New Age Islam
Thu Sep 24 2020, 01:08 AM

Urdu Section ( 15 Aug 2013, NewAgeIslam.Com)

Science and Islam سائنس اور اسلام

 

خواجہ محمد زبیر

18 اگست 2012

( انگریزی سے  ترجمہ۔ نیو ایج اسلام)

مغرب میں سب سے پہلے سائنسی خیالات یونانی فلسفہ سے ابھر کر سامنے آئے۔

اس فلسفہ کی بنیاد تمام علم کے مصدر  کے طور پر اللہ کی نفی ہے۔ اس کے برعکس، نتائجیت  اور استدلال کی نفی میں چرچ ذریعہ  ایک تحریک شروع کی گئی ۔ انجیلی جہالت پسندی کی  کائنات کی تخلیق اور تمام زندہ چیزوں کے بارے میں اپنی ایک الگ تشریح تھی۔ اس سلسلے میں، پادریوں کے ذریعہ مرتد قرار ئے جانے کے دباؤ کےبعد بھی، یلیلیو کا یہ بے باکانہ  موقف کہ سورج ساکن ہے اور زمین اس کے گرد گھومتی ہے تاریخ کا حصہ ہے ۔ انہیں اپنے الفاظ واپس لینے کے لئے مجبور کیا گیا تھا۔ گیلیلیو نے اس کے بعد کہا کہ ،گرجا گھروں کی کونسل کا فیصلے جو بھی تھا ، زمین کا سورج کے گرد گھومنا جاری رہے گا ۔

حال ہی میں، یہودی گرینڈ کلیسائی  کونسل کو 'پرانے عہد نامہ' میں سے ایک دعا کو خارج کرنا  پڑا ،جس کا مطلب یہ تھا کہ میں نبی موسی علیہ السلام نے  دعاؤں میں کہا ہے کہ خدا بنی اسرائیل کے دل کو صاف رکھے گا  اگر وہ چاند کی سطح کو انسانوں کے گندے قدم سے محفوظ رکھیں گے ۔

کی اس طرح چیزیں قرآن کریم میں کبھی نہیں پائی گئیں  ہیں، اور کبھی پائی بھی  نہیں جائیں گی کیونکہ یہ اللہ کا کلام ہے ۔ اللہ کا کلام آنے والے تمام اوقات کے لئے مفید  رہے گا۔ قرآن پاک کے احکامات نے ابتدائی مسلمانوں کو اللہ کی مخلوق کی تلاش اور تحقیق کے میدان میں خود کو وقف کرنےسے مکمل فائدہ اٹھانے کے لئے بہت زیادہ  حوصلہ افزائی کی ہے ۔ بار بار اللہ کی تمام مخلوق پر غور کرنے کو  مومنوں پر فرض کیا گیا ہے۔ اسی طرح محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اپنی امت سے یہ چاہتے تھے کہ وہ اپنی توانائیاں انسانیت کی خدمت کرنے کے لئے،تمام ذی روح اور غیر ذی روح  اشیاء کی تخلیق میں غور فکر کے ذریعہ وقف کر دیں  ۔

قرآن کریم چار بنیادی اصول عائد  کرتا ہے،  جو کہ باری باری  اللہ کے خالق اور  رازق  ہونے میں مومنوں کے ایمان کے استحکام کو مستلزم ہیں ۔ تمام مادی  مخلوقا کی خصوصیات میں غور و فکر کرنے کو  مومنوں کے لئے  فرض قرار دیا گیا ہے ، خواہ وہ نجومی  ڈھانچے ہوں یا دنیاوی اشیاء کے قدرتی مظہر ہوں  ۔ کس طرح اوپر آسمانوں میں نجومی ڈھانچے جامد ہیں؟ کس طرح گہرے آتش فشاں  پانی سے بھرے ہوئے  ہیں اور کس طرح  سمندر بنائے گئے ہیں؟ کس طرح یہ پہاڑ زمین کے توازن کو برقرار رکھنے کے لئے کیل بنے ہوئے ہیں ؟ کس طرح بادل سوکھی زمین کی حیات نو کے لئے بارش کی  وجہ بنتے ہیں؟ کیوں پانی تمام زندہ چیزوں کی بنیاد ہے ؟ یہ تمام فکر انگیز تحقیقات ہیں۔ انسانی جسم خود ٹھوس مادہ اور پانی کے دنیاوی اجزاء کے صحیح تناسب کا ایک نمائندہ ہے۔

قرآن میں اس بارے میں بھی ذکر ہے کہ کس طرح بیج بوئے جاتے ہیں اور چھوٹے پودے زمین سے اگتے ہیں ۔ اس میں مختلف خصوصیات کی فصل  کے بارے میں بھی  ذکر ہے۔ مختلف رنگ برنگے پھول کے نظارے  زمین کو سجاتے ہیں ۔ اس میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ  کس طرح زندہ اجسام قدرتی عمل کی وجہ سے نطفہ قبول کرتے ہیں اور  یہاں تک کہ پیدا ہوتے ہیں اور بلوغ تک پہنچتے ہیں اور  آخر میں مر جاتے ہیں ۔ یہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرنے والا ہے کہ مومنوں کو اللہ کی مخلوق کی سائنسی اور منطقی تفہیم میں غور و فکر کرنا  چاہئے۔ ان واقعات کا مطالعہ کرنے کے لئے حیاتیاتی ، نباتیاتی اور جینیاتی سائنس وجود میں آئے ۔

قرآن کریم پرندوں کی ایک مثال دیتا ہے، وہ کس طرح ہوا کی بلندی میں  خود کو رکھتا ہے ۔ یہ ہوائی حرکیات  اور ہنر مندی  پر غور و فکر  کرنے کی طرف اشارہ کرنے والا ہے۔ وقتا فوقتا انبیاء کو بھیجنے کی ضرورت انسانیت کی رہنمائی تھی ، اوران کا مقصد الٰہیت کی وحدانیت کی تبلیغ تھا ، جو کہ اس وجہ سے ضروری تھا کہ  ،انسان اللہ کی مخلوق  سے وحشت زدہ تھی ۔ کچھ لوگوں نے آگ اور کچھ نے  سانپ کو خدا مانا ۔ اور یہ تعریفا ت اللہ کی رضا کے خلاف تھیں ۔

انسان کو زمین پر اللہ کا نائب ہونے کا ایک عظیم مرتبہ حاصل ہے ۔ قرآن پاک میں یہ کہا گیا ہے کہ، انسان کی ذات خود اللہ کی ذات کے مطابق ہے ۔ وہ اس بات کی تعلیم دیتا ہے کہ کفارہ کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے ، لیکن بندوں کے لئے  اللہ کے حکم کو تجاوز نہ کرنا  فرض ہے۔ گناہ کا جو تصور غیر مومنوں کے یہاں پایا جاتا ہے  وہ قرآن مجید میں کبھی نہیں پایا جاتا ۔

انسان پہلے گناہ کی پیداوار نہیں ہے۔ اسے صرف نماز میں باقاعدگی برقرار رکھنا ہے، صدقہ ادا کرنا ہے  اور ایمان کی تبلیغ اور انسانیت کی خدمت کے لئے اپنی  خصوصیات کو وقف کرنا ہے۔ ان سنہرے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے، ایک انسان اپنی  روح کی تطہیر کر تا ہے اور دوسروں کے لئے مشعل ہدایت بن  جاتا ہے۔ اسے اس  مثال کے ذریعہ سمجھا جا سکتا ہے کہ  اگر آپ روشنی ختم کر دیتے  ہیں تو تاریکی غالب ہو جاتی ہے ۔لہٰذا اسی طرح جو شخص اچھے  خیالات اور صحیح اعمال میں مصروف نہیں ہے تو وہ گمراہ ہے۔

امت نظریاتی جھگڑے  کے دلدل میں ڈوب چکی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ، سماجی مسائل میں غور و فکر نے  اپنی ایک الگ اہمیت بنا لی ہے، لیکن سائنسی تحقیقات کے میدان میں پورے دل سے خود کو وقف کرنے کے لئے نوجوان نسل کو تاکید کرنا  اب وقت کی ضرورت ہے ۔

ماخذ:   یقین انٹرنیشنل

http://www.khaleejtimes.com/kt-article-display-1.asp?xfile=/data/opinion/2012/August/opinion_August66.xml&section=opinion

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islam-and-science/khwaja-mohammad-zubair/science-and-islam/d/8338

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/khwaja-mohammad-zubair,-tr-new-age-islam/science-and-islam-سائنس-اور-اسلام/d/13046

 

Loading..

Loading..