کیا ہو۔ غزہ تو پوری طرح کھنڈر میں تبدیل ہوہی چکاہے،وہاں کی بیس لاکھ سے زیادہ آبادی جو زندگی بسر کررہی ہے، اس کاتصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ مغربی ذرائع جو اطلاعات ہم تک پہنچتی ہیں، وہ اتنی ناقص اور ادھوری ہیں کہ ان سے غزہ کی پوری تصویر نہیں ابھرتی ان دو برسوں کے دوران غزہ کے باشندوں پر جوکچھ بیتی ہے، اسے پوری طرح لفظوں میں بیان کرنامشکل ہے۔ یوں بھی کسی المیہ کو بیان کرنے کے لئے لفظ نا کافی ہوتے ہیں اوران لفظوں کی اہمیت اس وقت ختم ہوتی ہے جب ان پر پہرے بٹھادیئے گئے ہوں۔ گزشتہ دوسال کے عرصے میں غزہ کی سچی رپورٹنگ کرنے والے پچاس سے زیادہ صحافیوں کوقتل کردیا گیا ہے۔ بعض صحافی تو ایسے ہیں جن کے پورے پورے خاندان موت کے تاریک وادیوں میں پہنچادیئے گئے ہیں۔

اگر آپ اعداد وشمار کی بات کریں تو ان دوبرسوں کے دوران غزہ میں 67 ہزار سے زیادہ فلسطینیوں کا قتل عام ہواہے اور ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ ہمیشہ کیلئے معذور کردیئے گئے ہیں۔شہیدہونے والوں میں بیس ہزار سے زیادہ کمسن بچے ہیں۔قحط اوربھوک سے مرنے والے بچوں کی تعدادبھی سیکڑوں میں ہے۔یہ وہ اعداد وشمارہیں جو آپ آئے دن خبروں میں پڑھتے رہتے ہیں، لیکن غزہ صرف اعدادوشمار کا نام نہیں ہے۔ غزہ نام دراصل اس جرات اور بے باکی کا بھی ہے، جو مشکل ترین وقت میں وہاں کے باشندوں نے دکھائی ہے۔اتنے ظلم وستم اورجبرواستبداد کے بعد بھی ایک بھی ایسا فلسطینی نہیں ملاجس نے رحم کی بھیک مانگی ہو۔ یہ اپنے مادروطن کے لئے لڑنے کی ایک ایسی سنہری تاریخ ہے جس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملے گی۔ ایک ظالم اور جابر قوت کے سامنے سرنگوں ہونا اللہ کے بندوں کاکام نہیں ہوتا۔وہ موت کوگلے لگانا پسند کرتے ہیں لیکن سرنگوں نہیں ہوتے۔ غزہ کے باشندوں نے ان دوبرسوں میں دنیا کو یہی پیغام دیا ہے کہ وہ اپنے خون کے آخری قطرے تک اپنے وطن اور مسجداقصیٰ کادفاع کرتے رہیں گے۔ دنیا میں طاقت کا توازن بھلے ہی ظالموں کی طرف ہو،لیکن عزت نفس کے ساتھ کس طرح زندہ رہا جاتاہے یہ فلسطینی عوام سے ثابت کردیا۔

حماس کاکہناہے کہ ’7اکتوبر کے بعد گزرنے والے دوبرس تکلیف نا انصافی اور ظلم سے عبارت تھے۔‘ حماس نے یہ بھی کہا کہ غزہ میں نہتے عام شہریوں کی اموات پر شرمناک بین الاقوامی خاموشی دیکھی گئی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ گزشتہ دوبرس کے دوران جب کہ درندہ صفت اسرائیل نے غزہ کی اینٹ سے اینٹ بجائی، دنیا کے کئی ممالک مجرمانہ خاموشی اختیار کئے رہے اور اس میں سب سے مذموم کردارریاست ہائے متحدہ امریکہ نے ادا کیا،جو اقوام متحدہ میں پیش ہونے والے غزہ جنگ بندی کی ہر تجویز کو سبوتاژ کرتا رہا۔امریکہ کی حمایت سے ہی اسرائیل نے غزہ میں جہنم تخلیق کیا۔ یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے کہ امریکہ نے اسرائیل کی اندھی حمایت کی ہو۔جب سے اسرائیل کا ناجائز وجود عمل میں آیا ہے تب سے مسلسل امریکہ اس کی پست پناہی کرتا رہاہے۔ اقوام متحدہ کے مختلف پلیٹ فارموں پر جب اسرائیل کے خلاف کوئی قرار داد پیش ہوئی تو امریکہ نے اسے پوری بے شرمی کے ساتھ ویٹو کردیا۔ اگر یہ کہا جائے کہ اسرائیل کا ناجائز وجود پوری طرح امریکہ کا مرہون منت ہے تو بے جا نہیں ہوگا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اب وہی امریکہ امن کا پیامبر بن کر سامنے آیا ہے۔ بے مثال تباہی وبربادی کے بعد اب صدرٹرمپ نے جو بیس نکاتی امن منصوبہ پیش کیاہے، اس کے عوض وہ امن کے نوبل انعام کے طلب گار ہیں۔ حالانکہ یہ امن منصوبہ پوری طرح اسرائیل کے حق میں ہے اور اس میں حماس کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا پورا سامان موجود ہے۔

جس وقت یہ سطریں لکھی جارہی ہیں مصر کے شہر شرم الشیخ میں حماس اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کادوسرا دورشروع ہوچکا ہے۔ ان مذاکرات میں جہاں ایک طرف صدرٹرمپ کا یہودی داماد شریک ہے تو وہیں دوسری طرف حماس کی طرف سے خلیل الحیہ موجود ہیں۔ یہ وہی خلیل الحیہ ہیں جنہیں قتل کرنے کیلئے پچھلے دنوں اسرائیل نے قطر کی راجدھانی دوحہ میں بمباری کی تھی۔ اس بربریت کے نتیجے میں الحیہ کے بیٹے او رمحافظ شہید ہوگئے تھے، لیکن وہ خود بچ گئے تھے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ الحیہ اس وقت بھی امریکہ کی پہل پر مذاکرات میں شریک تھے،لیکن وہا ں بھی اسرائیل نے اپنی شیطانیت کامظاہرہ کیا۔ اب جب کہ بیس نکاتی منصوبہ کے تحت شرم الشیخ میں مذاکرات کادوسرا دور شروع ہوا ہے تو گفتگو کی میز پر اس منصوبے کے تمام نکات پر بحث ومباحثہ ہورہا ہے۔ہر چند کے امن منصوبے پر غور کرنے کے لیے حماس کو مدعو کیا گیا ہے اور اس کا سب سے بڑا مقصد یرغمال شدہ اسرائیلیوں کو آزادکرانا ہے، لیکن اس منصوبے میں حماس کو صفتحہ ہستی سے مٹانے کی تمام تجاویز موجود ہیں۔ دنیا جانتی ہے کہ 7اکتوبر 2023 ء کو جب  اسرائیلی درندوں نے غزہ پر آگ برسانی شروع کی تو وہاں حماس کا ہی کنٹرول تھا، جب کہ آج غزہ کا 90 فیصد حصہ اسرائیل کے قبضے میں ہے اور وہاں اس کی افواج دندناتی پھررہی ہیں۔ ایک طرف مصر میں امن مذاکرات جاری ہیں تو دوسری طرف غزہ پر اسرائیلی بربریت بھی جاری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حماس کے وفد نے ثالثوں کو بتایا ہے کہ غزہ پر جاری بمباری قیدیوں کی رہائی سے متعلق مذاکرات میں رکاوٹ ہے۔ واضح رہے کہ ان مذاکرات کا ایک اہم موضوع ان اسرائیلی قیدایوں کی رہائی ہے جو اس وقت حماس کی قید میں زندہ یا مردہ حالت میں ہیں۔ حماس نے یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ سے اسرائیل کے انخلاء اور ٹائم لائن پر اپنا موقف پیش کیا ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق حماس نے سرکردہ فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور غزہ میں بڑے پیمانے پر امداد کی فراہمی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ حماس اس بات کی ضمانت چاہتی ہے کہ اسرائیل یرغمالیوں کی رہائی کے بعد معاہدے کی پاسداری کا پابند ہو۔

ایک طرف جہاں امریکہ سمیت کئی ملکوں نے اسرائیل کی درندگی اور بربریت پر آنکھیں موندی ہیں تو وہیں ان ملکوں کے عوام فلسطینی عوام کے حق خود اریت اور اسرائیلی بربریت کے خلاف سڑکوں پر اترہے ہیں۔ انہوں نے بے مثال مظاہروں کے ذریعہ ظالموں کو یہ پیغام دیا ہے کہ انسانیت زندہ ہے۔یوروپ، امریکہ، لاطینی امریکہ، افریقہ، آسٹریلیا،جنوبی ایشیاء اور وسطی ایشیاء سمیت ہر ملک،ہر شہر، ہرسڑک پرغزہ میں رواں صدی کے ہولناک ترین مظالم کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ رواں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے جب جنگی مجرم نتن یاہو خطاب کیلئے بیشتر سربراہوں نے اس کی تقریر کا بائیکاٹ کیا اور اسمبلی سے باہر چلے گئے۔ دوسری جانب کرہ ارض کے مشرق ومغرب میں اسرائیل کے خلاف اور فلسطین کی آزادی کے حق میں مظاہرے ہورہے ہیں جو اورجنگی مجرم نتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ کیا جارہاہے۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت نے پچھلے سال نتن یاہو اور ان کے سابق وزیر دفاع یوآؤ گلانٹ کے غزہ میں جنگی جرائم کی بنیاد پر گرفتار ی وارنٹ جاری کئے تھے۔ اسرائیلی جارحیت کی وجہ سے کئی یوروپی ملکوں نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرلیاہے جب کہ اسپین نے اسرائیل کو اسلحہ کی ترسیل روک دی ہے۔ کئی ملک ایسے بھی جنہوں نے غزہ میں درندگی اور بربریت کی وجہ سے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات توڑ لیے ہیں۔ اس طرح فلسطینیوں پر بے تحاشا ظلم وستم کے نتیجے میں اسرائیل کو دنیا بھر میں رسوائی اور تنہائی کابھی سامنا کرناپڑا ہے۔

----------------------

URL: https://newageislam.com/urdu-section/gaza-israeli-brutality/d/137201

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..