New Age Islam
Mon Sep 21 2020, 01:21 AM

Urdu Section ( 19 Nov 2017, NewAgeIslam.Com)

Do We Really Need People Like Dr.Zakir Naik? کیا ہمیں واقعی ڈاکٹر ذاکر نائک جیسوں کی ضرورت ہے؟



مالک اشتر

13-11-17

بھارت میں بہت سے دوستوں کو ڈاکٹر ذاکر نائک کی یاد بہت ستا رہی ہے۔ سوچ رہے ہیں کہ وہ بھی کیا دن تھے جب ایک مسلمان ٹی وی پر کھڑے ہوکر دیگر تمام مذاہب میں کیڑے نکالا کرتا تھا اور غیر مسلموں کے اسلام قبول کرنے کے مناظر نشر کیے جاتے تھے۔ جب سے ذاکر نائک صاحب کی سرگرمیوں پر نگرانی کڑی ہوئی اور ان کا چینل بھارت میں دکھایا جانا بند ہوا تب سے وہ مناظر بہت سوں کی نگاہوں میں گھوم رہے ہیں۔ ذاکر نائک صاحب نے حالات ناموافق پائے تو سامان باندھ کر ملائشیا سدھار گئے۔ یہاں میڈیا واویلا کرتا رہ گیا لیکن ڈاکٹر صاحب کو کیا پڑی ہے جو اب واپس بھارت آکر اپنے اوپر لگ رہے الزامات کا جواب دیں۔ حال ہی میں بھارتی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ وہ ملائشیا سے ذاکر نائک صاحب کی حوالگی کے لئے باقاعدہ درخواست کرے گی۔

بھارت کے پڑھے لکھے مسلم حلقوں میں اس بات پر بحث جاری ہے کہ کیا واقعی ہمیں ڈاکٹر صاحب جیسے طریقہ دعوت کی ہی ضرورت ہے؟ اس سلسلہ میں ایک پاکستانی دوست نے تبصرہ کیا کہ اسلام بہرحال دین حق ہے اس لئے اس کی حقانیت کا اظہار ایسا کون سا جرم ہے جس پر ڈاکٹر صاحب کو اپسے لپیٹا جا رہا ہے؟ میں اس بارے میں یہی عرض کرتا رہا ہوں کہ آپ اسی مثال کو پاکستانی معاشرے کے پس منظر میں رکھ کر دیکھ لیجیے۔ مان لیجیے کہ ایک ہندو یا عیسائی مبلغ پاکستان میں اپنے ٹی وی چینل کے ذریعہ اپنے مذہب کو سچا اور اسلام سمیت دیگر مذاہب کو غلط ثابت کرے، مسلمانوں کا مذہب تبدیل کرانے کے مناظر نشر کرے، ایمان سے بتائیے ایسے مبلغ کا پاکستان میں کیا حشر ہوگا؟

دعوت و تبلیغ کسی بھی مذہب کا اہم جزو ہوتا ہے لیکن دعوت کا اکلوتا طریقہ صرف مناظرہ یا تکذیب نہیں ہے۔ اسلام کے سلسلہ میں ہمارے علماء، خطباء اور مبلغین کا مسلسل اصرار ہے کہ یہ دین مکمل ضابطہ حیات ہے جو دنیاوی اور اخروی دونوں زندگیوں کی کامیابی کی کنجی ہے۔ اب ظاہر ہے اگر علماء اس ضابطہ حیات کی کماحقہ تفہیم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو انہیں دعوت کے عمل میں مناظرے کی طرف جانے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ تقابلی گفتگو کے دوران کسی ایک کی خامیاں شمار کرانے کی ضرورت اس وقت پڑتی ہے جب ہم دوسرے کی خوبیوں کا معیار پہلے کی خامیوں کی بہتات کے پس منظر میں اعلی دکھانا چاہیں۔ اب جبکہ اہل اسلام کو یقین ہے کہ اسلام کا ضابطہ حیات کامل اور بہترین ہے اس کا مطلب یہ ہونا چاہیے کہ اس کی عظمت کو بلند کرنے کے لئے ہمیں فریق مخالف کی خامیاں گنانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

دعوت کے حوالہ سے اسلامی مبلغین کو پورے نقطہ نظر میں ہی تبدیلی کرنی ہوگی۔ اس وقت دنیا میں لوگوں کو راستے کی جس شدت سے تلاش ہے اتنی اب سے پہلے کبھی نہیں رہی لیکن یہ لوگ ایسے ضابطہ حیات کی تلاش میں ہیں جو ہر ہر مرحلہ پر ان کا ساتھ دے سکے۔ انہیں ایسا نظام درکار ہے جو تقابل اور ترقی کی دوڑ میں پاگل ہوئی جا رہی اس دنیا میں ان کو اطمینان قلب اور ترقی دونوں دلانے کا اہل ہو، انہیں ایسا نظام چاہیے جو شمولیت پر مبنی ہو، جو ترقی پسند ہو، جس میں نئے مسائل کے ساتھ تصفیہ کے نئے دروازے کھلنے کا بھی نظم ہو۔ اب اگر ایسا نظام اسلام کی شکل میں مبلغین اور علماء کے پاس ہے تو دعوت کو اس ڈھنگ سے انجام دینے میں کیا مضائقہ ہے؟

ڈاکٹر ذاکر نائک نے جانے انجانے تبلیغ کے عمل کو سیاسی جماعتوں کی طرح افراد میں اضافہ کا کام بنا دیا۔ اسلام کے بارے میں ہم یہی سنتے آئے تھے کہ اس میں تعداد سے زیادہ معیار پر توجہ دی جاتی ہے۔ ٹی وی پر اسلام قبول کیے جانے کے مناظر دکھائے جانے اور دوسرے مذاہب کی خامیوں کے بیان سے ایک طرح کا کنفلکٹ یا ٹکراؤ اپنے آپ کھڑا ہو جاتا ہے۔ اس قسم کی چیزیں سیاسی جماعتوں پر تو جچتی ہیں، کسی دین کی تبلیغ پر نہیں۔ ڈاکٹر صاحب کے اس طریقہ دعوت سے چونکہ ہماری مذہبی انانیت کو ایک عجیب سی تسکین ملتی ہے اس لئے ڈاکٹر صاحب کا مقبول ہونا حیرتناک امر نہیں ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ دین کی دعوت کا کام دین میں موجود ضابطہ حیات کی کماحقہ تفہیم کے ذریعہ کیا جائے نہ کہ دوسروں کی تکذیب کے ذریعہ۔ کسی نے کہا تھا کہ کسی لکیر کو چھوٹا کرنے کے دو طریقہ ہیں یا تو اس لکیر کا ایک حصہ مٹا دیا جائے یا پھر اس کے برابر میں اس سے بڑی لکیر کھینچ دی جائے۔ میری رائے میں تبلیغ کے حوالے سے دوسرا رویہ زیادہ مناسب ہے۔

بشکریہ: ہم سب


URL: http://newageislam.com/urdu-section/malike-ashter/do-we-really-need-people-like-drzakir-naik?--کان--ہمںم--واقعی--ڈاکٹر--ذاکر--نائک--جسوثں-کی-ضرورت-ہے؟/d/113272


Loading..

Loading..