New Age Islam
Fri Sep 25 2020, 12:29 PM

Urdu Section ( 8 March 2015, NewAgeIslam.Com)

God's Words Are His Way to Communicate With Humanity اللہ تعالیٰ کا انسانیت سے رابطے کا ذریعہ اس کا کلام ہے

 

 

 

 

 

 

 

خواجہ ازہر عباس ، فاضل نظامی

اللہ تعالیٰ کا انسانیت سے رابطے کا واحد ذریعہ اس کا کلام کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذاتِ عالی اس درجہ عظیم المرتبت ہےکہ کوئی انسان نہ تو اس سے براہِ راست  کلام کرسکتا ہے او رنہ ہی براہِ راست اس کی اطاعت کی جاسکتی ہے۔ اس ذاتِ عالی سے کلام بھی صرف رسولوں کی معرفت ہوسکتا تھا اور اس  کی اطاعت بھی رسولوں کی معرفت ہوسکتی تھی مَّن يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ ( 4:80) جس نے رسول کی اطاعت کی ، تو اس نے اللہ کی اطاعت کی ، جب تک انبیاء کرام کی آمد کا سلسلہ جاری رہا یہ دونوں امور براہِ راست انبیاء کرام میں نگرانی اور ان کی زیر سرپرستی سر انجام پاتے رہے۔ انبیاء کرام براہِ راست اپنی اپنی اُمتوں کو اللہ تعالیٰ کا کلام پہنچا تے رہے اور ان انبیاء کرام کی اطاعت کرنے سے اللہ تعالیٰ کی اطاعت بھی ہوتی رہی ۔ ختم نبوت  کے بعد اللہ تعالیٰ سے کلام  کرنے اور اس سے براہِ راست علم حاصل کرنے کا واحد ذریعہ قرآن کریم ہے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے کا واحد ذریعہ اس کے عطاء کردہ نظام کی اطاعت ہے۔ نہ تو قرآنِ کریم کے علاوہ اللہ تعالیٰ سے کوئی علم حاصل ہو سکتا ہے اور نہ اسلامی نظام قائم کئے بغیر اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہوسکتی ہے لیکن صد ہزار افسوس کہ ہم نے ان دونوں اُصولوں سے انحراف کیا ۔ ہم مسلمانوں میں ختم نبوت کے بعد بھی قرآن کے علاوہ اللہ تعالیٰ سے براہِ راست علم حاصل کرنے کے طریقے جاری رہے وحی ، خفی، الہام، القاء، کشف، استخارہ ، تفادل ، رُویا ئے صادقہ ان تمام ذرائع سے ہم علم الہٰی حاصل کرتے رہے اور اُس پر عمل بھی کرتے رہے ۔ جہاں تک اطاعت الہٰی  کرنے کا تعلق ہے ہم نے اسلامی نظام کے قیام کے بغیر ہی پرستش کو اطاعت الہٰی قرار دے دیا ۔ پرستش کی رسومات ، نماز، نوافل، وتر، تہجد ، تسبیح و تہلیل یہ سب پرستش ہے لیکن ہم نے اسی کو اطاعت الہٰی  کا درجہ دیا ہے۔ آپ کسی مسجد میں نماز ادا کرنے کے بعد، مسجد سے باہر نکلیں تو آپ سڑک پر جب بھی پہلے چوک پر آئیں گے تو آپ سپاہی کے اشارے کی اطاعت کرکے، اپنی کار کو روک لیں گے۔ اگر آپ نے کار نہیں روکی اور آگے جاکر خدا نخواستہ کوئی حادثہ پیش آگیا تو اس حادثہ کی کارروائی میں بھی آپ پولیس کے قوانین کی اطاعت کریں گے ۔ آپ کی پرستش جسےآپ اللہ کی اطاعت قرار دے رہے ہیں وہ صرف مسجد کی چار دیواری تک محدود ہے۔  مسجد  کے باہر انسانی وضع کردہ نظام کی اطاعت ہوگی ۔ پرستش اللہ تعالیٰ کی اور اطاعت انسانوں کی ۔ یہ بات بھی خیال عالی میں رکھیں گے کہ جب آپ ، کراسنگ پر سپاہی کے اشارے کی اطاعت کریں تو آپ معصیت اللہ و رسول کے مرتکب ہوں گے۔ طاغوتی  نظام کے ہر حکم کی اطاعت معصیت اللہ و رسول اور اللہ تعالیٰ سےبغاوت ہے۔ اس کےبرخلاف اگر آپ اسلامی نظام میں سپاہی  کے اشارے پر عمل کریں گے تو آپ اللہ کی عبادت کریں گے۔ اسلامی نظام کے ہر حکم کی اطاعت ، عبادت الہٰی  ہوتی ہے۔

قرآن کریم کے علاوہ  علمِ الہٰی اور ہدایت الہٰی حاصل کرنے کے جتنے بھی ذرائع ہیں یہ صرف قرآنِ کریم کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے ایجاد کئے گئے ہیں ۔ ان ذرائع میں سر فہرست الہام ہے۔ آپ اگر تصوف کے لڑیچر میں الہامات کا مطالعہ فرمائیں تو آپ کو دو باتیں نمایاں طور پر محسوس ہوں گی۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ان الہامات میں تضاد بہت پایا جاتا ہے۔ کسی  کو الہام ہوا کہ امام مہدی حنفی ہوں گے اور کسی دوسرے بزرگ کو الہام ہوا کہ امام مہدی حنبلی ہوں گے ۔ آپ اولیا ء اللہ کے ان الہامات کو جمع کریں تو  آپ کوان الہامات میں جگہ جگہ واضح تضادات ملیں گے جب کہ علم الہٰی  میں کبھی تضاد نہیں ہوسکتا ۔

دوسری نمایاں بات یہ ہے کہ جتنے الہامات ہیں وہ زیادہ تر پرستش او رمذہب سے متعلق  ہیں ۔ دین سے کسی الہام کا تعلق نہیں ہے ۔ کسی بزرگ یا ولی اللہ کو یہ کبھی الہامات نہیں ہوا کہ  انسان کی حکومت انسان پر حرام ہے اور اقامتِ دین ہر ولی اللہ پر فرض ہے۔ کسی بزرگ کو یہ الہام نہیں ہوا کہ سود کے بغیر کوئی نظام کس طرح چل سکتا ہے۔ کسی بزرگ کو الہام میں سیاسی  یا معاشی  نظام کے اُصول نہیں بتائے گئے ۔ استخارہ بھی اسی نوعیت  کی ایک رسم ہے ۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے تو وہ بندوں سے ان تین طریقوں سے گفتگو کرسکتا ہے ( 42:51) اس گفتگو کی ابتداء ( Initiative) اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے۔ وہ ذاتِ عالی غنی و حمید ہے۔ وہ کسی بندہ کی پابند نہیں  کہ وہ کسی بندہ کے کہنے پر اس سےکلام کرے لیکن  استخارہ میں ابتداء انسان کی طرف سےکی جاتی ہے کہ وہ انسان جب چاہتا ہے اللہ تعالیٰ سے علم حاصل کرلیتا ہے۔

یہ بات بھی ممکن ہے کہ شاید آپ کو استخارہ کرنے کا طریقہ ہی معلوم نہ ہو کہ استخارہ کس طرح کرتےہیں ۔ تو آپ کے ازدیادِ علم کےلئے عرض ہے کہ استخارہ کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے  مستخیر اپنے ذہن میں یہ بات طے کر لیتا ہے کہ وہ تسبیح کے دانے الگ الگ کرے گا۔اگر تسبیح کے دانے طاق آئے تو میں یہ کام کروں گا اور اگر طاق نہیں آئے بلکہ جفت آئے تو میں یہ کام نہیں کرو ں گا یہ بات ذہن میں طے کرنے کے بعد وہ مستخیر پہلے، تین بار، یا چار بار، یا سات بار، درود شریف پڑھتا ہے اس کے بعد وہ یہ دعا پڑھتا ہے استخیر اللہ ربی خیراً عافیۃً ( ترجمہ، میں اپنے رب سے عافیت والی خیر طلب کرتا ہوں) یا اسی قسم کی کوئی اور دُعا بھی پڑھ لیتے ہیں ۔ اس کے بعد مستخیر تسبیح کے دانوں کو شمار کرتا ہے۔ اگر وہ دانے طاق آئے تو وہ کام کر لیتا ہے جس کے لئے وہ اللہ  تعالیٰ کی مرضی طلب کررہا ہے ورنہ دوسری صورت میں وہ مستخیر اس کام کو نہیں کرے گا لیکن آپ غور فرمائیں کہ اس طریقہ کے مطابق تسبیح کے دانوں کو شمار کرنے پر علم الہٰی حاصل کرنے کا دارو مدار رہ جاتاہے ۔ اصل یہ ہے کہ ہم نے علم الہٰی  کی اہمیت کا اندازہ ہی نہیں کیا ۔ وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ ( 6:91) او رلوگوں نے اللہ کی جیسی قدر کرنی چاہئے تھی نہ کی۔

قرآن کریم نے علم الہٰی  حاصل کرنے کے طریقے خود بتادیئے ہیں ۔ ان طریقوں میں قرآن نے ایک ایسا اُصول بتایا ہے، جس اُصول کو ہمارے ہاں کبھی اہمیت نہیں  دی گئی ۔ اس موجودہ مضمون میں اس اُصول کو واضح کیا جارہا ہے ۔ اگر آپ قرآن کریم کے اس ایک اُصول کو سامنے رکھ لیں تو پھر قرآن کے علاوہ اللہ تعالیٰ سے علم حاصل کرنے کا کوئی اور طریقہ ہی باقی نہیں   رہتا ۔ یہ اصول سورۂ شوریٰ کی اس آیت سے مستنبط ہوتا ہے جس کی تشریح اس سےپیشتر بے شمار مقامات پر کی جاچکی ہے۔ اس آیت کا ترجمہ اور اس کی تشریح دیگر تفاسیر سے پیش کرتےہیں ۔

ارشاد عالی ہے وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ ۚ إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ ( 42:51) جناب شیخ الہند نے اس کا ترجمہ اس طرح تحریر فرمایا ہے ‘‘ اور کسی آدمی کی یہ طاقت نہیں کہ اس سے باتیں کرے۔ اللہ مگر اشارہ سےیا پردہ کے پیچھے سےکوئی پیغام لانے والا پھر پہنچا دے اس کے حکم سے جووہ چاہے تحقیق وہ سب سے اوپر ہے حکمتوں والا ہے ۔ اس حاشیہ پر جناب علامہ عثمانی  نے تحریر فرمایا ۔ ‘‘ کوئی بشر اپنی ساخت او رموجودہ قویٰ کے اعتبار سے یہ  طاقت رکھتا کہ اللہ قدوس اس دنیا میں  اس کے سامنے ہوکر مشافۃً کلام فرمائے اور وہ تحمل کرسکے ۔ اسی لئے کی بشر سے اس کے اہم کلام ہونے کی تین صورتیں ہیں ’’۔ اس اقتباس کے بعد مولانا عثمانی مرحوم نے ہم کلامی کی ان تینوں صورتوں کی تشریح فرمائی ہے۔ ہم کلامی کی جو تین صورتیں  حضرت موصوف نے بتائی ہیں۔ ہمیں ان سے اتفاق نہیں ہے ۔ ہمیں تو صرف یہ دکھنا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ جب بھی کسی بشر کو اپنی طرف سے کوئی علم عطا ء  فرماتا ہے وہ کلام کے ذریعہ ہی عطاء کرتا ہے ۔ جس کی تائید حضرت اقدس  نے فرما دی اللہ تعالیٰ کا انسانیت  سے رابطہ صرف اس کلام کے ذریعے ہوتا ہے ۔ اس کے علاوہ او رکوئی ذریعہ رابطہ کا ان دونوں کے درمیان ہوہی نہیں سکتا ۔

(1) تفسیر معارف القرآن میں اس آیت کا ترجمہ بالکل وہی دیا ہے جو کہ حضرت مولاناشیخ الہند نے فرمایا ہے۔ اس کی تفسیر میں تحریر ہے۔ ‘‘ اس آیت میں یہ بتا دیا گیا کہ بشر سےاللہ تعالیٰ  کے کلام کرنے کی صرف تین صورتیں ہوسکتی ہیں۔ ‘‘ اس کے بعد حضرت نے ان تینوں طریقوں کی وضاحت فرمائی ۔ ان کا نقل کرنا، ہمارے پیشِ نظر مقصد کے لئے ضروری نہیں ہے۔ ہمارے موقف کی تائید کےلئے اس آیت کی تفسیر کا اتنا حصہ ہی کافی ہے جس میں حضرت نےیہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ  انسانیت سے صرف کلام ہی کرتاہے اور اس کی تین صورتیں ہیں۔

(2) حضرت شاہ عبدالقادر دہلوی نے ترجمہ وہی کیا جو حضرت شیخ الہند نے فرمایاہے اور اتنی اہم آیت کے بارےمیں انہوں نے موضح القرآن میں بہت اختصار سے کام لے کر صرف یہ تحریر فرمایا ہے ‘‘ حضرت موسیٰ سے کلام ہوئے پردہ کےپیچھے سے’’۔ حضرت کا یہ موقف یقیناً قرآن کے مطابق ہے کہ حضرت موسیٰ سے بھی کلام ہواہے ۔ اس کی تائید میں آیات ( 8:20،11:48،27:12) ملاحظہ فرمائیں۔

(3) ان ہی بزرگوار کے والد ماجد حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محوت دہلوی نے فتح الرحمٰن میں اس آیت کا ترجمہ یہ تحریر فرمایا ہے ‘‘ ومکن نیست ہیچ آدمی داکہ سخن گوید با اُواللہ مگر باشارات یا از پس پردہ یا بفر ستذ فرشتہ را، پش نازل کدو بحکم خدا آنچہ خدا خواستہ است۔ ہر آئینہ خدا بلند مرتبہ با حکمت است ’’۔ اور انہوں نے اپنے حاشیہ میں تحریر فرمایا ۔’’

‘‘ ونیست و نشاید مر آدمی را آنکہ سخن گوید خدائی بادے موا جہۃً در دنیا و آنکس اور رابیند’’۔اس ترجمہ اور اس حاشیہ میں حضرت شاہ ولی اللہ نے رابطہ الہٰی  کو ‘‘سخن گفتن ’’۔ ( کلام تک محدود کردیا ہے)۔

آپ قرآن کریم سے جتنے بھی تراجم و تفاسیر ملاحظہ فرمالیں ان تمام تراجم او ران تمام تفاسیر نے اللہ تعالیٰ اور بشریت کے رابطہ کو صرف کلام الہٰی  تک محدود کردیا ہے۔ کلام الہٰی  کے علاوہ اللہ تعالیٰ کا انسانیت سے اور کسی طرح رابطہ ہوہی نہیں  سکتا اور اسی وجہ سے قرآن کریم کلام اللہ ہے۔ صحاحستہ کی کوئی کتاب یا کسی بزرگ کے الہام کو کلام اللہ نہیں کہہ سکتے ۔ قرآن کریم نے اللہ تعالیٰ  اور انسانیت کے رابطے کااصول بہت واضح کردیا ہے کہ اس ذاتی عالی مرتبت کا رابطہ صرف کلام کے ذریعے ہوسکتا ہے اور اس بات کو واضح کرنے کی کوئی ضرورت نہیں کہ کلام کے لئے الفاظ کا ہونا ضروری اور لازمی شے ہے الفاظ کے بغیر کلام ہو ہی نہیں سکتا ۔ امام راغب نے لکھا ہے ‘‘ کلام کا اطلاق منظّم و مرتب الفاظ اور ان کے معانی دونوں کے مجموعہ پر ہوتا ہے’’۔

جہاں تک اس آیت کی تفسیر کا تعلق ہے ، تمام مفسرین کرام نے از ابتداء تا ایں سیاہ دوران بالکل غلط اور خلاف قرآن تفسیر فرمائی ہے۔ ان کے اس تسامح کی وجہ یہ نہیں ہے کہ وہ خدا نخواستہ عالم یا مخلص نہیں تھے ۔ ان مفسرین کرام میں سے اکثر عربی ادب کے امام تھے ۔ ان احترام کی وجہ سے ہماری آنکھیں  ان کے سامنے جھک جاتی ہیں ۔ ہمیں  اپنے دل کی گہرائی سےان سے محبت اور خلوص ہے۔ ان کے اس تسامح کی اصل وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنی تفسیر ، روایات کے زیر اثر تحریر کی ہے اور اس اصول کو بالکل نظر انداز کردیا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانیت کو جو بھی علم ملا وہ صرف کلام کے ذریعے ملا تھا اور کلام کے لئے الفاظ کا ہونا شرط  ہے۔ چونکہ الہام، القاء، استخارہ، وحی خفی، کشف ، رویائے صادقہ میں الفاظ نہیں ہوتے ، اس لئے وہ منجانب اللہ نہیں  ہوسکتے  اور یہ سب عقائد خلافِ قرآن ہیں لیکن چونکہ ان مفسرین کرام کو ان عقائد کی گنجائش رکھنی ضروری تھی اس لئے انہوں نے اس آیت کی جو تفسیر کی وہ روایات پر مبنی ہیں لیکن قرآن کریم کے بالکل خلاف ہے۔

ہم بھی ان مفسرین کی پیش کردہ تفسیر کو اس وجہ سے نقل نہیں  کررہے کہ وہ قرآن کے خلاف ہے اور ہمارا مُدّ عا ثابت کرنے کے لئے ان پر نظر ڈالنی ضروری نہیں ہے۔ ہمارے مُدّعا کو ثابت کرنے کےلئے تو اصل مبحث یہ اصولی نقطہ ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ  کی طرف سے انسانوں کے لئے کوئی علم بغیر الفاظ کے آسکتا تھا یا آسکتا ہے یا نہیں ۔ اگر کوئی صاحب اس نقطہ پر تبادلہ خیال کرنا چاہتے ہیں تو وہ ضرور اپنا نقطہ نظر ارسال فرمادیں ۔ ہم ان کے شکر گزار ہوں گے ۔ ہم نے تحریر کیا ہے کہ ہمارے مفسرین کرام نے اس آیت ( 42:51) کی تفسیر درست نہیں کی ۔ انہوں نے اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایات موصول ہونے کی تین صورتیں تحریر کی ہیں ۔ پہلی صورت براہِ راست وحی ( الہام) دوسری صورت پردے کے پیچھے سےکلام اور تیسری صورت اللہ کے پیغام رساں (ملک) کے ذریعے وحی ۔ یہ بھی عقیدہ بنایا کہ قرآن میں جو وحی دی گئی ہے وہ آخر ی اور تیسری قسم کی وحی کا ذریعہ ہے۔ اس طرح قرآن کو تو صرف ایک قسم کی ( یعنی پہلی قسم کی ) وحی قرار دیا گیا ہے او رباقی دو صورتیں  وحی ملنے کی جو تھیں وہ اس وحی کے علاوہ ہیں اور  وحی خارج از قرآن تیسری قسم کی وحی پر مشتمل ہے جو فرشتہ کے ذریعے ارسال کی جاتی تھیں لیکن یہ مفہوم غلط ہے کیونکہ (1) مفسرین کرام کے مطابق یہ تینوں صورتیں انبیا ء کرام سے مخصوص ہیں حالانکہ آیت میں صرف نبی یا رسول سے گفتگو کرنے کا ذکر نہیں ہے بلکہ تمام نوع انسانی سے خطاب کرنے کا ذکر ہورہا ہے، اس لئے اس آیت کے درست مفہوم میں ساری نوع بشریت کو شامل کرنا ہوگا۔

(2) جب آیت میں رسول کے معنی بخوبی لکھ سکتے ہیں ، تو رسول کے معنی فرشتہ لینا مناسب نہیں ہے ۔ نیز یہ کہ کلام الہٰی  کی یہ تیسری  قسم یعنی بذریعہ فرشتہ پیغام ارسال کرنا، تو خود ہی پہلی قسم و حیاً  میں داخل ہے۔ اصل یہ ہے کہ اس آیت میں وحی کی قسمیں نہیں بتائی جارہی ہیں بلکہ یہ مکالمہ الہٰی  کے تین طریقے بتائے جارہے ہیں جن میں سے ہر طریقہ میں الفاظ کا ہوناضروری ہے ان نقائص کے پیشِ نظر آیت کا مفہوم درست نہیں ہے۔ اب ہم اس آیت کا وہ صحیح مفہوم پیش کرتے ہیں جو محترم التھام پرویز صاحب نے لیا ہے وہ فرماتے ہیں ۔ ‘‘ اس آیت میں انسانوں تک اللہ کا کلام پہنچنے کے طریقوں کا ذکر کیا گیا ہے ۔ انسانوں کی دو قسمیں ہیں ۔ ایک رسول اور دوسرے رسولوں کے علاوہ عام انسان ۔ پہلے رسولوں کے متعلق  کہا گیا کہ ان تک اللہ کلام کس طرح پہنچتا ہے اس کے دو طریقے بتائے گئے ہیں ۔ ایک اس وحی کے ذریعے جو جبرئیل کی وساطت سے بھیجی جاتی ہے ۔ جیسے رسول اللہ پر وحی آتی تھی  یعنی بذریعہ جبرئیل جس کے متعلق کہا گیا ہے کہ  فَإِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلَىٰ قَلْبِكَ (2:97) اور دوسرا طریقہ فرشتہ کے بغیر براہِ راست ۔ اس طرح  کہ آواز سنائی دے لیکن بات کرنے والا ( اللہ) دکھائی نہ دے ۔ جیسے حضرت موسیٰ کی طرف وحی ( سورہ طہٰ ) میں نوری یا موسیٰ کہنے کے بعد فرمایا   فَاسْتَمِعْ لِمَا يُوحَىٰ ( 20:13)

یہ دونوں طریقے رسولوں کے ساتھ اللہ کے کلام کے ہوئے ۔ اب رہے وہ بشیر جو رسول نہیں ہیں تو ان کے ساتھ اللہ نے اپنے کلام کا طریقہ یہ بتایا ہے کہ وہ ان  کی طرف اپنے رسول بھیجتا ہے اور ان رسولوں کی وساطت سے اپنا کلام ان تک پہنچا تاہے ۔ کسی غیر رسول سےاللہ نہ براہِ راست بات کرتا ہے او رنہ ہی اس کی طرف فرشتے کے ذریعے سے اپنی وحی بھیجتا ہے غیر رسول کو اللہ کی وحی ہمیشہ رسول کی وساطت سے ملے گی۔

 یہاں  تک تو اللہ کی اس ہم کلامی کا ذکر ہوا جو رسول اللہ کے ساتھ وحی کے ذریعہ ہوئی ۔ اس کے بعد کہا  وَإِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ( 42:52) او رتو اے رسول یقیناً لوگوں کی راہ نمائی صراطِ مستقیم کی طرف کرتاہے اور اس طرح غیر رسول انسانوں تک اللہ کا کلام پہنچ جاتاہے یعنی رسول کی وساطت سے ( قرآنی فیصلے ۔ حصہ اوّل ۔ص 230)

آپ ملا حظہ فرما لیا کہ انسانیت کو علم ملنے کا واحد ذریعہ کلام ہے اور کلام میں الفاظ کا ہونا ضروری ہے اور چونکہ وحی خفی الہام، القاء وغیرہ  میں الفاظ نہیں ہوتے اس لئے وہ منجانب نہیں ہوتے ۔ واللہ ما نقول شھید۔

فروری، 2015  بشکریہ : ماہنامہ صوت الحق ، کراچی

URL: http://newageislam.com/urdu-section/khwaja-azhar-abbas/god-s-words-are-his-way-to-communicate-with-humanity--اللہ-تعالیٰ-کا-انسانیت-سے-رابطے-کا-ذریعہ-اس-کا-کلام-ہے/d/101874

 

Loading..

Loading..