New Age Islam
Sun Nov 28 2021, 10:28 PM

Urdu Section ( 23 Nov 2020, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Results Of Bihar And The Politics Of Owaisi بہارکے نتائج اور اویسی کی سیاست

ملک العزیز کاتب

23 نومبر 2020

بہار اسمبلی کے تازہ انتخابات میں جو سب سے زیادہ گرم موضوع بحث ہے، وہ ہے مجلس اتحاد المسلمین کی پانچ سیٹوں پر جیت۔ زیادہ تر عوامی رجحان جو سامنے آیا ہے، وہ یہ کہ اویسی کو ووٹ کٹوا قرار دیا جا رہا ہے۔ اور یہ کہ انہی کی وجہ سے آر جے ڈی اور کانگریس کے عظیم اتحاد کو کئی جگہوں پر شکست ہوئی اور بی جے پی محاذ جیت گیا۔جب کہ دیکھا جائے تو چراغ پاسوان نے بھی جے ڈی یو کے خلاف امیدوار کھڑا کرکے نتیش کا قد چھوٹا کیا ہے۔ مگر اس پر کوئی بحث نہیں ہورہی ہے۔ووٹ کاٹنے کا یہ کھیل برسوں پرانا ہے۔ اورذات برادری کی بنیاد پر ووٹ دینا آج کی ہندوستانی جمہوریت کا ایک بد نما کھیل بن چکا ہے۔ مگر کھلبلی مچتی ہے تو صرف ایک مسلمان پارٹی کے داخلے پر۔ اور اس کھیل میں نام نہاد سیکولر پارٹیاں پیش پیش رہی ہیں اور ماتم کناں ہیں۔ مگر کوئی ان پارٹیوں سے پوچھے کہ مجلس کو عظیم اتحاد میں شامل کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی گئی؟ مجلس سے دس سیٹوں پر سمجھوتہ ہوسکتا تھااور اس اتحاد میں شامل ہونے کے بعد مجلس کے قائدین کانگریس کے خلاف بولنے سے بھی شاید گریز کرتے۔

 مسلم قائدین کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا کام جتنا کانگریس نے پچھلے۷۰؍ سال میں کیا ہے اتنا تو کسی اور نے نہیں کیا۔ ساٹھ کی دہائی میں اتر پردیش میں عبدالجلیل فریدی صاحب کی مسلم مجلس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے میں اور مسلم لیگ کو صرف کیرلا کی دوسیٹوں پر محدود کرنے کا کام کانگریس نے بڑی خوبی اور کامیابی کے ساتھ انجام دیا ہے۔ خود کانگریس کے مسلم لیڈروں نے مسلم قیادت کو کچلنے میں جو گھنائونا کردار ادا کیا ہے، کیا اس کو فراموش کردیا جانا چاہیے۔ملائم سنگھ یادو ہو، یا مایاوتی، یا لالو پرساد یادو،سبھوں نے مسلم قوم کی قسمت کے ساتھ کھلواڑ ہی تو کیا ہے۔ اور آج مسلمانوں کو کو دلتوں سے بھی بدتر مقام پر پہنچانے میں کس کس کا ہاتھ نہیں ہے؟ا ویسی پر تنقید کرنے والوں سے یہ سوال پوچھا جانا چاہیے کہ آخر مسلم قیادت کا متبادل کیا ہے؟ اویسی نہیں تو اور کون ہے جو مسلمانوں کے اعصاب پر چھایا ہوا ہے؟ اترپردیش میں کتنے تجربے ہوئے اور انجام کیا ہوا۔ مسلم لیگ،نیشنل لیگ،مسلم مجلس، پیس پارٹی اور راشٹریہ علماء کونسل وغیرہ وغیرہ تونا پید ہوگئے۔ توکیا اس صورت حال کو جاری رکھنا چاہیے یا کوئی متبادل بھی ڈھونڈا جائے؟

کیا آپ کو معلوم ہے کہ بہار کے انتخابات میں مسلمانوں نے۷۶؍ فیصدووٹ عظیم اتحاد کو دیا ہے، مگر آر جے ڈی کے کئی مسلم امیدواروں کو خود یادو برادری اور دیگرہندوؤں نے ووٹ نہیں دیا۔ اگر ان لوگوں نے مسلم امیدواروں کو بھی پارٹی کی بنیاد پر ووٹ دیا ہوتا تو آج آر جے ڈی اکثریت میں ہوتی، اور آج وہ بی جے پی کے مقابلے میں دو چار سیٹوں کی بر تری کے بجائے مزید بیس پچیس سیٹوں کی برتری حاصل کر چکی ہوتی۔ مگر آج کا بہار بھی شاید تعصب کا شکار ہو چکا ہے اور سیکولرزم کے تئیں اتنا مخلص نہیں ہے،جتنا کے ماضی قریب میں تھا۔ مگر یہ چیزیں قابل بحث موضوع نہیں ہیں۔ آر جے ڈی کے ووٹ بینک نے عبدا لباری صدیقی اور مشکور عثمانی جیسے قدر آور لیڈروں کو ہرایا ہے، اس صورت حال میں ین ڈی اے کا اکثریت پاجانا، خود عظیم اتحاد کی کارستانی کانتیجہ ہے۔اگر مسلمان کانگریس کو ووٹ دیتاہے تو وہ ووٹ بینک سیاست ہوجاتی ہے۔ اگر اپنی الگ پارٹی بناتا ہے تو ووٹ کٹوا اور اپنے حقوق کی بات کرتا ہے تو فرقہ پرست۔ہندوستانی سیاست میں یہ روز اول سے چلا آرہاپرانا کھیل ہے۔غرض مسلمان ہر طرح سے نشانہ ملامت بنا رہتاہے۔اس بار الیکشن میں مسلمانوں نے جہاں راشٹر یہ جنتا دل کو۷۶؍ فیصد ووٹ دیا ہے، وہیں جنتادل یو کو۱۱؍ فیصد اور بی جے پی تک کو۳؍ فیصد ووٹ سے نوازا ہے۔وہاں کے مسلمانوں کی غیر جانبداری کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوسکتا ہے۔منور رانا جیسے ذہین شاعر نے بھی اس معاملے میں بہت بڑی غلطی کی ہے، اور اویسی کو دوسرا جناح قرار دے کر بڑی زیادتی کی ہے۔ جناح کے ہندوستان اور آج کے ہندوستان میں زمین آسمان کا فرق ہے۔مگر منور رانا اس معاملہ میںچکمہ کھاگئے، جب کہ وہ خود بھی بی جے پی کے خلاف کچھ عرصہ سے صف آرا ہیں۔مجلس کے امیدواروں نے حالیہ الیکشن میں بابری مسجد اورکشمیر جیسے موضوعات کو نہیں اٹھایا،بلکہ مقامی مسائل پر گفتگو کی اور بی یس پی جیسی پارٹیوں کے ساتھ اتحاد کرکے غیر مسلموں کا دل بھی جیتا۔ مجلس پرووٹ کاٹنے کا الزام یقیناغلط ہے۔ ووٹوں کی تفصیل دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ کسی بھی حلقے میں مجلس نے اتنے ووٹ حاصل نہیں کئے،جو عظیم اتحاد اور این ڈی اے امید واروں کے حاصل شدہ ووٹوں کے فرق کو پوراکرسکے۔ مجلس کو’ووٹ کٹوا‘‘ قرار دینا، مسلم قیادت کو منہدم کرنے کی ایک بہت بڑی سازش ہے، جس کا عام مسلمان بھی شکار ہوگئے ہیں۔ سوال اویسی کا نہیں بلکہ مسلم قیادت کا ہے جس کا متبادل دور دور تک نظر نہیں آتا۔آج ملک میں خوف کا جو ماحول ہے،اس میں مجلس اتحادالمسلمین کی کوشش بے باکانہ ہے اور ہندوستانی سیاست پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ مسلم قیادت کے خلاکو پُر کرنے کے لئے جب کوئی لیڈر نظر نہیں آرہا ہے تو اویسی کیوں نہیں؟ہاں البتہ مجلس کے نو منتخب اراکین اسمبلی سے یہ سوال پوچھا جانا چاہیے کہ کیا وہ اپنے حلقوں کے عوام کی امیدوں پر کھرے اتریں گے اور اپنے انتخاب کو حق بجانب قرار دیں گے،یا پھر دیگر ایم ایل اے حضرات کی طرح صرف اقتدارکے مزے لوٹتے رہیں گے۔ ایک سوال اویسی صاحب سے بھی ضرور پوچھا جانا چاہیے کہ وہ کم از کم چالیس سال سے حیدرآباد کی پارلیمانی سیٹ اور حیدرآباد شہر کی پانچ سیٹوں سے اب تک کیوں آگے نہیں بڑھ سکے ہیں۔تلنگانہ اور آندھراپردیش کے کئی اضلاع میں کافی امکانات تھے اور اب بھی ہیں تو ان پر قسمت آزمائی کیوں نہیں کی گئی۔ آپ مہاراشٹر، بہار، اترپردیش اور مغربی بنگال کے بارے میں سوچتے ہیں،مگر خود اپنے پڑوس کی خبر کیوں نہیں لیتے۔

حیدر آباد شہر کابلدیہ بھی کئی برسوں سے آپ کے قبضہ میں رہاہے،مگر حیدرآبادکے درو دیوار پر روغن نہیں چڑھا اور انفرا اسٹرکچر نام کی چیز شہر میں دیکھنے کو نہیں ملتی۔ جب اتنافنڈ آپ کے پاس ہے تو حیدرآباد کو ایک سنگاپور بنایا جاسکتا ہے۔ شہر میں نلوں کے ذریعہ پانی کی سربراہی یقینی نہیں ہے،مگر بارش کا پانی آٹھ آٹھ دنوں تک شہر کو سیراب نہیں بلک زیر آب رکھتا ہے۔ آپ نے مسلمانوں کے لئے تعلیمی ادارے بنائے، جن سے مسلمانوں کو فائدہ ہورہاہے،مگر ادارے تو اور بھی دیگر لوگوںنے بھی بنائے۔ آپ تو سیاسی اقتدار کے حامل ہیں،آپ کو انفرا اسٹرکچر پر بھی دھیان دینا چاہیے اور یہ کام اب بہار میں ہونا لازمی ہے تاکہ آپ کو دیگر ریاستوں میں داخلہ کی راہ ہموار ہوسکے۔

ووٹوں کی تفصیل دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ کسی بھی حلقے میں مجلس نے اتنے ووٹ حاصل نہیں کئے،جو عظیم اتحاد اور این ڈی اے امید واروں کے حاصل شدہ ووٹوں کے فرق کو پوراکرسکے۔ مجلس کو’ووٹ کٹوا‘‘ قرار دینا، مسلم قیادت کو منہدم کرنے کی ایک بہت بڑی سازش ہے، جس کا عام مسلمان بھی شکار ہوگئے ہیں۔ سوال اویسی کا نہیں بلکہ مسلم قیادت کا ہے جس کا متبادل دور دور تک نظر نہیں آتا۔

23 نومبر 2020،بشکریہ:انقلاب، نئی دہلی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/the-results-bihar-politics-owaisi/d/123555


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..