New Age Islam
Tue Sep 22 2020, 05:35 PM

Urdu Section ( 21 Jul 2015, NewAgeIslam.Com)

Syrian Refugees Describe ISIL-Run Schools as Recruitment Centres شامی پناہ گزینوں نے داعش کے اسکولوں کو داعش میں بھرتی کے مراکز قرار دیا

 

 

 

 

 

 

 لارین ولیمز

17 جولائی، 2015

ترکی میں شامی اساتذہ کا کہنا ہےکہ رقہ اور دیار الزور کے طالب علموں میں منفی ذہن سازی کی علامات پہلے سے ہی ظاہر ہونا شروع ہو چکی ہیں۔

عبد الباسط الحسینی نے 2013ء میں حکومت مخالف بغاوت کے بعد جنگی حالات اور فنڈنگ ​​کے نقصان کی وجہ سے پیدا ہونے والی مسلسل ہنگامی صورت حال کی وجہ سے شامی صوبے رقہ میں اپنے اور دوسروں کے اسکولوں کی حفاظت کےلیے دو سالوں تک جد و جہد کی۔

لیکن جب داعش کے جنگجوؤں نے رقہ کے شہر پر قبضہ کیا، وہاں ایک نئے نصاب کا نفاذ کیا اور "توبہ نامہ" پر دستخط کرنے کے لئے اساتذہ کو مجبور کیا تو لڑکیوں کے لئے کعب بن ابئی اسکول میں ریاضی کے استاذ کو اس بات کا یقین ہو گیا کہ وہ اب اپنی جنگ ہار چکے ہیں۔

حسین رقہ فرار ہو گئے، جہاں وہ اب جنوبی ترکی کے شہر شانلیعرفا میں شامیوں کے لیے ایک اسکول میں تعلیم دیتے ہیں، جہاں رقہ اور دیار الزور کے شمالی اور مشرقی صوبوں سے جو مارچ سے داعش کے قبضے میں تھا، دسیوں ہزار لوگ پہلے سے ہی پناہ گزیں ہیں۔ حسین کا کہنا ہے کہ ان علاقوں سے ترکی میں ان کے اسکول میں آنے والے نئے طلباء میں انتہائی منفی ذہن سازی کی علامات پہلے ہی واضح ہیں۔

حسین نے کہا کہ : "ان بچوں کو دوبارہ معمول پر لانے کے لیے کسی جادو کی ضرورت پیش آئے گی"۔ اور انہوں نے داعش کے رہنما ابوبکر البغدادی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "آنے والے سالوں میں ان میں سے ہر ایک طالب علم اپنے آپ میں ایک نیا بغدادی ہو گا"۔

حسین نے کہا کہ رقہ میں داعش کے ایک اسکول سے تعلیم حاصل کر کے آنے والے چھٹی جماعت کے طالب علم نے حال ہی میں اپنے ترکی امتحانات کے کاغذ پریہ لکھا کہ : " چھٹی جماعت کے تمام طالب علم کفار ہیں"۔

حسین نے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "صرف دو سال میں اس کا یہ حال ہے، ذرا غور کریں کہ دس سالوں میں اس کا کیا حال ہوگا"۔

اس جماعت نے 29 جون 2014 کو رقہ کو داعش کی "خلافت" کا دارالحکومت قرار دینے کے بعد ایک نیا تعلیمی نظام لاگو کیا ہے جس کا مقصد اسلام کی اپنی انتہا پسند تعلیمات و تشریحات کو ان بچوں کے ذہن میں اتارنا ہے۔

اگست 2014 کے موسم گرما کے سمسٹر میں داعش نے رقہ اور دیار الزور میں تمام اسکولوں کو بند کر وا دیا تھا۔ اس کے بعد اساتذہ اور یہاں تک کہ ریٹائر ہو جانے والے افراد کو بھی ایک اجلاس میں شرکت کے لئے مجبور کیا گیا جس میں انہوں نے ایک کافرانہ نصاب کی تعلیم دینے پر ان کی توبہ کا اعلان کیا۔ اس کے بعد اسکولوں کو ایک نئے نصاب اور اسلامی ریاست کے تدریسی مواد کے ساتھ دوبارہ کھول دیا گیا۔

دیار الزور کے ایک سابق استاد ریم شیخ نے کہا کہ "تمام اساتذہ کو ایک توبہ نامہ پر دستخط کرنے کے لیے مجبور کیا گیا اور پھر ایک مذہبی تعلیم کے کورس میں شرکت کے لئے ان تمام کو مجبور کیا گیا"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "جواس میں شرکت کرنے میں ناکام رہے انہیں گستاخ تصور کر کے درس و تدریس سے منع کر دیا گیا"۔

نئے اساتذہ میں بہت سے لوگوں کو تیونس، لیبیا، افغانستان اور پاکستان سمیت دیگر ممالک کے گروپ میں شامل ہونے والے غیر ملکی جنگجوؤں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

شیخ نے کہا کہ:"اسکولوں کو شرعی اداروں میں تبدیل کر دیا گیا ہے"۔

حسین اور شیخ نے کہا کہ اس جماعت نے نصاب سے موسیقی، آرٹ اور سائنس کو نکال دیا ہے اور خاص طور پر ان تمام علوم کو نکال دیا ہے جن کا تعلق حیاتیات اور ارتقاء سے ہے، مثلاً، تاریخ، فلسفہ اور کھیل اور ان کی جگہ صرف اسلامیات، ریاضیات اور عربی کو رکھا ہے۔ طلباء و طالبات اور اساتذہ کو الگ کر دیا گیا ہے، اور چھ سال کی عمر سے بڑی لڑکیوں کے لیے حجاب کو لازم قرار دیا گیا ہے۔ داعش کی تمام خواتین بٹالین اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اسکولوں کا گشت کرتی ہیں کہ لڑکیاں سخت ڈریس کوڈ پر عمل پیرا ہیں کہ نہیں۔ ریاست کے تمام حوالہ جات کو ملک شام سے اسلامی ریاست میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

نومبر 2014 میں داعش نے قزاقستان سے نئے بھرتی ہونے والوں کا ایک پروپیگنڈہ ویڈیو جاری کیا جنہوں نے ‘‘صلیبی جارحیت کا جواب دیا تھا اور خود کو اور اپنے بچوں کو تیار کیا تھا’’۔ اس ویڈیو میں ایک استاد کو فوجی وردی میں ملبوس نوعمر لڑکوں کی ایک درسگاہ کی نگرانی کرتا ہوا دکھایا گیا تھا۔ جس میں وہ یہ کہہ رہا ہے کہ ‘‘ان طالب علموں نے قرآن کی مناسب تلاوت اور عربی زبان میں اپنا سبق مکمل کر لیا ہے’’۔ "اور اب وہ جسمانی اور فوجی تربیت کی طرف بڑھیں گے"۔ اس ویڈیو میں تقریبا 6 سال سے 11 سال کے لڑکوں کو رائفل بازی کی تربیت حاصل کرتے ہوئے بھی دکھایا گیا تھا۔

بہت سے والدین کے پاس اس کا کوئی متبادل نہیں تھا اور انہیں اس بات کا خوف بھی تھا کہ اسکولوں کو داعش میں بھرتی کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، لہٰذا، انہوں نے اپنے بچوں کو اسکول سے نکالنے کا فیصلہ کر لیا۔ اور چونکہ داعش نے اب تک اسکول کو لازمی نہیں کیا ہے اسی لیے ان کا کہنا ہے کہ مساجد میں جبراً حاضری کا قانون بھی نوجوانوں کو فوج میں بھرتی کرنے کے لئے ایک زرخیز زمین ثابت ہو رہی ہے۔

داعش سلیپر سیل (sleeper cells) کے خوف کی وجہ سے اپنا آخری نام بتانے سے انکار کرتے ہوئے وسام نے کہا کہ وہ اپنے 12 سال کے نو عمر بھتیجے احمد کی حفاظت کر رہا ہے جس کے والدین کو شامی حکومتی فورسز نے دیار الزور میں قتل کر دیا ہے۔ ان دونوں کے رقہ فرار ہونے سے پہلے وسام نے اپنے بھتیجے احمد کو شہر کے اسکول سے باہر کرنے کے بعد اسے دیہی بیرونی مضافات میں ایک چھوٹے سے اسکول میں منتقل کر دیا تھا۔ لیکن وسام نے وہاں ایک جو مرتبہ جو دیکھا اس کی بنیاد پر اسے اس بات پر یقین ہو چکا تھا کہ احمد کو تعلیم کے بغیر ہی رکھنا بہتر ہے۔

وسام نے کہا کہ "داعش کے آنے کے بعد، نصاب تبدیل کر دیا گیا ہے اور وہ بچوں کو جہاد کی تعلیم دے رہے ہیں، اور ان کی منفی ذہن سازی کر رہے ہیں"۔

"وہ بچوں بغاوت کی تعلیم دے رہے ہیں اور انہیں اپنے والدین پر اسلام کو فوقیت دینے کے لیے ابھار رہے ہیں، اور وہ ان بچوں کو کافروں کی طرح اپنے والدین کی نافرمانی کی ترغیب دے رہے ہیں۔"

وسام نے یہ بھی خلاصہ کیا کہ کچھ بچوں کو ان کے والدین کی اجازت کے بغیر ہی اسکول سے فوجی تربیتی کیمپوں میں لے جایا گیا ہے۔ اور جب ان کے پریشان ماں باپ کی ایک جماعت اپنے بچوں کو بچانے کے لئے اسکول میں گئے تو انہیں بھی داعش حکومت نے گرفتار کر لیا اور ان پر اپنی "عدالتوں" میں مقدمہ چلایا۔

یہ احمد کی زندگی کے بالکل برعکس ہے جسےاسکول چھوڑے ہوئے ایک سال سے زیادہ کا عرصہ بیت گیا ہے۔ اپنے چچا کے ساتھ بیٹھے ہوئے اس کے چہرے پر مایوسی تھی، اس نے اپنی گزشتہ اسکول کی زندگی کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ : "میں کھیل، ہوم ورک اور صبح جلدی اٹھنا پسند کرتا تھا۔"

اس نے کہا کہ:"مجھے یاد ہے کہ میرے دوست تھے، لیکن اب میں ان سے رابطہ نہیں کر سکتا"۔

اس کی 15 سالہ بہن نے بھی یہ افواہ سن کر اسکول جانا چھوڑ دیا تھا کہ داعش کے جنگجو طالبات کو شادی کرنے پو مجبور کر رہے ہیں۔

وسام نے کہا کہ:"انہیں ایک دلہن کا انتخاب کرنے کے لیے اسکولوں تک رسائی دی گئی تھی۔ اب اکثر لڑکیاں گھر میں ہی رہتی ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ:"اس نسل کا نہ کوئی کلچرہے، نہ کوئی تعلیم ہے اور نہ ہی ان کا کوئی مستقبل ہے"۔

شام میں جنگی جرائم سے متعلق اقوام متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ میں اس بات سے خبردار کیا گیا ہےکہ داعش کے ذریعہ بچوں کی منفی ذہن سازی سے جنگجوؤں کا ایک ایساڈھانچہ تیار ہو رہا ہے "جو تشدد اور جنگ و جدال کو ہی نظام زندگی بنا لے گا۔"

اگرچہ احمد کا مستقبل غیر یقینی ہے، لیکن وہ ایک سرجن بننے کا خواب دیکھ رہا ہے۔

ماخذ:

http://america.aljazeera.com/articles/2015/7/17/syrian-refugees-describe-isil-run-schools-as-shariah-institutes.html

URL for English article:  http://www.newageislam.com/radical-islamism-and-jihad/lauren-williams/syrian-refugees-describe-isil-run-schools-as-recruitment-centres/d/103933

URL for this article: http://newageislam.com/urdu-section/lauren-williams,-tr-new-age-islam/syrian-refugees-describe-isil-run-schools-as-recruitment-centres--شامی-پناہ-گزینوں-نے-داعش-کے-اسکولوں-کو-داعش-میں-بھرتی-کے-مراکز-قرار-دیا/d/103978

 

Loading..

Loading..