New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 04:32 PM

Urdu Section ( 30 Jul 2014, NewAgeIslam.Com)

Miracles of the Quran Part- 18 اعجاز القرآن ۔ اٹھارہ

 

 

خواجہ ازہر عباس ، فاضل درس نظامی

قرآن کریم میں آیات  کےبعد صفاتِ خداوندی کا ذکر ہوتا ہے ۔یہ صفات جو آیات کے بعد آتی ہیں ان کا ان آیات  سے گہرا ربط و تعلق ہوتاہے۔ یہ صفاتِ الہٰی آیات  کا مفہوم  و مقصود واضح کرتی ہیں۔ مختلف آیات کے بعد مختلف  صفات  آئی ہیں ۔ مثلاً  وہ رحیم  و کریم بھی ہے اور جبار و قہار  بھی ہے۔ ہم پہلے آپ کے سامنے وہ آیات پیش  کرتے ہیں جن  کے آخر میں یہ صفات  آتی ہیں اور  ساتھ ساتھ  ان صفات کا ربط و تعلق بھی دکھاتے جائیں گے ۔ اس  کے بعد اپنی  معروضات پیش  کریں گے کہ  ا س کی کیا حقیقت ہے اور یہ حقیقت  کتنی اہم ہے۔

(1)  قرآن کریم میں طوفانِ نوح کاتذکرہ  خاصی  تفصیل  سےکیا گیا ہے کہ جب بارش  کا پانی  جو ش مارتا ہوا وادی  میں داخل  ہوگیا تو حضرت  نوح علیہ السلام  کو چند ہدایات  دی گئیں  کہ ضرورت  کی اشیاء  کے دو دو جوڑے اپنے ساتھ کشتی میں رکھ  لو۔وَقَالَ ارْكَبُوا فِيهَا بِسْمِ اللَّهِ مَجْرَاهَا وَمُرْسَاهَا ۚ إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ ( 11:41) نوح علیہ السلام  نے ان لوگوں سے کہا کہ اس میں سوار  ہوجاؤ ( انہوں نے پوچھا کہ جانا کہاں ہے اس پر نوح علیہ السلام  نے فرمایا کہ اس کی تفصیل  نہ پوچھو، فی الحال تو تم  سوار ہوجاؤ)اس کشتی کو اللہ کے نام پر چلنا ہے اوراُسی  کے نام پر رُکنا ہے ( یہ سب کچھ وحی کے مطابق ہورہا ہے اس لئے کہ اللہ کا قانون  ربوبیت  جس  کے مطابق  یہ سب  کچھ ہورہا ہے ) اپنے اندر سامان  حفاظت  اور ذرائع پرورش سب کچھ رکھتا ہے ۔ مغفرت  کے معنی  حفاظت   کے ہیں اور غفور  کے معنی  حفاظت  کرنے والا۔ اسی طرح رحمت ہے ۔ اس طرح پرورش  جیسے جنین  کی رحم  مادر  میں ہوتی ہے اور اس طرح پرورش  کرنے والا رحیم  ہے۔ اللہ تعالیٰ  کا ان صفات کو بیان  کرنے سے مقصود  یہ ہے کہ کشتی محفوظ رہے گی اور جو لوگ  کشتی میں  سوار ہیں  ان کی پرورش  بھی ہوتی  رہے گی ۔ اس طرح ان دونوں  صفات آیت  سے گہرا تعلق ہے۔

(2) ارشاد عالی ہے۔ كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ قَوْمًا كَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ وَشَهِدُوا أَنَّ الرَّسُولَ حَقٌّ وَجَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ ۚ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ ،أُولَٰئِكَ جَزَاؤُهُمْ أَنَّ عَلَيْهِمْ لَعْنَةَ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ( 3:86:87) اللہ ان لوگو ں کو کیونکر ہدایت کرے جو ایمان  لانے ، رسول  کی حقانیت  کی گواہی دینے اور ان کے لئے واضح  نشانیا ں آجانے کے بعد کفر  کریں او راللہ ظالموں کی ہدایت  نہیں  کرتا۔ ان کا بدلہ  یہ ہے کہ ان پر اللہ ، ملائکہ اور سب لوگوں کی لعنت ہے۔

لُغت میں لعنت کےمعنی  محروم ہونے کے ہیں۔ آیہ کریمہ  میں اللہ کی لعنت  سے مراد اسلامی نظام کے ثمرات  و سر بلندیوں  سے محرومی  ہے ملائکہ  کی لعنت  سے مرادیہ ہےکہ چونکہ  مذہب زدہ اقوام دنیا کو قابل نفرت  سمجھتی ہیں اور فطرت  کی قوتوں  کو مسخر نہیں کرتیں ۔اس لئے وہ فطرت کے قوتوں سےو سہولتیں  ملتی ہیں، ان سے محروم  رہ جاتی ہیں او رلوگوں  کی لعنت  سے مرادیہ ہے کہ ترقی  یافتہ معاشرے میں لوگوں  کے صلاحتیں  بیدار  ہوتی ہیں ۔ ایسے معاشرے میں  لوگ ایک  دوسرکی  مدد کرتے ہیں اور اپنی بیدار صاحیتوں  سے دوسروں  کو فائدہ پہنچاتےہیں لیکن جن معاشروں  میں خود ظلم،  جہالت،  تاریکی،  موجود ہو تو وہ ایک  دوسرے  کی مدد نہیں کرسکتے ۔ ہدایت  حاصل ہونے  کے بعد کفر  کرنے کے تین  نتائج  بر آمد ہوتے ہیں لیکن   إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِن بَعْدِ ذَٰلِكَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ( 3:89) مگر وہ لوگ کہ  جو بعد ازاں  تو بہ  کرلیں اور  اپنی اصلاح  کرلیں تو اللہ  کے قانونِ  مکافات  کی رُو سے انہیں  سامان حفاظت اور پرورش مل جاتا ہے یعنی جب  انسان اپنی  حالت میں  تبدیلی کرلیں تو اللہ  کی دوسری  صفت  کا ظہور  ہوجائے گا۔

آپ غور  فرمائیں کہ کس طرح صفات  الہٰی کا ظہور  ہوتاہے اور  متضاد صفات  کے موجود ہونے کاکیامطلب  ہوتاہے۔ جب کوئی قوم ہدایت  کے بعد کفر اختیار  کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ  کی صفت  لعنت کا ظہور ہوتا ہے اور  وہ قوم نظام  الہٰی  کے ثمرات  سے محروم ہوجاتی ہے۔ اگر وہ قوم  توبہ کرے یعنی اپنا  طاغوتی  نظام ترک  کرکے، نظام الہٰی  کے قیام کی کوشش کرے اور اس کے رواں دواں  رکھنے کے  اعمال کریں تو انہیں سامان پروش  اور سامان حفاظت مل جاتا ہے۔آپ غور فرمائیں  کہ کس طرح غفور و رحیم کی صفات  نے آیت کے سارے مفہوم  کو  Sum up کردیا اور کس طرح  آیت کے مقصود کی وضاحت  کردی  اور کس طرح یہ صفات آیت  کا جزو بن گئی ہیں۔

(3) إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ ۖ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ( 2:173) ( ترجمہ) پھر اگر کبھی کھانے  کو نہ ملے  او ر تم  جان بچانے  کےلئے مجبور  ہوجاؤ تو ایسی صورت میں ان چیزوں کوبھی کھا سکتے ہو  جنہیں حرام  قرار دیا گیا ہے۔بشر طیکہ  تم واقعی مجبور  ہوگئے ہو اور  تمہاری نیت  قانون شکنی  کی نہ ہو۔ ایسی حالت  میں ان چیزوں  کے کھانے  سے تمہاری ذات  پر جو مُضر اثرات  مرتب ہوں گے قانون  کے احترام  کی محکم  اساس تمہیں ان اثرات  سےمحفوظ رکھے گی اور تمہاری  صلاحیتوں کی نشو ونما بدستور ہوتی رہے گی ۔ قانون کے احترام  کا احساس  تمہیں ان اثرات سے محفوظ رکھے گا۔ یہ صفت  غفور کا ظہور ہے اور تمہاری صلاحیتو ں  کی نشو و نما  بدستور ہوتی رہے گی ۔ یہ صفت رحیمیت  کا ظہور ہے ۔ دونوں  صفات  اس  آیت  کا ضمیمہ بن جاتی ہیں  اور اس طرح آیت  کا نفس مضمون سے کس طرح  گہرا تعلق  موجود ہے۔

(4) إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ غَفُورٌ (35:28) اللہ تعالیٰ کے قوانین کی عظمت کے  سامنے وہ ہی لوگ جھکتے ہیں جو ان قوانین  پر علم و بصیرت کے ساتھ غور کرتے ہیں اور جو جانتے ہیں  کہ اللہ کا قانون کس قدر غلبہ کامالک  ہے اور جو اس  کے مطابق چلتاہے وہ اسے کس قدر  سامان حفاظت عطا ء کرتا ہے۔  إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ غَفُورٌ ۔ وہ دیکھتے ہیں کہ اس کا غلبہ اتنا  ہے کہ کوئی شخص اس کے قانون  سے سرتابی  نہیں کرسکتا ۔ وہ کہتا  ہےکہ اللہ تعالیٰ  اس درجہ غلبہ  رکھتا ہے کہ اس نے سب کو قانون کی زنجیروں میں جکڑ رکھا ہے۔ یہ صفت  عزیز کا ظہور  ہے اس کے ساتھ ساتھ اس نے حفاظت کا سامان بھی کر رکھا ہے  کہ محفوظ بھی رہیں ۔ یہ صفت  غفور کاظہور ہے جو لوگ  اللہ تعالیٰ  کی صفات  عزیز و غفور کا ادراک  کرتےہیں وہ ہی علماء ہیں اور وہی  اس کے سامنے جھکتے ہیں۔

(5) ارشاد عالی ہے  فَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِ رُسُلَهُ ۗ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ ذُو انتِقَامٍ ( 14:47) (ترجمہ) بس ایسا خیال  نہ کرو کہ اللہ اپنے رسولوں  سے جو وعدہ کر چکا ہے۔ اس کے خلاف  کرے گا  وہ سب  پر غالب ہے۔ اور ( اعمال  بد کی)  سزا۔ امام راغب  نے لقم کے معنی  عیب لگانا اور سزا دینا  تحریر  کئے ہیں ۔ اس کی سند  میں انہوں نے یہ آیت  تحریر فرمائی ہے ۔فَانتَقَمْنَا مِنَ الَّذِينَ أَجْرَمُوا ( 30:47) جو لوگ نافرمانی  کرتے تھے ہم نے ان سے بدلہ  لے کر چھوڑا ہے ارشاد ہوتا ہے فَانتَقَمْنَا مِنْهُمْ ۖ فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ ( 43:25) ہم نے  انہیں ان کےاعمال  بد کی سزا دی ۔ پس دیکھو کہ ان  لوگوں کا کیا انجام ہوا۔ جنہوں نے ہمارے قانون کی تکذیب  کی تھی ۔

ان آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ  انتقام  الہٰی  سے مراد اس  کے قانونِ مکافات  کی رُو سے غلط اعمال کاتباہ کن  نتیجہ ہے۔ اب آپ اوپر تحریر  کردہ آیت ( 14:47) کا ترجمہ اور اس کا مفہوم ملاحظہ فرمائیں ۔جماعت مومنین  کا انتقام  کسی ذاتی  رنجش یا دشمنی  کی بناء پر نہیں  ہوتا بلکہ جماعت مومنین  کی محبت  اور عداوت  دونوں اللہ کے لئے ہوتی ہے۔ یہاں یہ بات واضح کرنی ہے کہ صفاتِ الہٰی کو اپنے اندر منعکس کرنے والے مومنین کا انتقام انسانیت  کی اصلاح کے لئے ہوتا ہے ا س میں ذاتی بغض و عناد کا کوئی جذبہ پوشیدہ  نہیں ہوتا کیونکہ قوانین الہٰی کو نافذ کرنے والے انتقام الہٰی  کو نافذ کرنے کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ یہ لوگ اپنا  انتقام نہیں لیتے ۔ لہٰذا  تم اس خیال  میں نہ رہنا  کہ اللہ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی  کرے گا اس کی ہر بات پوری ہوکر رہے گی اس لئے کہ وہ بڑی قوتوں  کا مالک ہے اور  اس کے قانونِ مکافات  کی رُو سے ہر غلط عمل کی سزا مل کر رہتی ہے۔اس سے کوئی شْخص بھاگ نہیں سکتا آپ ملاحظہ فرمائیں کہ اس  آیت میں  کس طرح صفاتِ الہٰی  ،عزیز اور ذوانتقام ،دونو ں  کاظہور ہورہا ہے۔

(6) ارشاد ہوتا ہے  وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ ( 26:159)( گذشتہ آیات میں  قوم صالح  کی نافرمانی کاذکر  ہورہا تھا اس کے بعد ارشاد ہوا) چنانچہ انہیں قانونِ مکافات عمل کے عذاب  نے آپکڑلیا ۔ ( بیشک اس واقعہ  میں عبرت حاصل کرنے والوں کے لئے ) ایک بڑی نشانی ہے۔ ان  میں سے اکثر (ضد کی وجہ سے) ایمان لانے والے نہیں تھے ۔ ( چنانچہ  وہ تباہ ہوگئے ) بیشک تیرا رب عزیز و حکیم ہے۔

اس آیت  کےآخر میں عزیز و رحیم دو صفاتِ الہٰی  بیان کی گئی ہیں۔ عزیز صاحب  غلبہ کو کہتےہیں اور یہ بات  بخوبی واضح ہے کہ اللہ کے قانونِ مکافات  عمل سے زیادہ  کس کاغلبہ و اقتدار ہوسکتا ہے  لیکن اس جگہ  ساتھ ساتھ اللہ کی صفت رحمت کابھی  ذکر  ہورہا ہے کیونکہ  یہ آیت  کا تقاضہ  تھا کہ آیت  کا مفہوم   جب واضح ہوتاہے جب ہ صفت  بھی ظہور  فرمائے ۔اس قوم کی ہلاکت ، رحمت الہٰی کاتقاضہ  اس لئے بن رہی تھی  کہ اللہ نے تمام نوع انسانی کی پرورش  کاذمہ اپنے سر لیا ہے اور سامان رزق  سطح ارض  پر بکھیر کر رکھ دیا ہے لیکن ظالم  قومیں  انہیں اپنے قبضہ  میں لے لیتی ہیں  اور اللہ کی عام مخلوق  اور غریب  عوام رزق  کے ایک ایک لقمے کو ترستی پھرتی ہے۔اس ظالم قوم کو بہت سمجھایا کہ رزق الہٰی کو عام رکھو ، کُھلا رکھو لیکن ان ظالم  قوموں  نے یہ بات تسلیم  نہیں کی۔ ان قوموں  کی نافرمانی کے بعد دو ہی  صورتیں  باقی رہ جاتی تھیں ۔ یا تو ان لوگوں  کو اسی طرح چھوڑ دیا جاتا اور  باقی لوگوں  کو تباہ ہونے دیا جاتا اور یا ان  لوگوں کو راستہ سے ہٹا کر رزق کو عام لوگوں کی رسائی  رزق  کے سرچشموں  تک  کردی جاتی ۔ رحمت الہٰی  کا تقاضہ  یہی ہوا کہ  ان ظالم قو موں کو راستہ  سے ہٹا کر رزق کو عام کردیا جائے ۔ اس طرح اللہ  تعالیٰ  کی صفات  عزیز  اور رحیم اس آیت  کاایک حصہ  بن جاتی ہیں۔

(7) ارشاد عالی ہے إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أُولَٰئِكَ يَرْجُونَ رَحْمَتَ اللَّهِ ۚ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ( 2:218) ( ترجمہ) بیشک جولوگ ایمان لائے  او رانہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ  میں لڑے وہ رحمت الہٰی  کے امیداوار ہیں اور اللہ  غفور رحیم  ہے۔

جو لوگ  قرآنِ کریم  کے پیش کردہ نظریات پر ایمان لائے اور جنہوں نے اس نظریہ حیات کو عملاً جاری کرنے  کے لئے ہجرت کی اور اس نظام کو Establish کرنے  کے لئے مسلسل جد و جہد کرنے کے علاوہ فتال  بھی کیا وہ اللہ  کی رحمت  کے امیدوار  ہیں ۔ جہاد صرف اللہ  کی راہ میں جنگ  کرنا ہی نہیں ہے بلکہ  ساری عمر  کوشش  کرنے کا نام جہاد ہے اور قتال اس کی آخری  صورت ہے مزید یہ کہ ہجرت  کی بھی یہی صورت  ہے کہ یہ صرف نقل مکانی  ہی نہیں ہے  بلکہ اقامتِ  دین کے  لئے جس چیز کو چھوڑنا  پڑے وہ ہجرت  ہے ۔صدر اوّل کے دور میں  مسلمانوں نےاس طرح ہجرت  کی کہ مردوں  نے اپنے بیوی بچوں  کو چھوڑ دیا ۔ عورتوں  نےاپنے شوہروں کو  چھوڑ دیا۔ کسمپری  کی حالت میں مدینہ میں زندگی شروع کی۔ خود حضور صلی اللہ علیہ اورحضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اس حالت  میں مدینہ تشریف  لائے تھے کہ ان کے لئے نہ ایک وقت کاکھانا تھا  او رنہ سرچھپانے  کو کوئی جگہ تھی لیکن  اقامتِ دین  کی خاطر سر توڑکوشش کی کہ جس کی مثال نہیں ملتی ۔حقیقت یہ ہے کہ  ہم جیسے لوگ جو کبھی حق  کی خاطر اُٹھے ہی نہیں  وہ اس  بات کا اندازہ  نہیں کرسکتے  کہ حق کی خاطر اٹھنے  کے بعد کتنی  اندرونی  صلاحیتیں اور قوتیں  بیدار ہوجاتی ہیں ۔ مدینہ  کی ریاست  کا قیام ا س کی بہترین  مثال ہے۔ یہ مسلمان  جو بالکل  تنہا، بغیر کسی  سامان کے بالکل  افلاس  و غربت  کی حالت میں  مدینے آئے تھے  او رانہوں نے وہ مملکت  قائم کی جو آہستہ آہستہ  بڑھتے  ایک عظیم مملکت  بن گئی  اور اللہ  نے انہیں سامان حفاظت  بھی دیا ( غفور) اور سامان نشو و نما  بھی انہیں  مہیا کردیا۔

(8)  ارشاد عالی ہے  رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ ۚ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ( 2:129) ( تر جمہ)  اے  پروردگار  ! ان میں ایک رسول بھیج،  انہیں سکھاتا کہ وہ تیری  آیات پڑھے اور انہیں کتاب   و حکمت  کی تعلیم  دے اور ان کو پاک کرے ، بیشک  تو بہت  زبردست  اور حکمت والا ہے۔ وہ تیرے حکم و قوانین کو ان کے سامنے  پیش کرے۔

اب یہاں  دو چیز ہوتی ہیں ۔ ایک تو حکم نافذ  کرنا ہوتا ہے اور دوسرے یہ کہ  اس حکم  و قانون کی لم ، Why of it ا سکا Rationate  ہوتا ہے۔ تمام کمالات  و صفات الیّہ  کا مرجع ان دو صفات یعنی عزیز اور حکم  کی طرف سے کیونکہ  عزیز کمال قدرت پر اور حکیم کمال  علم پر دلالت کرتے ہیں اور جتنے بھی کمالات  ہیں وہ سب قدرت اور حکمت سے کسی نہ کسی  طرح وابستہ  ہیں ۔ عزیز وحکیم  کی صفات یہاں اسی لئے بیان ہوئی  ہیں کہ قانون  کو نافذ  کرنے کے لئے ان  ہی  دو صفات  کی ضرورت  ہوتی ہے۔ ان دونوں  صفات  نے آیہ کریمہ   کے مقصود  کی تشریح  کردی ہے اور ہم یہی عرض کرنا چاہتے ہیں کہ یہ لازمی  بات ہے کہ آیت کے آخر میں  جو صفت  آتی ہے، وہ آیت کے مقصود  کی تشریح  کردی ہے اور صفات کو اس طرح بیان کرنا کہ اس کاآیت  سے گہرا تعلق  ہو، یہ قرآن  کے وحی الہٰی ہونے  کی ایک  مضبوط دلیل ہے۔

(9) وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ ۚ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ وَاسِعٌ عَلِيمٌ ( 2:115) انہیں سمجھ لینا چاہئے کہ اگر یہ لوگ اس نظام  کو اس مقام ( مکّہ) میں سر دست  قائم نہ بھی ہونے دیں جسے ہم نے انسانیت  کا پہلا گھر کہہ کر پکارا ہے ( 3:95) ، تو اس سے اس نظام کا کچھ  نہیں بگڑے گا۔ یہ نظام کسی خاص مقام سے وابستہ  نہیں ہے ۔ یہ اس اللہ کا نظام  ہے جو جہت اور سمت اور زمان و مکان کی نسبتوں  سے بلند  ہے ۔ جو کائنات کی تمام  پہنائیوں  پر چھایا ہوا ہے ۔ اس لئے اے جماعت  مومنین  تم جہاں بھی ہو اس کی طرف متوجہ ہو، اس کی طرف جانے والا راستہ  تمہارے  سامنے ہوگا اللہ کا نظام  بڑ  وسعتوں  کا مالک  اور سرتا پا ، علم و بصیرت  پر مبنی ہے ( مفہوم القرآن )

(10) ارشاد عالی ہے إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ ۖ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ( 2:173) ( ترجمہ) اس نے تم پر مردہ جانور ، خون ، سور کا گوشت اور وہ جانور جن پر ذبح کرتے وقت  غیر اللہ کانام لیا گیا ہو( انہیں ) حرام کیا ہے پس جو شخص مجبور  ہوکر، اگر وہ  سرکشی کرنے والا نہ ہو،  ان میں سے کچھ کھالے  تو اس پر گنانہ نہیں ۔

بعض اوقات  ایسے مواقع آجاتے ہیں  کہ انسان حرام چیزوں کو استعمال کرنے پرمجبور ہوجاتاہے۔ لہٰذا قرآن  اس استثنائی  پہلو  کے بارے میں  کہتا ہے کہ بشرطیکہ  وہ ظالم اور تجاوز کرنے والےنہ ہو ں،  تو ایسی  حالت  میں ان چیزوں  کے کھانے سے تمہاری  ذات پر جو مُضر اثرات  پڑیں گے ، قانون  کے احترام  کا احسا س تمہیں ان مُضرات اثرات سے محفوظ رکھے گا۔ ( غفور) اور تمہاری  صلاحیتوں  کی نشو و نما  بد ستور جاری رہے گی یعنی  قانون الہٰی  کی پاسداری  کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ، سامان حفاظت  اور سامان نشو ونما عطاء  کرتا رہے گا۔ اللہ  تعالیٰ کی جو صفات  یہاں  بیان کی گئی  ہیں وہ آیت  کے مقصود  کی وضاحت  کرتی ہے۔

(11) فَإِن زَلَلْتُم مِّن بَعْدِ مَا جَاءَتْكُمُ الْبَيِّنَاتُ فَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ( 2:209) ( ترجمہ) اور اگر ان سب نشانیوں  کے بعد بھی  تم سے لغزش ہوجائے تو جان لو کہ  اللہ توانا اور حکمت  والاہے ۔ جب اس قسم  ے واضح  دلائل اور نشانیاں  تمہارے پاس آگئیں اور تم  نے اس  کے مطابق نظام بھی  قائم کر لیا،اس کے بعد اگر تم پلٹنے لگو ، تو یاد رکھو اللہ بڑی زبردست گرفت کرنےو الا ہے ( 85:12) یہاں آیت مفہوم واضح کرنے  کے لئے جو صفات الہٰی  فرمائی گئی  ہیں وہ عزیز  و حکیم ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ اسلامی نظام  قائم کرنے  کے بعد،  پھر اس کو چھوڑ  دینا ۔ یہ ایسا جُرم  نہیں  ہے کہ  اللہ اس کو نظر انداز کردے۔ یہ بھی نہیں  کہ وہ عاجز آجاتاہے کہ بھئی  تمہاری  مرضی  ہے میں  کیا کرسکتاہوں۔یہ بات  نہیں کہ اللہ صرف وعظ کرنے والانہیں ہے ۔ وہ بڑی سخت گرفت  کرتا ہے لیکن  اس گرفت کابھی اپنا  طریقہ  ہے جو حکمت پر مبنی  ہے اور وہ یہ ہے کہ گرفت اس وقت تک نہیں ہوتی  جب تک اس میں کوئی زیر  آگیا ہو ( 67:8) اور جب  تک وہ قوم  عقلی طور پر اس پیغام کو سمجھنے  کے قابل نہ ہوگئی ہو۔ اگر ایسی  صورت  ہوگی تو اللہ تعالیٰ  اس کی گرفت  کرگے چونکہ وہ عزیز و حکیم ہے۔

(12) ارشاد باری تعالیٰ ہے  لِّلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِن نِّسَائِهِمْ تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ ۖ فَإِن فَاءُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ( 2:226) ( ترجمہ) جولوگ اپنی بیویوں کے پاس نہ جانے کی قسم کھا لیں،تو عورت کو اس حالت میں غیر معینہ عرصہ کےلئے  نہیں چھوڑ ا جاسکتا ۔ انہیں  زیادہ سے زیادہ چار ماہ تک انتظار  کرناچاہئے  اگر وہ  اس عرصہ  میں باہمی  تعلقات  کی طرف رجوع  کریں تو انہیں اس کی اجازت ہےکیونکہ  قانون الہٰی  میں اس قسم  کی لغزش  سے حفاظت اور رحمت کی گنجائش  رکھی گئی ہے۔

( 13) الشَّيْطَانُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَيَأْمُرُكُم بِالْفَحْشَاءِ ۖ وَاللَّهُ يَعِدُكُم مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَفَضْلًا ۗ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ ( 2:268) تمہارے  انفرادی  مفادات  تمہیں  یہ کہہ کر ڈرا ئیں گے کہ اگر تم نے سب  کچھ دوسروں کو دے دیا تو تم مفلس ونادارہو جاؤ گے ۔ کل کو اگر تمہارے  حالات          خراب  ہوئے تو کیا کروگے ۔ اس لئے جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ تم اپنے  پاس رکھو۔ یہاں  فضلاً سے یہ مراد ہے کہ وہ تمہیں  خوش حالیوں  کا وعدہ  دیتا ہے ۔ اس کا یہ وعدہ  اس وجہ سے ہے کہ  اللہ واسع علیم ۔ ان کی نگاہ  تو تھوڑی  دور جاتی ہے ، اللہ  کی نگاہ بڑی  دور درس  ہوتی ہے ان لوگوں  کاعلم محدود ہے۔ اللہ کا علم بہت  وسیع ہے وہ یہ کہتا ہے کہ یہ نظام  اس اللہ کا  ہے جو بڑی  وسعتوں کا مالک ہے اور اس  کی ہر بات  علم وحقیقت  پر مبنی ہوتی ہے۔

(14) قرآن کریم نے وراثت کے احکام صرف دو آیات  میں بیان فرما دیئے ہیں یہ احکام ا س قدر جامع ہیں کہ ان کو صرف وہ ہی شخص  سمجھ سکتا ہے جو  Arthmatics  سے واقف ہو اور اس کے ساتھ ساتھ   Legal Acumen  بھی رکھتا ہو۔ہمارے مولوی صاحبان میں بھی  سو پچاس میں سے صرف ایک  یاد  وہی وراثت تقسیم کر سکتے ہیں ۔یہ وراثت  کے قوانین  قرآن کریم  کے وحی الہٰی ہونے کا ثبوت  ہیں کیونکہ  ذہن انسانی  اتنے  جامع قوانین نہیں بنا سکتا  جو صرف دو آیات میں آجائیں ۔ایک بات قابل غور  یہ بھی ہے کہ ہر شخص کا اپنااپنا میدان ہوتا ہے مثلاً سعدی شیرازی اخلاق اور وعظ وتلقین  کا شاعرتھا ۔حافظ شیرازی غزل کا بادشاہ تھا ۔ فرودسی صرف زرمیہ شاعری کرسکتا تھا ۔ وہ اخلاق و  وعظ کے شعر  نہیں کہہ سکتا تھا ۔ہمارے ہاں اردو لٹر یچر میں بھی جوش ملیح آبادی صرف نظم لکھ  سکتے تھے ۔ غزل لکھنا ان کے بس میں نہیں تھا ۔ غالب صرف غزل کا شاعر تھا ۔میر ببر علی انیس، اور مرزا سلامت اللہ  دبیر مراثی لکھتے تھے ۔ وہ غزل  نہیں کہہ سکتے تھے ۔ یہ عام  طور پر مشہور  ہے کہ میر انیس  کے اصرار  پر غالب  نے مرثیہ لکھنا شروع  کیا لیکن بارہ بند سے آگے نہیں  چل سکے۔یہ قرآن کریم کا اعجاز ہے کہ اس میں قانون،حکمت ، اخلاق  وموعظمت ، رجزجنگ کے احوال سب  تحریر ہیں ۔اُحد ، بدر خندق وغیرہ کے حالات بھی ہیں اور قوانین بھی ہیں ۔ وراثت  جیسا خشک Topic اس میں بھی  قرآن  نے اپنی بلاغت  کا معیار قائم رکھا ۔ اگر قرآن وحی  نہیں ہے اور خدا نخواستہ  حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کو لکھ لیا  ہے تو وہ اپنے  متنوع   اسالیب  کے ماہر نہیں  ہوسکتے تھے ۔

وراثت کے تفصیلی  احکامات دینے کے ساتھ ساتھ یہ بھی ارشاد ہوا  آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ لَا تَدْرُونَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا ۚ فَرِيضَةً مِّنَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا ( 4:11) وراثت کے یہ قوانین اس لئے بیان  کئے گئے ہیں کہ تم نہیں جانتے کہ تمہارے  ماں باپ  یا تمہاری اولاد میں سے کون سا رشتہ نفع رسانی سے قریب تر ہے ۔ اس آیت  میں میراث  کے د وحوالے  دیئے گئے ہیں ایک اولاد  اور دوسرے  ماں باپ کا۔ اب ارشاد ہےکہ چونکہ یہ بات تمہیں معلوم نہیں  کہ کس سے تمہیں نفع پہنچے گا او رکتنا نفع پہنچے گا اس لئے تم کو اس میں کوئی دخل نہیں جو کچھ کسی کے حصہ کا  اللہ نے بیان فرما دیا ہے اس کی پابندی  کرو۔ یہ اس لئے  کہ اس کاہر فیصلہ علم  و حکمت  پر مبنی ہوتا ہے۔إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا ( 4:11) وہ جانتا بھی ہے ،حکمت والا  بھی ہے۔ اس لئے اس نے تمہارے یہ حصّے مقرر کردیئے ہیں۔

(15) إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُم بَيْنَ النَّاسِ أَن تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ ۚ إِنَّ اللَّهَ نِعِمَّا يَعِظُكُم بِهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا ( 4:58) بیشک اللہ حکم  دیتا ہے کہ امانتیں امانت  والوں  تک پہنچا دو اور جب فیصلہ کرنے لگو تو انصاف  سے فیصلہ  کرو اللہ  اچھی نصیحت  کرتا ہے۔بیشک اللہ سننےوالا  اور دیکھنے والا  ہے ۔ اپنے اختیارات  ایسے لوگوں  کے سپرد کرو جو واقعتاً اس کے اہل ہوں  او رایک اچھی  ریاست قائم کرنے کے قابل ہوں ۔ دیانتدارہوں   اور تم سے مخلص   ہوں۔ یہ بہت بڑا  اصول ہے جو نہایت  ہے مختصر الفاظ  میں بتادیا  گیا ہے ۔ اس مقام پر  اختیارات  کو  امانات   کہا گیا ہے اور یہ حکم دیا  گیا ہے کہ یہ اختیارات  ان کے سپرد کرو جو اس کے اہل ہوں ، مزید یہ حکم ہوا کہ عدل کرو اور اللہ  یہ بڑی  عمدہ نصیحت  کررہا ہے ۔ اللہ سب سن رہا ہے  اور دیکھ رہا ہے ۔ آیت  کے آخر  میں جو صفات  لائی گئی  ہیں ان کا آیت سے بڑا گہرا  تعلق ہے ۔ اللہ کا  سننا اور اس کا دیکھنا  یہ ہے کہ اللہ  کا  مکافات عمل  اپنے نتائج ریکارڈ کرتاچلا جارہاہے ۔ جہاں  کہیں بھی  اور جب کبھی بھی کوئی دیکھنے والا اور سننے والا نہیں ہوتا ، اللہ اس وقت دیکھتا ہے ۔ اس مملکت  کے آئین  و قانون  کی بنیاد ہی یہ ہے کہ جہا ں کوئی دیکھنے والا نہ ہوں وہاں  اللہ دیکھتا رہتا ہے اور جہاں کوئی  بھی سننے  والا نہیں  ہے وہاں اللہ سنتا رہتا  ہے اور عملاً اس کے معنی یہ ہیں  کہ مکافاتِ  عمل کا Process جاری رہتا ہے ۔ کسی انسان کو مکافات  عمل پر پورا پورا یقین  ہوتو وہ کوئی جرم کرہی نہیں سکتا ۔ جس معاشرہ  کے افراد کا مکافاتِ  عمل پر یقین  نہیں ہوتا  وہاں جرائم کا انسداد بہت مشکل  ہوتا ہے ۔وہاں جرائم  کی روک تھام قانون نافذ کرنے والے ادارے ہی کرتےہیں ۔ اگر مکافاتِ عمل پر یقین ہوتو  ایسے کسی  ادارہ کی ضرورت  نہیں رہتی ۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ  کے دور میں انسداد  جرائم کے محکم  کو aholish کرنا پڑا تھا ۔ آپ  غور فرمائیں  کہ ان صفات کا آیت  سے کتنا گہرا تعلق  ہے ۔

(16) ارشاد عالی  ہے وَلَا تَهِنُوا فِي ابْتِغَاءِ الْقَوْمِ ۖ إِن تَكُونُوا تَأْلَمُونَ فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمُونَ ۖ وَتَرْجُونَ مِنَ اللَّهِ مَا لَا يَرْجُونَ ۗ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا ( 4:140) ( ترجمہ) میدان جنگ  میں پیچھا  کرنے میں سستی  نہ  کرنا۔ اگر تمہیں  مشقت  اُٹھانی پر رہی  ہے تو انہیں  بھی برابر  کی تکلیف  برداشت کرنی پڑ رہی ہے لیکن نظام الہٰی  برکات و ثمرات کی جو توقع تم کررہے  ہو ، ان کے لئے اس قسم  کی کوئی توقع  نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ  جو احکام  تمہیں دے رہا ہے وہ علم حکمت پر مبنی ہیں ۔

یہی صورت خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کے دور میں  تھی  او ریہی صورت  ہمیشہ رہے گی کہ جب بھی مومنین  او رکفار  کے مابین لڑائی ہوگی تو لڑائی  میں  جو تکالیف ہوتی ہیں  اس میں تو دونوں  فریق برابر  ہوں گے لیکن  مومنین  کو اس  لڑائی میں ایک Advantage  ہے ۔ وہ سمجھتے ہیں  کہ اگر ہم مارے گئے تو ہم شہید  ہوں گے  اور اگر ہم قتل  نہیں ہوئے ہم اسلامی نظام  کی برکات  اور اس کے ثمرات  سے متمتع ہوں گے  اور  ہماری موت  او رہماری  زندگی  بڑی آسودہ ہوگی وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا سے تو یہ مراد  ہے کہ اللہ سے جو توقعات  تم نے باندھی  ہیں اللہ ان سےبے خبر  نہیں ہے اور ان سب کو جانتا ہے اور وہ ان سب کو پورا بھی کرے گا اور حکیماً کایہاں یہ ربط  ہے کہ جہاں تک اللہ حکمت و تدابیر  کا تعلق  ہے وہ بھی  تمہیں اختیار کرنی چاہئیں ۔

(17) ارشاد ہے لَّا يُحِبُّ اللَّهُ الْجَهْرَ بِالسُّوءِ مِنَ الْقَوْلِ إِلَّا مَن ظُلِمَ ۚ وَكَانَ اللَّهُ سَمِيعًا عَلِيمًا ( 4:148) کسی  کی بُری بات ظاہر  کرنا اللہ کو پسند نہیں ہے ۔ مگر ہاں جس پر ظلم ہوا ہو اور اللہ سننے او رجاننے والا  ہے ۔ یہاں منافقین  کا ذکر چلا آرہاہے ۔ یہا ںمومنین  کو حکم دیا جا رہا ہے  کہ منافقین  کہ گذشتہ ادوار کا کوئی تذکرہ نہ کرو۔ یہ بات بالکل  مناسب  نہیں کہ ان کے قبل اسلام  کے واقعات کا چرچا  کیا جائے اور اللہ یہ بھی پسند  نہیں کرتا  کہ جو چیز تم کو پسند نہیں ہے ا س کو شہرت دیتے پھرو اور فساد برپا کرو۔ جس شخص  پر ظلم ہوا ہے  اور اپنے ظلم کی  فریاد  کرے اور اس  کو اپنے علاقہ  کے حاکم  ( ولی الامر) تک پہنچائے ۔ یہ اُن  کا کام ہے کہ وہ اس بارے میں  تحقیق و تفتیش کریں  وَكَانَ اللَّهُ سَمِيعًا عَلِيمًا جو حکومت  اللہ کے نام پر قائم  ہوتی ہے اس حکومت پر اللہ کی صفات کے مطابق  فرائض  ادا کرنے  واجب  ہوجاتے ہیں ۔ اس لئے وہ حکومت  خود سمیع و علیم  ہوتی ہے ۔ معاملہ  کی اصلیت  و حقیقت  معلوم کرنے کے لئے اس  حکومت کے پاس ذرائع ہوتے ہیں ۔ جو حکومت  صفاتِ الہٰی  کی رُو سے  فرض کئے ہوئے فرائض  ادا نہ کرے وہ اسلامی حکومت  نہیں ہوسکتی ۔

(18) إِن تُبْدُوا خَيْرًا أَوْ تُخْفُوهُ أَوْ تَعْفُوا عَن سُوءٍ فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ عَفُوًّا قَدِيرًا ( 4:149) ( ترجمہ) اگر تم کھل کر کوئی بھلائی کرو یا اس کو چھپاؤ ، یا معاف کردو برُائی  کو ، تو اللہ بھی معاف کرنے والا،  بڑی قدت والا ہے ۔ اس کا تم  چرچا بھی کرسکتے  ہو اس کو ویسے  ہی رہنے  دے سکتے  ہو لیکن جس چیز  سے معاشرہ  میں فساد پھیلتا ہو تمہیں ا س کا چرچا کرنے کی اجازت  نہیں ہے۔ یہ چیز بھی  ہے کہ کبھی کوئی برُائی  ہوتو اُسے در گذر کرسکتے ہو ۔ اللہ کے قانون میں دونوں چیزیں  موجود  ہیں اللہ  قدیر بھی  ہے کہ اس  نے اس کے لئے قانون بنا رکھا  ہے اور عفواً  بھی  کہ اگر یونہی  اصلاح ہوسکتی  ہے تو وہ معاف بھی کردیتا ہے ۔

(19) وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَلَمْ يُفَرِّقُوا بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْهُمْ أُولَٰئِكَ سَوْفَ يُؤْتِيهِمْ أُجُورَهُمْ ۗ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا ( 4:152)  ( گذشتہ آیات  میں کفار کاذکر ہورہا تھا کہ وہ کتاب  کے ایک حصہ پر ایمان لاتےتھے اور دوسرے  سے انکار کرتے تھے)  فرمایا کہ ان کے لئے جہنم ہے  اس  کے برعکس  جو لوگ اللہ پر اس طرح  ایمان لاتےہیں  کہ وہ اللہ  اور رسولوں  دونو ں پر ایمان لاتےہیں ۔ ان پر ایمان  لانے میں کوئی امتیاز  نہیں کرتے رسول اور اس کی رسالت  پر ایمان  لاناہی اللہ پر  ایمان لانا  ہے ۔ وہ ان دونوں  میں فرق  نہیں کرتے ۔ ان ایمان لانے والوں کو بہت جلد  ان کے ایمان  کا معاوضہ  ادا کردیا جائے گا اور  معاوضہ کی ادائیگی  کا طریقہ یہ ہے کہ ان کی کوتاہیوں سے حفاظت  بھی ہوگی ( غفور)  او رانہیں  سامانِ  نشو ونما  بھی ملتا رہے گا۔

(20) ارشاد گرامی ہے  بَل رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا ( 4:158) ( سابقہ آیات  میں حضرت عیسیٰ کاتذکرہ چلا آرہاتھا ) فرمایا کہ تم  ( یہود) کہتے ہو کہ وہ لَعنتی تھے اللہ نے ان کے مراتب کوبلند کیا  او رانہیں  رفعت و منزلت عطاء فرمائی وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا فرمایا کہ اللہ ا س قدر بھی بے بس او رمجبور نہیں ہے کہ لوگ اس  کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کو پکڑ کر سولی پر لٹکا دیں ۔ وہ بڑی قوتوں کا مالک ہے۔ اس نےہمیشہ اپنے انبیاء کرام  کو غالب ہی رکھا ہے ( 58:21)۔ یہ ہے عزیز کا مفہوم اور وہ غلبہ یوں ہی  سامنے نہیں آتابلکہ  بڑی تدبیر  اور پروگراموں  کے ساتھ اس کا غلبہ قائم ہوتا ہے ( حکیماً) دونوں  صفات آیہ کریمہ  کے مفہوم کی وضاحت کررہی ہیں ۔

ہم نے قرآن  کریم  کی بالکل ابتدائی  سورتوں البقرہ اور النساء سے یہ چند آیات  At Ran’dam منتخب  کیں اور ان کی وضاحت  کی۔ یہ ذرا محنت  طلب  کام ہے ۔ اس لئے ان 20 آیات  میں بھی پوری  طرح  Justice  نہیں کرسکے ہیں ۔ ان میں بھی  آیت و صفت  کے ربط پر مزید غور کرنے کی گنجائش ہے۔ بہر حال  ہم نے اس اصول کی وضاحت  خوب اچھی طرح کردی  ہے اور ربط  کا  طریقہ پیش کردیا ہے۔ یہ بڑا علمی  ، اہم  او ربڑا  ضروری ہے ۔ ہماری  ہزار بارہ سوسال کی تحریر کردہ تفاسیر میں ہمارے  تمام مفسرین  کرام نے اس نکتہ کی طرف توجہ نہیں کی۔

اس نکتہ کی وضاحت  سے سب سے اہم فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس سے قرآن کے وحی الہٰی  ہونے کا ثبوت  ملتاہے کیونکہ اپنی کثیر تعداد میں صفاتِ الہٰی  کا تصور ذہن  انسانی کرہی نہیں سکتا ۔ اللہ تعالیٰ  کی یہ صفات صرف وحی الہٰی ہی بیان  کرسکتی تھی ۔ دوسری بات  یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  قرآن  کے بارےمیں  کوئی نوٹس اپنےساتھ نہیں رکھتے  تھے کہ انہوں نے دیکھ لیا کہ کون سی  صفت فلاں مقام پر آچکی ہے اور کونسی  صفت  کو یہاں لکھنا مناسب ہوگا ۔ اتنی صفات کو ہر وقت پیش نظر رکھنا  اور ان کا آیات  سے ربط رکھنا عقل  انسانی  کے بس کی با ت نہیں ۔ قرآن  نے اپنے بے مثل ہونے کا جو دعویٰ کیا تھا اس میں ایک وجہ صفات الہی  کی وضاحت  بھی ہے ۔  یہ نکتہ  اس قدر بادر اور انوکھا ہے کہ آئندہ آنے والے مفسرین  ، خواہ وہ تحریک  طلوع اسلام کےمخالف  ہی کیوں نہ ہوں ، وہ اس نکتہ کو نظر انداز نہیں کرسکیں گے اور اس طرح  تفسیر  قرآن کا  ایک نیا دور شروع ہوگا اور اس کا پورا پورا  Credit  تحریک طلوع اسلام کو جاتا  ہے۔

جولائی ، 2014  بشکریہ : ماہنامہ صو ت الحق ، کراچی

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/khwaja-azhar-abbas/miracles-of-the-quran-part--18--اعجاز-القرآن-۔-اٹھارہ/d/98353

 

Loading..

Loading..