New Age Islam
Mon Sep 21 2020, 03:04 AM

Urdu Section ( 7 Apr 2015, NewAgeIslam.Com)

Following the Sunnah of Prophet (saw) سنَّتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی

 

 

 

 

 

 

 

خواجہ ازہر عباس فاضل درس نظامی

اخباری اطلاعات کے مطابق بحریہ ٹاؤن ، کراچی میں ایک وسیع و عریض مسجد تعمیر کررہی ہے جو مسجد الحرام اور مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد غیر عرب ممالک میں سب سے بڑی مسجد ہوگی ۔ اس مسجد میں بیک وقت 6 لاکھ آدمی نماز ادا کرسکیں گے۔ اس کی تعمیر  میں کروڑوں روپے صرف ہوں گے۔ ‘‘ دی نیوز’’ مورخہ 4 نومبر 2014 ء میں تحریر ہے کہ اس مسجد میں بہترین مٹیریل استعمال ہورہا ہے ۔ اس میں ایئر کنڈیشننگ سسٹم بھی ہوگا۔ اس مسجد میں Chandeiiers 50 بھی آویزاں ہوں گے ۔ ‘‘ دی نیوز’’ مورخہ یکم نومبر 2014ء نے رپورٹ کیا کہ اس عالیشان  کے مشہور مذہبی عالم  جناب مولانا طارق جمیل صاحب نے نماز  جمعہ  کا خطبہ ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے فرمایا کہ “ Muslim could get rid of all problems by following Sirarun Nabi (SAW) اخبار مذکور نے چند سطور کے بعد یہ بھی رپورٹ کیا  کہ The Maulana appreciated decotation of the mosque and offered Special prayers for Malik Riaz. He asked well-off people to follow Malik Riaz. ان اقتباسات کی انگلش  بہت آسان ہے ۔ ہم سبیل احتیاط کا ترجمہ نہیں کرتے ۔ ان اقتباسات میں حضرت نے اس عالیشان مسجد کی تعریف فرمائی اور  عام  مسلمانوں کی سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم  اور مالدار لوگوں کو ملک ریاض کو Follow کرنے کی ہدایت فرمائی ۔ ہم نے اس سطور کا ترجمہ اس لئے نہیں کیا تاکہ قارئین کرام خود ہی سمجھیں کہ مولانا نے سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ ملک ریاض کو Follow کرنے کی تلقین فرمائی ہے۔

قرآن کریم میں ارشاد ہے  أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَجَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ۚ لَا يَسْتَوُونَ عِندَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ ، الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ أَعْظَمُ دَرَجَةً عِندَ اللَّهِ ۚ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ (9:19:20) ( ترجمہ) کیا تم لوگوں نے حاجیوں کی سقائی اور مسجد الحرام کی آبادی کو اس شخص کے برابر بنا دیا جو اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان لایا اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا اللہ کے نزدیک تو یہ لوگ برابر نہیں  ہیں اور اللہ ظالم لوگوں کی ہدایت نہیں کرتا ۔ جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور اللہ کے لئے ہجرت کی اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا وہ لوگ اللہ کے نزدیک درجہ میں کہیں بڑھ کر ہیں او ریہی لوگ اعلیٰ درجہ پر فائز ہونے والے ہیں ۔

آیہ کریمہ کے مخاطب وہی لوگ ہیں جو کعبہ کی تولیت اور حجاج کی خدمت کو بڑی فضیلت سمجھتے تھے اور اس کو امتیازی  درجہ دیتے تھے ۔ فرمایا کہ حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد حرام کاکچھ انتظام کر دینا ایمان باللہ و بالاخرہ او رجہادفی سبیل اللہ کا قائم مقام نہیں ہوسکتا ۔ تم ان کاموں کو برابر سمجھتے ہو تو سمجھو لیکن اللہ کے ہاں یہ دونوں کام برابر نہیں ہیں ۔ یعنی ایمان اور مدینہ کی اسلامی ریاست کی طرف ہجرت کرنا اور اللہ کا دین قائم کرنے کےلئے جہاد کرنے والوں کا مرتبہ اللہ کے ہاں بہت اونچا ہے ۔ قرآن کریم نے مساجد کو صرف پر ستش گاہ ہی قرا ر نہیں  دیا بلکہ وہ اطاعتِ الہٰی کے مراکز  ہیں ۔مساجد وہ مقامات  ہیں جہاں اطاعتِ الہٰی  کے قوانین کو جاری کرنے کےطریقوں پر غور و خوض کیا جاتا ہے ۔ ارشا د ہوتا ہے وَأَقِيمُوا وُجُوهَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ ( 7:29) تم  اپنی پوری توجہات قوانین الہٰی پر مرکوز  کردو، ہر معاملہ میں انہی  کی طرف رجوع کرو اور اطاعت  کو اسی کے لئے مخصوص کردو اور اس میں کسی کو شریک نہ کرو۔ قرآن  کریم میں جہاں اللہ کا لفظ آتا ہے اس سے مراد اللہ کا قانون ہوتا ہے۔ جہاں  ارشاد ہوتا ہے اطیعوا اللہ ، اللہ کی اطاعت کرو، تو اس سے یہی  مراد ہوتا ہے کہ اللہ کے قانون کی اطاعت کرو مساجد کے سلسلہ میں ارشاد ہوتا ہے  وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا ( 72:18) ( ترجمہ) مساجد صرف اللہ کے قوانین  کے  جاری کرنے کے لئے ہیں ۔ بس اللہ کے قانون  کے ساتھ کسی اور کا قانون اس میں شریک نہ کرو ۔ اس میں کسی  او رکی اطاعت کو شامل کرنا شرک ہے۔ اسی لئے فرمایا  مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّهِ (9:17) مشرکین کے لئے جائز نہیں کہ وہ  مساجد کی تعمیر  میں حصہ لیں ۔ جو لوگ خالص قوانین خداوندی  کی اطاعت کرنے کے قائل  ہی نہیں ۔ ایسے لوگوں کے ذریعے اس نظام کا قیام کیسے ممکن ہوسکتا ہے جو خالصتاً اطاعت الہٰی  کی بنیادوں پر قائم ہو۔ إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ( 9:18) اس نظام کی اقامت، محکمیت اور استبقاء انہیں  لوگوں کے ذریعہ ہوسکتا ہے جو اللہ کی کتاب پر عمل کرنا چاہتے ہوں ۔

جہاں تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کی سیرت طیبہ کو Follow کرنے کا تعلق ہے تو اس سے کس مسلمان کو انکار ہوسکتا ہے؟ ۔ البتہ حضرت عالی نے جو ملک ریاض صاحب کو Follow کرنے کاحکم ارشاد فرمایا ہے وہ ہمارے نزدیک عمل نظر ہے۔ پیشوائیت  اور سرمایا  داری کا ہمیشہ باہم تعاون رہا ہے ۔ غالباً اسی وجہ سے حضرت نے Well-off حضرات کو یہ نصیحت  فرمائی ہو ۔

جہاں پیروی  رسول کا تعلق ہے ہمارے علماء کرام اس سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتی پیروی مراد لیتےہیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے روزانہ جو معمولات  تھے یہ حضرات ان معمولات کی پیروی کو پیروی رسول سمجھتے ہیں اور عربی معاشرت کو دین کا جزو قرار دیتے ہیں ۔ چنانچہ امام ابوالحسن آمدی نے پیروی کی وضاحت کرتے ہوئے تحریر کیا ہے اتباع کا یہ معنی ہے کہ اس کے اس فعل کو اسی طرح کیا جائے جس طرح وہ کرتا ہے اور اس لئے کیا جائے کیونکہ وہ کرتا ہے ۔ اتباع و اطاعت رسالت مآب کے متعلق جو حکم قرآن نے ہمیں دیا ہے اس کی تعمیل کی صرف یہی صورت ہے کہ ہم حضور علیہ السلام کے افعال کو بالکل اسی طرح ادا کریں جیسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ادا فرمائے تھے اور صرف اس لئے ادا کریں کہ یہ افعال اس ذات اطہر و اقدس سے ظہور پذیر ہوئے ہیں جو جمال و کمال کا وہ پیکر ہے جس سے حسین تر اور جمیل تر چیز کا تصور رنگ ممکن نہیں ۔ ( ضیاء القرآن جلد اوّل ۔ صفحہ 223)۔

سورۂ احزاب کی آیہ کریمہ لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ( 33:21) (مسلمانوں) تمہارے لئے تو خود رسول اللہ کا ایک اچھا نمونہ ہے، کے حاشیہ پر مولانا عثمانی نے تحریر فرمایا ‘‘ ہر ایک حرکت و سکون اور نشست و برخاست میں ان کے نقش قدم پر چلیں او رہمت و استقلال وغیرہ میں ان کی چال سیکھیں ۔’’ ہمارے علماء کرام کا یہی عقیدہ ہے کہ اتباع رسول یا پیروی رسول سے مراد یہ ہے کہ سیرت یا روایات کی کتابوں میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جو حالات تحریر ہیں ان پر عمل کرنے سے سیرت رسول کی پیروی ہوتی ہے اور ان کے اسوۂ حسنہ پر عمل ہوتا ہے لیکن یہ بات درست نہیں ہے کیونکہ قرآن کریم میں جب اتباع رسول اور اُسوۂ حسنہ پر عمل کرنے کے متعلق آیا ت نازل ہوئی تھیں تو اس وقت نہ تو وقت نہ تو سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی کتاب تحریر ہوئی تھی او رنہ ہی  کتب روایات مدون  ہوئی تھیں ۔ یہ کتب و روایات تو اڑھائی سو سال بعد وجود میں آئیں ۔  ان پر تو اُس وقت عمل ہوہی نہیں سکتا تھا ۔ دوسری بات یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوۂ حسنہ  کو پیش نظر رکھنے  کا حکم قرآن میں ایک مرتبہ (33:21) میں آیا ہے جب کہ حضرت ابراہیم اور ان کے ساتھیوں کے اُسوۂ حسنہ کا تذکرہ دو مرتبہ ( 60:6،60:4) میں آیا ہے۔

اگر سیرت کے کتابوں پر عمل کرنے سے اُسوۂ حسنہ پر عمل ہوتا ہے تو حضرت ابراہیم او ران کے ساتھیوں کے اُسوہٌ حسنہ کے لئے تو کوئی کتاب بھی دستیاب  نہیں ہے ۔ پھر حضرت عالی نے یہ بھی فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے اتباع سے مسلمان اپنے تمام مسائل سےنکل جائیں گے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہاں سیرت پر جس قدر کتابیں تحریر کی گئی ہیں وہ نقطۂ نگاہ سے نہیں لکھی گئیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے ان اعمال پر عمل کرنے سے انسانیت کے یہ مسائل حل ہوجاتےہیں ۔سیرت نگاروں کے پیش نظریہ زاویہ فکر ہی نہیں تھا ۔ وہ صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے معمولات قلمبند کررہے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح کا لباس  پہنتے تھے ۔ پانی پیتے وقت کیا دعا پڑھتے تھے ۔اپنے مکان میں داخل ہوتے ہوئے کون سی دعا او رباہر آتے وقت کون سی دعا پڑھتے تھے ۔ سوتے وقت کون سے دعا پڑھتے تھے استراحت فرماتے تو رُخ نور دائیں طرف رکھتے تھے ۔ پانی تین گھونٹ میں بیٹھ کر پیتے تھے ۔ مسائل حیات کو حل کرنا ان سیرت نگاروں کے سامنے نہیں تھا پھر ان پر عمل کرنے سے انسانیت کے مسائل کس طرح حل ہوسکتے ہیں ۔ یہ حضرت عالی ہی بیان فرما سکتے  ہیں ۔ نیز یہ کہ آج کل کے مسائل اس دور میں تھے وہی نہیں ۔ سیرت کتابیں ان مسائل کے حل کے بارے میں بالکل خاموش ہیں ۔  جہاں تک کتب روایات کا تعلق ہے یہ مختلف فرقوں کی مختلف کتب ہیں اور یہی مسلمانوں میں اختلافات کو ہوا دیتی ہیں ۔ اور ہر فرقہ کے عقائد تو تقویت    دیتی ہیں او رمسلمانوں کےمسائل  میں حد درجہ اضافہ کرتی ہیں ۔

اس وقت مسلمانوں کی مشکلات کا حل یقیناً اس بات میں ہے کہ قرآن کریم سے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سامنے آتی ہے اس کی پیروی کریں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم خود قرآن کے منبع تھے ۔ اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا اتباع قرآن کا اتباع ہے اور یہی سُنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم  کا اتباع ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی بلکہ تمام انبیاء کرام کی سیرت کا نمایاں ترین پہلو یہ ہے کہ تمام انبیاء کرام نے اور خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نےاپنی زندگی  میں مدینہ میں دین کا نظام قائم فرمایا جس کا حکم ان کو دیا گیا تھا ۔ سورۂ شوریٰ  میں دیگر انبیاء کرام کو اور خود حضور کو حکم ہو ا أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ ( 42:13)( ترجمہ) دین ( کے نظام) کو قائم رکھو اور فرقہ بندی نہ کرو لیکن ہم  مسلمانوں نے قرآن کے اس حکم کے بالکل برخلاف عمل کیا ۔ ہم نے دین کا نظام بالکل ترک کردیا اور فرقہ بندی کی لعنت کو خوب اختیار کیا اور اپنے درمیان فرقہ بندی کو  خوب ہوا دی۔ اس فرقہ بندی کی وجہ سے مسلمان ہی مسلمان کا گلا کاٹ رہا ہے ۔ اس موجودہ دور میں فرقہ بندی اپنے عروج پر ہے اور خون مسلم اس درجہ  ارزاں ہوا ہے کہ جانوروں کے خون کے برابر بھی اس قیمت نہیں رہی ۔

قریب ہے یاروں روزِ محشر چھپے گا مسلم کا خون کیونکر

جو چُپ رہے کی زبان خنجر لہو پکارے گا آستین

اس کا واحد حل اقامت ِ دین ہے ۔ تفسیر ضیاء القرآن میں ارشاد ہے ‘‘ اس سے یہ امر واضح ہوگیا کہ تمام انبیاء کوبھی یہی حکم تھا کہ دین قائم کرو، لوگوں کی عملی زندگی میں اُسے رائج کرو تاکہ لوگوں کے اعمال اسی دین کے قالب میں ڈھل جائیں ’’۔صرف زبانی دعوت  دینا او راس دعوت کے محاسن کو بیان کرتے رہنا ہی انبیاء کا فریضہ نہیں تھا بلکہ ان کی ذمہ داری یہ تھی کہ جہاں یہ نظام رائج نہیں وہاں اُسے رائج کیا جائے اور جہاں یہ رائج ہے وہاں یہ اہتمام کیا جائے کہ یہ رواج پذیر ہو ۔ ایسے عوامل و محرکات سے اس کی پوری پوری حفاظت کی جائے جو اس کو عملی زندگی سے بے دخل کرنے پر منتج ہوں ۔ یہ نصیب العین جو انبیاء و رُسل کی عظیم البرکات زندگیوں کا نصب العین تھا یہی  نصب العین  آج اُمّت محمدیہ  کے لئے من جانب اللہ مقرر کیا گیا ہے اور انہیں  یہ حکم بھی ہے کہ وہ اپنے آراء و ہوا ء کا اتباع کرکے اپنی جمعیت کو انتشار کا شکار نہ بنادیں اور ایک اُمّتِ کو متعدد فرقوں میں بانٹ کر بے وفا نہ کریں کیونکہ  اگر انہو ں نے اپنی وحدت اور یکجہتی  کو فرقہ بازی کی نذر کردیا تو پھر اقامت دین کے فریضہ سے وہ عُہد ہ بُرا نہ ہوسکیں گے۔ ( ضیاء القرآن ۔ جلد 4 صفحہ 368)

سورۂ شوریٰ کی اس آیت کے ذیل میں جس میں اقامتِ دین پر بڑا اصرار کیا گیا ہے ۔ تفہیم القرآن میں مرقوم ہے۔ أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ کا ترجمہ شاہ ولی اللہ نے ‘‘قائم کنددین دا’’ کیا ہے اور شاہ رقیع الدین اور شاہ عبدالقادر نے ‘‘قائم رکھو دین کو ’’ کیا ہے۔ یہ دونوں ترجمے درست ہیں،اقامت کےمعنی  ‘‘قائم کرنے’’ کے بھی ہیں اور قائم رکھنے کے بھی اور انبیاء علیہم السلام ان دونوں  ہی کاموں پر مامور تھے ان کا پہلا فرض یہ تھا جہاں یہ دین قائم نہیں ہے وہاں اسے قائم کریں اور دوسرا فرض یہ تھا کہ جہاں قائم ہوجائے یا پہلے سے قائم ہو وہاں اُسے قائم  رکھیں ۔ ظاہر بات ہے کہ قائم رکھنے کی نوبت آتی ہی اس وقت ہے جب ایک چیز قائم ہوچکی ہو ورنہ پہلے اسے قائم کرنا ہوگا پھر یہ کوشش مسلسل جاری رکھنی پڑے گی کہ وہ قائم رہے’’۔اس کے بعد ارشا د ہے ‘’قرآن مجید کو جو شخص بھی آنکھیں کھول کر پڑھے گا اُسے یہ بات صاف نظر آئے گی کہ یہ کتاب اپنے ماننے والوں کو کفر اور کفار کی رَعیّت فرض کر کے مغلو بانہ حیثیت میں مذہبی زندگی بسر کرنے کا پروگرام نہیں دے رہی ہے بلکہ یہ اعلانیہ  اپنی حکومت قائم کرنا چاہتی ہے ۔ اپنے پیرؤں  سےمطالبہ کرتی ہے کہ وہ دین حق کو فکر ی  ، اخلاقی، تہذیبی اور قانونی  و سیاسی حیثیت  سے غالب کرنے کےلئے جان لڑادیں اور اُن کو انسانی زندگی  کی اصلاح کا وہ پروگرام دیتی ہے جس کے بہت بڑے حصہ پر صرف اسی صورت میں عمل کیا جاسکتا ہے جب حکومت کا اقتدار اہل ایمان کے ہاتھ میں ہو ’’۔ ( جلد 4، صفحہ 401)

2۔ رسول اللہ کی دوسری اہم سنّت کہ جس کی پیروی ضروری ہے یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا هَٰذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللَّهِ ۚ عَلَىٰ بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي ۖ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ ( 12:108) ( ترجمہ) میری راہ یہ ہے کہ میں پوری بصیرت کے ساتھ اللہ کی طرف بلاتا ہوں ۔ میں خود بھی اور جو لوگ میری پیروی کرتے ہیں وہ بھی اور اللہ پاک ہے اور میں  مشرکوں میں سے نہیں ہوں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ علم و بصیرت کی رُو سے دین کو پیش کرنا تھا اور دلائل و براہن کی رُو سے ماننا اور دوسروں کو منوانا او ریہی ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کی سنّت او ریہی طریقہ ہونا چاہئے تمام اُمّت مسلمہ کا ۔ دین  کی دعوت پیش کرنے میں جو مسلمان بھی یہ روش اختیار نہیں کرتا وہ حضور سُنّت کا منکر ہے ۔ ہمارے علماء  کرام جو اتباع سُنّت کا دم بھرتے ہیں اور دوسروں کو منکر سُنّت  قرار دیتے ہیں ان کا یہ طریقہ بالکل نہیں ۔ وہ دین پیش کرنے میں کوئی دلائل ہی نہیں دیتے اور ذرہ برابر رواداری نہیں برتتے اور اس عدم رواداری کو حمیت اسلامی کا نام دیتے ہیں ۔

3۔ سورۂ اعراف میں ارشاد ہوتا ہے ۔ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَالَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ ( 7:157) ( ترجمہ) ( اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم) اتارتا ہے ان پر سے ان کے بوجھ اور وہ قید یں جو ان پر تھیں ۔ اس آیہ کے حاشیہ پرمولانا عثمانی نے تحریر فرمایا ۔ ‘‘ یعنی یہود پرجو سخت احکام تھے او رکھانے کی چیزوں میں ان کی شرارتوں کی وجہ سے تنگی تھی  اس دین میں وہ سب چیزیں آسان ہوئیں اور جو ناپاک چیزیں مثلاً لحم خنزیر یا گندی باتیں مثلاً سود خوری وغیرہ انہوں نےحلال کر رکھی تھی ان کی حُرمت اس پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے ظاہر فرمائی ۔ غرض  ان سے بہت سے بوجھ ہلکےکردیئے اور بہت سی قیدیں اُٹھادیں ۔’’یہ ملاحظہ فرمائیں اور پھر غور فرمائیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانیت کو کن کن  نعمتوں سے آزاد کرایا ۔ ارشاد  ہوتا ہے ۔الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي ۔۔۔۔۔۔فَالَّذِينَ آمَنُوا بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِي أُنزِلَ مَعَهُ ۙ أُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (7:157) ( ترجمہ) جو لوگ ہمارے نبی اُمّی پیغمبر کے قدم بقدم  چلتے ہیں  جس کو اپنے ہاں توریت اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ( وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم)  جو اچھے کام کا حکم دیتا ہے اور بُرے سے روکتا ہے اور جو پاک چیزیں تو ان پر حلال کرتاہے اور ناپاک گندی چیزیں ان پر حرام کرتا ہے اور وہ ( سخت  احکام کام بوجھ جو ان  کی گردن  پر تھا او روہ پھندے جو ان پر پڑے ہوئے تھے اُن سے ہٹا دیتاہے  پس ( یاد رکھو) جو لوگ اس ( نبی صلی اللہ علیہ وسلم)  پر ایمان لائے او راس کی عزت کی اور اس کی مدد کی اور اس نور (قرآن) کی پیروی کی جو اس کےساتھ نازل ہوا ہے تو یہی  لوگ اپنی دلی مراد پائیں گے۔ اس آیہ کریمہ  کے بارے میں  پہلی  بات یہ قابل بیان ہے کہ اس آیت  کے شروع میں يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ فرمایا گیا  ہے او راس آیت کے بالکل آخر میں اتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِي أُنزِلَ مَعَهُ آیا ہے۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع اور قرآن کا اتباع ایک ہی چیز ہے اور قرآن نے  جن لعنتوں سے انسانیت کو نجات دلائی اُن سے ہی سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم  کا اتباع کرنے سے انسانیت  اُن پر پابندیوں  سے محفوظ رہتی ہے ۔

1۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے طاغوتی اور جاہلیت کے نظام کو ختم  کر کے ایک ایسا نظام قائم فرمایا جس میں انسان کی حکومت  کو انسان پر حرام قرار دے کر ملوکیت کے  کابوس Parasite  سے انسان کو نجات  دلائی ۔ یہ سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا اثر ہے کہ انسانیت  اس راستہ کو چھوڑ تی چلی جارہی ہے جسے انسانیت  نے مجبوراً اختیار کیا ہوا تھا ۔ دنیا سے بادشاہوں  کے نام مٹ گئے اور آج بھی ملوکیت کانظام ہوتا جارہا ہے ۔ یہ مسلمانوں کی بدقسمتی  ہے کہ ان کے ہاں  یہ نظام چلا آرہا ہے تاہم گذشتہ سال  Arab Spring  نے کئی تاج ہوا میں اُڑا دیئے ۔

2۔ پیشوائیت کا ادارہ ساری انسانیت  میں بطور مُسلّمہ  کے تسلیم  کیا جاتا تھا ۔ ہر شخص  اس بات کو قطعی طور پر تسلیم  کرتا تھا کہ کچھ انسان ایسے ہوتے ہیں جو اللہ اور بندے کے درمیان  رابطہ قائم رکھتے ہیں ۔ وہ اللہ سے دعائیں  قبول کراتے ہیں اور انسان کے مصائب  دور کرنے میں اللہ سے مدد حاصل کرسکتے ہیں۔ وہ مستقبل  میں بھی جھانک ( Peep in)سکتے ہیں ۔ پیشوائیت انسانو ں کا  اپنا وضع کردہ ادارہ تھا ۔ حضو ر صلی اللہ علیہ وسلم  نے اسلامی  نظام قائم کرکے اس ادارہ  کو جڑ بنیاد سے اکھاڑ دیا  ۔ اسلامی نظام خود اللہ اور بندے کے درمیان واسطہ ہوتاہے، اس کی موجودگی میں کسی پیشوا کی ضرورت نہیں  ۔ اسلامی  نظام کی اطاعت ہی عبادت الہٰی ہوتی ہے اور اسی کےذریعہ  انسانوں کی دعائیں  پوری ہوتی ہیں ( 27:62) او رمشکلات  حل ہوتی ہیں ۔

3۔ قرآن کریم نے ساری انسانیت کو ایک اُمّت واحدہ قرار دیا ہے  لیکن انسانوں نے انسانیت کی تقسیم اپنی مقررہ کردہ حدود قیود میں کردی ۔ یہ سب طاغوتی اور باطل تقسیم ہے ۔ اللہ کا عطا کردہ دین، نسل، رنگ ، زبان ، وطن کی تمام حدود کو مٹاکر صرف  ایک معیار تقسیم مقرر کرتا ہے اور وہ معیار اللہ وغیر اللہ  کا معیار ہے ۔ دنیا کے تمام انسان جو ایک نظام الہٰی  کےتابع  زندگی بسر کریں وہ  ایک قوم اور جو لوگ انسانوں کے وضع کردہ نظام کے تحت زندگی بسر کرنے پر راضی ہوں وہ دوسری قوم کے  افراد ہیں ۔ یہ ہے وہ اصل الاصول جس کی رُو سے ملتِ اسلامیہ  کی تشکیل ہوتی ہے ۔ اس تقسیم  کی رُو سے اپنے اور بیگانہ کا فرق معلوم ہوجاتا ہے ۔ فَمَن تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي ۖ وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (14:36) جس نے میری پیروی کی وہ میرا ہے ، جس نے میری  پیروی نہیں کی ( اس سے میراکوئی تعلق نہیں ) اور تو غفور ورحیم ہے۔

4۔ نزول قرآن کریم سے پیشتر تمام دنیا میں ہر قوم میں سرمایہ داری کو انسان کا پیدائشی حق سمجھا جاتا تھا ۔ وہ لوگ جو اقتدار میں ہوتے  تھے اور رزق کے سر چشموں کو اپنے لئے مخصوص کر لیتے تھے اور ان پر اپنا قبضہ جما لیتے تھے کہ ان کے علاوہ کوئی دوسرا شخص رزق کے اس سر چشموں سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتا تھا اور اس طرح معاشرہ کے یہ چند افراد ساری قوم کے غریب لوگوں کا خون چوستے تھے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سرمایہ داری  پر ایک کاری ضرب لگائی ۔ دس لاکھ مربع میل پر مشتمل ریاست کے سربراہ ہونے کے باوجود نہایت معمولی معیار کی زندگی بسر کی اور قل العفوا کے ذریعہ سرمایہ داری کا جڑ کاٹ دی ۔

5۔ وحی کا مقصد انسانی فکر کو بیدار کرنا اور اس کو جلادینا ہے اور فکر کی آماجگاہ کو وسعت دیتے چلے جانا ہے ۔ جہاں تک فکری دنیا کا تعلق  ہے قرآن کریم ازاول تا آخر غور و تفکر ، تفحص و تعفل پر زور دیتا چلا جاتا ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا   إِنَّمَا أَعِظُكُم بِوَاحِدَةٍ ۖ أَن تَقُومُوا لِلَّهِ مَثْنَىٰ وَفُرَادَىٰ ثُمَّ تَتَفَكَّرُوا (34:46) ( ترجمہ) میں تمہیں ایک نصیحت کرتا ہوں کہ تم ایک ایک ، دو دو اکٹھے ہو کر اُٹھ کھڑے ہو اور پھر غور و فکر کرو، سب کے سب نہیں ، ہجوم کا ہجوم نہیں ۔ تم میں سے جو صاحب شعور لوگ ہیں کم سے کم وہ تو ایک ایک دو دو رُک کر ، الگ ہوکر غور و فکر کرو۔ اگرچہ تفکر و ا ، ایک ہی لفظ ہے لیکن قوموں کا عروج و زوال اس ایک لفظ سے وابستہ ہے ۔ یہ غور و فکر کرنا، یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کی بڑی اہم ترین سُنّت ہے جس کی پیروی کرناہر وقت ضروری ہے۔

6۔ قرآن کریم نے غلامی کی لعنت کو بالکل بند کردیا تھا ۔ قرآن کریم تو ساری انسانیت کو آزاد کرانے کےلئے آیا ہے یہ بھلا غلامی کس طرح برداشت کرسکتا ہے اور قرآن نے یہی حکم دیا کہ غلاموں کو فوراً رہا کردو۔ اگر ان کی رہائی  کی اور کوئی صورت نہ ہو تو  فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً (47:4) اسیران جنگ کو پھر احسان کر کے یا جذبہ لے کر فوراً آزاد کردو ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سربراہِ مملکت ہونے کے باوجود کوئی غلام نہیں رکھا اور جو تھا اس کو فوراً آزاد کردیا ۔

تجدید یا د داشت کےلئے عرض ہے کہ ہماری گفتگو اس بات سے شروع ہوئی تھی کہ مولانا طارق جمیل  صاحب نے یہ بیان دیا تھا کہ اگر مسلمان اپنی پریشانیوں  سےباہر نکلنا  چاہتے ہیں تو انہیں  چاہئے کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم   کی سیرت پر عمل کریں تو ان کی پریشانیا ں  دور ہوجائیں گی ۔ ہم نے حضور صلی اللہ علیہ  وسلم   کی سیرت میں سے صرف وہ چند سنّتیں  تحریر کی ہیں جن کی سند قرآن   کریم سے ملتی  ہے ۔ ہم نے صرف چند سُنتیں  تحریر کی ہیں جو یہ ہیں ۔

(1) اقامتِ دین

(2) دین کی طرف دلائل سے بلانا

(3) پیشوائیت و سرمایہ داری کی تردید

(4) دو قومی نظریہ کی تائید

(5) غور و فکر کرنا

(6) غلامی Slaveny کا انسداد

سیرت اور روایات کی کتابوں میں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کی بے شمار سُنتیں  تحریر ہیں جو دراصل عربی معاشرہ کے رسوم و رواج تھے اور جن کی پیروی کرنے کا مولانا طارق نے اصرار فرمایا ہے لیکن  ہم نے صرف وہ سُنّتیں  بیان کی ہیں جن کی قرآن سے تائید ہوتی ہے ۔ آپ کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ ہماری پیشوائیت  ان سُنّتوں  میں سے کسی سُنّت کی پیروی  نہیں کرتی ۔

جہاں تک اقامت دین اور دو قومی نظریہ کا تعلق ہے تو پاکستان کے قیام کی جد وجہد کے دوران ہمارے علمائے کرام نے ان دونوں سُنّتوں کی ڈٹ کے مخالفت  کی ۔ جمعیت العلما ہند زعماء  کی نمائندہ جماعت تھی اور یہی ان کا official organ  شمار ہوتی تھی ۔ یہ آخر  دم تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دونوں سنّتوں کی مخالفت کرتی رہی لیکن پاکستان کی مخالفت کے علی الرغم وجود میں  آگیا جہاں  تک پیشوائیت کا تعلق ہے تو ان کے اپنے وجود کاجواز نہیں ہے۔ اس کے علاوہ سرمایہ داری اور غلامی ہے جس کا ختم کرنا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سُنّت ہے لیکن یہ حضرات ان دونوں  کی حمایت کرتےہیں اور عملاً انکار سُنّت کے مرتکب ہوتے ہیں ۔

غور و فکر کرنا اور دین کی طرف دلائل کے ساتھ بلانا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی  بہت اہم سُنّتیں  ہیں لیکن افسوس کہ علماء کرام ان کے بھی خلاف ہیں ۔ وہ حضور کے غور و فکر کرنے کے قائل ہی نہیں ہیں ۔ ان کا اس بات پر اصرار ہے کہ رسول اللہ کبھی بھی ، اور کسی وقت بھی غور و فکر نہیں کرتے تھے ۔ ان کے اقوال ان کے غور و فکر کا نتیجہ نہیں ہوتے تھے بلکہ ‘‘ جس طرح ٹیلیفون خود نہیں بولتا،  بولنے والا پس پردہ کوئی اور ہوتا ہے اسی  طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کی زبان سے جو نکلتا  ہے وہ درحقیقت  اللہ کی آواز ہوتی ہے’’۔

گفتۂ او گفتۂ اللہ بود

گرچہ از حلقوم عبداللہ بود

(اقتباس از حجیتِ حدیث ،مولانا ادریس کاندھلوی ، صفحہ 39)

یہ اقتباس ہمارے استاد محترم جناب مولانا محمد ادریس کا ندھلوی کی کتاب سے لیا گیا ہے ۔جس میں حضرت نے کھل کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سوچ کی تردید کردی ہے۔ مولانا طارق جمیل صاحب نے مسلمانوں کو سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کامشورہ دیا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک ایسا مُسلّمہ عقیدہ ہے کہ کوئی مسلمان اس سے انکار نہیں کرسکتا  لیکن اس بارے میں ایک سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ اگر کسی مسئلہ  میں قرآن  کا کوئی  حکم ہو اور سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی کتابوں میں اور روایات  کی کتابوں میں دوسرا حکم  تحریر ہوتو ایسے  مواقع پر  کیا موقف اختیار کیا جائے اور ان دونوں  میں سے کس کی پیروی  کی جائے ۔ مضمون چونکہ طویل ہوگیا ہے اس لئے یہاں  دلائل تو پیش نہیں کئے جاسکتے البتہ  ہم ان مقامات کی نشاندہی کردیتے ہیں جن میں ان  دونوں  میں تضاد ہے۔

(1)  قرآن کریم میں زنا کی سزا سو کوڑے ہے ( 24:2)اس آیہ کریمہ میں یہ سزا اس قدر واضح طور پر بیان کی گئی ہے کہ اس آیت  پر عمل کرنے کےلئے روایات کی کسی کتاب کی طرف رجوع کرنے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں لیکن  ہمارے فقہ  میں و روایات میں زنا کی سزا رجم ہے جو قرآن کے بالکل  خلاف ہے ۔ اس مسئلہ  میں یا تو قرآن کا اتباع ہوسکتا ہے یا پیروی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  ہوسکتی ہے ۔ دونوں  باتیں بیک وقت نہیں ہوسکتیں۔

(2) قرآن کریم کی رُو سے ارتداد کوئی جُرم  نہیں ۔ قرآن میں اس کی کوئی سزا نہیں ہے لیکن روایات  کہ جن کے ذریعہ ہماری پیشوائیت سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کرتی ہے ، ان روایات میں مرتد کی سزا قتل ہے جو قرآن کے خلاف ہے۔

(3) اسی طرح محجوب الارث کامسئلہ  ہے۔ قرآن کریم یتیم  پوتے کو میراث سے محروم نہیں کرتا لیکن ہمارے فقہا یتیم پوتے کی میراث سے محروم کردیتے ہیں ۔ اس بارے میں مولانا مودودی نے تحریر فرمایا ہے ‘‘فقہا ئے اسلام میں یہ مسئلہ  کہ دادا کی موجودگی میں جس پوتے کا باپ مر گیا ہو، وہ وارث نہیں ہوتا بلکہ   اس کے چچا  ہوتے ہیں ۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے اس میں شیعوں  کے سوا کسی نےبھی اختلاف  نہیں کیا ۔ اگر چہ ابھی تک مجھے قرآن و حدیث سے ایسا صریح حکم نہیں  ملاہے جسے فقہاء کے اس متفقہ  فیصلے کی بنا قرار دیا جاسکے لیکن بجائے خود یہ بات کہ فقہائے امت سلف سے خلف تک اس پر متفق ہیں اس کو اتنا قوی کردیتی ہے کہ اس کے خلاف رائے دینامشکل  ہے’’۔ یہ بیان بالکل واضح ہے  اور اس بیان سے یہ خوشی  ہوتی ہے کہ مولانا مودودی مرحوم نے اس معاملہ میں بہت دیانت داری کا ثبوت  دیا ہے اور اس بات کا اقرار فرما لیا ہے کہ اس فیصلے کی بنیاد قرآن نہیں ہے۔ البتہ  اس بات  پر حیرانی  ہوتی ہے کہ اس مقام کا عالم ہونے کےباوجود ان کی شیعہ فقہ کے متعلق  معلومات اتنی محدود تھیں کہ انہوں نے اس مسئلہ میں شیعوں کو اس سے مستثنیٰ  کردیا جب کہ حقیقت  یہ ہے کہ شیعہ حضرات  بھی یتیم پوتے کو میراث نہیں دیتے ۔ وہ بھی اپنے  پوتوں نواسوں کو وارث سے محروم کرتے ہیں ۔ حیرت ہے کہ مولانا نے شیعوں کو اس سے کس طرح مستثنیٰ قرار دے دیا ۔

(4)جہاں تک وصیت کا تعلق ہے تو ہر مسلمان پر اپنی جائیداد کے لئے وصیت کرنا ضروری ہے ۔ یہ وصیت  پورے مال پر حاوی ہوتی ہے، اس میں وارث  اور غیر وارث کی کوئی تفریق نہیں لیکن  ہماری پیشوائیت صرف ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت کی اجازت نہیں دیتی ۔

(5) فرقہ بندی قرآن کی رُو سے شرک ہے ۔ فرقہ بندی کرنے والے کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی تعلق نہیں رہتا ہے  لیکن ہماری پیشوائیت اس کا جائز قرار دیتی ہے اور اس پر عمل  بھی کرتی ہے ۔

یہ وہ مسائل  ہیں جو قرآن  کے خلاف ہیں لیکن کتب روایات میں ان کو سُنّت قرار دیا گیا ہے ۔ اصل تو یہ ہے کہ ہمارا سارا فقہ قرآن کے خلاف ہے کیونکہ فقہ تو اسلامی مملکت  کے جاری کردہ احکامات  کے مجموعہ کا نام ہوتا ہے ۔ یہ موجودہ فقہ جس پر ہم عمل کرتے ہیں ۔ یہ تو فقہاء کی ذاتی آراء  ہیں اور اس کا بیشتر حصہ پرستش سے متعلق  ہے۔ وہ حضرات خواہ کتنے  ہی بلند  مراتب  کے حامل  ہوں لیکن بہر حال انسان تھے ۔ ان کا آراء کو کوئی تقدس حاصل نہیں  ہے۔ اسلامی  مملکت کے جاری کردہ احکامات پر مشتمل  فقہ کو تقدس  حاصل ہوتا ہے ۔ وہ ریاست  اللہ کے نام پر شہریوں سے اپنی اطاعت کراتی ہے او ر مملکت کے تمام شہری بھی اللہ   کے نام پر اس کی اطاعت کرتے ہیں، جو قرآن خالص کی اطاعت ہوتی ہے وہ ریاست  مقاصدِ الہٰی پورے کرتی ہے ۔ ہم اس وقت یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ  ، کریم ، رحیم ، رازق، رب، قدیر، عزیز،جبار، رؤف ہے۔ اس وقت ہمارا اعتقاد ہے۔ اسلامی مملکت میں یہ ساری صفاتِ الہٰی  اس دنیا میں ایک ٹھوس شکل اختیار کرلیتی ہیں اور اسی وجہ سے اس ریاست  میں یہ تمام صفات ، شہریوں میں منعکس ہوتی چلی جاتی  ہیں اور  اس طرح ہر فرد کی تمام صلاحتیں از خود نما پاتی چلی جاتی ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم   کی اصل پیروی اس طرح کی ریاست کو قائم کرنا ہے۔

رات پی زمزم پہ مے اور صجدم

دہوئے  دھبہ جامۂ احرام کے

اپریل، 2015  بشکریہ : ماہنامہ صوت الحق ، کراچی

URL: http://newageislam.com/urdu-section/khwaja-azhar-abbas/following-the-sunnah-of-prophet-(saw)--سنَّتِ-نبوی-صلی-اللہ-علیہ-وسلم-کی-پیروی/d/102346

 

Loading..

Loading..