New Age Islam
Sat Sep 19 2020, 11:43 AM

Urdu Section ( 3 Aug 2015, NewAgeIslam.Com)

Just War in the Quran قرآن مجید کے تناظر میں منصفانہ جنگ کا تصور

 

   

لوئے فتوحی

1 اگست، 2015

میں نے حال ہی میں کیلی چیپل کی جانب سے منعقد کیے گئے یونیورسٹی کے لئے انڈر گریجویٹ کورس کے ایک حصہ کے طور پر اسلامی اخلاقیات کے عنوان پر کیلی یونیورسٹی میں مذہبی اخلاقیات پر ایک سیمینار میں شرکت کی۔ اس سیمینار میں انصاف، ذمہ داری، انسانی حقوق اور دیگر مختلف موضوعات سمیت ایک وسیع عناوین کا جائزہ لیا گیا تھا۔ سیمینار کے بعد ایک مباحثے کے دوران یونیورسٹی کے اس کورس کو منظم کرنے اور چلانے والے پادریوں میں سے ایک پادری نے اتنی شاندار گفتگو کی کہ اسلام میں جنگ کے اخلاقیات پر میری گفتگو اور منصفانہ جنگ کے عیسائی تصورات کے درمیان ایک واضح مماثلت ثابت ہوگئی، جس پر اس کورس کے ایک پچھلے سیمینار میں تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔ انہوں نے اپنی اس گفتگو پر مجھے کچھ تبصرہ کرنے کے لیے کہا۔ یہ اس سوال پر ایک مزید مفصل تبصرہ ہے۔

 اناجیل میں یسوع مسیح کی سوانح عمری پر انحصار کرتے ہوئے اور پرانے عہد نامے کے قانون کو نظر انداز کرتے ہوئے عیسائیت کو روایتی طور پر ایک مکمل پر امن مذہب کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو کہ طاقت کے استعمال اور تمام اقسام کے تشدد کے خلاف ہے۔ عیسائیت کی اس تصویر کی حمایت میں حوالے کے طور پر پیش کی جانے والی معیاری مثال حضرت عیسی علیہ السلام کے یہ الفاظ ہیں: "لیکن میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ برے لوگوں کی مزاحمت مت کر، بلکہ اگر کوئی تمہاری دائیں گال پر تھپڑ مارے تو اس کے لیے اپنی بائیں گال بھی پیش کر دو (Matt 5:39)۔ لیکن یہ امن پسند تصویر خواہ کتنا ہی پر کشش کیوں نہ ہو، لیکن اس حقیقی دنیا میں اس کو زیر عمل نہیں لایا جا سکتا۔ کسی بھی دوسرے مذہب کے پیروکاروں کی طرح عیسائیوں نے بھی مختلف وجوہات کی بناء پر طاقت و قوت کے استعمال اور جنگ کا سہارا لیا ہے۔ عیسائیت کی ایک غیر حقیقی تصویر کو مکمل طور پر ایک امن پسند تصوویر ماننے کی کوشش، تشدد سے گریز کا ناممکن ہونا، جب کہ امن ہی حتمی مقصد ہے، اور اس حقیقت کے ادراک نے کہ دیگر مذاہب کی تاریخ کے مقابلے میں تشدد نے عیسائیت کی تاریخ میں بھی کوئی ادنیٰ کردار ادا کیا نہیں کیا ہے، عیسائیت کی مذہبی قیادت کو "منصفانہ جنگ" کا تصور تیار کرنے پرمجبور کیا۔ یہ تصور سب سے پہلے ہپّو کے St. Augustine (354-430عیسوی) نے پیش کیا تھا، اور یہ تسلیم کیا تھا کہ امن کے حصول کے لیے تشدد کا سہارا لینے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ اس کے بعد اس تصور کو Thomas Aquinas (1225-1274عیسوی) نے تیار کیا، اور انہوں نے ایسے حالات کا تعین کیا جن میں جنگ کو منصفانہ قرار دیا جا سکتا ہے۔

تصویر، تصور اور حقیقت کے درمیان وہ تضاد جس کی بنیاد پر عیسائیت کی اخلاقیات میں ایک ضمیمہ کے طور پر منصفانہ جنگ کا تصور پیش کیا گیا، اس کا اسلام میں کوئی وجود نہیں ہے۔ قرآن میں اس بات کی صراحت موجود ہے کہ بعض حالات کے تحت انصاف کے حصول، تشدد اور جارحیت کے خاتمہ اور امن کے قیام سمیت ایسے بہت سے عظیم مقاصد ہیں جن کے حصول کے لیے تشدد کا سہارا لیا جا سکتا ہے۔ قرآن کا مقصد امن کا حصول ہے، لہٰذا، اس کے حصول کے لیے ایک آخری حربے کی صورت میں قرآن طاقت کا سہارا لینے کی اجازت دیتا ہے، اور تشدد کے استعمال کی باقاعدہ اجازت دیتا ہے، لیکن منصفانہ جنگ کا تصور اور اس کا ضابطہ اخلاق قرآن نے پیش کیا ہے اور تمام مسلمانوں کو اس پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ میں یہاں منصفانہ جنگ کے تصور کے کچھ پہلوؤں کا ذکر کر رہا ہوں جو کہ قرآن میں موجود ہیں۔

مکہ میں 10 سال تک ظلم و ستم برداشت کرنے کے بعد جس کی وجہ سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر مسلمانوں کو مدینہ کے شمالی شہر میں ہجرت کرنے پر مجبور ہونا پڑا، اور یہاں تک کہ ان کے ہجرت مدہینہ کے بعد بھی ان کے خلاف جارحیت اور ظلم و ستم کے تسلسل کے بعد خدا نے مسلمانوں کو واپس لڑنے کی اجازت دی:

‘‘ (22:38)۔ ۔ (22:39)’’

مذکورہ آیت میں لفظ "دفاع" کے استعمال سے اس بات کی طرف اشارہ ملتا ہے کہ انہیں جنگ کرنے کی اجازت دفاع کی صورت میں ملی ہے۔ آیت 22:39 میں نئے مذہب اختیار کرنے والوں کو در پیش مصائب و آلام کا حوالہ دیتے ہوئے ظلم و ستم کی نوعیت کی مزید وضاحت کی گئی ہے۔ یہ تفصیلات اگلی آیت میں بھی جاری ہیں:

[جنگ کی اجازت ان لوگوں کو ہے]‘‘’’

مسلمانوں کے اپنے گھروں سے نکالے جانے کا ذکر مسلمانوں کے مجبوراً ہجرت مدینہ کے ایک حوالے کے طور پر ہے۔ اپنے لیے اپنی مرضی کے مطابق مذہب کو منتخب کرنے کے ان کے بنیادی انسانی حق کے دفاع کے لئے جنگ کی اجازت مسلمانوں کو دی گئی تھی۔ پھر اس آیت میں آگے ایک اہم نقطہ یہ سمجھایا گیا ہے کہ کبھی کبھی اپنے حق کا دفاع کرنے کے لیے تشدد کا استعمال ناگزیر ہو سکتا ہے:

‘‘’’۔ (22:40)

یہ نقطہ بہت اہم ہے کہ بعض قرآنی آیتوں میں مختلف عبادت گاہوں کا ذکر کر کے اس حقیقت کو اجاگر کیا گیا ہے کہ مختلف مذہبی گروہوں کو اللہ پر ایمان لانے کے اپنے حق کا دفاع کرنے کے لیے تشدد کا استعمال کرنا پڑا۔

ان آیات میں اس بات کی بھی تصریح کر دی گئی ہےکہ مسلمانوں کو صرف ان کے حقوق اور اپنے نظام حیات کا دفاع کرنے کے لیے طاقت و قوت کے استعمال کی اجازت ہے:

‘‘ (60:8)’’۔ ۔ (60:9)’’۔

 مسلمانوں کو دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کے ساتھ امن و امان کے ساتھ رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ طاقت کا استعمال کرنے کی اجازت سختی کے ساتھ انہیں صرف اپنے حقوق کا دفاع کرنے کے لیے دی گئی ہے۔

مندرجہ ذیل آیت میں اس بات کی توضیح کی گئی ہے کہ خدا فتح مند مسلمانوں سے کس طرح کا برتاؤ کرنے کی توقع رکھتا ہے۔ مسلمانوں کو اس مذہب پر عمل پیرا رہنا ضروری ہے جس کی وجہ سے جنگیں ہوئیں، ورنہ ان کے لیے جنگ کی اجازت بے معنیٰ اور مہمل ہو کر رہ جائے گی:

[جنگ کی اجازت ان لوگوں کے لیے ہے]‘‘و۔ (22:41)’’۔

اس آیت میں فتح مند مسلمانوں کو عام طور پر حسن اخلاق کے ساتھ پیش آنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔

اس حقیقت کے علاوہ کہ جنگ کا اعلان صرف اپنے دفاع میں ہی کیا جا سکتا ہے، قرآن کی روشنی میں منصفانہ جنگ کے تصور کا ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ جیسے ہی فریق مخالف امن کا اعلان کر دے ویسے ہی جنگ بندی کا اعلان کیا جانا ضروری ہے؛ جنگ پر امن کو ترجیح دی جائے گی:

‘‘پس اگر وہ تم سے کنارہ کشی کر لیں اور تمہارے ساتھ جنگ نہ کریں اور تمہاری طرف صلح (کا پیغام) بھیجیں تو اللہ نے تمہارے لئے (بھی صلح جوئی کی صورت میں) ان پر (دست درازی کی) کوئی راہ نہیں بنائی’’۔ (4:90)

‘‘اور اگر وہ (کفار) صلح کے لئے جھکیں تو آپ بھی اس کی طرف مائل ہوجائیں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں۔ بیشک وہی خوب سننے والا جاننے والا ہے’’۔ (8:61)

‘‘پھر اگر وہ باز آجائیں تو بیشک اﷲ نہایت بخشنے والا مہربان ہے’’ (2:192)۔ اور ان سے جنگ کرتے رہو حتٰی کہ کوئی فتنہ باقی نہ رہے اور دین (یعنی زندگی اور بندگی کا نظام عملًا) اﷲ ہی کے تابع ہو جائے، پھر اگر وہ باز آجائیں تو سوائے ظالموں کے کسی پر زیادتی روا نہیں’’۔ (2:193)

قرآن کا یہ بھی بیان ہے کہ کسی بھی تشدد کا متناسب ہونا ضروری ہے:

اور اﷲ کی راہ میں ان سے جنگ کرو جو تم سے جنگ کرتے ہیں (ہاں) مگر حد سے نہ بڑھو، بیشک اﷲ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔ (2:190)

اور برائی کا بدلہ اسی برائی کی مِثل ہوتا ہے، پھر جِس نے معاف کر دیا اور (معافی کے ذریعہ) اصلاح کی تو اُس کا اجر اللہ کے ذمّہ ہے۔ بیشک وہ ظالموں کو دوست نہیں رکھتا۔ (42:40)

[اے ایمان والو!] اور اگر تم سزا دینا چاہو تو اتنی ہی سزا دو جس قدر تکلیف تمہیں دی گئی تھی، اور اگر تم صبر کرو تو یقیناً وہ صبر کرنے والوں کے لئے بہتر ہے۔ (16:126)

ان آیتوں میں جنگ ختم ہونے کے بعد مسلمانوں کو مصالحت اور عفو در گزر سےکام لینے کا حکم دیا گیا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ عیسائیوں نے منصفانہ جنگ کا جو تصور وضع کیا ہے اس میں اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ملتی کہ عیسائی جن جنگوں اور پرتشدد واقعات میں ملوث ہوئے ان میں انہوں نے اس تصور کی تعریف اور قیود و شرائط کو پورا کیا۔ یہی حال ان جنگوں اور پرتشدد واقعات کا ہے جن میں مسلمان ملوث ہوئے۔ مگر اصول اور عمل کے درمیان یہ تفاوت ہر اس تصور میں پایا جاتا ہے جنہیں کبھی بھی انسانوں نے استعمال کیا ہو۔

ماخذ:

http://www.louayfatoohi.com/2012/03/islam/just-war-in-the-quran/

Copyright © 2012 Louay Fatoohi

URL for English article:  http://www.newageislam.com/islamic-ideology/louay-fatoohi/just-war-in-the-quran/d/104125

URL for this article: http://www.newageislam.com/urdu-section/louay-fatoohi,-tr-new-age-islam/just-war-in-the-quran---قرآن-مجید-کے-تناظر-میں-منصفانہ-جنگ-کا-تصور/d/104150

 

Loading..

Loading..