New Age Islam
Sun Nov 28 2021, 09:58 PM

Urdu Section ( 23 Apr 2017, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Why Lynching in the Name of Blasphemy توہین رسالت کے نام پر قتل کیوں

مالک اشتر نوگانوی

18اپریل،2017

جس وقت آپ یہ تحریر پڑھ رہے ہوں گے، اس وقت تک پاکستان کی مردان یونیورسٹی میں بکھرا مشال خان کا خون سوکھ چکا ہوگا۔ ماں باپ کڑیل جوان کو رو دھو کر خاموش ہونے لگے ہوں گے او رممکن ہے تعزیتی پیغامات او رمذمتی بیانات کا سلسلہ بھی تھم چکا ہو ۔توہین رسالت کاالزام لگا کر مشال کو سنگسار کرنے والے نوجوانوں میں سے جو پولیس کے ہتھے چڑھ گئے ہوں گے ان کے اماں ابا اپنے لاڈلوں کی ضمانت کرانے، وکلاء ملزمین کی حمایت میں دلیلیں کھوجنے او رملزمین سے دل میں ہمدردی رکھنے والے آہستہ لہجے میں مشال کی کردار کشی بھی شروع کر چکے ہوں گے۔ مشال خان کا قتل افسوس سے زیادہ فکر کا لمحہ ہے ۔ مشال کے قتل کا ویڈیو دیکھئے اور دو چیزوں پر غور کیجئے ۔ پہلی چیز ایک نوجوان کو پتھر وں اور ڈنڈوں سے پیٹ پیٹ کر قتل کیا جا رہا ہے اور فضا میں اللہ کی کبریائی کے نعرے بلند ہورہے ہیں ۔ لوگ دم توڑ تے نوجوان کو ٹھوکریں مار رہے ہیں ، لاٹھیاں مار رہے ہیں ، پتھر سے سر کچل رہے ہیں اور ہر ضرب کے ساتھ اللہ اکبر کا نعرہ لگاتے جاتے ہیں ۔ دوسری چیز دیکھئے کہ یہ قاتل کون ہیں ۔ ان سب کے نام تو نہیں پتہ لیکن حلیہ سب کا ایک جیسا ہے ۔ داڑھی ہے اور شلواڑ کرتا ہے۔ دیکھنے میں سب کے سب ماشا اللہ مومن نوجوان لگ رہے ہیں اور یقینی طور پر ان میں سے کئی مولویت پڑھے ہوئے ہیں ۔ اب ذرا ان افراد کا عمل دیکھئے اور دل پر ہاتھ رکھ کر کہئے کہ کیا کسی کو یہ کہنے کا حق ہے کہ مسلمان کبھی دہشت گردیا شدت پسندنہیں ہوتا۔ آئندہ اگر کوئی میرے سامنے یہ کہے گا کہ شدت پسندی یورپ او رامریکہ کی پھیلائی ہوئی ہے اور مسلمان شدت پسند ہوتے ہی نہیں تو میں کھلکھلاکر ہنس پروں گا ۔ ہاں اگر ان نوجوانوں نے یہ قتل صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے کہنے پر کیا ہے تو الگ بات ہے۔

اب ذرا ایک چیز پر آجائیے ۔ اس قتل سے اگر آپ بھی غصے میں ہیں تو آپ کا غصہ ٹھنڈا کرنے کے لئے کہا جائے گا کہ پولیس نے بہت سے نوجوانوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ جی ہاں، ضرور گرفتاری ہوئی ہوگی۔ گرفتاری تو ممتاز قادری کی بھی ہوئی تھی جس نے توہین رسالت کے الزام میں سلمان تاثیر کو قتل کیا تھا لیکن اس کے بعد کیا ہوا ؟ جب وہی قادری عدالت میں پیش کیا گیا تو وکیلوں نے اس پر پھول برسائے۔ جب اس کو پھانسی دی گئی تو نہ جانے کتنوں نے ماتم کیا، جب اس کی نماز جنازہ ہوئی تو ہزاروں لوگ ننگے سر آئے اور جب وہ مر چکا تو اسے نہ جانے کتنے لوگ شہید او رمجاہد کہتے ہیں ۔ ہوسکتا ہے بلکہ غالب امکان ہے کہ مشال کے قاتلوں کو بھی ایسے ہی ہار پھول پہنائے جائیں ۔ پھول پھینکنے والے وکیلوں ، جنازے میں شریک ہونے والے ہزاروں لوگوں او رممتاز قادری کو شہید ماننے والوں میں اور مشال کو پتھروں سے کچل کر ہلاک کرنے والوں میں ذرہ برابر فرق نہیں ہے۔بس فرق اتنا ہے کہ ان کا موقع نہیں پڑا ہے جس دن کوئی ان کے ہاتھ لگ گیا یہ بھی اسے ویسے ہی سنگسار کرکے غازی بن جائیں گے۔ میں یہاں اس پر بات نہیں کروں گا کہ رسول اسلام کا طریقہ کیا تھا۔ دشمنوں کے ساتھ بھی ان کا کیا سلوک تھا وغیرہ وغیرہ ۔ میں تو یہ جاننا چاہوں گا کہ یہ نوجوان جنہوں نے ابھی ابھی مشال کے خون سے وضو کیا ہے یہ کس کس مدرسے کی پیداوار ہیں؟ کون کون سے علماء کے سامنے انہوں نے زانوے تلمذتہ کیا ہے؟ وہ کون کون سے ناگ ہیں جو جبہ و دستار کی کینچلی میں چھپ کر معاشرے کو ڈستے پھر رہے ہیں اور ان کے سنپولیوں کی تعداد اتنی زیادہ ہوگئی ہے۔

یہ کوئی نیا واقعہ تو ہے نہیں ، جو کچھ مردان کی یونیورسٹی میں مشال خان کے ساتھ ہوا وہ بہت سوں کے ساتھ ہوچکا ہے او ربہت اس کا شکار ابھی او رہونگے ۔ توہین رسالت کے الزام میں مشال کوبھیڑ کے ذریعہ قتل کئے جانے کا واقعہ افسوس سے زیادہ فکر کا مقام ہے۔ منصور حلاج ہو، سقراط ہو،گلیلیوں ہو، سلمان تاثیر ہو یا پھر اب مشال خان ۔ سب کا صرف ایک جرم تھا اور وہ تھا سوال اٹھانا۔معاشرے میں دو طرح کے ذہن ہوتے ہیں، پہلا ہر فرد کا انفرادی ذہن ہوتا ہے جس میں وہ اپنے مخصوص اقدار او رپیمانے وضع کرتا ہے۔ کسی شخص کو رات کو مولی کھانا مضر صحت لگتا ہے تو کسی کے لئے رات میں مولی کھانا ہاضمے کی ضمانت ہے۔ یہ پیمانے وہ ہیں جو انسان کی ذات تک محدود ہیں ۔ لیکن معاشرے کا دوسرا ذہن اس کا اجتماعی شعور ہوتا ہے۔ اس شعور کی بنیادی سینہ بہ سینہ چلی آرہی روایات ،مذہبی تعلیمات ، بڑے بوڑھوں کی نصیحتوں وغیرہ پر ہوتا ہے۔ یہ شعور چونکہ معاشرے کے اجتماعی ذہن میں عقائد کی کیلوں سے ٹھکا ہوتا ہے اس لئے اس شعور کو چیلنج کرنایا اس پر سوال اٹھانا کبھی کبھی خطرناک انجام کی طرف بھی دھکیل دیتا ہے۔ضروری نہیں کہ معاشرے کا اجتماعی شعور جو کچھ سہی مانتا ہو وہ سہی ہی ہو اور یہ بھی یقینی نہیں ہے کہ جو کچھ معاشرے کا اجتماعی شعور کہتا ہے وہ غلط یا مفروضہ ہی ہوگا۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ چونکہ اس شعور کو ایک سے زیادہ افراد بلکہ یوں کہا جائے کہ ایک بھیڑ مانتی ہے اس لئے اس بھیڑ میں شامل ہر فردخود کو یہ سوچ کر تسلی دے دیتا ہے کہ یہ بات سہی ہی ہوگی ورنہ اتنے سارے لوگ اسے کیوں مانتے ۔ یہیں سے بھیڑ کی نفسیات پتہ چلتی ہے کہ وہ سہی غلط کی انفرادی ترازو کو کنارے رکھ کر اس اجتماعی شعور کے پیچھے پیچھے نکل پڑتی ہے جو دراصل کسی کابھی شعورنہیں او رکہلاتا سب کا ہے۔

اب ذرا مشال خان کا معاملہ لیجئے ۔ اس نے توہین رسالت کی یا نہیں اس پر اتفاق رائے نہیں ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس نے رسول اسلام کی شان میں گستاخانہ کلمات کہے تھے جب کہ بہت سے لوگ اس الزام کوغلط مانتے ہیں ۔ ہم ذرا دیرکے لئے مان لیتے ہیں کہ اس نے کچھ ایسا کہا جو کچھ لوگوں کو مذہب کی توہین معلوم ہوا تب بھی اس کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کا جواز کیا ہے؟ اگر یوں کسی کو مدعی اور قاضی بن کر کھڑے کھڑے فیصلہ کرنے کا حق دے دیا جائے تو عدالتیں ، پولیس ، حکومت، استغاثہ ، دفاع ، وکلاء ، دلائل اور شواہد یہ سب کس کام کے رہ جائیں گے؟۔میرے خیال میں اصل مصیبت یہ ہے کہ مذہب کے ٹھیکدار خود مذہب کو نہیں سمجھ پائے ہیں او روہ افہام و تفہیم میں جب بے دلیل ہونے لگتے ہیں تو توہین مذہب کا الزام لگا کر کسی کو قتل کردینا ان کی سب سے بڑی دلیل ہوتی ہے۔ پیغمبر اسلام کی زندگی کا ایک ایک لمحہ پڑھ جائیے قرآن مجید کا حرف حرف دیکھ لیجئے ۔ دونوں جگہ بار بار ایک ہی چیز کی دعوت ملتی ہے اور وہ ہے غور و فکر اور تدبر ۔ اگر کوئی شخص سوال کررہا ہے تو اوّل تو اس کا جواب دیا جائے ۔ اگر آپ جواب دینے لائق نہیں ہیں یا آپ کے جواب سے اسے تسلی نہیں تو ان علماء اور دانشوروں سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا جائے جو اس کے سوالات کا جواب دے سکتے ہوں یا ان کتابوں کا حوالہ دیا جائے جو ان سوالات کا جواب دیتی ہوں ۔ یہ سب ہوسکتا ہے لیکن اس وقت جب کہ ہمیں خود دین کی سمجھ ہو اور ہمارا ذہن جمہوری ہو۔ مسئلہ یہ ہے کہ مسجد کی محرابوں ،درگاہوں کی گدیوں ، جماعتوں کی امارتوں ، منبر کے خطیبوں ان سب میں بہت سے ایسے ہیں جو نہ تفہیم دین کے قابل ہیں او رنہ سوال سننے کے عادی۔حضرت جی نے جو فرمادیا اس کو سنو اور چپ رہو، کوہی دین داری اور فرمانبرداری مان لیا گیا ہے۔ اسلام ایسی بھیڑ چال کی اجازت نہیں دیتا۔ اسلام کی بنیادیں انسانی آزادی پر ہیں۔ ذرا سا یا د کیجئے اس بڑھیا کو جس نے کھڑے ہوکر حضرت عمر سے پوچھا کہ سب کے حصے میں مال غنیمت کی ایک ایک چادر آئی آپ کے پاس دو چادریں کیسے آگئیں؟۔ اگر سوال آج کے کسی حضرت جی سے کیا گیا ہوتا تو بڑھیا کا کیا حشر ہوگا؟۔ حضرت عمر نے بجائے اس کے کہ خود بتادیتے فوراً اپنے صاحبزادے کو پیش کیا جنہوں نے گواہی دی کہ انہوں نے اپنے حصے کی ایک چادر اپنے والد صاحب کو دی ہے۔ زیادہ کچھ کہنے کرنے کی ضرورت نہیں ۔ ناموس رسالت او رناموس صحابہ کی باتیں کرنے والے اگر حضرت عمر کے اس واقعے کو ہی اپنی زندگی کا شعار بنالیں او راپنے مریدوں کو یہی سکھادیں تو شاید کوئی اور مشال مرنے سے بچ جائے۔

18اپریل،2017 بشکریہ : روز نامہ ہندوستان ایکسپریس ، نئی دہلی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/lynching-name-blasphemy-/d/110876


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..