New Age Islam
Thu Oct 01 2020, 01:28 AM

Urdu Section ( 5 Jul 2012, NewAgeIslam.Com)

Tasawwuf: A Cure for Terrorism تصوف، اسلامی انتہا پسندی کے زہر کو مارنے والی دوا


محبوب اے خان

25 جون، 2012

(انگریزی سے ترجمہ‑ سمیع الرحمٰن، نیو ایج اسلام)

اسلامی انتہا پسندی کی موجودہ لہر  کی جڑیں  جس  نظریہ میں ہیں اسے  وہابیت کے طور پر جانا جاتا ہے۔  القاعدہ، سلفی ،   طالبان اور دیگر بنیاد پرست گروپ  خود کش بم  تیار کر رہے ہیں اور اپنے  سیاسی  نظریات کو عام  کرنے کے لئے معصوموںکا قتل کر رہے ہیں۔ عراق، پاکستان اور دیگر مقامات پر یہ گروپ ان لوگوں کو قتل کر رہے ہیں جنہیں یہ  اپنا مخالفیں مانتے ہیں، خاص طور پر، ان صوفی حضرات اور اعتدال پسند شیعہ کو جو روایتی طور پر  امن پسند مسلمان ہوتے ہیں۔

تصوف پر تحقیق موجودہ صورت حال پر کچھ روشنی ڈال سکتی  ہے۔  بنو  امیہ کے دور حکومت میں جب مسلمان  طبقہ  میں  پھوٹ، قتل و غارت اور انتہائی کٹر پن بکثرت تھی متقی صحابہ کا ایک گروپ جیسے اہل  صو فہ  جو اپنی فقیرانہ زندگی کے لئے جانے جاتے تھے، نے شہوروں کے سیاست زدہ ماحول سے باہر نکل کر  دیہی علاقوں میں جاکر الہہ اور اسلام  کے لئے وقف ہو جانے  کا فیصلہ کیا۔  وہ ابتدائی صوفی  تھے لیکن انہوں نے  اس زمانے میں کبھی خود کو  صوفی نہیں کہا۔  ان لوگوں میں   حضرت حسن البصری ،  حضرت رابعہ بصری ، امام جعفر الصادق، امام ابو حنیفہ، امام شافعی اور امام مالک (رحمہ اللہ  علیہ) تھے۔   یہ سبھی  روایتی اسلام کے نظریہ ساز تھے، جیسا کہ امام ابو حنیفہ جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔

 ان لوگوں کی قابل ذکر خصوصیات میں  یہ شامل تھا کہ یہ لوگ تمام انسانوں کو  ان کے نسل یا مذہب سے قطع نظر محبت کرتے تھے اور ان  کے ساتھ انسانی رویہ رکھتے تھے۔  انکساری اور فقیرانہ زندگی  گزارتے تھے اور  اپنا زیاہ تر وقت  عبادت، ذکر (قرآن کی تلاوت، خدا کا نام لینے) اور غور و فکر میں صرف کرتے تھے۔  یہ لوگ  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، ان کےنامور خاندان، صحابہ اور ان لوگوں کے درمیان سنتوں سے  بے پناہ محبت کیا کرتے تھے۔  انہوں نے اعلی روحانیت   حاصل کیا اور  ایک صوفی شیخ (یا فارسی زبان میں / ہندوستانی زبانوں میں پیر  ) سے بیعت حاصل کی۔   اس طرح، وہ شہر کے لوگ جو  ریشم پہنا کرتے تھے ان کے  برعکس وہ موٹے اونی کپڑے پہنتے تھے۔  جلد ہی اس شائستہ لباس سے انہیں  ایک  مخصوص نام صوفی حاصل ہو گیا ، اور ان کے مراقبہ کرنے کے عمل کو  عربی زبان میں تصوف اور انگریزی میں صوفی ازم کہا جانے لگا۔

امام ابو حامد  الغزالی رحمہ اللہ علیہ  کی آمد کے ساتھ تصوف ایک  غالب اسلامی عمل بن گیا۔ اپنے وسیع پیمانے پر سفر، مراقبہ  اور صوفی حضرات کے ساتھ روحانی تجربہ کے بعد انہوں نے یہ نتیجہ نکالا کہ صرف صوفی صحیح اور محفوظ ترین راستہ ہے جو کہ اللہ کی  طرف کسی کو لے جاتا ہے اور ایک حقیقی اسلامی زندگی جینے کی اجازت دیتا ہے۔  جب وہ سفر سے واپس آئے تو انہوں نے اپنے تجربات کو قلم بند کرنے کے لئے اپنی زندگی وقف کر دی اور انہوں نے  قدامت پسند لیکن دانشورانہ زندگی بسر کرنے کے طریقےبتاےٗ۔  یہ لوگ نہ صرف  یہ کہ  اہل سنت  والجماعت کے روایتی اسلام سے تعلق رکھتے   تھےبلکہ اسے  تقویت بھی بخشی۔  ان کا  اثر اتنا وسیع اور دیرپا ہے کہ لوگ آج بھی کہتے ہیں کہ ہم  غزالی کے دور میں رہ رہے ہیں۔

 اس طرح اسلامی زمین پر منگولوں کے حملے  اور کلاسیکی اسلامی دور کے اختتام کے بعد بھی تصوف  نے عوامی اور نجی شعبوں میں اسلام کو متاثر کیا۔  یہ اس تاریخی حقیقت سے واضح ہے کہ  اس کے بعد  کےاسلامی دنیا کی تین شاندار سلطنتیں تصوف  کے خاص انداز میں ڈھلی تھیں۔  ہندوستان میں مغلیہ سلطنت، فارس کا سفویان، اور  ترکی، مشرق وسطی اور یورپ میں عثمانی خلافت۔

اٹھارویں صدی میں اسلام کی اعتدال پسند ورژن کے سامنے وہابیت کی طرف سے رکاوٹ پیدا کی گئی۔  جدید دور کے سعودی عرب  کے نجد نام کے مقام کا ایک شخص   محمد بن عبد الوہاب نے  یہ تبلیغ کرنا شروع کر دیا کہ صدیوں کی  تحریروں اور مختلف اسلامی علماء‑ سنی یا شیعہ  کی طرف سے اسلام کی روایتی تشریح نے اسلام کو خراب کیا ہے۔  س نے محسوس کیا  کہ ان کے علاقے  کے لوگ جو  اخلاقی اور مذہبی غفلت کے لئے بدنام تھے کے عقائد مختلف تھے۔ مثال کے طور پر، ان لوگوں کا یہ یقین تھا کہ کھجور کے بعض  درخت  میں پر اسرار  طاقت  ہے اور اپنی  جہالت میں  ان کی عبادت  کیا کرتے تھے۔ اس نے  اس عمل کو  اولیاء (سنتوں) کے احترام کے  صوفی عمل سے جوڑ دیا۔

اس طرح عبد الوہاب نے ایک اصلاحی تحریک شروع کی  اور اس کے ماننے والے نہ صرف نجدیوں کے توہم پرست اعمال  بلکہ  تصوف کو بھی مکمل طور پر  ختم کر دینا چاہتے تھے۔ ان لوگوں نے صوفیوں اور شیعہ حضرات پر شرک کا الزام عائد کیا جسے اسلام میں سب سے زیادہ قابل  نفرت جرم مانا جاتا ہے اور  انہیں مرتد ماننے لگے۔  ان لوگوں نے  صوفیا، شیعہ، اور غیر مسلموں  کے خلاف  جنگ کا اعلان کر دیاہے جب تک  کہ یہ  اپنے نظریات  پر   قائم رہیں ۔  ہزاروں معصوم روایتی مسلمانوں‑  شیعہ اور سنی دونوں کو قتل کیا جا  رہا تھا،  ان کے گاؤں جلائے جا رہے تھے ۔  گھبرا کر یہ لوگ لوٹ و غارت کرنے والے وہابیوں  کے سامنے سے بھاگ گئے۔  عثمانی خلافت نے اس  قتل عام اور متعلقہ دہشت گردی کو روکنے کے لئے فوجیں بھیجنی۔  وہابیت نے  عثمانی خلفاء کو بھی  غیر مومنوں مین سے مانا کیونکہ وہ تصوف پر عمل کرتے تھے۔  تاہم، خلیفہ نے  آخر کار ان کو  محکوم  بنا لیا لیکن یہ  ہزاروں افراد کے مارے جانے کے بعد ممکن ہوا۔  ان کی مساجد، قبریں اور گھروں کو تباہ کیا گیا۔ ان کے مظالم کا تفصیلی ریکارڈ  خلافت عثمانیہ کے حکام اور جرنیلوں نے درج کیا ہے۔

 زیادہ تر مسلم علماء اور  یہاں تک کہ  عبدالوہاب کے والد اور بیٹے سمیت عام لوگوں نے اس کی تعلیمات کو مسترد کر دیا تھا۔ اس نے وہابیوں کو  ان علماء کو قتل کرنے کی ترغیب دی جو  ان سے متفق نہیں تھے۔ ان لوگوں کے مطابق  اسلام  کی صرف ایک  تشریح ہے، اور یہ ان کی  ہی تشریح ہے۔ ان سے پہلے کےبارہ صدیوں کے دوران تمام روایتی تحریروں کو جلا دیا گیا۔

 خلافت عثمانیا کا ان کی مداخلت کے لئے شکریہ کہ وہابی گروپ ہاشیئے پر بنے رہے لیکن جلد ہی  باہمی ازدواجی رشتوں کے سبب ان لوگوں نے  طاقتور قبیلہ  السعود خاندان کے ساتھ اتحاد بنا لیا۔ خلافت عثمانیہ کے زوال کے ساتھ ہی السعود نے  نجد اور حجاز  پر قبضہ کر لیا جہاں مکہ اور مدینہ واقع ہیں اور جو  آج کے سعودی عرب کی تشکیل کرتا ہے۔ اس طرح  وہابیت کو  سعودی عرب میں سرکاری منظوری مل گئی ۔

وقت گزرنے کے ساتھ اور خاص طور پر گزشتہ صدی کے بعد سے، بری شہرت پانے کی وجہ سے، وہابیوں نے  اپنی تنظیموں کو مختلف نام دئے تاکہ  اپنے  مذموم ایجنڈا کو آگے بڑھا سکیں۔  ان نئے وہابیوں نے  سلفی، محدثون، اہل حدیث وغیرہ  جیسے نام کو اپنایا تاکہ  قانونی جواز  حاصل کر سکیں اور  دنیا بھر میں اپنی  تنظیمیں قائم کر سکیں۔ انہیں سعودی حکومت کی سرپرستی حاصل ہے۔

ان نظریات کے ماننے والے لکیر کے فقیر کہے جاتے ہیں کیونکہ وہ اسلام  کی لفظی  اور بغیر کسی سیاق و ثباق کے تشریح کرتے ہیں جو کہ اسلام اور شریعت کی سیاق و ثباق والی روایتی تشریح کے متضاد ہے۔  امام ابو حنیفہ کے زمانے سے ہی   روایتی اسلام، اس  بات پر زور دیتا ہے کہ  قرآن اور اسلام کی تشریح تسلیم شدہ فقہا یا ماہرین قانون اور علماء کے اجماع کے ذریعہ ہی کیا جا سکتا ہے۔ لیکن جماعت اسلامی  کے  ابو الا علی  مودودی اور اخوان المسلمون کے سید قطب کے جیسے لکیر کے فقیر رہنما ا ن تحریکوں کے مذہبی علماء بن گئے۔

جبکہ القاعدہ اور طالبان  اپنے اعلانات  اور عمل میں صاف طور پر بنیاد پرست ہیں، لیکن لکیر کے فقیر   انداز کی تشریح کرنے والے  اس طرح واضح طور پر  خود کو پیش نہیں کرتے ہیں لیکن  یہ بنیادی طور پر وہی   ہوتے ہیں۔   جب ماحو سازگار ہوتا ہے تو یہ نام نہادا عتدال پسند   پھر کھل کر سامنے آتے ہیں اور  پھر ان کو کوئی رکاوٹ روک نہیں پاتی ہے۔   70  کی دہائی میں بنگلہ دیش اور  80 کی دہائی میں شام اور مصر  کی حالیہ تاریخ اس بات کو  ثابت کرتی ہے۔

 اب کس طرح  دہشت گردی کی گرفت میں  مبتلااسلامی دنیا میں تصوف  اعتدال پسند انتہا پسندی کی مدد کر سکتا ہے؟ اگر ہم اسلامی دنیا کے سیاسی منظر نامے پر باریکی سے غور کریں  تو  ہم ایک جاری رہنے والے  پیٹرن کو پاتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ  ساری دنیا میں تشدد اور دہشت گردی کی کاروائیوں میں صوفی حضرات:نمایاں طور پر  شامل نہیں ہیں۔ یہ تصوف کی حوصلہ افزائی کے لئے اور صوفی اداروں کی سرپرستی کے لئے  کافی جواز ہے۔

بنیاد پرستوں کے بر عکس صوفی حضرات  اسلام کے روحانی پہلو پر زور دیتے ہیں۔  اسلام میں یقین اور شریعت پر عمل کرتے ہوئے  وہ اپنے اہم پر قابو کرتے ہوئے دلوں کو پاک صاف کرنے پر کام کرتے ہیں۔ ایک استاد  کی باتوں پر عمل کرتے ہوئے اور بہت سے روحانی اعمال  جیسے ذکر  صوفی حضرات کی  شنا خت ہے۔  پوری اسلامی تاریخ میں صوفی حضرات نے   لاکھوں بادشاہوں اور  مفلسوں کو  دائرہ اسلام میں لے آئے جیسا کہ بنگلہ دیش میں  اسلام کے روادار اور جامع پیغام کو پہنچانے میں کیا۔ صوفیوں کے   نقشبندی سلسلہ نے اسلام  اور شریعت کے مطابق اسلامی نقطہ نظر  کو سامنے لانے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ جیسا کہ انہوں نے  مغلوں کے زمانے میں ہندوستان میں کیا تھا۔

بنگلہ دیش میں  تصوف  پر عمل کے سبب  اس ملک میں  مذہبی رواداری کی  طویل تاریخ رہی  ہے۔ اب  اس   روایت میں رکاوٹ پیدا ہوگی اگر بنیاد پرستوں کو  پنپنے کی اجازت دی  جائے گی۔  ہم دیکھتے ہیں کہ کس طرح پاکستان  میں ان  گروپوں کو  سیا ست  کا انتخاب کرنے کی اجازت دینے کے نتیجے میں  صورتحال دھماکہ خیز ہو گئی ہے۔  یہ ایک انتباہ کے لئے کافی ہے۔  اظہار رائے کی آزادی ایک بات ہے، لیکن ممکنہ انتہا پسند نظریے کی  بنیادوں کو مضبوط ہونے کی اجازت دینا دوسری بات ہے۔  مذہبی انتہا پسندی کا بنگلہ دیش کےتصوف کی طویل روایت میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ایک بار صوفی مخالف  نظریات  بنگلہ دیش کے معاشرے میں جڑیں پکڑ لیں تو  جو لہر چل رہی ہے وہ   اسلام کے پرسکون اور  معتدل ورژن پر قابو حاصل کر لے گا اور  یہ زمین  دہشت گردی کی آماجگاہ بن جائے گی ۔  اس انتباہ پر  فوری طور پر توجہ دیا جانا چاہئے اور اس کے ابتدائی  حالات میں ہی  اسے ختم کرنے کے  اقدامات کیا  جانا چاہئے۔

محبوب خان بنگلہ دیش  سے تعلق رکھتے ہیں  اور  اب امریکہ میں رہتے ہیں۔ یہ ایک  انجنیئر اور ماہر ریاضی ہیں اور اسلام پر  تحقیق کرتے رہے ہیں۔

ماخز:  http://www.thefinancialexpress-bd.com/more.php?news_id=134247&date=2012-06-25

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islamic-ideology/sufism-an-antidote-to-islamic-extremism/d/7765

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/tasawwuf--a-cure-for-terrorism--تصوف،-اسلامی-انتہا-پسندی-کے-زہر-کو-مارنے-والی-دوا/d/7848

 

Loading..

Loading..