New Age Islam
Tue Sep 22 2020, 01:34 AM

Urdu Section ( 20 Dec 2018, NewAgeIslam.Com)

Early Muslim History Needs Fresh Appraisal — II نہ تو اللہ نے اور نہ ہی رسول اللہ ﷺ نے کبھی احادیث نقل کرنے کی ہدایت فرمائی

 

 

ایم عامر سرفراز

1 نومبر، 2018

میں چند دہائیوں سے ابتدائی تاریخِ اسلام کا مطالعہ کر رہا ہوں۔ بہت کم ایسی کتابیں اور دلچسپ مضامین میری نظر سے بچی ہوں گی، بشرطیکہ کہیں ان کا حوالہ موجود نہ ہو یا وہ کسی نامعلوم زبان میں ہوں۔ ایسے میں کسی کو یہ لگ سکتا ہے کہ میرے لئے اس موضوع پر اب بہت زیادہ حیرت انگیز پہلو نہیں بچے ہوں گے۔ تاہم، میرا یہ بیان حقیقت سے مبرا نہیں ہوسکتا۔ مثال کے طور پر، میں ایک چھٹی پر تھا جب مجھے سیر و سیاحت کے دوران ایک وقفے میں ایک خوبصورت لائبریری میں جانے کا موقع ملا۔

مذہبی خانوں کی کتب بینی کے دوران میری نظر ایک نامعلوم مصنف، لیسلی ہیزلٹن کیس ایک کتاب پر پڑی۔ یہ کتاب مصنف کے اپنے تعصب کے ساتھ وہی معمولی مواد پر مشتمل تھی، لیکن اس میں کچھ حوالہ جات ایسے بھی تھےجنہیں نظر انداز کرنا مشکل تھا۔

ہیزلٹن لکھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے اپنے چچا حضرت ابو طالب سے ان کی بیٹی فاختہ کا ہاتھ اپنے ساتھ نکاح کے لئے مانگا تھا لیکن شاید ان کی پست اقتصادی حیثیت اور کمزول مستقبل کی وجہ سے ابو طالب نے انکار کر دیا۔

لہذا، جب اس کے بعد رسمی طور پر آپ ﷺ نے حضرت خدیجہ کو اپنے رشتے کی پیشکش تو آپ ﷺ اپنے دوسرے چچا حضرت حمزه سے ان کے والد تک یہ پیغام پہنچانے کی درخواست کی۔ خدیجہ نے خود اپنے ہی والد کو شراب کے نشے میں دھت کر دیا تاکہ وہ اس تجویز سے متفق ہو جائے اور اسے ہوش میں آنے سے پہلے ہی اپنے والد کی طرف سے اس کی منظوری کا اعلان بھی کر دیا۔

ہیزلٹن نے اپنی کتاب میں یہ بھی بیان کیا ہے کہ حالات بہتر ہونے پر کس طرح پیغمبر اسلام ﷺ نے پوری سخاوت کے ساتھ ابو طالب کو ان کے قرض سے زیادہ ادا کیا جنہوں نے حالت یتیمی میں آپ ﷺ کی پرورش کی تھی –آپ ﷺ نے حضرت علی کی پرورش کی اور اپنی ایک بیٹی (حضرت فاطمہ) ان کے نکاح میں دی، اور آپ ﷺ کا رویہ حضرت فاختہ کے ساتھ باقی پوری زندگی سخاوت اور ہمدردی کا رہا ، سوائے اس کے کہ جب انہوں نے آپ ﷺ کو نکاح پیغام دیا تو آپ ﷺ نے منع فرما دیا ۔

یہ کتاب کافی شاندار ہے اور اس میں دیگر دلچسپ 'حقائق' اور بصیرت آموز نکات بھی موجود ہیں۔ اسی لئے اس کے بیسٹ سیلر (سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب) بننے میں کوئی تعجب کی بات نہیں۔ دراصل بات یہ ہے کہ ایسی نئی 'کہانیاں' اور نئے 'حقائق' کہاں سے آتے ہیں؟ کیا وہ صرف مسلمانوں سے نفرت کرنے والی بری ذہنیت کی اختراع ہیں یا مسلم تاریخ میں ان کی کچھ بنیادیں بھی ہیں؟

دوسری کتابوں کی بھی ایک تاریخی داستان ہے (مثال کے طور پر ' The Apology of Al-Kindy' 'Mahomet' اور ‘The Satanic Verses’) جنہوں نے غیر حساس ہونے یا مسلمانوں کے مضبوط عقائد کے خلاف ہونے کی بنیاد پر ان کی دل آزاری کی ہیں۔ ان کتابوں کے مندرجات پر غور کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اس لئے کہ ان کے مواد 'حقائق' ہماری اپنی 'مستند ' کتابوں سے لئے گئے ہیں جنہیں لکھنے والے ایسے ائمہ ہیں جن کی حکمت یا اخلاقیات پر سوال کرنا کسی کو بھی دائرہ اسلام سے نکالنے کے لئے کافی ہے۔ لیکن کیا ایک عظیم مذہب کی سالمیت پر بار بار کئے جانے والے ان تمام حملوں کا واقعی یہی ایک جواب ہے کہ ہم اپنی آنکھیں بند کر لیں اور ان پر لعنت بھیجیں ، اور باقی دنیا بھی یہی کرتی رہے؟

قرآن اللہ نے نازل کیا اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی سلامتی کا خیال رکھتے ہوئے قرآن کی حفاظت کا حکم دیا۔ محمد ﷺ نے قرآن کی تلاوت فرمائی اور ایک ہی وقت میں اپنے متعدد صحابہ کے ساتھ اسے لکھ کر اور زبانی یاد کر کے محفوظ کیا۔ خود آپ ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ اسے دہراتے ، اس پر نظر ثانی کرتے اور ضرورت پیش آتی تو اس کی تصحیح بھی خود ہی فرما دیتے۔ اس دنیا سے کوچ کرنے کے پہلے آپ ﷺ نے قرآن کی تحریراً دستیابی اور سینکڑوں لوگوں کے دلوں میں اس کی حفاظت کو یقینی بنا دیا ۔

نہ تو اللہ نے اور نہ ہی رسول اللہ ﷺ نے احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو نقل کر کے محفوظ کرنے کا حکم دیا اور نہ ہی ان کی حفاظت کی ذمہ داری اپنے اوپر لی۔ دراصل رسول اللہ ﷺ نے تو یہ حکم صادر فرمایا تھا کہ مجھ سے قرآن کے سوا کچھ بھی نہ لکھا جائے اور اگر کسی نے کچھ لک رکھا ہے تو اسے فوری طور پر مٹا دینا چاہئے۔ ہو سکتا ہے کہ آپ ﷺ نے کسی موقع پر کسی شخص کو اس کی اجازت دی ہو لیکن کبھی بھی آپ ﷺ نے کسی کو اس کا حکم نہیں دیا ہے۔ اس بات کے مضبوط شواہد ہیں کہ پیغمبر اسلام ﷺ کی ہدایات کی پیروی میں پہلے دو خلفاء نے لوگوں کے پاس موجود احادیث کے ذخیروں کو تباہ کر دیا تھا۔

ابتدائی مسلم تاریخ کے سب سے اہم مصادر احادیث کے ذخائر ہیں۔ احادیث کا سب سے پہلا مجموعہ جو باضابطہ تحریری شکل میں پیش کیا گیا وہ حمام ابن منبہ (متوفی 131ھ) کا ہے۔

اس مجموعہ میں کل 138 احادیث ہیں اور حمام ابن منبہ نے اس میں یہ لکھا ہے کہ میں نے یہ مجموعہ اپنے استاذ حضرت ابو ہریرہ (متوفی 58ھ) کی نگرانی میں تیار کیا ہے۔ اب آپ ذرا سوچھیں کہ ابن منبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد 46 سال تک مدینہ میں رہنے کے باوجود صرف 138 احادیث ہی جمع کر سکے لیکن امام بخاری نے چھ لاکھ حدیثیں جمع کر لیں (دو ہزار چھ سو تیس اپنی صحیح میں جمع کیں اور باقی کو مسترد کر دیا) اور وہ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے 230 سال بعد۔ اسی طرح امام احمد بن حنبل کو دس لاکھ حدیثیں مل گئیں اور امام یحیی بن معین کو اس بھی زائد حدیثیں مل گئیں۔ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ ابوہریرہ کے طالب علم نے ان کے سامنے بیٹھ صرف 138 حدیثیں ہی نقل کیں ، جبکہ حضرت ابوہریرہ نے مبینہ طور پر ہزاروں حدیثیں روایت کی ہیں جو احادیث کے مختلف مجموعوں میں موجود ہیں۔

500-300 احادیث کا سب سے پہلا معروف مجموعہ امام مالک (متوفی 179 ہجری) کا ہے۔ اس کے بعد یہ رجحان زور پکڑا اور احادیث کے کئی مجموعے سامنے آگئے۔ انہیں میں سے اہل سنت کے احادیث کے چھ مشہور مجموعے ہیں اور اہل تشیع کے الگ چار – اور دونوں فرقے ایک دوسرے کے مجموعوں کو غیر مستند کہہ کر مسترد کرتے ہیں۔

ان ذخیروں کی مشترکہ خصوصیات یہ ہیں: - ان تمام کے جمع کرنے والے فارسی نژاد ہیں ان میں سے کوئی ایک بھی عرب نہیں ہے، ان میں سے کسی نے ایک دوسرے کے بارے میں زیادہ نہیں خیال کیا، انہیں رسول اللہ ﷺ کی وفات کے 200 سال بعد شائع کیا گیا، ان کے مرتب کرنے والوں نے ہزاروں حدیثیں جمع کیں لیکن ان کا ایک چھوٹا حصہ منتخب کر کے شائع کیا ، احادیث کے منتخب اور مسترد کرنے کے عمل میں ذاتی فیصلے پر انحصار کیا ، اور انہوں نے کسی بھی تحریری ثبوت کے بغیر صرف زبانی بیان کی بنیاد پر حدیثوں کو جمع کیا۔

دوستوں سے ملاقات کے کئی سالوں بعد آپ اس دلچسپ ملاقات کو یاد کرنے کی کوشش کریں۔ ہم یا تو اسے بھول چکے ہوں گے یا ہمیں اس کی کوئی مختلف شکل یاد ہوگی۔ اب ذرا تصور کریں کہ جو بات دو سو سالوں سے تین نسلوں تک منتقل کی گئی ہوگی اس میں سے بچا ہی کیا ہوگا ۔

ہم اس پر بحث کرسکتے ہیں کہ آیا حدیث تاریخ (یا فقہ) مدون کرنے کے لئے ایک مستند مصدر و ماخذ بن سکتی ہے یا نہیں۔ لیکن یہ وہی کام ہو گا جو مسلمان اتنے سالوں سے کرتے آ رہے ہیں، اور پھر وہ غیر مسلم (اور مسلم) مؤرخین اور مصنفین پر ان کے معتقدات کی توہین کرنے یا اسلام کے خلاف ایجنڈا رکھنے کا الزام لگا دیتے ہیں۔ ابھی دنیا میں جس طرح سے چیزیں ہو رہی ہیں ، صورتحال مزید بدتر ہونے والی ہے۔

ماخذ:

dailytimes.com.pk/316918/early-muslim-history-needs-fresh-appraisal-ii/

URL for English article: http://www.newageislam.com/islamic-history/m-aamer-sarfraz/neither-allah-nor-prophet-muhammad-(saw)-instructed-that-ahadith-may-be-recorded--early-muslim-history-needs-fresh-appraisal-—-ii/d/116872

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/m-aamer-sarfraz,-tr-new-age-islam/early-muslim-history-needs-fresh-appraisal-—-ii--نہ-تو-اللہ-نے-اور-نہ-ہی-رسول-اللہ--نے-کبھی-احادیث-نقل-کرنے-کی-ہدایت-فرمائی/d/117215

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


 

Loading..

Loading..