New Age Islam
Tue Sep 22 2020, 11:57 AM

Urdu Section ( 17 Nov 2013, NewAgeIslam.Com)

Miracles of the Quran Part 5 اعجاز القرآن قسط پانچ

 

 

زندگی کی ابتداء باب پنجم

قرآن کریم کوئی سائنس کی کتاب نہیں ہے۔اس کا اصل موضوع تو بہترین معاشرہ کی تشکیل  ہے۔ عقل  انسانی بہترین معاشرہ  کی تشکیل  کے لئے مستقل اقدار وضع  کرنے سے قاصر ہے۔ اس لئے قرآن کریم نے وہ مستقل اقدار عطا کی ہیں جن  کی بنیاد پر ایک بہترین معاشرہ تشکیل  پا سکتا ہے ۔ ہاں البتہ  قرآن  کریم تخلیق کائنات  ، تخلیق ارض  و سما، نظام فلکی EARTH SCIENCE اور COSMOLOGY  پر اشاراتِ کرتا چلتا ہے۔ قرآن  کریم نے زندگی  کی ابتداء اور ا سکے ارتقاء کے متعلق  بھی واضح اشارے کئے ہیں۔

قرآن کریم نے زندگی  کے لئے الگ الگ اشارے دیئے ہیں ۔ قرآن  نے انسانی زندگی  ہی نہیں بلکہ خود زندگی (THE LIFE) سے بھی بحث کی ہے ۔ ہماری اس زمین پر زندگی کی ابتداء کس طرح ہوئی ہے اس کے متعلق نہ تو عقل  انسانی ہی آج تک  کوئی جواب دے سکی ہے اور نہ ہی قرآن  کریم نے اس پر کوئی روشنی  ڈالی ہے۔ التبہ خود زندگی  ، یعنی مطلق زندگی، ربانی توانائی کا مظہر ہے۔ جو عالم گیر بھی  ہے اور ساری کائنات  میں برق تپاں کی طرح دوڑ رہی ہے۔ یہ کائنات کی ایک ایک چیز کو ز ندہ رکھے ہوئے ہے ۔ اسی  توانائی  کی وجہ سے۔

ابرو بادومہ و خورشید و فلک درکار اند

تا تو نا لے بکف آری و بغفلت نہ خوری

ہمہ از بہر تو سر گشتہ و فرمانبردار

شرط انصاف نبا شد تو فرمانبری

مثوی شریف میں ہے۔

خاک و باد و آپ و آتش بندہ اند

با من و تو مردہ باحق زندہ اند

لیکن  یہ زندگی ہمارے شعور میں نہیں آسکتی ، یہ زندگی جس پیکر میں نمود Manifestation  کرتی ہے، وہ پیکر تو ہم دیکھ لیتے ہیں، لیکن یہ خود زندگی  جو برق تپا ں کی طرح ہے، اسے ہم نہیں دیکھ سکتے ۔ ہم  Electricity کا تصور نہیں کرسکتے ، البتہ ان چیزوں کو دیکھ سکتے ہیں جو Electrified ( برقائی ہوئی) ہوتی ہیں۔ ہمارے گھر وں میں فرج ہوتا ہے ۔ ا سمیں یہ Electricity سرایت کے ہوئے ہوتی ہے لیکن ہم اس کو نہیں دیکھ سکتے ، البتہ فرج (Fridge) کو دیکھ سکتے ہیں۔ مجز و بجلی کا تصور ہمارے لیے نا ممکن ہے ۔ اس کائنات  کو جو قوتیں  چلا  رہی  ہیں اور قرآن  جنہیں ملائکہ کہتا ہے ۔ وہ سب اسی زندگی  کے زُمرہ  میں آتی ہیں اور ہماری زبان میں یہ فطرت کی قوتیں کہی جاتی ہیں ۔ یہ سب زندگی کے آثار ہیں۔

قرآن کریم سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ خود زندگی تو کائنات کے پیدا ہونے سے پیشتر بھی موجود تھی ۔  البتہ  اس کے پیکر اور اس کے مظاہر اس وقت موجود نہیں تھے ۔ پیکر  انسانی بھی  اس وقت موجود  نہیں تھا ۔ زندگی کی اس Stage  کی نشاندہی قرآن نے سورۂ الدھر میں فرمائی ہے  جب کہ ارشاد ہوا  لَمْ يَكُن شَيْئًا مَّذْكُورًا (1۔76) انسان اُس وقت اس قابل نہیں تھا کہ اس کا ذکر کیا جاسکے ۔ قرآن  کریم نے اس منزل کو  كُنتُمْ أَمْوَاتًا (28۔2) ترجمہ، ( حالانکہ تم بے جان تھے ) سے تعبیر کیا ہے۔ کائنات کی (انسان کی نہیں بلکہ کائنا ت کی) یہ زندگی ، یہ برق تپاں خود ترقی کے مدارج  طے کرتی چلی  آرہی ہے۔ مثوی شریف  میں ہے۔ ذرا غور سے ملاحظہ فرمائیں ۔

1۔ از جماپی مُردم و نامی شدم

و زنما مُردم بہ حیوان سرزدم

2۔ مردم از حیوانی و آدم شُدم

پس چہ ترسم کہ ز مُرون کم شُدم

3۔ جملۂ دیگر بہ میرم از بشر

تابر آدم از ملائکہ بال و پر

4۔ بار دیگر از ملک براں شوم

آنچہ دروہم نایذ آں شوم

 مثوی شریف کے اشعار کی فارسی آسا ن ہوتی ہے۔ تاہم ان اشعار کا ترجمہ بھی احتیاطاً پیش خدمت عالی کیا جاتا ہے۔

(1) میں جما د تھا، فنا ہوکر نبات بن گیا۔ نبات کے روپ میں مرا ، پھر جو آیا تو حیوان کہلایا ۔

(2) جب میں حیوان ہوکر مرا، تو آدمی ہوگیا، پھر میں موت سے کیوں ڈروں کہ موت سے میرا مرتبہ  کم نہیں کیا۔

(3) انسان ہونے کے بعد جب مرونگا تو فرشتہ بنونگا اور ملائکہ  کے بال و پر نکال لونگا۔

(4) میں پھر ایسے اُڑان بھروں گا جو وہم میں بھی  نہیں آسکتی ، میری اڑان وہم میں بھی نہیں آئے گی۔

مولانا روم کا مقصد یہ ہے کہ زندگی ارتقاء کے منازل طے کررہی ہے۔ انسانی تخلیق کے بارے میں بھی جو کچھ قرآن کریم نے فرمایا ہے۔ وہ بھی نزول قرآن  کے دور میں کوئی شخص نہیں کہہ سکتا تھا ۔ اُس دور میں فکر انسانی ان مسائل تک پہنچا ہی نہیں تھا ۔ نزول قرآن کے بہت بعد فکر انسانی کے سامنے یہ مسائل آئے ہیں ۔دیکھنا صرف اتنا ہے کہ بعد کے ادوارے کے فکر انسانی سے قرآنی بیانات کی تصدیق کردی ہے۔ بعد کے ادوار کی سائنسی تحقیقات کی تصدیق قرآن کریم کے وحی الہٰی  ہونے کی واضح دلیل ہے۔

قرآن کے نزدیک انسانی زندگی کی ابتداء پانی کی گہرائیوں سے ہوئی ہے۔وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ (30۔21) اور ہم نے ہر جاندار چیز کو پانی سے بنایا ہے ۔ انا خلقنھم من طین لازب (11۔27) ہم نے انسانوں کو طین لازب ( گیلی مٹی) سے پیدا کیا۔ تالابوں کی تہ اور جوہڑوں کے کنارے پر جو پانی میں ملی ہوئی مٹی ہوتی ہے وہ طین لازب کہلاتی ہے۔ پانی او رمٹی کی اس آمیزش میں Ameba  پید ا ہوا۔ یہ اولین جرثومہ حیات تھا ۔ اس میں نرو مادہ کی تمیز نہیں تھی اس لئے قرآن کریم نے اس کو نفس واحدہ  (1۔4، 189۔7) کے نام سے پکارا ہے ۔ زندگی  کا یہ وہ نقطۂ آغاز ہے جس سے زندگی کی مختلف شاخیں پھوٹتی ہیں ۔ یہ ثومہ خود اپنے جوش نمو سے دو حصوں میں تقسیم ہوجاتا ہے اس نفس واحدۃ سے جاندار مخلوق کی شاخیں بر آمد ہوئی ہیں۔ ہر شاخ مخلوق کی ایک الگ نوع ہوتی ہے جو نشو و نما  کے منازل طے کرتی جاتی ہے ان کی زندگی ہماری جیسی زندگی  ہے بلکہ یہ ہماری ابتدائی زندگی  کی کیفیت ہے۔وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُم (38۔6)

اور زمین میں چلنے والا کوئی حیوان اور ہوا میں اُڑنے والا کوئی پرندہ ایسا نہیں  ہے جو تمہاری طرح کی نوع نہ ہو۔ اُمَمّ اَمُثَا لُکْم کے الفاظ( تمہاری طرح کی نوع) نے واضح کردیا کہ ان کی اور ہماری ایک ہی زندگی ہے۔ زندگی  کے اس قافلہ میں صرف  ایک ہی مخلوق نہیں تھی بلکہ اس میں رینگنے  والے ، پاؤں کے اوپر چلنے والے حیوانات بھی شامل  تھے ۔وَاللَّهُ خَلَقَ كُلَّ دَابَّةٍ مِّن مَّاءٍ فَمِنْهُم مَّن يَمْشِي عَلَىٰ بَطْنِهِ وَمِنْهُم مَّن يَمْشِي عَلَىٰ رِجْلَيْنِ وَمِنْهُم مَّن يَمْشِي عَلَىٰ أَرْبَعٍ (45۔24)اللہ نے ہر جاندار حیوان کو پانی نے پیدا کیا۔ ان میں سے وہ ہے جو اپنے پیٹ ک بل رینگتا ہے اور ان  میں سے وہ ہے جو دو پاؤں پر چلتا ہے اور ان میں سے وہ ہے جو چار پاؤں پر چلتا ہے ۔ قرآن کریم نے یہ بھی وضاحت فرمادی کہ ہر شے کے جوڑے بنائے گئے ہیں خود نباتات میں بھی جوڑے ہیں ۔ یہ بات اُس دور میں  قرآن ہی کہہ سکتا تھا ۔ ارشاد عالی ہے۔

سُبْحَانَ الَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنبِتُ الْأَرْضُ وَمِنْ أَنفُسِهِمْ وَمِمَّا لَا يَعْلَمُونَ (36۔36) وہ ذات عالی پاک ہے تمام نقائض سے جس نے زمین سے اُگنے والے (پودوں) میں سے ہر ایک کے جوڑے بنا دیئے اور خود نوع انسانی میں سے بھی ، اور ان چیزوں میں سے بھی جنہیں  وہ ابھی نہیں جانتے ۔ ان چیزوں کی تخلیق کا سلسلہ بھی جو ہنوز انسان کے احاطہ علم میں نہیں ہیں۔ وہ چیزیں جو ابھی پیدا نہیں ہوئی ہیں ان کے متعلق  یہ کہنا کہ وہ بھی ازواج کے طور پر پیدا ہوں گے ۔ یہ قرآن کریم کا ہی مقام عالی ہے ۔ کیونکہ نزول قرآن کے وقت کسی کو یہ معلوم نہیں  تھا کہ تخلیق  کا سلسلہ جاری  ہے۔ قرآن کریم نے اس بات پر شدید اصرار کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین سے پیدا  فرمایا ہے ارشاد ہوتا ہے۔

(1)              هُوَ أَنشَأَكُم مِّنَ الْأَرْضِ وَاسْتَعْمَرَكُمْ فِيهَا (61۔11)

اس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور اسی میں آباد کردیا۔

(2) مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَىٰ (55۔20)

ترجمہ، اس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا ( مرنے کے بعد) ہم تمہیں زمین میں واپس لوٹا دیتے ہیں اور قیامت میں اسی سے دوبارہ نکال لیں گے۔(3) هُوَ أَعْلَمُ بِكُمْ إِذْ أَنشَأَكُم مِّنَ الْأَرْضِ وَإِذْ أَنتُمْ أَجِنَّةٌ فِي بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ (32۔53) وہ اللہ خوب جانتا ہے جب تمہیں زمین سے پیدا کیا تھا اور جب تم اپنی ماؤں کے رحم میں بصورت جنین ہوتے تھے ۔

(4) وَاللَّهُ أَنبَتَكُم مِّنَ الْأَرْضِ نَبَاتًا ثُمَّ يُعِيدُكُمْ فِيهَا وَيُخْرِجُكُمْ إِخْرَاجًا (18۔17۔71)

(ترجمہ) اور اللہ نے تمہیں زمین سے اُگایا ٹھیک ٹھیک اُگایا ، پھر تم کو اسی زمین میں لوٹا دیتا ہے۔ پھر وہ قیامت کو تمہیں  دوبارہ زمین سے نکال لے گا ، صحیح صحیح نکال لینا۔

قرآن کریم نے تخلیق انسانی کے بارے میں بے شمار مقامات پر روشنی ڈالی ہے اور اس کی Stages  بھی بتادی  ہیں۔ یہاں جو چند اشارے تحریر کئے گئے ہیں  ان کو بغور دیکھنے سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ سائنسی تحقیقات قرآن کی ان نشاندہی  کی تصدیق ہی کررہی ہے ، کسی ایک اشارے کی بھی موجودہ سائنس نے تردید نہیں  کی اور یہ بہت بڑی بات ہے اور یہ قرآن کریم کے بھی منجانب الہٰی  ہونے کی دلیل  قاطعہ ہے۔

انسانی زندگی کےمتعلق  قرآن کریم میں دو بہت اہم آیات آئی ہیں۔ ان دونوں  آیات کریمات  میں قرآن کریم نے نیند  اور موت کے فرق کو نمایا کرتےہوئے زندگی  کی نشاندہی کی ہے کہ زندگی کیا چیز ہے ۔ یہ دو آیات بالکل  مختلف  سورتوں میں آئی ہیں ایک آیت  سورۂ انعام میں ہے جب کہ دوسری آیت زُمر میں ہے۔ آپ یہ ملا حظہ فرمائیں کہ یہ دونوں  آیات کس درجہ عمیق معافی  پر مشتمل ہیں اور اگر چہ یہ الگ الگ سورتوں  میں ہیں لیکن  مفہوم ان دونوں کا ایک ہی ہے جس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ قرآن کریم میں کسی جگہ تضاد واقع نہیں ہوا۔ یہ دونوں  آیات  ذرا مشکل ہیں ہم نے حد درجہ کوشش کی ہے کہ ان کو آسان بنا کر پیش کریں ۔ ان آیات کو اگر موجودہ دور کی سائیکولوجی کی روشنی میں دیکھیں تو یہ اور بھی معنی خیز ہوجاتی ہیں  لیکن ہم نے وہ  Technicalities چھوڑ دی ہیں تاکہ مضمون مشکل نہ ہو۔ ارشاد عالی ہے۔

(1) وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُم بِاللَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُم بِالنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيهِ لِيُقْضَىٰ أَجَلٌ مُّسَمًّى (60۔6) (ترجمہ) وہی وہ ذات ہے جو تمہاری روح کو رات کے وقت ( نیند میں ) لیتا ہے او رجو کچھ تم نےدن میں کیا ہے وہ اس سے باخبر ہے پھر وہ دن میں (نیند سے) تمہیں اٹھاتا ہے ، یہاں تک کہ مقرر گھڑی آجائے ۔

(2) سورۂ زمر میں ارشاد ہوتا ہے۔اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا ۖ فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَىٰ عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأُخْرَىٰ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ (42۔39) (ترجمہ) خدا ہی لوگوں کے مرنے کے بعد ان کی روحیں (اپنی طرف) کھینچ لیتا ہے اور جو لوگ نہیں مرے( ان کی روحیں) ان کی نیند  میں کھینچ لی جاتی ہیں۔ پس جن کے بارے میں خدا موت کاحکم دے چکا ہے ان کی ( روحوں) کو روک رکھتا ہے اور باقی (سونے والوں کی روحوں) کو پھر ایک مقرر وقت تک  کے واسطے بھیج دیتا ہے۔جو لوگ غور و فکر کرتے ہیں ان کے لئے بہت سے نشانیاں  ہیں ۔ اگر چہ یہ تراجم آیات  کے مفہوم کو واضح نہیں کرتے تا ہم دونوں آیات کو یکجا رکھنے سے مفہوم  واضح ہوجاتا ہے۔

قران کریم نے یہاں نفس کا لفظ کو واضح استعمال فرمایا ہے ارشاد یہ ہوتا ہے کہ ہم موت اور نیند  دونوں حالتوں میں نفس کو روک لیتے ہیں ۔ نیند  کی صورت میں تو یہ ہوتا ہے کہ بیدار  ہونے کے وقت نفس کوواپس کردیتے ہیں لیکن موت کی صورت میں اس نفس کو واپس نہیں کرتے بلکہ اس کو روک لیتے ہیں ۔نفس فنا نہیں ہوتا بلکہ نیند  کی حالت میں تو وقتی طور پر معطل (IN-ACTIVE) ہوجاتا ہے لیکن موت کے حالت میں وہ اس دنیا میں واپس نہیں آتا روک لیا جاتا ہے ۔ نیند  کی حالت کا تو ہم روزانہ مشاہدہ کرتے ہیں ۔ نیند کے دوران انسان کی تمام چیزیں قائم رہتی ہیں ۔ اس کا سارا جسم کام کرتا ہے انسان سانس لیتا رہتا ہے ۔ انسا ن کا صرف شعور معطل (IN-ACTIVE) ہوجاتا ہے۔ جب انسان بیدا ر ہوجاتا ہے تو یہ شعور واپس آجاتا ہے ۔ البتہ موت کے حالت میں وہ شعور واپس نہیں آتا، اس شعور کو روک لیا جاتا ہے۔ ان آیات سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ نیند اور موت کی حالت ایک جیسی ہے۔ دونوں  میں شعور کا م نہیں کرتا۔نیند کی صورت میں وہ شعور  بیداری کے وقت واپس آجاتا ہے ۔ موت کی صورت میں وہ شعور قیامت کے دن واپس لوٹایا جائے گا۔ نیند  میں انسانی شعور عارضی طور پر معطل ہوجاتا ہے ، جب کہ موت کی حالت  میں شعور قیامت کے لئے معطل ہوجاتا ہے۔ پھر یہ شعور قیامت کے دن واپس  لوٹایا جائے گا۔

ان آیات پر غور کرنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ شعور فنا نہیں ہوتا، یہ معدوم نہیں ہوتا، بلکہ صرف معطل ہوتا ہے۔ قیامت کے دن واپس کردیا جائے گا ۔ البتہ جسم  انسانی ختم ہوجاتاہے ۔ قیامت کے دن شعور کو جس چیز  کی طرف واپس کیا جائے گا وہ یہ جسم انسانی نہیں ہوگا کیونکہ یہ تو فنا  اور  معدم ہوگیا ہوگا ۔ شعور جس چیز  کی طرف واپس ہوگا، قرآن نے اس کی تصریح نہیں کی ۔ قرآن نے یہ نہیں  بتایا کہ وہ کیا چیز ہوگی ۔ اس وقت ہمارے شعور کا Vehicle ہمارا جسم سے ہی اپنے مقاصد پورے کرتا ہے لیکن مرنے کے بعد دوبارہ بیدار ہونے کے وقت شعور اپنے مقاصد  کس چیز کے  ذریعے پورے کرائے گا ، یہ بات قرآن نے واضح نہیں کیا کیونکہ موجودہ حالت میں ہم اس ذریعہ کا ادارک نہیں کرسکتے ۔

بہر حال قرآن کی رُو سے نیند اور موت توام ہیں ۔ ایک روایت میں بھی موت کو نیند کی بہن کہا گیا ہے۔ نیند شعور کا عارضی طور پر معطل ہونا ہوتا ہے ۔ موت  شعور کا قیامت  کے دن تک معطل  ہونا ہے ۔ قیامت میں جب ہم اُٹھیں گے تو ایسا  معلوم ہوگا کہ تھوڑی سی دیر بعد اُٹھ گئے ہیں اور موت کا مزہ ہمارے منہ  میں ہوگا۔( جاری ہے)

اکتوبر، 2013  بشکریہ : صوت الحق ، کراچی

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/miracles-of-the-quran-part-5--اعجاز-القرآن-قسط-پانچ/d/34463

 

Loading..

Loading..