New Age Islam
Sun Sep 20 2020, 06:12 AM

Urdu Section ( 4 Oct 2011, NewAgeIslam.Com)

Capital Punishment: Islam Does not Teach this Injustice سزائے موت: یہ ظلم اسلام نہیں سکھاتا

مہدی حسن ( انگریزی سے ترجمہ۔ سمیع الرحمٰن، نیو ایج اسلام ڈاٹ کام)

ایران میں یوسف نادر خانی کی موت کی سزا عالمی اخلاقی اقدار کی توہین اور مسلمانوں کو نقصان پہچانے والی ہے۔

1948میں انسانی حقوق کے عالمی اعلانیہ پر زیادہ تر مسلم اکثریت والے ممالک نے دستخط کئے تھے ۔اس میں فکر، ضمیر اور مذہب کی آزادی سے متعلق دفع18 سمیت مذہب یا عقیدے کو تبدیل کرنے کا اہم حق بھی شامل تھا۔اس وقت کے پاکستانی وزیر خارجہ محمد ظفر اللہ خان نے لکھاتھا : ’ایمان ضمیرسے تعلق رکھتا ہے اور ضمیر کو مجبور نہیں کیا جا سکتا ہے۔

سال 2001میں: مسلم اکثریت والے 14ممالک نے دائرہ اسلام سے باہر جانے کو غیر قانونی قرار دیا ہے اور سعودی عرب، افغانستان سمیت سوڈان نے تو مرتدوں کے لئے موت کی سزا کا اعلان کیا ہے۔خود ساختہ اسلامی جمہوریہ ایران نے مسلمان والدین سے پیدا ہونے والے ایک عیسائی پادری کو مرتد ہونے کی وجہ سے سزائے موت دی ہے۔اس مضمون کو لکھے جانے کے وقت ایران میں عیسائی گھروں میں نیٹ ورک کے چرچوں کے سربراہ یوسف نادرخانی پنے عقیدے سے دست بردار ہو کر اسلام میں داخل ہونے سے انکار کرنے کے سبب موت کی سزا کاانتظار کر رہے ہیں۔

نادرخانی عقیدے کے فیصلے پر عمل درآمد کرانے کے لئے ایک سال قبل پادری کے آبائی گاؤں راشت کی عدالت میں ججوں نے سزا دی اور پھر ملک کی سپریم کورٹ کی جانب سے جون ماہ میں اس کی توثیق کر دی گئی۔ اور یہ نہ صرف انسانی حقوق کے عالمی اعلانیہ بلکہ ایران کے اپنے آئین کی بھی واضح خلاف ورزی ہے۔آرٹیکل23 واضح طور پر کہتا ہے: ’ افراد کے عقائد کی تحقیق حرام ہے اور کسی کو ایک مخصوص عقیدے پر قائم رہنے کے لئے جبر نہیں کیا جا سکتا ہے۔

کینٹر بری کے آرک بشپ،برطانیہ کے وزیر خارجہ، امنیسٹی انٹرنیشنل اور دیگر لوگوں نے معافی کے لئے درخواستیں تہران تک پہنچائی ہیں۔دریں اثناء دنیا بھر کے مسلمانوں خاص طور سے برطانیہ میں آواز اٹھانے والی تنظیمیں اور مسلمانوں کے نام نہاد لیڈران کی خاموشی شرمناک رہی ہے۔المیہ یہ ہے کہ مجھے ابھی تک ایک ایسا شخص نہیں ملا جو اس بات سے متفق ہو کہ کوئی مومن اگر مرتد ہو جاتا ہے تو اسے سزائے موت دی جانی چاہئے۔ اس بربریت کے خلاف کچھ مسلمان آواز اٹھانا چاہتے ہیں۔ اسے بڑبڑاہٹ سمجھتے ہوئے ہم معاف کرتے ہیں اور اپنی نظروں کو دوسری جانب پھیر لیتے ہیں۔

مسلمانوں کے درمیان ایک گمراہ کن تصور ہے کہ اس طرح کی سزا اللہ کی طرف سے ہے۔ جبکہ ایسا نہیں ہے۔عصرقدیم کی مسلم ماہرین قانون نے ارتداد کو غلط طریقے سے دین سے غدّاری تعبیر کیاہے۔تاریخ گواہ ہے کہ پیغمبر محمّدﷺ نے کسی کو صرف ارتداد کی بنیاد پر سزا نہیں دی۔مثال کے طور پر جب ایک بدّو نے اسلام سے انکار کر دیا اورشہر مدینہ چھوڑ دیا، اس پر پیغمبر محمد ﷺ نے کوئی کاروائی نہیں کہ صرف یہ فرمایا’مدینہ ایک کھال کے اس جوڑے کی طرح ہے جو اسکی گندگی کو باہر اور اسکی اچھائی اور چمک کو اور بھی بہتر کرتا ہے۔

اور نہ تو قرآن ارتداد کرنے والوں کے لئے کسی سزا کی بات کرتا ہے۔اسلام کی مقدّس کتاب میں مذہب کی آزادی کی ضمانت اس مشہور آیت میں دی گئی ہے۔’دین میں کوئی جبر نہیں‘۔ارتداد ایک گناہ تصور کیا جاتا ہے لیکن قرآن بار بار کہتا ہے کہ اس کی سزا آخرت میں ملے گی اس دنیا میں نہیں۔سورہ انساء کی چوتھی آیت میں ذکر ہے، ’جو لوگ ایمان لائے اور کافر ہو گئے، پھر ایمان لائے پھر کافر ہو گئے پھر کفر میں بڑھتے گئے ان کو خدا نہ تو بخشے گا اور نہ سیدھا رستہ دکھائے گا۔‘ اس آیت میں واضح طور پر کفرکرنے پھر ایمان لانے اور پھر کفر میں پڑ جانے اور کفر میں بڑھتے جانے کا ذکر ہے اور اس کے لئے سزا کا فیصلہ کرنے کا حق صرف اللہ کو ہے نہ کہ ایران، سعودی عرب یا کسی دوسری جگہ کے منصفوں کو ۔

مزے کی بات یہ ہے کہ نادر خانی معاملے پر فیصلہ قرآنی آیات پرنہیں بلکہ متعدد مذہبی پیشواؤں کے فتویٰ پر مبنی ہے۔تاہم فتویٰ مختلف ہوتے ہیں۔مثال کے طور پر آیت اللہ خمناای کے کبھی وارث رہے آیت اللہ حسین علی منتظری نے کہا تھا کہ ارتداد کے لئے سزائے موت دراصل نئے ابھر رہے اسلامی فرقے کے خلاف سیاسی سازش کرنے والوں کے لئے تجویز کی جاتی تھی۔منتظری کا خیال ہے آج بھی مسلمانوں کو کسی بھی عقیدے کو قبول کرنے کی آزادی ہونی چاہئے۔

اس طرح نادار خانی معاملے میں سزا کا فیصلہ عالمی اخلاقی اقدار کی خلاف ورزی کے ساتھ ہی مسلمانوں کے لئے بھی بدنامی کی وجہ ہے۔مذہب کی آزادی کا تب تک کوئی مطلب نہیں جب تک کسی فرد کو اپنا مذہب چھوڑنے یا بدلنے کی آزادی نہ ہو۔کسی کے دل اور دماغ اور اس کے خیالات اور عقیدے کو کنٹرول کرنا کسی فرد کی انفرادی آزادی سے انکار کے مترادف ہے۔ سیدھے اور صاف طور پر یہ تانا شاہی ہے۔

یہ بھی کام نہیں کرتا ہے۔ایران کے ایک اور مرحو م آیت اللہ اور خمنا ای کے معاون مرتضےٰ مطہّری نے ایک بار لکھا تھا کہ ایک مسلمان (یا سابق مسلمان) کو کسی عقیدے پر قائم رکھنے کے لئے مجبور کرنا بے معنی ہے۔ دلیل دیتے ہوئے کہتے ہیں اسلام کی جانب سے متوقع عقل کی سطح کے دین پر کسی کو روک پانا تقریباً نا ممکن ہے۔مطہّر ی کا دعویٰ ہے کہ ’کسی بچے کو حساب کے سوال حل کرنے میں مارنا نہ پڑے ایسا نہیں ہو سکتا ہے۔‘ ’اس کے دیماغ کوآزاد چھوڑنا ہوگا تاکہ وہ اس سوال کو حل کر سکے اور اسلامی عقیدہ بھی بالکل اسی طرح کا ہے۔‘ مسلمانوں کو خود سے سوال کرنے ہوں گے: کیا جس خدا کی ہم پرستش کرتے ہیں وہ اس قدر کمزور اور ضرورت مندہے کہ وہ چاہے گا کہ ہم اپنے ساتھی ایمان والوں کو اسکی عبادت کرنے پر مجبور کریں؟ کیا ہمارا دین اتنا کمزور اور غیر محفوظ ہے کہ ہم کسی بھی طرح کے انکار کو برداشت نہیں کر سکتے ہیں؟ اور اسلام کے نام پر ایک عیسائی کو ملی سزائے موت پر ہم خاموش کیوں ہیں؟ اسلام میں یقین کرنے سے انکار کرنے پر کسی انسان کو پھانسی پر چڑھانا فقہی اور اخلاقی دونوں اعتبار سے نامناسب ہے۔ یہ غیر اسلامی ہونے کے ساتھ ہی ساتھ اسلام مخالف بھی ہے۔

بشکریہ۔گارڈین، لندن

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islamic-ideology/death-sentence--this-brutality-is-not-islam/d/5603

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/capital-punishment--islam-does-not-teach-this-injustice--سزائے-موت--یہ-ظلم-اسلام-نہیں-سکھاتا/d/5624

 

Loading..

Loading..