New Age Islam
Sun Sep 20 2020, 12:55 PM

Urdu Section ( 6 Jan 2013, NewAgeIslam.Com)

Pakistan Helpless Before Taliban طالبان کے آگے پاکستان بے بس

کلدیپ تلوار

7 جنوری ، 2013

پاکستان  فرقہ پرستی  ، نسلی اور سیاسی تشدد کی گرفت میں آچکا ہے ۔ وہاں کوئی دن ایسا نہیں  گزرتا جب طالبان مسجدوں ، امام باڑوں درگاہوں ، گرجا گھروں ، مندروں ، گرودواروں ، لڑکیوں کے اسکولوں ، میڈیا والوں ،اقلیتی طبقات ، پولیس اور سیکوریٹی اہلکاروں کو نشانہ بنا کر خود کش حملے نہ کئے جارہے ہوں۔ بیشتر ایسے حملوں کے لئے پاکستان طالبان ذمہ داری قبول کر تے ہیں لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی  نہیں ہوپاتی ہے ۔ اسی طرح پیشاور کے ایئر پورٹ پر راکٹ کے ذریعے حملے میں دہشت گردوں سمت کئی افراد مارے گئے ہیں اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ دراصل پاکستان میں طالبان اتنے طاقتور ہوچکے ہیں کہ ان کے سامنے  حکومت بے بس ہے اور اس نے طالبان کے آگے تقریباً ہتھیار ڈال دیئے ہیں ۔ گزشتہ مہینے یعنی دسمبر 2012 میں محرم کے موقع پر بھی کراچی ،کوئٹہ ، اسلام آباد ، پیشاور ، راولپنڈی  ، ڈیرہ  اسماعیل خان اور دیگر  شہروں میں محرم کے جلوسوں پر تمام حفاظتی بندو بست کے باوجود ریموٹ کنٹرول سے بم دھماکے کئے گئے او رکئی معصوموں کو جان سے ہاتھ دھونا پڑا اور لگ بھگ 90 افراد زخمی ہوئے ۔

اکثر یتی سنی  طبقات اقلیتی  شیعہ طبقات پر حملے کررہے ہیں گزشتہ سال جنوری  سے دسمبر تک 750 سے زائد لوگوں کی  دہشت گردی کی نام پر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہے ۔ اس میں سبھی  طبقات کے افراد شامل ہیں پورے ملک میں خاص طور پر کراچی اور کوئٹہ میں غیر قانونی  ہتھیار کا ذخیرہ موجود ہے ۔ یہ ہتھیار شہریوں کو نسلی اور مذہبی  بنیاد پر مارنے کے لیے استعمال ہورہے ہیں ۔ تمام احتیاطی تدابیر کے طور پر اکثر و بیشتر حکومت موبائل سروس بند کردیتی ہے اور موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر پابندی بھی لگا دیتی ہے ۔ لیکن تمام  اقدامات کے باوجود خود کش حملوں پر قابو نہیں پایا جارہا ہے ۔ دہشت گردوں کے ذریعے نئے نئے طریقوں سے حملوں کو انجام دیے  جارہے ہیں ۔ پاکستان کا قبائیلی  علاقہ خیر بختوں خواہ او ربلوچستان پوری طرح تحریک طالبان پاکستان کے کنٹرول میں ہے۔ ان علاقوں میں حکومت کی حکمرانی کا کوئی اثر ہی نظر نہیں آتا ۔ سیکوریٹی فورسس کے  حوصلے پست ہوچکے ہیں۔ ادھر تحریک طالبان پاکستان ( ٹی ٹی پی ) نے سرکار کے ساتھ امن مذاکرات کرنے سے انکار کردیا ہے ۔

حکومت پاکستان کو اکھاڑ پھینکنے کا دم بھرتے ہوئے طالبان کے ترجمان نے کہا ہے کہ ان کی لڑائی حکمرانوں کے ساتھ جاری رہے گی ۔ دہشت گردوں کو تشدد چھوڑ کر امن مذاکرات میں شامل ہونے کی اپیل کی تھی ۔ لیکن طالبان جمہوریت کی دھارا کا استقبال نہیں کرتے ہیں وہ پاکستان میں بھی اپنی ویسی ہی  حکومت قائم کرنا چاہتے  ہیں جیسے انہوں نے بھی افغانستان میں قائم کی تھی ۔ بر سر اقتدار جماعت موٹے  طور پر مذہبی شدت پسندی کی مخالف اورجنوبی ایشیاء میں امن کی حامی ہے لیکن انتظامی سطح پر غیر موثر ثابت ہوئی ہے ۔ پاکستان کا عدالتی  نظام بھی دہشت گردوں کی سزا دینے کی اہلیت کھوچکا ہے ۔ گزشتہ 15 برسوں میں شخص دو لوگوں کو دہشت گردی سے وابستہ معاملات میں سزا ہوئی ہے ۔ وزیر داخلہ رحمان ملک کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ججس دہشت گردوں نے خوف کھاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ انہیں سزا کے بغیر چھوڑ دیتے ہیں ۔

 قابل ذکر بات یہ ہے کہ اجمل عامر قصاب کو پھانسی دیئے جانے کا بدلے لینے کے لئے پاکستان میں موجود طالبان نے ہندوستانیوں کونشانے بنانے کی دھمکی دی ہے ۔ادھر پاکستان کی ایک عدالت نے 14 سالہ عیسائی لڑکی رمشہ مسیح کے خلاف درندگی کا کوئی ثبوت نہ ملنے پر اسےبری کردیا ہے ۔ رمشہ مسیح پر اس کے ایک پڑوسی نے قرآن مجید کے اوراق نذر آتش کرنے کا الزام عائد کیا تھا اور اس کی وجہ سے انتہائی پسند اس کی جان لینے کے درپے تھے اور اب بھی وہ اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ رمشہ مسیح کی  جان لے لی جائے ۔ 15 سالہ ملالہ یوسف زئی  جس  نے طالبان کی دہشت گردی کے خلاف آواز اٹھائی اور لڑکیوں کو اسکول جانے کےلئے آمادہ  کیا اس کی جان پر خطرات کے بادل منڈ لاررہے ہیں ۔ ملالہ حملے میں شدید زخمی ہوگئی تھی جس کا ابھی بھی  بر منگھم کے ہسپتال میں علاج چل رہا ہے ۔ بہر حال دہشت گرد ملالہ کے پاکستان لوٹنے کا انتظار کررہے ہیں  حقیقت  میں تحریک طالبان پاکستان تنظیم کا شمالی وزیر ستان میں متحرک حقانی نیٹ ورک اور القاعدہ کا قریبی تعلق  بنا ہوا ہے ۔ جس کی وجہ سے پاک طالبان کے حوصلے بلند ہیں ۔

 امریکہ پاکستان پر برابر دباؤ بنائے ہوئے ہے کہ وہ اس علاقے میں فوجی آپریشن کر کے حقانی نیٹ ورک اور القاعدہ کا صفایا کرے کیونکہ وہ عناصر افغانستان میں گھس کر ناٹو افواج پر حملے کررہے ہیں ۔ لیکن حکومت اس سے بچ رہی ہے جب کہ صدر پاکستان زرداری نے خود اعتراف کیا ہے  کہ دہشت گرد حملوں میں 40,000 پاکستانیوں کی جانیں ضائع ہوچکی ہیں اور 80 ارب ڈالر نقصان ہوا ہے ۔ اس کے باوجود صدر آصف زرداری کا یہ کہنا ہے کہ وہ شمالی وزیر ستان میں فوجی کا رروائی نہیں  کراسکتے کیونکہ طالبان کا تعلق مدرسوں سے ہے او رمدرسوں کو عام انسانوں کا تعاون حاصل ہے ۔ حالات کے پیش نظر پاکستان کے فوجی سربراہ جنرل اشفاق کیانی اس علاقے میں فوجی آپریشن  کے حق میں نہیں ہیں ۔ اس نراجیت اور نامساعد حالات  کے باوجود پاکستان آئندہ  سال عام انتخابات ہونے والے ہیں اور ان انتخابات کی تیاریاں  بھی شروع ہوچکی ہیں ۔ برسر اقتدار پاکستان پیپلس پارٹی  کی مخلوط حکومت 16 مارچ 2013 کو اپنے پانچ سال کی مدت مکمل کرلے گی ۔ پاکستان میں یہ پہلی جمہوری حکومت ہوگی جو اپنی میعاد مکمل کرنے  جارہی ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان میں طالبان کیا گل کھلاتے ہیں ۔

7 جنوری ، 2013  بشکریہ : روز نامہ ہندوستان ایکسپریس ، نئی دہلی

URL:

 http://www.newageislam.com/urdu-section/kuldeep-talwar-کلدیپ-تلوار/pakistan-helpless-before-taliban-طالبان-کے-آگے-پاکستان-بے-بس/d/9899

 

Loading..

Loading..