New Age Islam
Wed Dec 08 2021, 10:18 AM

Urdu Section ( 18 Nov 2013, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Sangh Parivar Behind Indian Mujahideen? انڈین مجاہدین کی پشت پر سنگھ پریوار؟

 

 

 

معصوم مراد آبادی

19 نومبر، 2013

گجرات اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شنکر سنگھ واگھیلا نے یہ بیان دے کر سنسنی پھیلادی ہے کہ انڈین مجاہدین کو آر ایس ایس اور بی جے پی  دہشت گردانہ  سرگرمیوں کے لئے مالی مدد فراہم کررہی ہے ۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب بہار پولیس نے پٹنہ دھماکہ  کے سلسلے میں چار ہندو نوجوانوں کو مبینہ دہشت  گردوں کو مالی مدد فراہم کرنے کے الزام میں گرفتار  کیا ہے ۔شنکر سنگھ واگھیلا  کا کہنا ہے کہ انڈین مجاہدین کا طریقۂ کار بالکل  بی جے پی جیسا ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آر ایس ایس انڈین مجاہدین کو رقومات فراہم کرنے کے سلسلے میں قادیانیوں کا استعمال کررہی ہے اور وہ ہندو  اور مسلمانوں کے درمیان  منافرت اور تفرقہ پھیلانے کا کوئی موقع گنوانا نہیں چاہتی ۔  (دیکھئے انگریزی  روز نامہ ‘ ٹائمز آف انڈیا’ نئی دہلی 14 نومبر 2013)

ہم آپ کو یہ بتاتے چلیں کہ شنکر سنگھ واگھیلا  کا نگریس میں شامل ہونے سے پہلے گجرات میں بی جےپی کے سرکردہ لیڈر  تھے اور انہوں نے برسوں سنگھ پریوار کے ساتھ کام کیا ہے ۔ ان کی حیثیت گھر کے بھیدی جیسی  ہے لہٰذا  وہ جو کچھ کہیں گے زیب داستاں کے لئے نہیں ہوگا بلکہ اس کے پیچھے  کچھ نہ کچھ حقیقت ضرو ر ہوگی ۔ انڈین مجاہدین کے بارے میں  آج تک کسی کو یہ نہیں معلوم ہوسکا ہے کہ یہ کون سی مخلوق  ہے اور اس کی پیدائش و پرداخت کن ہاتھوں  میں ہوئی ہے ۔ انڈین مجاہدین  کا دفتر کہاں ہے اور اس کا بانی کون ہے؟ یہ سوال پارلیمنٹ  میں بھی اٹھایا گیا لیکن آج تک اس کا کوئی معقول  جواب نہیں  مل سکا ۔ لیکن اب ایسا محسول ہوتا ہے کہ انڈین مجاہدین کی قلعی کھل رہی ہے اور اس کے پس پشت  کار فرما عناصر اپنی اصل پہچان کے ساتھ بے نقاب  ہورہے ہیں ۔

گذشتہ 27 اکتوبر کو پٹنہ میں نریندر مودی کی ‘ہنکار ریلی ’ کے دوران ہونے والے بم دھماکوں  کے بارے میں  کئی ہونے والے بم دھماکوں  کے بارے میں کئی لوگوں نے یہ بیان دیا تھا کہ یہ دھماکے محض بی جے پی کو سیاسی فائدہ پہنچانے کے لئے کرائے گئے ہیں ۔ اس الزام کی تصدیق دھماکوں  کے بعد بی جے پی کے طرز عمل سے بھی ہوئی ۔ کیونکہ بی جے پی نے ان دھماکوں سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی ہر ممکن کوشش کی اور ان دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں  کی استھیاں لے  کران کا جلوس نکالا گیا ۔ اتنا ہی نہیں گجرات کے وزیر اعلیٰ  نریند مودی دھماکوں  میں ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کرنے ان کے گھر وں تک گئے ۔ یہ وہی نریندر مودی ہیں جنہو ں نے گجرات کی نسل کشی کے  دوران ہلاک ہونے والے 2 ہزار سے زیادہ بے گناہوں میں سے کسی ایک خاندان سے بھی اظہار تعزیت نہیں کیا بلکہ وہ اس قتل عام کو حق بجانب قرار دینے کی کوشش کرتے رہے ۔ شنگر سنگھ واگھیلا  نے انڈین مجاہدین کو بی جے پی اور آر ایس ایس کی طرف سے مالی امداد فراہم کئے جانے  کے سلسلے میں جو جرأت مندانہ بیان دیا ہے ، اس کی تصدیق ان گرفتاریوں  سے بھی ہوتی ہے جو پٹنہ دھماکوں کے سلسلے میں دہشت گردوں کو فنڈ فراہم کرنے والوں کے طور پر ہوئی ہیں۔ واضح رہے کہ دیگر بم دھماکوں کی طرح پٹنہ بم دھماکوں کے لئے بھی انڈین مجاہدین کو ہی قصوروار قرار دیا گیا اور اس سلسلے میں بہار اور جھارکھنڈ  سے کئی مسلم  نوجوانوں  کی مشتبہ  دہشت گرد قرار دے کر گرفتاریاں  عمل میں آئیں۔ لیکن گذشتہ  9 نومبر  کو جن چار ہندو نوجوانوں  کو دہشت گردوں کو فنڈ فراہم کرنے کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا ہے انہیں انڈین مجاہدین قرار نہیں دیا گیا بلکہ انہیں  صرف حوالے کا ریکٹ چلانے والا گروہ کہہ کر پکڑا گیا ہے ۔حالانکہ  اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ ان چاروں مبینہ  بھگوا دہشت گردوں نے ہی پٹنہ دھماکوں کے لئے سرمایہ فراہم کیا تھا ۔ پولیس  کو جانچ سے پتہ چلا ہے کہ گوپال کمار گوئل ، گنیش پرشاد ، پون کمار اور وکاس کمار نام کے نوجوانوں نے بینک کھاتوں میں غیر ممالک سے کروڑوں روپے کی رقم آتی ہے ۔ ان ملزمان  کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بھاگلپور کے ایس پی راجیو مشرا نے کہا کہ گرفتار شدہ گروہ  کے ماسٹر مائنڈ گوپال کمار گوئل نے پولیس  کے روبرو کئی اہم راز فاش  کئے ہیں اور اس نے یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ پاکستان اور منگلور میں بیٹھے  اپنے آقا کی ہدایت کے مطابق وہ بینکوں  میں کھاتے کے توسط سے رقومات بھیجنے کاکام کرتا تھا ۔ ایس ڈی پی مسٹر  وشواس کے مطابق اس گروہ کے جعلسازی اور دہشت گردوں کو مالی مدد پہنچانے کے  ثبوت ملے ہیں،  جن کی اعلیٰ  سطحی  جانچ کاعمل شروع  ہوچکا ہے ۔ پولیس  ذرائع کے مطابق  گرفتار ملزمان نے صرف 3 ماہ میں مختلف بینکوں کے 51 کھاتوں سے ایک کروڑ روپے کا لین دین کیا ہے ۔ گوئل نے پولیس کو بتایا کہ وہ پاکستان میں موجود اپنے آقا کے بتائے گئے کھاتے میں روپیہ  ٹرانسفر کرتا تھا اور اس کے عوض اسے 10 فیصد کمیشن ملتا تھا ۔ گرفتار  ملزمان سے بر آمد کئے گئے موبائل اور دیگر ثبوتوں کی بنیاد پر کہا جارہا ہے کہ اس گروہ کے تار پٹھان کوٹ، پنجاب ، آسام، مدراس ، مہاراشٹر ، منگلور ، مغربی بنگال ، دہلی ، یوپی اور جھارکھنڈ  سے جڑے ہوئے بتائے جاتے ہیں ۔ پولیس نے اس گروہ کے قبضے سےبغیر نمبر والی اسکارپیوکار ، 7 موبائل فون، 10سم کارڈ ، 2 اے ٹی ایم کارڈ اور دو درجن بینک پاس بک بر آمد کی ہیں ۔

یہ پہلا موقع ہے کہ دہشت گردانہ سر گرمیوں میں ملوث افراد کو مالی مدد فراہم کرنے کے سلسلے  میں ہندو نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے ۔ اب تک پولیس اور سیکورٹی ایجنسیاں  انڈین مجاہدین کے نام پر صرف اور صرف مسلمانوں کی گرفتاریاں کرتی رہی ہیں اور یہ جاننے کی کبھی  کوئی کوشش نہیں کی گئی کہ انڈین مجاہدین کو پیسہ کہا ں سے مل  رہا ہے اور یہ کس کے اشارے پر دہشت گردانہ کارروائیاں  انجام دے رہے ہیں ۔ اگرچہ پولیس نے اپنی مخصوص ذہنیت  کے تحت ان ہندو نوجوانوں کو انڈین مجاہدین قرار دینے کے بجائے حوالہ ریکٹ چلانے والا گروہ قرار دیا ہے لیکن ان گرفتار یوں سے یہ  ضرور ثابت ہوگیا ہے کہ انڈین مجاہدین کے پس پشت  عناصر مسلمانوں کو دہشت گردی کا ایندھن بنانے کا دوہرا کھیل کھیل رہے ہیں ۔ شنکر سنگھ واگھیلا  نے اپنے بیان  میں یہ بھی  کہا ہے کہ بودھ گیا اور پٹنہ میں ہوئے دھماکوں کی پوری طرح تحقیقات  ہونی چاہیے کیونکہ یہ دھماکے مشکو ک لگتے  ہیں اور اس معاملے میں کچھ ہند و ملزم بھی گرفتار ہوئے ہیں ۔

دہشت گردانہ سرگرمیوں  میں سنگھ پریوار کے لوگوں کا ملوث ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ اس سے قبل متعدد مسلم کش بم  دھماکوں  کے سلسلے میں سنگھ پریوار  کے درجنوں کارکنوں  کو گرفتار کرکے چارچ شیٹ کیا جاچکا ہے ۔ مالیگاؤں ، مکہ مسجد، اجمیر شریف اور سمجھوتہ ایکسپریس  کے بم دھماکوں  میں سنگھ پریوار  سے وابستہ بھگوا دہشت  گردوں کی گرفتاریاں ملک میں چلائے جارہے بھگوا دہشت گردی کے ایک انتہائی  مضبوط  نیٹ ورک کا پردہ فاش  کرچکی ہیں ۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ نئے انکشافات کی روشنی میں بودھ گیا اور پٹنہ بم دھماکوں  کی گہری تفتیش  ہونی چاہیے  کیونکہ  بی جے پی جب تک نتیش کمار سرکار میں شامل تھی اس وقت تک وہاں امن و امان قائم تھا لیکن جب سے بی جے پی نے نتیش کمار سرکار سے اپنی حمایت واپس  لی ہے وہاں تخریبی سرگرمیاں  عروج پر ہیں اور دہشت گردوں  کے حوصلے بلند ہونے لگے ہیں ۔

19 نومبر، 2013  بشکریہ : روز نامہ اودھ نامہ، لکھنؤ

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/masoom--muradabadi-معصوم-مراد-آبادی/sangh-parivar-behind-indian-mujahideen?-انڈین-مجاہدین-کی-پشت-پر-سنگھ-پریوار؟/d/34484

 

Loading..

Loading..