New Age Islam
Mon Sep 28 2020, 07:09 PM

Urdu Section ( 4 May 2014, NewAgeIslam.Com)

Miracles of the Quran Part 6 اعجاز القرآن قسط چھ


 

آیات محکمات و متشابہات

خواجہ ازہر عباس

قرآن کریم کے وحی الہٰی ہونے کے ثبوت میں اس سے پیشتر ایک ثبوت یہ دیا جاچکا ہے کہ اس  کتاب کا انداز نگارش ہی بالکل انوکھا ، UNIQUE اور نادر ہے۔ اس بارے میں تصریف الآیت کے عنوان سے ایک باب پیش خدمت عالی کیا گیا ہے۔ عربوں میں قرآن سے پیشتر کوئی کتاب نہیں تھی کہ جس سے تحریر میں کوئی فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہو اور نزول قرآن کے بعد سے آج تک کسی بھی زبان میں یہ اسلوب نگارش اختیار نہیں کیا گیا ہے۔ قرآن کریم کے اس اسلوب بیان کی صرف عربی دان حضرات  ہی تحسین  و توصیف  کرسکتے ہیں اور وہ ہی اس کی نکتہ آفرینی  Intricacies کو Enjoy  کرسکتے ہیں۔ یہ نادر اسلوب اس کے وحی الٰہی ہونےکا بڑا زبردست ثبوت ہے۔  تصریف الآیت کے علاوہ طرز نگارش کے سلسلہ میں ہی دوسرا ثبوت قرآن کریم کی آیات  کامحکمات و متشا بہات میں منقسم  ہونا ہے ۔ دنیا کی کسی کتاب  نے اپنے مندرجات کو محکمات  و منشا بہات میں تقسیم نہیں کیا۔ صرف اور صرف قرآن نے یہ انداز اختیار کیا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ چونکہ یہ کتاب قیامت  تک کے لئے ہدایت نامہ ہے۔ اس لئے اس کو اس طرح تقسیم کرنا ضروری ہیں اس لئے ان کو محکمات کی صورت  میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ کتاب کی بنیادی تعلیم پر مشتمل ہیں ان احکامات پر معاشرہ  کی تشکیل  ہوتی ہے اور یہ احکامات ایک مملکت  چلانے  کے لئے کافی  ہوتے ہیں۔ اسی لئے قرآن  نے ان کو اُمّ الکتاب (7۔3) کہا ہے۔

دوسری قسم کی آیات  وہ ہیں جن کا تعلق مملکت  کے روز مرہ  کے قوانین سے نہیں ہے۔ ان متشا بہات کے بغیر  بھی مملکت رواں دواں  رہ سکتی ہے۔ آیات  متشا بہات  کا مفہوم انسانی علوم  کی ترقی  کے ساتھ ساتھ مزید  واضح ہوتا چلا  جاتا ہے۔ ان آیات کو ، ہر دور کے انسان اپنے اپنے دور کی علمی سطح کے مطابق سمجھے گا ، ان کے سمجھنے کے لئے ہر دور  کی علمی سطح کو حاصل  کرنا ضروری  ہے لیکن کسی بھی دور  کے انسان  کو یہ کہنے  کا حق نہیں  ہے کہ وہ یہ دعویٰ کرسکے، کہ ان کا فہم قرآن  ، آخری فہم ہے۔ آج سے ایک ہزار سال کے بعد، جب عقل انسانی نے بہت  ترقی کر  لی ہوگی، اور علوم انسانی بھی بہت وسیع  ہوچکے ہوں گے ، ان آیات منشا بہات  کا مفہوم بالکل واضح ہوگا  اور اُس دور کے مطابق ہوگا۔ اس بارے میں چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں جن سے یہ مسئلہ  واضح ہوجائے گا۔

سورۂ النسا ء میں ارشاد ہوا  حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ (23۔4) تمہاری مائیں تم پر حرام ہیں ۔ اس آیت میں اُمّ کا لفظ اپنے حقیقی  معنوں میں استعمال  ہوا ہے لیکن  اُمّ الکتاب میں اس کے مجازی  معنی  لئے جاتے ہیں یعنی  کتاب کی اصل ۔ یہاں  کتاب کی ان آیات کو جن سے اس کتاب کی بنیادی تعلیم واضح  ہوجائے، ماں سے تشبیہ دے کر اُنہیں اُمّ الکتاب  کہا گیا ہے۔

قرآنِ کریم میں اسلامی مملکت کی رہنمائی  کے اصول  و قوانین  دیئے گئے ہیں ۔ یہ بات لازمی ہے کہ ان احکام و قوانین کے الفاظ  ایسے واضح ہونے چاہئیں  جن کامطلب ان الفاظ  سے واضح  طو رپر متعین  ہوجائے قرآن  کریم میں ساری  حدو د اللہ آیات محکمات  میں بیان  کی گئی ہیں ۔ قرآن  کی سزائیں  محکم  الفاظ ہیں ۔ قرآن کریم نے جو وراثت کے احکام دیئے ہیں وہ سب محکم آیات ہیں لیکن  اس کے ساتھ ساتھ  قرآن میں ایسے  حقائق کابھی ذکر  ہے جن کا تعلق خارجی کائنات سے ہے اور اس دنیا سے بھی جو ہمارے ادراک  حدود سے باہر ہے۔ مثلاً مرنے کے بعد کی زندگی  اور اس کے نتائج  ۔ ظاہر  ہے کہ اس قسم کے مُجر و حقائق  جب بھی بیان کئے گئے ہیں وہ تمثیلات  کے انداز  میں بیان کیاگیا ہیں۔ محکمات  اور متشا بہات کی وضاحت  کے لئے چند مثالیں  پیش کی جاتی ہیں۔

متشا بہ آیات وہ ہیں جن کے  الفاظ  بطور مجاز  کے استعمال کئے گئے ہیں ۔ ہر شخص کو معلوم ہے کہ عربی زبان میں شرب کے معنی پینے  کے ہیں ۔ جس آیت میں شرب  کے معنی پینے کے لئے آجائیں وہ آیت محکم ہوگی لیکن  جس آیت  میں اس کے مجازی  معنی لئے جائیں گے وہ آیت متشا بہ ہوگی ۔ قرآن میں ارشار ہوا أُشْرِبُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْعِجْلَ (93۔2) ان کے دلوں  میں اس بچھڑے کی محبت پلائی گئی لیکن ظاہر ہے کہ بچھڑا کوئی پینے کی چیز نہیں  ہے۔ لیکن اس آیت  میں اُشر بوا مجاز اً استعمال  کیا گیا ہے۔ اس لئے  یہ آیت متشابہ ہے، محکم  نہیں ہے۔ ایک دوسرے مقام  پر ارشاد ہوتا ہے۔ إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَىٰ ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا (10۔4) بیشک جو لوگ یتیموں  کامال کھاتے ہیں بلاشبہ وہ اپنے پیٹوں  میں آگ  کھاتے ہیں ۔ اس آیت  میں  يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا کے  الفاظ مجازی  ہیں کیونکہ آگ کھانے  کی چیز نہیں  ہے۔ یہ دونوں  مثالیں  اُکل و شرب  کی مجازی  معنی کی ہیں اور آیات  متشا بہات  ہیں ۔ ان دونوں  مصادر  کے حقیقی معنوں کی آیات ملاحظہ فرمائیں ۔ ارشا د ہوتا ہے  كُلُوا وَاشْرَبُوا مِن رِّزْقِ اللَّهِ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ (60۔2)اللہ کے رزق سے کھاؤ،پیو اور زمین میں فساد نہ کرتے پھرو ۔ اس آیت  میں یہ دونوں مصادر حقیقی  معنوں میں استعمال  ہوئے ہیں اور یہ آیت  محکم ہے۔ اس وہ آیات  ملاحظہ فرمائیں جن کےمعانی علوم کی ترقی اور عقل انسانی کی رسائی  کے ساتھ ساتھ  مختلف ہوتے چلے آئیں گے۔

جیسا کہ پہلے بھی عرض  کیا جاچکا ہے نزول قرآن  کے وقت عربوں  کی حالت علمی لحاظ  سےبہت سطحی  تھی ۔ خود مکہ  جو اس وقت بیس ہزار نفوس  کی آبادی پر مشتمل تھا، اس میں صرف سترہ آدمی  ایسے تھے جو نوشت و خواند سے واقف تھے۔ یہ بھی کوئی  عالم نہیں  تھے ۔ صرف لکھ پڑھ سکتے    تھے ۔ عربوں  کے ہاں اُس  دور میں فلکیات  کے نظام سے کوئی شخص واقف نہیں  تھا ۔ ایک عربوں  پر ہی گیا منحصر ہے یورپ  میں بھی اس موضوع  پر بہت کم معلومات  ہوتی تھیں۔ سترہویں  صدی  سے پہلے  ان  کے ہاں  بھی فلکیات  میں کوئی پیش  رفت نہیں  ہوئی تھی ۔ سارے  نظریات  تو ہم پرستی  پر قائم تھے ۔ یورپ  میں پہلا  شخص  گلیلیلو تھا  جس نے اس علم  میں تحقیقات  کرنی شروع  کی تھیں۔ ہندوؤں  میں تو اس سے بھی برُی حالت تھی ۔ ان  کے ہاں زمین کی حرکت  کاکوئی تصور نہیں تھا اور زمین  کے متعلق یہ سمجھتے تھے کہ یہ ایک تھال،  یا ایک پلیٹ کی مانند ہے اور یہ گائے  کے سینگوں پر قائم ہے۔ اس کے بوجھ سے جب ایک سینگ  دکھنے لگتا ہے تو وہ گائے اس کو دوسرے سینگ پر ٹکا دیتی ہے  اور سینگ کی تبدیلی کی وجہ سے زلزلہ  آتا ہے۔ عربوں، یورپ اور ہندوستان کی اس دور کی  حالت کو پیش نظر رکھئے اور پھر آپ  ا س آیہ کریمہ کو ملا حظہ فرمائیں ۔ ارشاد عالی ہے۔ وَمِنْ آيَاتِهِ خَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَثَّ فِيهِمَا مِن دَابَّةٍ وَهُوَ عَلَىٰ جَمْعِهِمْ إِذَا يَشَاءُ قَدِيرٌ (29۔42) زمین اوراجرام فلکی  کی پیدائش  اللہ کی نشانیوں سے ہیں ۔ نیز وہ ذی حیات بھی جو اس نے زمین  اور کُرّوں  میں پھیلا رکھے ہیں ۔ یہ آبادیاں جو اس وقت الگ الگ  ہیں یہ صرف زمین میں ہی نہیں  ہیں بلکہ کُرّوں میں بھی ہیں ۔  ان تمام آبادیوں  میں دابۃ ہیں ۔ نیز یہ بھی  فرمایا  کہ اللہ اس بات پر قادر ہے کہ اس کے قانون  مشیت  کے مطابق  ایساوقت آسکتا ہے  کہ ان تمام آبادیوں  میں باہمی رابطہ پیدا ہوجائے ۔

آپ غور فرمائیں چودہ سو سال پیشتر جب یہ بات کہی جارہی  تھی کہ آسمانی کُرّوں  میں بھی  زندگی آبادیاں موجود ہیں اور وہ ایک دور میں آپس میں سب ایک ہو جائیں  گے تو اس دور میں کوئی شخص  اس آیت  کو سمجھ نہیں سکتا تھا ۔ اس دور میں بھی صحابہ  کرام بیشک اس پر ایمان لائے لیکن اُس وقت یہ آیت متشابہ تھی ۔ آج جب یہ بات معلوم  ہوگئی کہ کُرّوں  میں آبادیاں  اور زندگی ہے تو اب یہ آیت  محکم بن گئی ۔ اسی طریقہ  سے قرآن کی آیات  متشابہ سے محکم بن جاتی ہیں  اور ایک دور ایسا آئے گا جب انسانی علوم  اس درجہ ترقی  کرلیں  گے کہ قرآن  کی تمام آیات محکم بن  جائیں گی۔ قرآن کی متشابہ  آیات جس قدر بھی محکمات  میں بدلتی  جائیں گی، اسی قدر قرآن کے وحی الہٰی  ہونے کے ثبوت  ملتے جائیں گے۔ ابھی تک  قرآن  کی اس آیت کی نظری طور پر تصدیق ہوئی ہے۔ آئندہ  ادوار  میں جب عملی  طور پر تمام کرے ایسے ہوجائیں گے جیسے  مختلف  ممالک ہیں ، اور ہر وقت لوگ ایک کرے سے دوسرے  کرے میں جانے لگیں گے تو اس کی عملی تصدیق ہوجائے گی ۔ ہم  آج یہ نہیں جان سکتے کہ  عَلٰی جَمْعِھِمْ اِذَا یَشَا ءْ کی یہ عملی تفسیر کیسی ہوگی۔

یہ بات بھی واضح رہے کہ قرآن کریم کی بعض آیات بالکل فنی علوم ہے وابستہ ہیں ۔ قرآن  میں سائیکلو لوجی سے متعلق بہت سی آیات  آئی ہیں۔اگر ایک  سائیکلولوجسٹ  ان میں ریسرچ  کرتا ہے اور ایک آیت  کا مفہوم وہ خوب سمجھ لیتا ہے تو وہ آیت اس کے لئے محکم  بن جائے گی لیکن اسی دور میں  دوسرے لوگوں  کے لئے جو سائیکلو لوجسٹ  نہیں ہیں  ان کے لئے وہ آیت متشا  بہ رہے گی ۔ ایک ہی زمانہ میں ایک آیت کچھ لوگوں کے لئے محکم ہوگی اور کچھ حضرات کے لئے متشابہ ہوسکتی ہے۔

(2) اسی طرح سورۂ انبیاء میں ارشاد ہوا ۔ أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ أَفَلَا يُؤْمِنُونَ (30۔21) کیا ان کفر کرنے والوں  نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ آسمان اور زمین دونوں بند تھے ۔ پھر ہم ان دونوں کو کھول دیتے ہیں اور ہم نے پانی سے ہر چیز کو زندہ کیا۔ یہ سارے اجرام فلکی  شروع میں ایک ہی ہولائے کائنات تھے ، اور یہ سب کچھ ایک ہی تھا۔ اس کے بعد چھینٹے اڑے اور یہ الگ الگ ہوگئے ۔ قرآن نے  رَتَقا، اور فَتقا کے  معنی الگ الگ کرنا ہیں ۔ نزول قرآن کے وقت کوئی شخص اس کا صحیح مفہوم نہیں جان سکتا  تھا ۔ البتہ صحابہ کرام اس پر ایمان  لائے تھے ۔ اس وقت  یہ آیت متشابہ تھی کیونکہ اس وقت کسی انسان کے ذہن  میں اس کا تصور تک نہیں آسکتا تھا کہ مختلف  اجرام فلکی  شروع  میں ایک ہی ہولیٰ تھے اور بعد میں یہ الگ ہوئے ۔ آج سائنس کی تحقیق نے اس پر مہر تصدیق ثبت کردی  اور تھیوری کو BIG BANG  کا نام دیا گیا ۔ یہ آیت اب محکم بن گئی ہے۔

(3) سورۂ شوریٰ میں ارشاد ہوتا ہے ۔ يَهَبُ لِمَن يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَن يَشَاءُ الذُّكُورَ (49۔42) جو چاہتا ہے کہ اس کے بیٹی  ہو اللہ اس کو بیٹی دیتا ہے جو چاہتا ہے اس کے لڑکا ہو، اللہ اس کو لڑکا دیتاہے نزول قرآن کے وقت Genetics  کا کوئی علم نہیں تھا ۔ اس دور میں یہ آیت اس طرح سمجھ  میں آہی نہیں سکتی  تھی لہٰذا یہ آیت متشابہ تھی ۔ اس موجود ہ دور میں میڈیکل سائنس اور Genetics  نے اس درجہ ترقی ہے کہ انہوں نے یہ ثابت کردیا ہےکہ اپنی مرضی کے مطابق بچے کی جنس مقرر کی جاسکتی ہے ۔ اس دور میں یہ آیت ایک محکم آیت ہے۔

(4) ارشاد عالی ہے  وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا عِندَنَا خَزَائِنُهُ وَمَا نُنَزِّلُهُ إِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُومٍ (21۔15) ہمارے پاس ہر چیز کے خزانے ہیں اور ہم ان کو ایک اندازہ  معین  پر اتارتے ہیں ۔ اپنی عنایت  بے یاں  ، اور ترحم حسروانہ کے پیش نظر اللہ تعالیٰ  نے زمین میں رزق  پیدا کرنے  کی صلاحیت رکھ دی ہے۔ رزق  قوانین   الہٰی  کے مطابق ایک اندازے سے پیدا ہوتا ہے ۔ اگر زمین اپنے خزانے ایک مرتبہ  اُگل دیتی تو آئندہ کی انسانیت بھوکی مرجاتی  یہ رزق  جس اندازے کے مطابق  پیدا ہوتا ہے وہ اندازہ غور طلب ہے قرآن نے اس انداز ے کو ‘‘بقدر معلوم’’ کے الفاظ  سے بیان کیا ہے۔ زراعت  کے قوانین مقرر ہیں۔ ان قوانین کے علم میں جس قدر اضافہ  ہوگا، اسی نسبت  سے زمینی خزانے حاصل کئے جاسکتے ہیں ۔ پہلے ہمارے ہاں  ایک ایکڑ زمین  سے 8 من گیہوں  پیدا ہوتا تھا ۔ اب ایک ایکڑ زمین سے 80 من گیہوں پیدا ہوتا ہے ۔ موجودہ دور کی پیداوار  میں جو اضافہ ہوا ہے یہ انہی قوانین کے معلوم ہونے اور اس کے متعلق کاشت کرنے کا نتیجہ ہے نزول قرآن  کے وقت یہ ‘‘ قدر معلوم’’  متشابہ تھا ۔ آج اس دور میں یہ قدر معلوم محکم ہے اور یہ آیت  متشابہ  سے محکم ہوگئی ہے۔

(5) ارشاد ہوتا ہے يَوْمَ تَأْتِي كُلُّ نَفْسٍ تُجَادِلُ عَن نَّفْسِهَا (111۔16) جس دن پر جی اُٹھے گا اپنے سے ہی سوال وجواب کرتا ہے۔ یہ آیہ کریمہ اپنےمفہوم  کے اعتبار  سے بڑی عمیق  ہے۔ یہاں نفس کا لفظ دو مرتبہ آیا ہے اوراس نفس کو نفس تجادل کہا گیا ہے۔ تجادل  کے معنی ایک دوسرے کے ساتھ جدل  کرتے ہوئے ہیں ۔ نزول قرآن کے وقت ان دو نفسوں  کا مفہوم کوئی نہیں سمجھ  سکتا تھا ۔ آج  اس دور میں سائیکلولوجی نے اس کو نفس  غیر شعور یہ قرار دیا ہے اور اس موضوع  پر بہت  کچھ تحقیق کی جا چکی ہے۔ جو فنی ہونے  کی وجہ سے تحریر  نہیں کی جاسکتی ۔ یہاں اس کا حوالہ دینے کا صرف یہ مقصد  ہے کہ یہ بات عرض کردی  جائے کہ نزول قرآن  کے وقت  یہ آیت  بھی متشابہ  تھی، لیکن اب یہ آیت  محکم ہوگئی ہے۔

(6)  قرآن کریم کا ارشاد ہے  كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً (213۔2) ساری انسانیت  ایک اُمّت واحدہ ہے ۔ نزول قرآن کے وقت نوع انسانی ایک  اُمّت ہونے کا کوئی تصور نہیں  تھا ۔ اس لئے اس وقت یہ آیت متشابہ تھی ۔ آج ساری  دنیا ایک Global Village  ہوتی جارہی ہے ، اس لئے اس دور میں یہ آیت ایک محکم آیت ہے۔

(7)  فرعون کے غرق  ہونے کا حال بیان کرتے ہوئے سورۂ یونس میں ارشاد ہوتا ہے۔ فَالْيَوْمَ نُنَجِّيكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُونَ لِمَنْ خَلْفَكَ آيَةً (92۔10) پس آج تیرے جسم کو بچائیں گے تاکہ تو اپنے بعد والوں  کے لئے نشانی بنے قرآن نے فرعون کی لاش کو بچانے  کا جو ذکر کیا ہے، اس آیت کو سمجھنے  میں مفسرین کو بڑی دقت ہوتی تھی ۔ کچھ مفسرین نے اس آیت  میں بدن  کے معنی ذرہ  کے لئے اور کہا کہ فرعون  کی ذرہ محفوظ  کر لی گئی تھی ۔ آیہ کریمہ  واضح نہیں  ہورہی تھی ۔ اس لئے اس وقت متشا بہ  تھی ۔ اس کے بعد تحقیق  ہوئی کہ  اس فرعون  کی لاش برٹش  میوزیم  میں بالکل  محفوظ رکھی ہے۔ اس بات  کے معلوم ہونے سے چونکہ  یہ آیت واضح ہوگئی ہے اس لئے  اب یہ آیت  محکم ہے۔

(8)  ارشاد عالی ہے  وَمَن يَكْسِبْ إِثْمًا فَإِنَّمَا يَكْسِبُهُ عَلَىٰ نَفْسِهِ (111۔4)جو کوئی گناہ  کرتا ہے وہ اپنے حق  میں کرتا ہے۔ اس آیہ کریمہ  میں علم نفسیات  کا بڑا بنیادی  اصول بیان  کیا گیا ہے۔ اس آیت  میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ کوئی شخص جو جرم دوسرے  کے خلاف کرتاہے ۔ وہ اصل  میں اس کی اپنی ذات  کے خلاف  ہوتا ہے ۔ جرم کا جو نقصان خود مجرم کی ذات کو ہوتا ہے، اس کا پھر کسی طر ح ازالہ  ممکن نہیں ہے۔ یہ آیت متشابہ آیات میں تھی ۔ آج سائیکلولوجی کے ماہرین  نے اس آیت کی صحت  کو خوب واضح کیا ہے۔ لہٰذا  یہ آیت اب محکم آیت ہے۔

(9) سورۂ محمد میں ارشاد  عالی ہے۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ (7۔47) اے ایمان والو اگر تم اللہ کی مدد  کروگے، تو وہ تمہاری  مدد کرے گا اور تمہارے پاؤں  جمادے گا ۔ اس آیہ کریمہ  میں مسلمانوں  کو یہ ہدایت کی جارہی ہے کہ تم اقامت  دین کے لئے اُٹھ کھڑے ہو۔ اگر تم ایک مرتبہ اقامتِ دین کے لئے اُٹھ کھڑے ہوئے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا کہ آگے کا کام وہ خود سنبھا ل لےگا۔ یہ تمہاری اس طرح مدد فرما ئے گا کہ تمہارے حوصلے حد درجہ  بلند کردے گا،اور تمہارے پاؤں مستحکم کردے گا۔ یہ آیت حضور  کے دور میں حضور اور صحابہ  کرام کے لئے یقیناً  محکم  آیت تھی ۔ انہوں نے  دین  قائم فرمایا، اللہ تعالیٰ  نے ان کی مدد فرمائی ۔ اس دور کے بعد بھی کبھی  ہم مسلمانوں  نے اقامتِ دین کی کوشش  کی اور نہ اللہ نے ان کی کبھی مدد فرمائی ۔ ہم نہیں  کہہ سکتے  کہ اللہ  کی مدد کس کس طرح ہوتی ہے ۔ اس آیت  پر یقیناً  ایمان ہے لیکن یہ آیت  ہمارے لئے  متشابہ  ہے، محکم جب ہی ہوگی  جب ہم دین کے قیام  کے لئے اُٹھیں  اور اللہ تعالیٰ ہماری مدد فرمائے ۔

جیسا کہ عرض کیا گیا قرآن کریم نے اپنی آیات  کی جو تقسیم  و متشا بہات  میں کی ہے، یہ اس کے وحی الٰہی  ہونے کی دلیل ہے کیونکہ  انسانوں کی کسی تصنیف میں یہ تقسیم  نہ تو ہوئی  ہے اور نہ ہی آئندہ  ہوسکتی ہے ۔ قرآن  کی آیات کا متشابہات سے محکمات  میں تبدیل ہونا ، اس کے وحی ہونے کی دلیل ہے۔

نومبر، 2013  بشکریہ : ماہنامہ صوت الحق ، کراچی

URL:

https://www.newageislam.com/urdu-section/khwaja-azhar-abbas/miracles-of-the-quran-part-6-اعجاز-القرآن-قسط-چھ/d/76868


Loading..

Loading..