New Age Islam
Wed Mar 04 2026, 10:34 AM

Urdu Section ( 2 Jan 2013, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Marriage With a Woman of the Books in Context of Inter-Religious Marriages بین مذاہب شادی کے تناظر میں اہل کتاب عورت سے نکاح

 

مولانا عبدا لحمید نعمانی

31 دسمبر، 2012

موجودہ عہد میں انسانی تعلقات کامعاملہ بہت نمایاں ہوکر سامنے آرہا ہے، بین مذاہب اور ذات سے باہر شادی  کے مسئلے کو بھی انسانی تعلقات سےجوڑ کر دیکھا جارہا ہے ، شادی کا ایک بڑا گہرا اور اہم پہلو معاشرتی بھی ہے، جہاں ہندوستان جیسے ممالک میں عموماً مسلم وغیر مسلم لڑکے ،لڑکیوں کے باہمی  ازدواجی رشتے کی بات سامنے آرہی ہے، وہیں امریکہ، برطانیہ ، فرانس جیسے مغربی ، یورپی ممالک میں مسلم اور اہل کتاب یہودی ، عیسائی لڑکے لڑکیوں کی شادی ایک مسئلہ اور اس کے  حل کی شکل میں آرہا ہے ، یہ صورت حال زندگی کا مذہبی تصوررکھنے والےطبقے کے لیے قابل توجہ اور پریشان کن ہے، جب کہ آزاد خیال افراد طبقات کے لئے کوئی خاص تو جہ نہیں ہے ۔ جہاں تک مسلم ملت کا مسئلہ ہے تو اس بارےمیں  یہ طے ہےکہ وہ اپنے مذہبی تعلیم  و تصور سےالگ رہ کر زندگی کا سفر جاری نہیں رکھ سکتی ہے ۔مذہبی نظریہ و عملی کردار اور اس کے لیے شناخت کے ساتھ اپنے مخصوص تصور حیات کے تحفظ بھی ، انتہائی اہم ہے۔

 اسلام صرف طرز حیات اور نظام زندگی  ہی نہیں بلکہ ابدی عقیدہ بھی ہے کہ اس کے مطابق ختم ہونے والی ابدی  زندگی کے انجام کا انتہائی حد تک سنجیدہ مسئلہ بھی ہے ، بین مذاہب شادی  کے تناظر میں اہل کتاب یہودی، عیسائی خاتون سے شادی کے معاملے کو بھی مسلم سماج اپنے مخصوص تصور حیات سے الگ کر کے نہیں دیکھ سکتا ہے ، وہ مذہبی حوالے سے اپنے دین و شریعت سے ملی اجازت اور جواز سے بوقت ضرورت فائدہ تو اُٹھا سکتاہے ، لیکن نظریے اور بنیادی تصور اور اصول حیات کو خطرے میں نہیں ڈال سکتا ہے، اگر اس پر زور پڑنے کا ظن غالب ہو یا تصور حیات کے تحفظ کے مد نظر ماحول سازگار ہو تو گنجائش اور مخصوص حالات میں حاصل جواز سے فائدہ نہ اُٹھا نا ہی عاقبت اندیشی  اور دانش و بصیرت کا تقاضا ہوتا ہے، خاص طور سےجب کہ متبادل موجود ہو ۔ اہل کتاب (یہودی  ، عیسائی) خواتین سے شادی اسی ذیل میں آتی ہے ، تاہم اس سے اصولی طور سے شرعی جواز کو ختم نہیں کیا جاسکتا ہے۔

گزشتہ دونوں راقم سطور نے بین مذاہب  شادی کے تناظر میں اہل کتاب کی پاک دامن خاتون سے شادی کے جواز کا ذکر کیا تھا ، گزشتہ دنوں شائع ہونے والی کچھ تحریروں اور مراسلات میں اسے حرام قرار دینے کی بات سے یہ سوال سامنے آیا ہے کہ جو از اور حرام کی بحث میں معاملہ کیا ہے۔ قرآن حکیم کی سورہ مائدہ کی آیت نمبر 5، اور پورے رکوع کے مطالعہ سے حلف و حرمت کا جو حوالہ سامنے آتا ہے ، اس میں اہل کتاب کی محصنہ( پاک یا آزاد) خاتون نکاح کو حلت کے ذیل میں رکھا ہے ، لیکن آیت کے آغاز کا لفظ آج (الیوم) اور اختتامی جملہ ‘‘ او ر جو شخص ایمان کے ساتھ کفر کرے گا تو اس کا عمل غارت ہوجائے گا، اور آخرت میں بالکل زیاکار ہوگا’’سے اس طرف بھی متوجہ کردیا ہے کہ ایمان و عمل کا تحفظ ضروری ہے ، اگر اہل کتاب کی پاک دامن عورت سے نکاح کی صورت میں حرام کوحلال اور حلال کو حرام قرار دینے کی صورت پیدا ہوجائےتو اس سے بچنا  ہی چاہئے ، اس کا یہ بھی مفہوم  نکلتاہے کہ اہل کتاب خاتون سے نکاح جائز اور حلال ہے،اسے بغیر کسی بنیادی وجہ کے حرام قرار دینا بھی ایک خطرنا ک معاملہ ہے کہ ایک جواز اور اسلام کے دائرے میں آنے کی راہ بند ہوجائے گی ، اسی طرف حکیم الامت مولانا  اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ  نے مذکورہ قرآنی جملے کی تفسیر کرتے ہوئے اشارہ کیا ہے کہ حلال قطعی کی حلت کا اور حرام قطعی کی حرمت کا انکارنہ کیا جائے، حلال اور حرام کو حرام سمجھا جائے ۔(دیکھیں  ترجمہ و تفسیر حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ  تاج کمپنی لاہور، ص 131)

رہا اہل کتاب کے سلسلے میں عقیدہ و عمل کے بگاڑ کا معاملہ تو وہ نزول قرآن اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں بھی تھا، اس کے باوجود قرآن حکیم نے یہود نصاریٰ کی عورت کے نکاح کو جائز اور حلال قرار دیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس میں کوئی نہ کوئی حکمت و مصلحت ہے، اور اسے خدا و رسول سے زیادہ کون جان سکتا ہے ، عہد رسالت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک یہود و نصاریٰ کے عقائد و اعمال کے مد نظر ایمان کے لیے اپنے عقیدہ وکردار کے تحفظ کو لے کر کچھ خطرات او راندیشے ہیں، مسلم سماج کے سلسلے میں ان کا جو رویہ وسلوک ہے، اس نے اہل کتاب یہود نصاریٰ کی مخالفت اور دوری کی راہ ہموار کی اور اس کا اثر مسلمانوں کا اہل کتاب خاتون سے شادی پر بھی پڑا، عہد صحابہ سے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جیسے حضرات اور بعد میں بھی ایک طبقہ اس سے شادی کا مخالف رہا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ قطعاً نہیں ہے کہ اہل کتاب خاتون سے نکاح اصلا حرام ہے،جیسا کہ کچھ حضرات یہ باور کرانے اور تاثر دینے کی کوشش کرتےہیں۔

دلائل کے اعتبار سے اس مسئلے کا جائزہ لیا جائے تو جمہور صحابہ ، فقہاء، محدثین کا جواز اور حلال والا موقف زیادہ معقول و مضبوط نظر آتا ہے ۔ عظیم حنفی محقق ، فقیہ امام ابوبکر جصاص نے  تو یہ تک کہا ہے کہ ہمارے علم میں یہ بات نہیں ہے کہ حضرات صحابہ و تابعین میں سے کسی نے بھی کتابیات سے نکاح کو حرام قرار دیا ہو، ولا نعلم عن احد من الصحابۃ النا بعین  تحریم نکا حھن ۔( احکام القرآن ، جلد اول ، ص 403 مطبوعہ دیوبند 2006ء) آگے انہوں نے یہ بتاتے ہوئے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور ان کے صاحبزادے عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے اس سلسلے میں جو کچھ مروی  و منقول ہے ، اس کا تعلق صرف اس سے ہے کہ بہتر نہیں  ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سلسلے میں امام محمد اور جصاص دونوں نے نقل کیا ہے کہ حضرت حذیفہ سے اپنی کتا بیہ بیوی  کو طلاق دینے کے لیے تحریر کیا تھا، جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ کتابیہ عورت سے نکاح کو حرام سمجھتےہیں  تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ نہیں، البتہ  اس خدشے سےروک رہا ہوں کہ بدکار عورت مسلم گھروں میں داخل نہ ہوجائے ۔

اس تناظر میں امام ابوبکر جصاص نے دعویٰ کیا ہے کہ کل ملا کر کتابیات سے نکاح کے جواز پر اتفاق ہے  ، اور اس سے کوئی مخالفت و انکار ثابت نہیں ہے ۔( دیکھیں کتاب مذکورہ جلد و صفحہ) خلیفہ ثالث حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور دیگر متعدد صحابہ کا کتابی خاتون سے نکاح صحیح  سندوں سے ثابت ہے۔ اس حوالے سے کتابیات سے نکاح کو حرام قرار دینا ذمہ داری والی بات نہیں ہوگی ۔ دورِ جدید  کے علماء میں سے مولانا مفتی دیوبند ی رحمۃ اللہ علیہ  (معارف القرآن  جلد 3، ص 62۔63) او رمولانا یوسف لدھیانوی  شہید ( آپ کے مسائل اور ان کا حل) جیسے حضرات کتابی عورت سے نکاح کے سلسلے میں تھوڑا سخت نظر آتے ہیں ، لیکن حرام وہ بھی نہیں کہتے ہیں ، البتہ  انہوں نے اس کا ذکر نہیں کیا  ہے کہ جہاں  حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا نام کتابیہ  سے نکاح کو جائز قرار دینے والوں میں آتا ہے وہیں اس روایت کی سند ، انکار والی روایت سے زیادہ صحیح  اور قوی ہے ۔ امام ابن  جریر طبری رحمۃ اللہ علیہ  نے  حضرت عمر رضی اللہ عنہ  کی روایت نقل کی کہ مسلمان نصرانی عورت سے نکاح کرسکتا ہے، لیکن نصرانی مسلمان عورت نکاح سے نہیں کرسکتا ۔ ( المسلم یتزوج النصر انیۃ ولا یتزوج النصرانی المسلمۃ)  (تفسیر طبری ، جلد 4، سورہ مائدہ آیت 5 کی تفسیر کے تحت )

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سلسلے میں کتابیہ سے نکاح کے متعلق جو روایات ہیں، ان کے مطالعے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ وہ اصلاً اس سے نکاح کے خلاف یا حرمت کے حق میں نہیں تھے ، بلکہ انہیں اس کی فکر تھی کہ مسلم سماج میں کتابیہ بدکار عورتوں کے داخلے اور مسلم خواتین کی طرف سے بے توجہی  کو روکا جائے  ، اور یہ معقول اور اسلامی فکر و کردار کے تحفظ اور ایک جائز بات پر عمل میں توازن و اعتدال سے ہی کام کیا جانا چاہئے ، یہ کوئی ضروری نہیں ہے کہ شرعاً حلال و جائز غذا سبھی لوگ استعمال کریں، اگر مزاج و ماحول اور اپنے خصوصی حالات کے مدنظر آدمی اپنے طور پر دیکھے کہ یہ غذا حلال و جائز ہونے کے باوجود ہمارے لیے نقصان دہ ہے، اسے ہمارا معدہ ہضم نہیں کر پائے گا ، اس لیے یہ ضروری ہے کہ اس سے پر ہیز و احتراز کرے۔ اہل کتاب خاتون سے نکاح کی نوعیت بھی کچھ اسی طرح ہے،ایسے افراد جنہیں  ظن غالب ہوکر اسلامی افکار و اعمال ، کتابیہ  سے شادی سے متاثر ہوسکتے ہیں ، یا مؤثر ہونے کے بجائے متاثر ہوجائیں گے ، اس سے پیدا ہونے والی اولاد ایمان اور اسلامی حیثیت  خطرے میں پڑ جائے گی تو ان کے لئے یہ لازمی  درجے میں ہے کہ کتابیہ خواتین سے شادی نہ کریں۔

اسی تناظر میں فقہاء خصوصاً فقہائے احناف نے دارالاسلام اور دارالحرب اور حربی ، ذمی کتابی عورت سے جواز ، عدم  جواز کا سوال اُٹھایا ہے، دیگر فقہاء و علماء بھی اس سلسلے میں کئی امور کو زیر بحث لاتے رہے ہیں ۔ مثلاً ایک فریق  کی تحقیق یہ ہے کہ کسی کتابیہ عورت سے مسلمان کا نکاح درست نہیں، خواہ ذمیہ یا حربیہ ، آزاد ہو یا باندی  ، اس کے نزدیک جواز والی آیت منسوخ ہے، اس فریق میں سے حضرت عطاء جیسے حضرات کا کہنا ہے کہ جواز کا تعلق اس وقت سے ہے جب مسلمان عورتیں کم تھیں، تب کتابیہ عورتیں  حلال کردی گئی تھیں ، جب مسلمان عورتیں  کثرت سے ہوگئیں  تو یہ جواز ختم ہوگیا ۔ جب کہ ایک دوسرا فریق یہ تحقیق  پیش کرتا ہے کہ (اسلامی حکومت ) ذمیہ کتابیہ سے نکاح حلال ہے ، حربیہ سےحرام ہے، تیسرے فریق جس کے پیشوا امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ ہیں،  کا کہنا ہے کہ آزاد کتابی  عورت سے نکاح حلال ہے اور باندی سے حرام ہے۔ یہ فریق ‘ محصنات’ کی تفسیر آزاد سے کرتا ہے ، ان مذکورہ فریقو ں کے برعکس چوتھے فریق کی تحقیق یہ ہے کہ مطلقاً کتابیہ عورتوں سے نکاح حلال ہے ۔ آزاد ہوں ، باندی ہوں یا ذمیہ یا حربیہ، عفیفہ ہوں فلسقہ ، یہ موقف عام علمائے اسلام، جمہوریہ اور احناف کا ہے ، اور دلائل کے اعتبار سے یہ آخری قول ہی قوی ہے ۔ (تفصیلات تفسیر روح المعانی، تفسیر خازن اور تفسیر طبری و مظہری میں دیکھی جاسکتی ہیں)  امام اعظم کا مسلک مضبوط ہے کہ آیت منسوخ نہیں ، مستحکم  ہے ۔

 اس لیے کچھ امور (مثلاً ایمان کی حفاظت ، قوم کی راز داری میں عدم شرکت، دلی میلان سےمتاثر ہونے کے بجائے خیر کے انتقال ) کا لحاظ کرتے ہوئے ان اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح کے جواز کا پہلو ہی رائج ہے ، جو اہل کتاب یہود ونصاریٰ میں سے ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ البتہ جس کتابیہ کا الحاد، دہریت ظاہر و باہر ہو، اس سے احتراز لازم ہے ، اس زمرے میں تو وہ مسلمان نام والے مرد، عورت بھی آتے ہیں ، جو ملحد اور دہر یہ ہیں۔ اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح کے عدم جواز کے سلسلے میں حد سے زیادہ شدت پسندی کو بین المذاہب مکالمہ اور مسلمانوں سے متعلق شدت پسندی  کے پروپیگنڈے کے تناظر میں زیادہ صحیح  موقف  قرار نہیں دیا جاسکتا ہے، جواز کی صریح آیت کے مد نظر تو ضیح و تاویل پر مبنی عدم جواز کو احتیاط تو قرار دیا جاسکتا ہے،دلیل اور اصل مسئلہ نہیں ۔ مسلم اہل علم و افتاء و اجتہاد میں شروع ہی سے بہت سے مسائل میں  جائز ناجائز حتیٰ کہ حلال و حرام کی حد تک اختلافات رہے ہیں، بعد والے اہل علم کے لیے یہ دیکھنا ضروری  ہے کہ مسئلے کے کس پہلو کو اختیار کرنا وقت، حالات اور دینی و دعوتی مصالح کا تقاضا  ہے او رہمارے مہتوع مجتہد امام نے کسے اختیار کیا ہے۔ آج کی تاریخ میں باندی ، دارالحرب کا معاملہ کوئی زیادہ با معنی نہیں رہ گیا ہے، اس لیے باندی، حربیہ ذمیہ کے فرق کی بات بھی بامعنی  نہیں رہ گئی ہے ، اس لیے موجودہ عہد میں بھی پہلے کی طرح معاشرتی و سماجی (آخرت کے اعتبار سےنہیں ) طور سے اہل کتاب خاتون سے نکاح کے جواز کاپہلو ہی رائج  ہے۔ بہت زیادہ اگرمگر اور نکتے نکال کر حرمت اور عدم جواز پر زور دینا صحیح  نہیں ہوگا۔ یہ تو شادی کرنے والے  کی ذمہ داری  ہے کہ دیکھ بھال کر شادی جیسا ذمہ دار انہ قدم اُٹھائے ، یہ مفتی  عالم کا کام نہیں ہے کہ وہ سروے اور انکوائری کرتا پھرے کہ کون یہود ی  ، عیسائی اصل اہل کتاب ہیں اور کون محض نام کے ۔ اولاد کی تربیت کے تعلق سے بھی کتابیہ سے نکاح سوال پیدا کرے گا ، لیکن اس کے جواز کو مطلقاً مسترد نہیں کیا جاسکتا ہے۔

31 دسمبر، 2012  بشکریہ روز نامہ راشٹریہ سہارا ، نئی دہلی

URL: https://newageislam.com/urdu-section/marriage-with-woman-books-context/d/9850

Loading..

Loading..