New Age Islam
Fri Sep 25 2020, 03:48 AM

Urdu Section ( 19 May 2017, NewAgeIslam.Com)

Triple Talaq: Court Hearing and Our Vision تین طلاق: کورٹ میں سماعت اور ہماری بصارت

 

 

 

 

 

منصور آغا

18مئی ،2017

سپریم کورٹ میں تین طلاق کیس کی سماعت کے دوران جو اشارے مل رہے ہیں ان سے لگتا ہے کہ شاہ بانو معاملے سے لے کر تاحال جو مہمات چلائی گئیں وہ نہ صرف رائیگا ں گئیں بلکہ اس کے رد عمل میں جو منظر نامہ سامنے آنے والا ہے وہ ہمارے ان خدشات سے بھی زیادہ سنگین او ربدتر ہوسکتا ہے جن کا اظہار ہم اس کالم میں اور متعدد سرکردہ دانشور عرصہ سے کرتے رہے ہیں۔ اصغر علی انجینئر (متوفی جون 2013) ایک مضمون بعنوان ’’ تین طلاق اور فتویٰ ‘‘24سال قبل جون 1993میں شائع ہوا تھا۔ اس میں ایک فتوے کے حوالہ سے استدلال کیا تھا کہ ’’ ایک نشست کی تین طلاق کو کالعدم کیا جاناچاہئے۔ طلاق کے اس طریقے نے بہت مسلم خواتین کو ناقابل بیان مصبیت میں مبتلا کردیا ہے۔انہوں نے مفقود الخبر کے معاملے میں مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے اقدام کے حوالے سے لکھا تھا کہ ’’ 1939میں مولانا تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے مفقود الخبر شوہر کے معاملے میں ایک سنجیدہ اور جرأتمند انہ اقدام کیا او ربل بنا کر سرکار کو بھیج دیا جس میں (فقہ حنفی کے مطابق سترسال کی) تکلیف وہ لمبی مدت میں تخفیف کی گئی ( چار سال کردی گئی) او روہ قانون نافذ ہوگیا۔ ایسی ہی جرأتمند انہ پیش قدمی کی پھر ضرورت ہے۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ کو چاہیے کہ قرآن میں مذکورہ طلاق کے طریقے کو پیش نظر رکھ کر ایک بل کا مسودہ تیار کر کے حکومت کو دے اور اس سے مطالبہ کرے کہ وہ اس کو منظور کرائے۔ لیکن آج ہمیں ہندوستان میں ایسے جرأتمند علماء نظر نہیں آتے جو ( وقت کی ضرورت کے مطابق) اقدام کریں۔ اس کے بجائے وہ غیر اسلامی طریقے کی پیروی کرتے رہیں گے کہ کہیں ان کے خلاف کوئی غیر مقبول طریقے کی پیروی کرتے رہیں گے کہ کہیں ان کے خلاف کوئی غیرمقبول رد عمل نہ ہوجائے۔ یہ بڑی بدنصیبی ہے‘‘۔( یہ مضمون کے اختتامی پیرا گراف کا خلاصہ ہے۔ پورا مضمون ''Triple Talaq & Fatwa'' انٹر نیٹ پر موجود ہے۔) اب حکومت نے سپریم کورٹ میں یہ عندیہ ظاہر کیا ہے کہ اگر عدالت نے شریعت میں حاصل مسلم مرد کے طلاق کے اختیار کو کالعدم کردیا تو سرکار فوری طور سے متبادل قانون لے آئیگی ۔ یہ ایک سنگین معاملہ ہے۔ سرکار کی نیت ہر گز ہمارے حق میں نیک نہیں ہوسکتی ، جس کا تقاضا یہ ہے کہ مسلم پرسنل لا ء بورڈ یا جمعیۃ علماء ہند بعجلت قرآن میں مذکور طریقہ طلاق پیش نظر رکھ کر ایک مسودہ قانون بنوائے اور سپریم کورٹ کے توسط سے سرکار کو پیش کردے۔

افسوس کہ اس سلسلے میں جو مہم چلائی گئی وہ اکارت گئی۔ جذباتیت ہماری قوم کی بڑی کمزوری ہے۔ اس کے باوجود اس مہم کے دوران انتہائی جذباتی تقریریں ہوئیں ۔ مثلاً مہاراشٹر کے جلسہ میں کہا گیا: ’’ چاہے پوری اسلامی دنیا شریعت کوبدل دے، لیکن ہندوستان کسی طرح کی تبدیلی کی اجازت نہیں دیں گے اور روائتی شریعت کواپنے سینے سے لگائے رکھیں گے ۔ آسمانی قانون میں کوئی تغیر نہیں کیا جاسکتا ۔‘‘بے شک آسمانی قانون میں کوئی ترمیم قابل قبول نہیں ہوسکتی لیکن مشکل یہ ہے کہ طلاق بدعی کا طریقہ آسمانی نہیں ہے۔ یہ طریقہ صبر و تحمل اور رشتہ ازدواج کی حفاظت کے لئے قرآنی تعلیمات کی روح کا قاتل ہے۔ اس کے گناہ ہونا متفقہ ہے ۔ گناہ کی حفاظت شریعت مطہرہ کی حفاظت کیسے ہوسکتی ہے۔ ہم یہ بات پھر دوہرائیں گے طلاق ثلاثہ تمام امت مسلمہ کا مسئلہ نہیں ۔ درجنوں فقہا کی رائے ایک نشست کی تین طلاق کو تسلیم نہیں کرتی ۔ اس لئے مجرد تین طلاق کا طریقہ ہر گز مقدس نہیں کہ اس کو چھوڑا نہ جاسکے۔ اس کا چھوڑنا راجح اور اس پر اصرار کا ناروا ہونا صاف ظاہر ہے۔ حالات اور ظروف کے مطابق احکام کی صورت میں تغیر سے انکار جمود کی علامت اورجمود خود کشی کی دلیل ہے،بقا و دوام کی نہیں۔

جن اصحاب نے طلاق ثلاثہ کے حق میں مہم چلائی، ہم ہر گزان کی نیت پر شک نہیں کرتے۔ لیکن یہ کہتے ہوئے ڈر لگتا ہے شاہ بانو کیس سے لے کر تا حال جو روش اختیار کی گئی ہے اس نے ملت کو ایسے مقام پر لاکھڑا کیا ہے جس میں اکیلے شدید مایوس کے سوا کچھ ہاتھ آتا نظر نہیں آتا ۔ یہ صورت حال بدل سکتی ہے اگر مسلم پرسنل لا بورڈاپنی حالیہ اپیل کو پیش نظر رکھ کر سابقہ رائے سے عدالت میں رجوع کرلے۔ اور قرآنی احکامات کے مطابق مسودہ قانون تیار کر کے عدالت میں پیش کردے۔ لیکن بقول اصغر علی انجینئر مرحوم اس دانائی کے لئے جس حوصلہ کی ضرورت ہے وہ عنقا ہے۔ ہم اس حوصلہ مندی کی دعا کرتے ہیں ۔ تازہ خبر یہ ہے کہ آج بروز بدھ، کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے بورڈ سے پوچھا ہے کہ کیا نکاح نامہ میں یہ صراحت کی جاسکتی ہے عورت چاہے تو ایک نشست کی تین طلاق کو رد کردے۔ نکاح دو فریقوں کے درمیان ایک معاہدہ ہے ۔ اگر اس میں حق طلاق عورت کو تفویض کیا جاسکتا ہے تو اس عورت کو یہ حق بھی دیا جاسکتا ہے کہ غصہ گری او رکسی اشتعال میں دی گئی طلاق کو مسترد کردے۔ اس پر غور کیا جاناچاہئے ۔ نکاح نامے میں یہ صراحت بھی ممکن ہے اگر طلاق کی نوبت آگئی توقرآن میں مذکورہ طریقے پر ہی عمل ہوگا۔

نیا سروے

اعداد و شمار اوران سے نتائج اخذ کرنے میں ماہر ، جسٹس سچر کمیٹی کے فعال سیکریٹری جناب ابوصالح شریف کے سروے کی رپورٹ آج (17مئی) انڈین ایکسپریس میں شائع ہوئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان میں تین طلاق کا معاملات نہایت ہی حقیر او رناقابل لحاظ ہیں۔ اس آن لائن سروے میں 16,860مردوں اور 3,816عورتوں نے حصہ لیا۔ ان میں طلاق کے 331کیسوں کا سراغ لگا، جن میں صرف ایک زبانی ہے، یہ اعداد و شمار بھی سپریم کورٹ کے سامنے آنے چاہیں۔

نکاح حلالہ

سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا ہے وہ آئندہ ’ نکاح حلالہ‘ کو بھی زیر غور لائے گا۔ ہم ہر گز مروجہ نکاح حلالہ کے موئد نہیں ۔ یہ شدید قسم کی بے غیرتی ہے اور قانون شریعت کے ساتھ فراڈ ہے۔ لیکن بہر حال یہ معاملہ اخلاقی ہے ، ملکی قانون کا نہیں ہے جو باہم رضامندی سے زنا کو اور بغیر رسمی شادی ساتھ رہنے او ربچے پیدا کرنے (Live in Relationship) کی بے حیائی کو قانونی جواز عطا کرتا ہے۔ یہ قانون باہم رضا مندی سے نکاح کرکے ( چاہے مطعہ ہو یا حلالہ) ساتھ رہنے کو کیونکر روک سکتا ہے؟ بیک وقت تین طلاق کے ایک ہونے کے فتووں کی روشنی میں نکاح حلالہ کا جواز نہیں ۔ اس لئے یہ ملکی قانون کا نہیں بلکہ اخلاقی اور شرعی قانون کامعاملہ ہے جو زنا کو حرام قرار دیتا ہے۔ ہمارے دین نے زنا کے بے حیائی کو جس شدت سے روکا ہے ، اس کی کوئی دوسر مثال نہیں ملتی ۔اسلام زنا کے قریب پھٹکنے تک سے روکتا ہے۔ حجاب اورجسم کو ڈھک لینے والے ساتر لباس کی ایک مصلحت یہ بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہگئیگزری حالت میں بھی مسلم سماج میں ز نابدترین عیب ہے ۔ ہر چند کہ ہندو سماج بھی غیر مرد سے تعلق کو برا سمجھتا ہے لیکن ہندوتانتر کوں میں ’ سادھنا‘ کے نام پر غیر عورت کے ساتھ جنسی عمل کی روایات ملتی ہیں۔ کھجورا ہو کے مندر کی دیواریں اس کی گواہ ہیں۔ سادھنا کے جنسی فعل میں شریک مرد کو ’ سادھک‘ اور عورت کو ’ سادھونی‘ کہتے ہیں۔بعض خطوں میں دیوداسیوں کی بھی روایت پائی جاتی ہے ۔ ہمارا میڈیا بھی شخصی آزادی کی آڑ میں ہم جنس پرستی اور سیکس کے لئے کسی کو بھی پارٹنر بنالینے کی بے حیائی کے تائید میں مہم چلاتا ہے۔ ایسے مناظر ، مواد اور اشتہار عام ہیں جو جنسی اشتعال دلاتے ہیں اور ذہن کو زنا کی طرف دھکیلتے ہیں ۔ اس کا یہ اثر ہورہا ہے کہ ’اونچی سوسائٹی‘ میں غیر شادی شدہ جوڑوں کی تعداد بڑھتی جاتی ہے۔اسلام ہر گز اس کی اجازت نہیں دیتا ۔ وہ زناکو تعزیری جرم قرار دیتا ہے اور زانی کو عبرتناک سزا دیتا ہے۔ یہاں تک کہ اگرشادی شدہ عورت یا مرد کے خلاف پختہ شہادت موجود ہو تو زانی کی سزا موت ہے۔

زنا کاری بڑا جرم

زنا کی شناعت ذہنوں میں نہیں ہوتی ان میں فطری طور سے اس کے لئے رغبت کا امکان بڑھ جاتا ہے ۔ چنانچہ اس کے لئے مختلف حیلے تلاش کئے جاتے ہیں ۔بعض اوقات نوجوان لڑکے او رلڑکیاں جنسی رو میں بہہ جاتے ہیں اور اس فعل میں مرتکب ہوجاتے ہیں۔ اسی کی اگلی کڑی زور زبردستی کی بھی ہے، جس کو قانون روکتا ہے۔ ہندوستان میں زنا کاری کی صورت حال سنگین ہے۔ حتیٰ کہ دس سال کی کمسن بچی بھی سوتیلے باپ سے محفوظ نہیں رہتی ۔ کوئی دن ایسا نہیں جاتا جب اخباروں میں کئی کئی خبریں نہ ہوں۔

ظاہر ہے جن وارداتوں کی خبر میڈیا میں نہیں آتی ان کی تعداد کم نہیں ہوتی ۔ ہندوستان ٹائمز (2مارچ2017) کی رپوٹ ہے کہ اس سال جنوری میں دہلی میں جبری زنا کے 140چھیڑ خانی کے 238کیس درج ہوئے ہیں ۔ گزشتہ سال کے دوران جبری زناکے 2155اور دست درازی کے 4165کیس ہوئے۔ انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ (30اگست 2016) کے مطابق سنہ 2016میں ملک بھر میں جبری زنا کے 34,600کیس درج ہوئے ہیں جن میں دو ڈھائی سال کی کمسن بچیوں سے لے کر معمر خواتین تک نشانہ بنیں ۔

ہر چند کہ زنا کے بعد بھی احساس جرم شدید ہوتا ہوگا،لیکن جبری زنا تو عورتوں کے ساتھ بہت بڑا ظلم ہے۔ ہماری سرکار کواس کی کوئی فکر نہیں، اتنی بڑی تعداد میں خواتین کو اس عذاب سے محفوظ کیا جائے صرف طلاق کی ماری مسلم عورتوں کی فکر ستارہی ہے۔ حالانکہ 2011کی مردم شماری کے مطابق ہندوستانی مسلمانوں میں طلاق کے شرح ہندوؤں کے مقابلے کم ہے۔ مسلمانوں میں طلاق کی شرح فی دس ہزار خواتین 56اورہندوؤں میں 76ہے۔ یہ فرق اور زیادہ ہوتا ہندوؤں کو طویل عدالتی عمل سے نہ گزرنا پڑے اور مسلمانوں کی طرح ان کے لئے بھی آسان ہوجائے ۔

آخری بات

لب لباب یہ کہ سرکار کی یہ فکر مندی ہر گز نیک نیتی سے نہیں ۔ موجودہ سرکار چاہتی ہے کہ مسلم سماج پر بھی طلاق کا اپنا قانون نافذ کردے ۔ ہمیں کون اس منزل تک لے آیا؟ کس کے حکمت عملی کا یہ نتیجہ ملت کو بھگتنا پڑ رہا ہے ؟ افسوس ان کو اس کا شاید احساس تک نہیں ۔ اللہ ہماری حفاظت فرمائے ۔

18مئی،2017 بشکریہ : روز نامہ ہندوستان ایکسپریس ، نئی دہلی

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/mansoor-agha/triple-talaq--court-hearing-and-our-vision--تین-طلاق--کورٹ-میں-سماعت-اور-ہماری-بصارت/d/111212

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..