New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 06:58 AM

Urdu Section ( 9 Jan 2015, NewAgeIslam.Com)

Wrong Meaning of Jihad جہاد کا غلط مطلب

 

 

لئیق احمد عاطف

2 جنوری، 2015

دنیا بھر میں عالمی امن اور تنازعات کے بارے میں بہت کچھ کہا اور لکھا جا چکا ہے۔ اس حالت زار نے خوف اور تشویش کو جنم دیا ہے۔ انتہاپسندی کے بڑھتے ہوئے خطرات اور دہشت گردی کے سیاہ بادل نے دنیا کے کئی حصوں کو اپنی چپیٹ میں لے لیا ہے۔

بدقسمتی سے بہت سے لوگ اسلام کو اس کا مورد الزام ٹھہراتے ہیں اور یہ  دعوی کرتےہیں کہ یہ دین انتہاپسندی کو فروغ دیتا ہے اس لیے کہ  اکثر ایسی سرگرمیاں وہ لوگ انجام دیتے ہیں جو خود کو مسلمان کہتے ہیں۔

اسی لیے میں خاص طور پر مسلم اکثریتی ممالک میں پیش آنے والی عسکریت پسندی کے پیچھے کار فرما چند حقائق و محرکات پر کچھ روشنی ڈالنا چاہوں گا۔

در حقیقت بدنیتی پر مبنی اس طرح کے واقعات و حادثات کے ذمہ وہ نام نہاد اسلامی علماء اور انتہا پسند تنظیمیں ہیں جو جہاد کے تعلق سے بہت بڑی غلط فہمی کا شکار ہیں۔ وہ "تلوار سے" انسانوں کے ظلماً قتل کو ایک مذہبی فریضہ سمجھتے ہیں۔

ان علماء کرام نے جان بوجھ کر قرآن مجید کی بعض آیات کی غلط تشریح و تعبیر کی ہے اور انہوں نے حقیقی اسلامی جہاد کا موازنہ اپنے  ذاتی اغراض و مقاصد کے لیے بغاوت کرنے والے باغیوں سے کیا ہے۔

وہ اپنے پیروکاروں کو کافروں سے اس وقت تک لڑنے کی تعلیم دیتے ہیں کہ یا تو وہ اسلام قبول کر لیں یا ہلاک ہو جائیں۔ ان کا یہ  بھی ماننا ہے کہ ارتداد کی سزا موت ہے۔

گزشتہ صدی میں اس دنیا میں اصلاحات کو فروغ دینے ، فلاحی ریاستوں کی تعمیرکرنے  اور منصفانہ معاشروں کے قیام کے مقصد سے کچھ تنظیمیں قائم کی گئی تھیں۔ لیکن وہ "بھیڑ کے لباس میں بھیڑیے" ثابت ہوئیں اس لیے کہ انہوں نے دوسروں پر اپنے  انتہا پسند نظریات کو مسلط کرنے کے لیے مذہب کا استعمال کیا۔

گزشتہ ایک سال سے  ایک خاص گروہ اس قدر سفاکی کے ساتھ دہشت گردی کے اپنے نیٹ ورک کو فروغ دے رہا ہے جو پوری دنیا کے لیے بڑی تشویش کا باعث ہے۔ یہ عام طور پر آئی ایس آئی ایس کے طور پر جانا جاتا۔

اس دہشت گرد جماعت کی سرگرمیاں نہ صرف مسلم ممالک پر اثر انداز ہیں بلکہ یورپ اور دور دراز کے ممالک بھی اس کے مظالم سے متاثر ہیں۔ اس قسم کی تنظیمیں دنیا کے مختلف حصوں میں بھی پائی جاتی ہیں۔

کچھ دن پہلے، پاکستان میں ایک سیاسی و مذہبی تنظیم جماعت اسلامی کے سابق صدر سید منور حسن نے  جمہوریت کے ذریعے ان مسائل کے حل کے امکان کو مسترد کیا ہے اور موجودہ چیلنجوں پر قابو پانے کے لیے  'جہاد' کے کلچر کو فروغ دینے کی بات کہی ہے۔

انہوں نے دنیا سے ظلم و نا انصافی کے خاتمے کے لئے جہاد فی سبیل اللہ (خدا کے نام پر مسلح قتال) چھیڑنے کی تجویز پیش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا پیغام تمام امت مسلمہ کے لیے ہے۔

کچھ رہنماؤں اور اسلام کے نام نہاد علماء نے امت مسلمہ کی معصومیت اور لاعلمی سے فائدہ اٹھایا ہے۔ انہوں نے مومنوں کو گمراہ کیا ہے کہ جابرانہ ظالمانہ اور مکمل طور پر غیر اخلاقی سرگرمیوں میں  ہی جنت کی نجی پوشیدہ ہے۔

ضمیر کی آزادی اسلام کا ایک بنیادی اصول ہے

کسی کو بھی اسلام یا کوئی دوسرا  مذہب قبول کرنے کے لئے مجبور کرنا کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے۔ تمام انسانوں کو اس بات کی آزادی ہے کہ وہ ایمان لائیں یا نہ لائیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف پیغام اسلام کی تبلیغ و اشاعت کرنے کی اجازت دی گئی تھی اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔ لہٰذا کس طرح آج کے یہ نام نہاد مسلم رہنما اس سے آگے بڑھ کر یہ سوچ سکتے ہیں کہ ان کے پاس پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ طاقت اور اختیار ہے؟

ایک صدی پہلے ہی احمدیہ مسلم کمیونٹی کے بانی نے واضح طور پر حقیقی جہاد کے معانی کی وضاحت کر دی تھی اور اس بات سے آگاہ کر دیا تھا کہ کوئی بھی انتہا پسند نظریہ صرف تنازعات اور جنگوں کا ہی باعث بنے گا۔

انہوں نے واضح طور پر اس بات کی وضاحت کر دی تھی کہ اسلام مسلمانوں کو جارحانہ جنگیں چھیڑنے کی اجازت نہیں دیتا ہے لیکن اگر ان پر حملہ کیا گیا تو صرف انہیں اپنا دفاع کرنے کا حق حاصل ہے۔

انہوں نے دوٹوک انداز میں جنگوں اور بے گناہ افراد کے قتل کی مذمت کی ہے

انہوں نے کہا: "کیا یہ شرم کی بات نہیں ہے کہ روز مرہ کے معمولات میں مشغول کسی اجنبی انسان کا ناحق قتل کر دیا جائے جس کی وجہ سے  اس کے بچے یتیم ہو جائیں ، اس کی بیوی بیوہ ہو جائے اور اس کا گھر ایک ماتم کدہ بن جائے؟

"قرآن کریم کی کون سی آیت یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کون سی حدیث اس کام کی اجازت دیتی ہے؟ کیا کوئی مولوی ہے جو اس کا جواب دے سکے؟

"نادان لوگ لفظ جہاد سنتے ہیں اور اسے اپنی ذاتی خواہشات کی تکمیل کا عذر بناتے ہیں۔ یا شاید، یہ ان کا سراسر پاگل پن ہے جو انہیں اس قتل و غارت گری کی طرف مائل کرتا ہے۔"

انہوں نے کہا کہ حقیقی جہاد خود کی اصلاح کرنے، بنی نوع انسان کی خدمت کرنے،  غربت اور مصائب کے خاتمے، مخلوق کو اس کے خالق کے قریب تر لانے،  محبت اور ہمدردی کے ساتھ خدا کے پیغام کی تبلیغ کرنے اور دوسروں کو امن و سلامتی عطا کرنے کے لئے ایک جد و جہد کا نام ہے۔

انہوں نے کہا کہ "خدا کی خاطر سب کے ساتھ محبت اور رحمدلی کے ساتھ پیش آو تاکہ آسمانوں میں تمہارے اوپر رحم و عنایت کی بارش کی جائے۔ میری طرف آو اور میں تمہیں ایک ایسے راستے کی رہنمائی کروں گا جو تمہارے اندر ایسی روشنی پیدا کر دیگا جو تمام روشنیوں پر غالب ہو جائے گی۔ کینہ پروری اور ہر طرح کے بغض و حسد دسے باز آجاؤ؛ لوگوں کے ساتھ شفقت و محبت کا معاملہ کرو اور خدا کے انوار و تجلیات میں خود کو گم کر دو"۔

جب ہم اس طرح کے جہاد میں مصروف ہو جائیں گے تو اس سے تمام انسانوں کو مذہب کی آزادی، انسانی حقوق، انصاف و مساوات یقینی طور پر حاصل ہو گا۔ یہ جہاد ہر طرح کی انتہا پسندی کو ختم کر دیگا اور نفرت اور بغض کی تمام دیواروں گرا دیگا۔ یہ دنیا بھر میں محبت اور پیار کی خوشبو پھیلا دیگا۔

لئیق احمد عاطف، احمدیہ مسلم جماعت مالٹا کے صدر ہیں

ماخذ:

http://www.timesofmalta.com/articles/view/20150102/opinion/Wrong-meaning-of-Jihad.550308

URL for English article: http://www.newageislam.com/islamic-ideology/laiq-ahmed-atif/wrong-meaning-of-jihad/d/100879

URL for this article: http://newageislam.com/urdu-section/laiq-ahmed-atif,-tr-new-age-islam/wrong-meaning-of-jihad--جہاد-کا-غلط-مطلب/d/100938

 

Loading..

Loading..