New Age Islam
Mon Sep 21 2020, 01:04 PM

Urdu Section ( 20 Jan 2016, NewAgeIslam.Com)

The Grief of Death موت کی کلفت

 

مریم محمود

19 جنوری 2016

میں نے اپنی زندگی کے آخری عشرے کے دوران اپنے ماموں سے مختلف انبیاء اور اولیاء کے بارے میں کئی کہانیاں سنی اس لیے کہ انہیں ان سے محبت تھی انہیں ان کے بارے میں بات کرنا پسند تھا۔ یہ وہ کہانیاں تھیں جنہیں انہوں نے یا تو خود پڑھی تھی یا گولڑہ میں اپنے روحانی استاد سے سنی تھی۔ لیکن یہ کہانی ان کی پسندیدہ کہانیوں میں سے ایک تھی اور ان کی اکثر کہانیوں کی طرح مجھے یہ نہیں معلوم تھا کہ کیوں یہ ان کی پسندیدہ کہانی تھی۔

جب موت کے فرشتے عزرائیل علیہ السلام حضرت موسی علیہ السلام کے پاس آئے تو انہوں نے احترام کے ساتھ اپنا تعارف پیش کیااور اس کے بعد اپنا مقصد بیان کیا۔ حضرت موسی علیہ السلام نے عزرائیل علیہ السلام کو اتنا سخت تھپڑ مارا کہ ان کی آنکھیں باہر آ گئیں۔ عزرائیل علیہ السلام خدا تعالی کے پاس واپس گئے اور سارا ماجرا بیان کیا۔ "وہ شخص کون ہے جس کے پاس آپ نے مجھے بھیجا جس نے میرے ساتھ ایسا سلوک کیا؟" انہوں نے خدا سے پوچھا۔ تو انہیں اللہ کی بارگاہ سے یہ جواب ملا کہ: "اگر موسی مرنے کی خواہش نہیں رکھتا تو اسے یہ پیغام دو کہ میں نے اس پیغام کے ساتھ تمہیں دوبارہ بھیجا ہے؛ اگر وہ اپنا ہاتھ گائے کی پیٹھ پر پھیرتے ہیں (جس کا بال سب سے زیادہ گھنا تصور کیا جاتا ہے)، تو جتنے بال ان کے ہاتھ سے مس ہوتے ہیں اتنے سالوں تک وہ بقید حیات رہ سکتے ہیں۔"

عزرائیل علیہ السلام حضرت موسی کے پاس واپس ہوئے اور اس کے رسول کو خدا کا پیغام پہونچا دیا۔ حضرت موسی نے پوچھا، "اگر ان سالوں کو میری زندگی میں شامل کر دیا جائے تو کیا ہو گا؟ عزرائیل علیہ السلام نے کہا کہ ''جو آج ہو رہا ہے وہی ہوگا"، پھر میں آپ کی روح کے لئے واپس آؤں گا"۔ حضرت موسی علیہ السلام نے ایک سیکنڈ کے لئے وقفہ کیا اور کہا کہ "جو اس وقت لوگے وہ آج ہی لے تو اس لیے کہ اس کی یہی مرضی ہے۔"

میں کبھی بھی اس کہانی کا مطلب نہیں سمجھ سکی۔ مامو نے کبھی اس کی وضاحت بھی نہیں کی۔ اس کہانی کا جو حصہ مجھے زیادہ دلچسپ لگا اور جس پر میں ہمیشہ مسکراتی ہوں وہ موت کی آمد پر حضرت موسی علیہ السلام کا رد عمل تھا۔ وہ ایک عظیم انسان تھے۔ وہ ایک ایسے نبی ہیں جن کا نام سب سے زیادہ قرآن مجید میں وارد ہوا ہے۔ وہ ایک ایسے واحد نبی ہیں جنہوں نے قادر مطلق کے دیدار پر اصرار کیا تھا، اگر چہ، قادر مطلق نے بارہایہ فرمایا کہ میں اپنا جلوہ ظاہر کرنے کی خواہش رکھتا۔ اس کے باوجود اللہ رب العزت نے حضرت موسی کے اس اصرار کو پورا کر دیا جس طرح والدین اپنے محبوب بچے کے لئے کرتے ہیں۔ میرے مامو کی موت کے بعد آنے والے دنوں میں میں نے اس کہانی سے وہ درس حاصل کیا جس نے         ذاتی طور پر مجھے متاثر کیا ہے۔

جب میری عمر 26 سال تھی تو میری والدہ اور اس کے فوراً بعد میری بہن کا انتقال ہو گیا ، ماں کا انتقال کینسر سے اور بہن کا انتقال والدین کی موت کے صدمے سے ہو گیا۔ پھر اپنی جوانی کی عمر میں میں نے غیر متوقع اور ناگہانی صورت حال کی وجہ سے اپنے اوپر وارد ہونے والے رنج و ملال اور کلفت کو بے توجہی اور غصہ کے ساتھ ختم کر دیا۔ حضرت موسی علیہ السلام کی طرح میں نے بھی اسے نظرانداز کر کے اس پر رد عمل کا اظہار کیا۔ نوجوان اس کو روا رکھتے ہیں۔ اس کی طاقت اس کی ہمت اور جوانمردی ہے، جو فخر کے ساتھ اسے اپنا منہ پھیرنے کی طاقت دیتے ہیں۔ اگلے 20 سال میں نے ایک چیونٹی کی چال کی طرح جذباتی طور پر اپنے مامو کے ساتھ وابستگی میں گزارے۔ ان میں اور مجھ میں خون اور احساسات و جذبات کا گہرا لگاؤ تھا۔ ہمارا دل ایک ہی طرح کی شدت محسوس کرتا تھا اس لیے مہ میں آنکھ بند کر کے ان کی پیروی کرتی تھی۔ نسل کا اتنا بڑا خلاء ہونے کے باوجود ان کا یقین جس بات پر تھا اس پر میرا بھی یقین تھا اور چونکہ اس بات پر ان کا یقین تھا اسی لیے میں نے کوئی سوال نہیں کیا۔ ان کی باتیں مجھے آسانی کے ساتھ سمجھ میں آ گئیں اس لیے کہ میں نے ان کی تربیت کا خیرمقدم کیا، اس سے میری قوت پرواز میں اضافہ ہوا۔ میرے دل کی دھڑکن ان کے دل کی دھڑکن سنتی تھی، اور میری توجہ ان کے انتظار میں ہوتی تھی تاکہ مکمل طور پر ان کی پیروی کی جا سکے، میرا دماغ علم و معرفت کے اس نور سے منور تھا جو انہوں نے میرے اندر روشن کیا تھا۔

گزشتہ ہفتے جب ان کا انتقال ہوا تو میں نے ایک بار پھر اپنے دروازے کے قریب بڑھتے ہوئے رنج و الم اور درد و غم کے قدموں کی آہٹ سنی۔ میں اس کے نرم دستک کا انتظار کر رہی تھی اور اس وقت مجھے کوئی خوف نہیں تھا، اور نہ میں نے اس سے بچنے کوئی خواہش محسوس کی۔ میں نے اس رنج و الم اور درد و غم کو اس طرح اپنی زندگی میں گلے لگا لیا ہے جس طرح کوئی انسان اپنے کسی شناسا کو کسی خوف و خطر کے بغیر گلے لگاتا ہے۔ اسے میرے اس نقصان اور کلفت پر میرے ساتھ تعزیت کا اظہار کرنے دیں اور میں نے دیگر لواحقات و لوازمات زندگی کو ہٹا کر اپنے دل میں اس کے لئے گنجائش پیدا کر دی ہے جہاں ان کی یاد اور تعلیمات ایک مدت دراز تک مضبوطی کے ساتھ قائم رہے گی۔

عمر کے ساتھ ساتھ موت کے بارے میں میرا رد عمل اتنا تبدیل ہو چکا ہے کہ میں صرف اس پر غور ہی کر سکتی ہوں۔ حضرت موسی کے بارے میں میرے مامو کی کہانی اسی بات نے یاد دلائی۔ وہ نبی تھے۔ خود انہوں نے اپنی موت پر اپنے سب سے پہلے رد عمل کا اظہار اسے غصے کے ساتھ مسترد کر کے کیا، پھر اس کے بعد انہوں نے اس پرسر تسلیم خم کیا۔ موت کے بارے میں میرا یہ ردعمل دہائیوں تک قائم رہا لیکن میں اب معمول پر ہوں؛ لیکن ان کے ساتھ یہ معاملہ نہیں تھا۔ پھر بھی میں خدا کے اس سب سے زیادہ قریبی دوست کے ساتھ چند باتوں میں شریک ہوں، جس کی وجہ سے میری روح ایک بار پھر مسکرائی۔ اس سے مجھے یہ سمجھنے میں مدد ملی کہ موت پر میں اسی طرح ردعمل کا اظہار کروں گی جیسا مجھے کرنا ہے، پہلے تو آہستہ آہستہ غم و تکلیف ہوگی اس کے بعد زندگی میں آگے بڑھتے بڑھتے میں اسے بھول جاؤں گی۔ تمام قسم کے درد اور تکلیف کی طرح موت کا غم بھی اطاعت اور تسلیم و رضا کے ساتھ ہی برداشت کرنا چاہیے، جس طرح ہم زندگی کی خوشیوں اور مسرتوں سے کوئی سوال کیے بغیر لطف اندوز ہوتے ہیں ، اس کی خوبصورتی یہ ہے کہ غم محبت کا داغ ہے اور محبت کا داغ اپنے اندر اس دنیا میں دوبارہ ملاقات کے وعدے پر مشتمل ہے جو کہ غیب اور نامعلوم ہے۔ اور ان چیزوں میں سب سے بہترین چیز ہے جس کا اشتیاق رکھا جائے۔

ماخذ:

dailytimes.com.pk/opinion/19-Jan-2016/the-grief-of-death

URL for English article: http://www.newageislam.com/spiritual-meditations/mariam-mahmud/the-grief-of-death/d/106043

URL for this article: http://www.newageislam.com/urdu-section/mariam-mahmud,-tr-new-age-islam/the-grief-of-death--موت-کی-کلفت/d/106060

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 

Loading..

Loading..