New Age Islam
Sat Sep 19 2020, 06:15 AM

Urdu Section ( 4 Jul 2014, NewAgeIslam.Com)

Miracles of the Quran Part- 16 اعجاز القرآن ۔ قسط سولہ

 

 

 

 

 

 

تخلیق کائنات بالحق ہوتی ہے۔ باب (16)

 انسانی علوم  کی ابتداء یونان سے ہوئی ہے ۔ یونان  میں ہی فیثا غورث، سُقراط ، بُقراط، افلاطون اور ارسطو وغیرہ پیدا ہوئے ہیں ۔ انہوں نے  انسانی علوم  کو انتہائی  عروج پر پہنچا  یا تھا ۔ ان حکماء  کےنظریات نے ساری دنیا کو متاثر کیا ہے ۔ بنو عباس  کے دور میں  یہ نظریات  مسلمانوں  میں در آئے اور پھر مسلمانوں کی معرفت ہی یہ مغربی  ممالک تک پہنچے ۔یونانی حکماء  اور ان کی  کتابوں  کا اثر آج  تک یورپ میں موجود ہے۔ ان  حکما ء  کے افکار  نے ساری دنیا کی فکر  کو متاثر کیا ہے ۔ مسلمانوں  میں جب یہ علوم در آئے ،تو مسلمان علماء  بھی ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے ۔ بعض  فلاسفر  تو اس درجہ  متاثر ہوئے  کہ ان افکار  کے ہی ہوکر رہ گئے لیکن بعض  نے ان کا مقابلہ کیا ۔ ان میں ہی  معتزلہ  بھی تھے ،  انہوں نے  یونانی علوم میں مہارت  تامَّہ  حاصل کر کے  ، ان علوم  کا ابطال  کیا ۔ تاہم بحیثیت  مجموعی  یونانی  علوم نے مسلم فکر  کو بہت متاثر  کیا او رمسلمانوں کی فکر کو بہت نقصان پہنچا یا ۔ یونانی  مفکرین  کا یہ عقیدہ تھا کہ کائنات  کی حرکت دور ہی ہے ۔ اس نظریہ نے  نہ صرف  مسلمانوں  کو نقصان پہنچایا بلکہ ساری  انسانیت  کو اس نے نقصان دیا ۔ آج تک مغربی ممالک  اور خاص طور  پر ہندوستانی مفکرین  اس نظریہ کے قائل چلے آرہے ہیں ۔ اس نظریہ  کی ابتداء افلاطون نے کی تھی ۔ اس کا یہ عقیدہ  تھا کہ دنیا  ئے محسوسات  در حقیقت  اپنا کوئی وجود نہیں رکھتی ۔ حقیقی دنیا  عالم امثال World of Ideas  کی ہے جو کہیں  عالم بالا  میں واقع  ہے او رہماری  یہ کائنات اس دنیا کا ایک سایہ ہے ۔ افلا طون کایہی نظریہ ہندوؤں  کے تصوف میں وحدانیت  کی روح قرار  پایا ۔  ہندو تصوف  کی رُو سے پرا کرتی ( ساری دنیا فریب محض  ہے او ر کائنات  اللہ کا خواب ہے جس دن  اس کی آنکھ کھل گئی یہ خواب معدوم ہوجائے گا ۔ یہ کار گہ عظیم یعنی  کائنات ایشور  کی لیلا ہے ۔ ایک جھیل  ہے جس میں کوئی شیے  اپنے حقیقی رنگ میں سامنے نہیں آتی ہے بلکہ حقیقت  کی محض تمثیل  ہوتی ہے ۔ نہ بادشاہ بادشاہ  ہوتاہے ۔ نہ غلام غلام ، نہ دریا دریا ہوتا ہے نہ پہاڑ پہاڑ ۔ یہ سب  فریب  نگاہ  ہوتا ہے ۔ ہندو فلسفہ میں اللہ کو نٹ راجن  کہا جاتا ہے یعنی ایکٹروں کا بادشاہ ۔

جیسا کہ عرض کیا گیا ہے اس نظریہ نے مسلمانوں  کو بہت نقصان پہنچا یا ۔ اس  نظریہ کی  وجہ سے انسان کو دل میں کائنات  کی کوئی اہمیت  ہی باقی نہیں  رہتی بلکہ  ایک  Nagative Attitude  پیدا ہوجاتا ہے ۔ اکثر مذہبی  لوگ دنیا سے نفرت کرنے لگتے ہیں ۔ جس قوم میں بھی اس نظریہ کا جس قدر اثر ہوا، اسی درجہ  وہ قوم پستی کی حالت  میں کرتی چلی گئی ۔ اس قوم میں کوئی شخص  سائنسی  تحقیقات  نہیں کرتا ، نہ ہی کائنات  کی قوتوں  کو مسخر کرتا ہے ۔ ہمارے تصوف  کی ساری  عمارت  اسی نظریہ پر قائم ہے ۔ فارسی  اور اردو شاعری اس نظریہ سے بھری پڑی ہے عربی میں بھی  ایسے اشعار  ہیں لیکن  ان کی تعداد کم ہے ۔ عربی کے ایک شعر  میں اس نظریہ کو مکمل طور پر بیان کردیا ہے ۔

کلمافی الکون وھم  اوخیال            اد عکوس فی المرایا اور ظلال

( ترجمہ) دنیا میں  جو کچھ بھی ہے وہ یا وہم ہے یا خیال ہے یا آئینے میں  عکس ہے، یا صرف سایہ ہے۔ اسی مضمون کو غالب نے کہا ۔

ہستی  کے مت  فریب  میں آجائیو اسد              علم تمام حلقۂ دام خیال ہے

قرآن کریم کے نزول سے پیشتر ساری دنیا  میں کائنات  کے متعلق  یہی نظریہ تھا کہ اس کا کوئی حقیقی  وجود نہیں ہے ۔ یہ صرف سراب ہے، وہم ہے اور اس کا لازمی  نتیجہ  یہ تھا کہ جب یہ کائنات وہم اور فریب ہے تو اس کے متعلق  علم بھی درحقیقت  علم نہیں ہے ۔ظنّ و گمان ہے ۔ دنیا کے کونے کونے میں یہ نظریہ مُسلّط تھا لیکن  قرآنِ کریم  نے اس نظریہ  کی نہ صرف تغلیط و تردید کی بلکہ اس کی دھجیاں بکھیر کے رکھ دیں اور یہ بات قرآنِ کریم کے وحی الٰہی  ہونے کا بہت  مضبوط ثبوت ہے۔

قرآن کریم نے دعویٰ کیا کہ کائنات کا حقیقی وجود ہے اور یہ بالحق  پیدا کی گئی ہے ۔ اس موضوع کو قرآن کریم نے ایجابی و سلبی دونوں طرح سے بیان فرمایا ہے ۔ آپ پہلے  موجیہ آیات ملاحظہ فرمائیں ۔ جن  میں تخلیق  کائنات کو بالحق  بیان کیا گیا ہے۔

(1) خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِّلْمُؤْمِنِينَ ( 29:44) اللہ نے آسمانوں اور زمین کو  بالحق پیداکیا ہے ۔ اس میں یقین  کرنے والوں  کے لئے نشانی ہے ۔ قرآن  کریم یہ بات چودہ سو سال پیشتر کہہ رہا ہے کہ اللہ کے اس کائنات کو بلا  مقصد  پیدا نہیں  کیا بلکہ بالحق  پیدا  کیا ہے ۔ حق  کے مطابق  کیا ہے ۔ ایک متعینہ  مقصد  کے لئے پیدا کیا ہے ۔ اس کے پیچھے  ایک قوت ہے جو الحق ہے ۔ وہ اس کو کسی منزل  مقصود کی طرف چلا رہی ہے ۔ اس قوت کائنات  کے قوانین کے اوپر پوری گرفت ہے ۔  وہ قوانین  صحیح نتائج  پیدا کرتے ہیں۔

(2) وَخَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ وَلِتُجْزَىٰ كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ ( 45:22) اللہ نے آسمان اور زمین کو بالحق پیدا کیا ہے تاکہ ہر شخص  کو اس کے عمل  کا بدلہ مل سکے اور کسی پر ظلم نہ ہو۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ جو خارجی  کائنات ہے وہ ہم نے بالحق پیدا کی ہے اور اس کا ایک مقصد ہے اور وہ مقصد یہ ہے کہ تمہارا کوئی عمل  نتیجہ  کے بغیر نہ رہ جائے ۔ کسی کا اچھا  کام اچھے نتائج کے بغیر  نہ رہے اگر ایسا ہوجائے تو یہ ظلم ہوگا اور جو شخص تخریبی کام کرتا ہے وہ بھی اس  کے تخریبی  اثر سے  نہ بچ سکے،اگر وہ اس کے تخریبی نتائج سےبچ گیا تو یہ بھی ظلم ہوگا ۔ یہ ساری  خارجی کائنات  اس لئے محو گردش  ہے کہ جن کےاوپر وہ ظلم  کررہاہے وہ نہ ہونے پائے ۔

(3) إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ ( 3:190) حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ عقل و بصیرت  سے کام لیتے ہیں ان کے لئے کائنات کی پیدائش اور دن رات  کر گردش میں قوانین الہٰی  کی محکمیت  او رہمہ گیری کی بڑی بڑی نشانیاں  ہیں ۔

(4)وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقّ (6:73) (ترجمہ) اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو بالحق پیدا کیا ۔ یہ آیہ کریمہ  تفسیر کے ذیل میں ‘‘ تدبر قرآن ’’ میں تحریر  ہے او رملاحظہ فرمائیں ۔ ‘‘ آسمان و زمین میں خالق  کی قدرت، حکمت اور ربوبیت  کے جو آثار  و دلائل ہیں وہ اس  حقیقت  پر شاہد ہیں کہ یہ  کارخانہ  کسی کھلنڈر ے کا کھیل  نہیں ہے جو اس نے محض اپنا  جی بہلانے  کے لئے بنایا ہو بلکہ  یہ ایک قدیر ، علیم ، حکیم ، رحمان و رحیم  ذات کی بنائی ہوئی دنیا ہے ۔ اگر  یہ یونہی  چلتی رہے اس  کے اندر جو ظلم ہے، اس کے انصاف کے لئے کوئی دن نہ آئے ۔جو عدل  ہے اس کی داد کا کوئی وقت نہ آئے ۔ اس کے اندر جو برُے شریر اور نابکار  ہیں، ان کو کوئی  سزا نہ ملے ، جو نیک  ، حق شناس اور عدل  شعار ہیں  ان کو ان کی نیکیوں  کی جزاء نہ ملے تو اس کے معنی  ہوئے کہ  یہ سارا  کارخانہ بالکل عبث ، بے غایت اور باطل ہے جس کے بنانے والے  کے نزدیک خیر و شر ، ظلم و عدل ، حق اور باطل  میں کوئی فرق  ہی نہیں ہے ۔ یہ بات انسان  کی عقل و فطرت  کسی طرح  بھی قبول  نہیں کرسکتی اس لئے  کہ جس خالق  کی خلقت  کے ہر گوشے  میں اس کی حکمت  ، قدرت،  رحمت اور ربوبیت کے آثار  موجود ہیں اور اتنی کثرت  کے ساتھ موجود ہیں کہ انسان کسی طرح ان کا احاطہ  نہیں کرسکتا  اس کی نسبت  وہ کس طرح یہ باور کرے  کہ اس کو ہماری  نیکی بدی اور ہمارے  عدل و ظلم سے کوئی  ظلم سے کوئی بحث نہیں ہے’’۔

(5) أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ (14:19) ( ترجمہ) کیا تو نے دیکھا نہیں  کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین  کو حق  کے ساتھ پیدا کیا ہے ۔

(6) خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ ۚ تَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ (16:3) اس نے آسمانوں اور زمین  کو حق کے ساتھ پیدا کیا اور وہ اس سے بالاتر  ہے کہ اس کے لئے وہ شریک بناتے ہیں ۔

قرآن  کہتا ہے کہ  It does exit and exist in reality یہ حقیقت  ہے ۔ یاد رکھو کہ ہم یونہی باطل چیزیں  پیدا  نہیں کیا کرتے  بلکہ بالحق  اور ایک مقصد کے لئے پیدا کرتے ہیں ۔

(7) خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ ۖ يُكَوِّرُ اللَّيْلَ عَلَى النَّهَارِ وَيُكَوِّرُ النَّهَارَ عَلَى اللَّيْلِ (39:5) اس نے آسمانوں اور زمین کو بالحق پیدا کیا ۔ لپیٹا ہے رات کو دن پر اور لپیٹا ہے دن کو رات پر ۔ امام راغب  نے الحق  کے معنی  مطابقت اور موافقت  تحریر کئے ہیں ۔ ‘‘ جیسا کہ دروازے کی چول اپنے  گڑھے ( Socket) میں اس طرح فٹ آجاتی ہے کہ وہ اپنے  مقام پر  ثابت  بھی  ہو اور پھر اس میں تغیر  بھی آتا چلا جائے کہ وہ جامد نہ ہو خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ، ہر قانون  جو کائنات  میں جاری ہے وہ غیر متبدل ہے اور تغیر  اس طرح  ہے کہ اگر ہمیشہ  قیامت  تک  دن ہی دن  دیتا اور کبھی رات نہ ہوتی تو کوئی شخص سونہیں سکتا تھا ۔ یہ موسموں  ، ہواؤں، پانیوں کی تبدیلیاں  نہ ہوتیں ، تو زندگی کی رونق  باقی نہ رہتی ۔ اس کے اندر یہ تغیر  نہ ہوتا تو یہ کائنات  کا سلسلہ  چل ہی نہیں  سکتا تھا اور یہ الحق  ہے ۔یہاں  آپ غور فرمائیں  کہ قانون  فطرت اپنے مقام پر غیر متبدل  ہے لیکن  اس میں تبدیلیاں اور تغیرات  آتے رہتےہیں ۔ یہ سب قانون الہٰی  کے مطابق  ہوتاہے ارشاد ہوتا ہے ۔

قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِن جَعَلَ اللَّهُ عَلَيْكُمُ اللَّيْلَ سَرْمَدًا إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَنْ إِلَٰهٌ غَيْرُ اللَّهِ يَأْتِيكُم بِضِيَاءٍ أَفَلَا تَسْمَعُونَ(28:71) کہہ دو مجھے بتاؤ کہ اگر اللہ  روز قیامت  تک تمہارے لئے رات ہی کو باقی  رکھتا  ، تو کیا اللہ کے علاوہ کوئی معبود ہے جو تمہارے  لئے روشنی لاسکتا ، کیا تم سنتے نہیں ۔قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِن جَعَلَ اللَّهُ عَلَيْكُمُ النَّهَارَ سَرْمَدًا إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَنْ إِلَٰهٌ غَيْرُ اللَّهِ يَأْتِيكُم بِلَيْلٍ تَسْكُنُونَ فِيهِ ۖ أَفَلَا تُبْصِرُونَ (28:72) کہہ دو مجھے بتاؤ اگر اللہ روز قیامت  تک دن  کو ہی باقی  رکھنا چاہئے تو کیا اللہ کے علاوہ کوئی معبود ہے جو تمہارے لئے رات  لاسکے تاکہ تم  اس میں سکون  پا سکو، کیا تم دیکھتے نہیں  ہو رات دن  قانون الہٰی  کے مطابق  چل رہے ہیں ۔ رات دن کے بدلنے  کا قانون غیر متبدل  ہے لیکن رات دن کا آنا جانا، تغیر  پر مبنی ہے ۔ اب  آپ کے سامنے وہ آیات  کریمات  پیش کی جاتی ہیں جن آیات سالبہ  میں کائنات  کی تخلیق کو بالحق  بیان کیا گیا ہے ۔

(1)  وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَاطِلًا ( 38:27) آسمان و زمین کو او رجو کچھ ان کے درمیان ہے انہیں باطل  پیدا نہیں کیا ۔ یہ حقیقت  موجود ہیں اور ایک عظیم مقصد کے لئے پیدا کئے گئے ہیں  ذَٰلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُوا جو لوگ فریب تخیل سمجھتے  ہیں وہ کافر ہیں کیونکہ  وہ حقیقت  کا انکار کرتے ہیں ۔فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ كَفَرُوا مِنَ النَّارِ (38:27) جو لوگ ایسا  سمجھتے ہیں ان کی سعی  و عمل راکھ کا ڈھیر بن جاتی ہے ۔

(2) وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا لَاعِبِينَ ، مَا خَلَقْنَاهُمَا إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ( 44:38:39) اور ہم نے زمین و آسمان  کو اور جواس کے درمیان ہے کھیل کے طور پر نہیں بنایا ۔ ان کو ہم نے بالحق پیدا کیا ہے لیکن اکثرلوگ یہ بات نہیں  جانتے ۔

(3) إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ ، الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَٰذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (3:190:191) بیشک زمین اور آسمان  کی تخلیق  میں اور رات دن کے آنے جانے میں، صاحبان  عقل  کے لئے نشانیاں ہیں ۔ وہ لوگ اللہ کو اُٹھتے بیٹھتے اور اس وقت  جب کہ وہ پہلو  کے بل لیٹتے ہیں یاد ہیں اور زمین  اور آسمان  کی پیدائش کے اسرار  پر غور و فکر کرتے ہیں ( او رکہتے ہیں ) اے اللہ تو نے فضول  پیدا نہیں  کیا، تو پاک  ہے۔ ہمیں  آگ کے عذاب سے محفوظ رکھ ۔

یہ دس آیات آئمہ کے خدمت عالی میں پیش کی گئی ہیں ۔ یہ آیات خود اتنی واضح ہیں کہ ان کے سمجھنے  کے لئے  کسی تفسیر کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی ۔ یہ سب آیات  خود پکار پکار کے کہہ رہی ہیں  کہ یہ کائنات بالحق  پیدا کی گئی ہے ۔ یہ  کائنات ایک حقیقت ہے ۔ یہ ایک Reality ہے یہ Exist  کرتی ہے ۔ قرآن کریم نےیونانی، ہندوستانی او رمغربی مفکرین کے علیٰ  الرغم اس عقیدہ  کی دھجیاں  بکھیر دیں  کہ یہ کائنات  سراب  ہے اور تخیل  کا دھوکا  ہے ۔ دنیا  کے تمام مفکرین کے عقیدہ  کی تردید کرنا اور اپنا منفرد نظریہ پیش  کرنا، یہ قرآن  کریم  کا ہی اعجاز ہے۔

مسئلہ ارتقاء اور قرآن کریم :

نزول قرآن کے وقت عربوں  کی بہت سادہ زندگی  اور سادہ فکر تھی او رزیادہ تر آبادی بدوی زندگی گزارتی تھی اور صرف تین شہر، مدینہ اور طائف  میں شہر زندگی  کے آثار نمایاں  تھے ۔چند ہی لوگ تعلیم یافتہ تھے جن کی تعداد سترہ بتائی جاتی ہے ۔ یہ بھی کوئی زیادہ تعلیم  یافتہ نہیں  تھے صرف لکھنا پڑھنا  جانتے تھے ۔ ان کے زیادہ تر رسم  و رواج  روایات (Traditions ) پر قائم تھے جو ان کے بزرگوں  سے چلی آرہی تھیں ۔یہ لوگ نہایت درجہ  کے تو ہم  پرست تھے اس لئے ان کی رسوم بھی تو ہم پرستی  پر قائم تھیں ۔اسی لئے ان میں رد بدل بھی نہیں  کرتے تھے ۔ ان کے ہاں کوئی کتاب  ہی نہیں  تھی ۔ سب سے  پہلی قرآن کریم  ہی ان کی کتاب تھی ۔ اس سادہ دور میں قرآن کریم نے کائنات کی تخلیق  اور اس کے ارتقاء پر بحث کی ہے اور خود انسان  کی پیدائش  اور اس کے ارتقاء  سےبھی  الگ بحث  کی ہے ۔ اس کا آپس میں غلط مبحث  نہیں کرنا چاہئے ۔ ان دونوں  موصوعات  کے متعلق  آیات پیش خدمت عالی  کی جاتی ہے ۔پھر آپ بغیر کسی تعصب اور دیانتداری  سے غور فرمائیں  کہ اس دور میں  یہ معلومات کوئی شخص  اپنی فکر سے بیان کرسکتا تھا ۔ ان آیات  پر غور  کرنے سے واضح ہوجاتاہے  کہ قرآن کریم  وحی الہٰی  ہے ۔ آپ پہلے تخلیق  کائنات  کے متعلق  آیات ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر اس کے بعد انسانی تخلیق  اور اس کے ارتقاء سےمتعلق  آیات پیش کی جائیں گی ۔ جیسا کہ گذشتہ باب  میں یہ بات تفصیل  سے بیان کردی گئی تھی  کہ یونانی ، ہندی  اور مغربی مفکر  کائنات  کے وجود کے قائل  ہی نہیں تھے ۔ ان مفکرین  کا یہ خیال تھا  کہ یہ کائنات  جو ہمیں  محسوس  طور پر دکھائی  دیتی ہے ۔ وہ اپنا وجود ہی نہیں رکھتی ۔ اصلی اور حقیقی کائنات  عالم امثال ہے اور یہ کائنات  اس حقیقی  دنیا کا عکس  ہے اس لئے اس کائنات کا جو بھی علم حاصل کیا جاتا ہے وہ  بھی قابل بھروسہ نہیں ہے اس علم پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا ۔ یقینی علم  وہ ہے جو آنکھیں  او رکان بند کر کے، عالم تصور میں  Meditation کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے لیکن ان تمام مفکروں کی فکر کے علیٰ  الرغم قرآنِ کریم نے للکار کر کہا کہ یہ کائنات بالحق پیدا کی گئی ہے  وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا لَاعِبِينَ (44:38) ہم نے کائنات کی پشتیوں اور بلندیوں او ران کے درمیان میں جو کچھ پیدا کیا ہے، اس کو کھیل  کےلئےپیدا  نہیں کیا گیا ہے۔  دوسری جگہ ارشاد فرمایا  خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِّلْمُؤْمِنِينَ (29:44) اللہ نے آسمانوں اور زمین کو بالحق  پیدا کیا ہے اور اس میں مومنین کے لئے نشانی ہے۔  یہ بھی فرمایا  رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَٰذَا بَاطِلًا (3:191) ہمارے پروردگار تو نے اس کو باطل پیدا نہیں کیا ۔ مسلمانوں  کا یہ فریضہ  ہے کہ وہ کائنات  کی ہر شے کے متعلق عملاً  یہ ثابت کریں کہ فلاں  چیز فلاں فائدہ کےلئے پیدا  کی گئی ہے تاکہ یہ بات ثابت  ہوجائے کہ دنیا  کی کوئی چیز  باطل پیدا نہیں کئی گئی ہے ۔

واضح  رہے کہ  یہ کائنات  اتفاقیہ طور پر وجود میں  نہیں آگئی ۔ اس کا ایک عظیم پروگرام ہے او ریہ کائنات  اس پروگرام کی تکمیل  کے لئے کوشاں  ہے۔ یہ پروگرام چونکہ  ایک مقرر شدہ  اسکیم  کے ماتحت  عمل میں آیا ہے اس لئے اس کاہر قدم اسی منزل کی طرف رواں  دواں ہے۔

یہ بات  بھی پیش نظر رکھئے کہ اس کائنات  میں جتنی چیزیں  اس وقت موجود ہیں وہ بیک وقت  اسی شکل  میں پیدا نہیں  ہوگئی تھیں ۔ ان کی پیدائش  کی ابتداء ایک معمولی سے نکتے سے ہوئی ہے ۔ پھر وہ اپنے نکتہ آغاز  سے نشو ونما پاتی گئیں ۔ چونکہ اللہ تعالیٰ رب ہے ۔ وہ ہر چیز کو اپنے نکتہِ آغاز سے تربیت دیتا ہوا،  آہستہ آہستہ  تبدریج  آخری شکل  تک لے جاتا ہے ۔ اس لئے دنیا کی یہ تمام اشیاء بھی آہستہ آہستہ موجودہ شکل میں آئی ہیں  اور مزید ترقی  اور نشو ونما یافتہ  ہوتی چلی جائیں گی ۔ اب اس کے وہ تدریجی مراحل پیش کئے جاتے ہیں جن  سے گزر کر کائنات موجودہ حالت میں آئی ہے۔

(1) بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ وَإِذَا قَضَىٰ أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فَيَكُونُ (2:117) آسمان و زمین کا بنانے والا جب کسی کام کو ٹھان لیتا ہے تو اس کی نسبت صرف یہ کہہ دیتا ہے کہ ہوجا، بس وہ خود بخود ہوجاتا ہے ۔

 قرآن میں بدیع السموت والارض یعنی  اللہ وہ ہے جو اس  کائنات کو عدم سے وجود میں لایا ۔ یہ کس طرح ہوا اسے  اس آیت کے اگلے ٹکڑے میں بیان کردیا۔ وَإِذَا قَضَىٰ أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فَيَكُونُ یعنی جب وہ ایک امر کا فیصلہ کرتاہے تو اسے ( اس امر کو) کہتا ہے کُن ۔ ہوجا۔ تو وہ ہوجاتا ہے ۔ یعنی  امر کی حالت وہ ہے جس  میں اشیاء نے ہنوز صورت اختیار  نہیں کی ہوتی ۔ جب وہ امر ( اللہ کے پروگرام کے مطابق) متشکل  ہوجاتا ہے (صورت اختیار  کرلیتا ہے) تو وہ شئے بن جاتا ہے ۔ ہم  کسی شئے کا تصور بغیر اس کی صورت کے کرہی نہیں سکتے ۔ اللہ کے عالم  امر کی کیا کیفیت ہے ۔ ہم اس کا اندازہ نہیں کرسکتے ۔ اس لئے کہ وہاں  صورت نہیں  ہوتی ۔ اللہ اس Fromless  امر کو صورت عطا کرتا ہے’’ ۔ لغات القرآن ۔

(2) إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَن يَقُولَ لَهُ كُن فَيَكُونُ ( 36:82) اس کی شان تو یہ ہے کہ جب کسی چیز کو پیدا کرتا ہے تو کہہ دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ فوراً ہوجاتی ہے ۔ اسے تخلیق  کے لئے کہیں سے مصالہ Material  لانا نہیں  پڑتا اس کا قانون تخلیق  یہ ہے کہ جب وہ کسی شے کو پیدا کرنے کا ارادہ  کے ساتھ ہی اس شے کی تخلیق  کی ابتدا ء ہوجاتی ہے جب وہ  شے عالم امر سے عالم خلق  میں آجاتی ہے تو پھر وہ قوانین کی پابند  ہوجاتی ہے اور یہاں سے ہی اس پر سائنس کے قوانین کا اطلاق  شروع ہوجاتا ہے ۔

(3) إِنَّهُ يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ لِيَجْزِيَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ بِالْقِسْطِ (10:4) اس میں کوئی شک و شبہ نہیں اس کا کائناتی قانون یہ ہے کہ وہ مختلف اشیاء کو، ان کے نکتہِ آغاز سے پیدا کرتا ہے او رپھر ان کے مختلف  پہلو بدل کر طرح طرح  گردشیں دے کر متعدد ارتقائی منازل  کے بعد انہیں  تکمیل تک پہنچا تا ہے ۔ اس کے اس قانون کے مطابق  انسانی اعمال بھی  نتیجہ خیز  ہوتے ہیں یعنی  وہ لوگ  جو اس قانون پر ایمان لاتے ہیں  اور پھر اس کے متعین  کردہ صلاحیت  بخش پروگرام پر عمل کرتے ہیں ۔ انہیں حق  و انصاف  کے مطابق ان کے اعمال  کا نتیجہ مل جاتاہے۔

(4) وَتَحْمِلُ أَثْقَالَكُمْ إِلَىٰ بَلَدٍ لَّمْ تَكُونُوا بَالِغِيهِ إِلَّا بِشِقِّ الْأَنفُسِ إِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ ، وَالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ لِتَرْكَبُوهَا وَزِينَةً ۚ وَيَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُونَ ( 16:7:8) ( اور اس نے تمہارے لئے چوپایوں کو پیدا کیا) وہ تمہارے بوجھ  ایسے مقام تک اٹھائے  جاتے ہیں جہاں تک تم بہت مُشقت کے بغیر نہیں پہنچ سکتے کیونکہ تمہارا پروردگار  رؤف و رحیم  ہے اور اسی طرح اس نے گھوڑوں ، خچروں او رگدھوں کو پیدا کیا تاکہ ان پر سوار ی کرسکو اور وہ تمہاری زینت کا سبب بھی ہوں اور وہ ( نقل وحمل) کے دیگر ذرائع پیدا کرے گا کہ جنہیں  تم نہیں جانتے ۔

گذشتہ دور کے مفسرین کرام اسی  کے قائل تھے کہ اس آیت  میں ایسے جانورو ں کی طرف اشارہ ہے جو مستقبل  میں پیدا ہوں گے اور وہ بطور ذرائع حمل و نقل ان موجودہ  جانوروں  سے بہتر ہوں گے لیکن چونکہ ہم مشینی دور میں رہ رہے ہیں اور یہ تیز رفتار  سواریوں  کا زمانہ ہے اس لئے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ ان کا اطلاق صرف جانوروں  تک محدود نہیں ہے ۔بلکہ اس کا اطلاق مشینی ذرائع پر بھی ہوسکتا ہے ۔ آیت  میں لفظ  تخلیق استعمال کیا گیا ہے اس میں اللہ تعالیٰ  کے علاوہ انسان کی تخلیق  کردہ چیزیں بھی شامل ہوسکتی ہیں۔

یہ کائنات ایک دفعہ ہی وجود میں نہیں آگئی  بلکہ اس میں اضافہ ہوتے رہے ہیں اور ہورہے ہیں  يَزِيدُ فِي الْخَلْقِ مَا يَشَاءُ (35:1) وہ اپنے قانون مشیت کے مطابق  اپنی تخلیق میں اضافے کئے چلا آرہاہے ۔ کیا یہ سب باطل  ہیں۔ یہ اشیائے کائنات، یہ مویشی ، یہ تمام چیزیں  جن کا ہم نے (16:8) میں تذکرہ کیا ہے، ان سب کی پیدائش باطل ہے ۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے جس چیز کو جس مقصد کے لئے پیدا کیا  ، جس انداز سے ، جس فطرت پر پیدا کیا  ، وہ اس پر چلے جارہا ہے اور کسی چیز  میں یہ طاقت نہیں کہ وہ ذراسی بھی سرتابی کرے ۔

(5) اشیائے کائنات میں ہر شے کے اندر اس کا پروگرام و دیعت  کردیا گیا ہے  قَالَ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطَىٰ كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَىٰ ( 20:50) موسیٰ نے کہا کہ ہمارا رب کسی خاص گروہ کسی  خاص قوم کا رب نہیں  ہے ۔ ہمارا رب تو وہ ہے  جو ہر شے کو پیدا کرتا ہے اور اسے راستہ بتادیتا ہے جس پر چل کر ہر چیز اپنی منزل  مقصود تک پہنچ جاتی ہے ۔ یوں تو اس آیت  کریمہ کا خطاب ساری  ہی انسانیت سے ہے ، ہم بھی اس میں شامل ہیں لیکن اس آیت کی Significance  صرف موجودہ دور کے سائنسدان ہی  جان سکتے ہیں کہ یہ آیت کس قدر جامع ہے۔ یہ عجیب  بات ہے کہ ہر شے کو پیدا کرنے کے بعد ان کے اندر یہ  چیز رکھ دی کہ  وہ اپنی اپنی  منزل  پر کس طرح  پہنچ رہے ہیں انہیں یونہی  مشین  کی طرح  پیدا  کردیا بلکہ پیدائش  کے ساتھ ہی یہ کیفیت  رکھ دی کہ یہ اشیاء اپنے مقصود  تک کیسے پہنچ  سکتی ہے ۔

(6) کائنات  میں مختلف  کُرّے جو اس وقت الگ الگ دکھائی دیتے ہیں ابتدائی دور میں  یہ سب ایک ہی تھے ۔ پھر بعد  میں یہ الگ الگ ہوئے ہیں ۔أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا ۖ وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ أَفَلَا يُؤْمِنُونَ (21:30) کیا قانون  الہٰی  سے انکار کرنے والوں  نے یہ نہیں دیکھا کہ آسمانی کُرّے اور زمین پہلے آپس  میں ملے ہوئے تھے اور ہم نے ان کو جداجدا کردیا  اور تمام چیزیں ہم نے پانی سےبنائیں پھر یہ لوگ ایمان  کیوں نہیں لاتے ۔ کُرّہ ِ ارض  اس ابتدائی ہیولے  سے یوں الگ ہوا جیسے  ایک گوپئے  سے پتھر پھینکا جاتا ہے ۔وَالْأَرْضَ بَعْدَ ذَٰلِكَ دَحَاهَا ( 79:30) اور اس کے بعد زمین کو الگ پھینک دیا ۔

(7) پوری کائنات  ایک دفعہ  میں وجود میں نہیں آئی بلکہ  یہ ترقی  کرتی رہی ہے  وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَمَا مَسَّنَا مِن لُّغُوبٍ ( 50:38) اور ہم نے آسمانوں  اور زمین  کو چھ ادوار  میں پیدا کیا اور اس سے ذراسی  بھی تکان محسوس  نہیں ہوتی ۔ زمین دو دنوں میں بنی ہے  خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ ( 41:9) اس نے زمین کو دو مراحل سے گذارا ۔ آسمان دو دنوں میں بنے  فَقَضَاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ فِي يَوْمَيْنِ ( 41:12) اللہ نے آسمانی کُرّوں کو جیسا کہ انہیں ہوناچاہئے تھا، دو ادوار میں بنایا ۔ ( جاری)

مئی ، 2014  بشکریہ : ماہنامہ صوت الحق  ، کراچی 

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/khwaja-azhar-abbas/miracles-of-the-quran-part--16--اعجاز-القرآن-۔--قسط-سولہ/d/97919

 

Loading..

Loading..